ترتیب وتدوین: محمد یوسف منہاجین
اللہ رب العزت کی صفات میں سے ایک صفت "حلیم" ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ کے اوصاف میں سے بھی ایک وصف "حلیم" ہے۔ اس صفت کو اپنے رویوں اور مزاج میں پیدا کرنا اشد ضروری ہے تاکہ ہماری زندگی اطمینان و سکون کے قالب میں ڈھل سکے۔ آیئے حلم کے لغوی و اصطلاحی معانی سے آگاہی حاصل کریں اور پھر ان کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنوارنے کی طرف متوجہ ہوں:
1۔ حلم (بردباری) کا لغوی معنی جلد بازی کو ترک کر دینا ہے۔ یعنی انسان عجلت پسندی کو چھوڑ دے۔
2۔ اہلِ لغت کے ہاں حلم کا لفظ غصہ اور غضب کے برعکس معنی میں استعمال ہوتا ہے؛ یعنی اگر طبیعت میں حلم ہے تو غصہ نہیں ہوگا اور اگر غصہ ہے تو پھر حلم نہیں ہوگا۔
3۔ ائمہ لغت نے حلم کو عقلمندی کے معنی میں بھی بیان کیا ہے اور یہ بے وقوفی کے برعکس صفت ہے۔
4۔ اس کا ایک معنی کمالِ صبر بھی ہے؛ یعنی صبر اپنے اس آخری نقطہ تک پہنچ جائے جہاں غصہ اور غضب کے پائے جانے کی مجال ہی نہ رہے۔
5۔ اس کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی غلطی کی بنا پر مستحقِ سزا ہو، تو اس کی سزا کو حلم کی بنا پر مؤخر کر دیا جائے۔
6۔ حلم کا ایک خاص معنی یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب ایسے عوامل اور اسباب پیدا ہوں جن میں انسان کو طبعی طور پر غصہ آتا ہے تو ان عوامل کے ہوتے ہوئے بھی طبیعت میں غصہ کو متحرک نہ ہونے دینا۔
مثلاً: کوئی ہمیں گالی دیتا ہے، زیادتی کرتا ہے، حق تلفی یا ناانصافی کرتا ہے، پس ان مواقع پر بھی انسانی جبلت میں موجود قوتِ غضب کو متحرک نہ ہونے دینا حلم کہلاتا ہے۔ گویا ایسا ضبطِ نفس اور ایسا ضبطِ طبیعت پایا جانا کہ غصہ کے اسباب تو موجود ہوں مگر غصہ پیدا نہ ہو۔ اس کیفیت کو حلم کہتے ہیں۔
7۔ حلم کا یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے پاس کسی زیادتی کرنے والے سے انتقام لینے کی پوری قوت اور استطاعت ہو مگر اس کی برداشت اتنی زیادہ ہو کہ وہ انتقام نہ لے۔
8۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ غضب، ناراضگی اور غصہ کے وقت میں بھی دل کا مطمئن رہنا؛ یعنی طمانیتِ قلب برقرار رہے، سکونِ قلب ترک نہ ہو اور انسان وقار کی حالت میں رہے۔
اس میں ثبات اور استقامت رہے، طبیعت متزلزل نہ ہو اور وہ عجلت میں کوئی ایسی بات نہ کہے، کوئی ایسا کام نہ کرے اور نہ ہی انتقام لے۔ اگر یہ پختگی طبیعت میں آ جائے تو اس کیفیت کو حلم کہتے ہیں۔
تحمل و برداشت: قرآن مجید کی روشنی میں
قرآن مجید میں متقین کی تعریف بیان کرتے ہوئے ان کی سب سے پہلے صفت یہ بیان کی گئی کہ وہ تنگی اور فراخی، ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر ان متقین کی صفات کو مزید ان الفاظ میں بیان کیا گیا:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ.
(آل عمران، 3: 134)
’’ اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ‘‘
اس آیت کریمہ میں تین چیزوں کو بیان کیا گیا ہے:
1۔ پہلا درجہ یہ بیان کیا گیا کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ آتا ہے، تبھی تو اسے ضبط کرتے اور پی جاتے ہیں۔ "کظمِ غیظ" ایک ایسا درجہ ہے جس میں غصہ دلانے والے عوامل (Factors) اور اسباب موجود ہوتے ہیں، ماحول اور صورتحال ایسی ہوتی ہے کہ انسان کو غصہ آ جاتا ہے، مگر قبل اس کے کہ اس غصے کا اظہار زبان یا فعل سے ہو، وہ اسے پی جاتے ہیں اور ضبط کر لیتے ہیں۔ گویا طبیعت میں غصہ تو پیدا ہوا مگر متقین نے اپنی تربیت اس نہج پر کر رکھی ہے کہ اس غصہ کو قابو کر لیتے ہیں۔
2۔ اس کے بعد اس سے اوپر کا درجہ بیان فرمایا کہ غصہ کو ضبط کر لینا ہی آخری کