23 مارچ کا دن پاکستان کی قومی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے جداگانہ تشخص اور آزاد وطن کے مطالبے کو باضابطہ شکل دی۔ قراردادِ لاہور جسے بعد ازاں قراردادِ پاکستان کہا گیا، اس نے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی شعور، نظریاتی بصیرت اور اجتماعی عزم کو ایک سمت عطا کی۔ یہ محض ایک سیاسی دستاویز نہ تھی بلکہ ایک فکری اعلان تھا کہ مسلمان اپنی تہذیبی شناخت، دینی آزادی اور اجتماعی خودمختاری کے لیے ایک علیحدہ آزاد و خودمختار مملکت چاہتے ہیں۔
آج جب ہم 23 مارچ کی یاد مناتے ہیں تو یہ محض ماضی کا جشن نہیں بلکہ حال کا احتساب اور مستقبل کا عہد بھی ہے۔ قراردادِ لاہور جس مقام پر منظور ہوئی وہ آج مینارِ پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ایستادہ ہے۔ یہ مینار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ نظریات، قربانیوں اور مسلسل جدوجہد سے وجود میں آتی ہیں۔ 23 مارچ کے دن کا یہ پیغام ہے کہ پاکستان کسی حادثاتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم فکری تحریک کا ثمر ہے جس کی بنیاد اسلام کے عادلانہ نظامِ حیات پر رکھی گئی۔
اسلامی تعلیمات ہمیں عدل، مساوات، رواداری اور اجتماعی فلاح کا درس دیتی ہیں۔ یہی وہ اصول تھے جنہوں نے تحریکِ پاکستان کو اخلاقی قوت عطا کی۔ اگر ہم اپنی تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ مسلمانانِ برصغیر نے ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا تھا جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں معاشرہ تشکیل پائے، جہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہو اور جہاں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو۔ یہی وہ تصورِ پاکستان تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو قربانی پر آمادہ کیا۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد نظریۂ اسلام پر رکھی گئی تھی۔ یہ نظریہ کسی تنگ نظری یا تعصب کا نام نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح، عدلِ اجتماعی اور اخلاقی اقدار کے فروغ کا منشور ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نظریۂ پاکستان کو محض نصابی موضوع نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ تعلیمی اداروں میں کردار سازی، مساجد میں فکری تربیت اور سماجی سطح پر خدمتِ خلق کے عملی نمونے اسی وقت سامنے آئیں گے، جب ہم 23 مارچ کے اصل پیغام کو دل و جان سے قبول کریں گے۔
تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے تحریک پاکستان اور قراردادِ پاکستان کے حقیقی مقاصد کے حصول کے لئے منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے ان مقاصد کے حصول کی طرف سنجیدہ پیش رفت نظر آتی ہے، ان میں لاکھوں بچوں کے لئے سستے اور معیاری سکولوں کاقیام سرفہرست ہے۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت ملک بھر میں سیکڑوں سکول قائم کئے گئے جہاں بچے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے مصطفوی معاشرہ کی تشکیل کے لئے یعنی اسلام کے دئیے گئے راہنما اصولوں کے مطابق سوسائٹی کی تشکیل کے لئے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نظام کو موثر اور ثمر بار بنانے کے لئے ملک بھر میں 25 ہزار سے زائد مراکز علم قائم کرنے کا ویژن دیا ہے۔ الحمدللہ اس ویژن کے تحت اب تک 2 ہزار سے زائد مراکز علم قائم ہوچکے ہیں۔ یہ مراکز علم محلہ کی سطح پر گھروں میں قائم کئے جارہے ہیں اور اس کے لئے ایک ایسا اسلامی نظریاتی نصاب مرتب کیا گیا ہے جسے پڑھ کر ایک عام آدمی اپنے حقوق و فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی ایمانی، قومی و ملی زندگی کو زیادہ فعال اور موثر بنا سکتا ہے۔ مراکز علم کی اس مہم کو کامیاب بنانے کے لئے منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ ایک ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جو مراکزِ علم قائم کرنے کے ضمن میں عوامی شعور بیدار کررہا ہے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اس وقت لا تعداد چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، اخلاقی انحطاط اور سماجی تقسیم نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف وقتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے ایک جامع فکری و اخلاقی اصلاح اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ مذہبی و سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو مایوسی سے نکال کر امید، اتحاد اور عملی جدوجہد کی طرف مائل کریں۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل اسی وژن کے ساتھ ملک و ملت کی خدمت میں مصروف ہے کہ معاشرے میں علم، امن اور محبت کو فروغ دیا جائے۔
23 مارچ کا دن ہمیں اتحاد کی قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ جب مسلمانانِ برصغیر نے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا فیصلہ کیا تو ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ آج بھی اگر ہم ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں تو پاکستان کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ اختلافِ رائے کے باوجود مشترکہ قومی مقاصد کے لیے یکجا ہونا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں وطن سے محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان ہماری شناخت، ہماری امید اور ہماری ذمہ داری ہے۔ 23 مارچ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کی تعمیر محض حکومت کا کام نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ تعلیم، تحقیق اور کردار کی پختگی کے ذریعے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالے۔ اساتذہ اپنے شاگردوں میں حب الوطنی اور اخلاقی اقدار کو اجاگر کریں، علماء کرام مساجد و مدارس میں اتحاد و اخوت کا پیغام عام کریں، اور اہلِ قلم اپنی تحریروں کے ذریعے مثبت فکر کو فروغ دیں۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان کا مستقبل تعلیم اور اخلاقی تربیت سے وابستہ ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو صرف ڈگریاں دیں لیکن کردار نہ دیں تو ہم اپنے مقصد سے دور ہو جائیں گے۔ 23 مارچ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیامِ پاکستان ایک نظریاتی جدوجہد کا نتیجہ تھا اور نظریات کی حفاظت صرف علم اور شعور سے ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نوجوانوں کو تاریخ سے جوڑیں، انہیں تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کی قربانیوں سے آگاہ کریں اور ان میں قومی غیرت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کریں۔
اس موقع پر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے پاکستان کو وہ مقام دلایا جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟ کیا ہمارا معاشرہ عدل و انصاف کا نمونہ بن سکا؟ کیا ہم نے کرپشن، ناانصافی اور بدعنوانی جیسے امراض پر قابو پا لیا؟ یہ سوالات ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔ 23 مارچ صرف جشن کا دن نہیں بلکہ احتساب کا دن بھی ہے۔ ہمیں اپنے طرزِ عمل اور اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔
پاکستان کو درپیش چیلنجز کے باوجود امید کی کرنیں بھی موجود ہیں۔ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ٹیکنالوجی کا فروغ، عالمی سطح پر پاکستانیوں کی کامیابیاں اور فلاحی سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی علامت ہیں کہ قوم میں صلاحیت کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس صلاحیت کو مثبت سمت دی جائے اور اسے قومی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے۔
23 مارچ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب قوم اپنے مقصد پر یکسو ہو جائے تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ تحریکِ پاکستان کی قیادت نے محدود وسائل کے باوجود ایک عظیم مقصد حاصل کیا۔ آج ہمارے پاس وسائل بھی ہیں اور مواقع بھی، اگر ہم عزم و اخلاص کے ساتھ کام کریں تو پاکستان کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل اس موقع پر پوری قوم کو دعوت دیتی ہے کہ وہ 23 مارچ کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں زندہ کریں۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم پاکستان میں علم و امن اور اسلاف کی اخلاقی اقدار کا احیاء کریں گے۔ ہم فرقہ واریت، لسانیت اور نفرت کے رجحانات کو مسترد کریں گے اور باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دیں گے۔ ہم آئین و قانون کی پاسداری، دیانت داری اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائیں گے۔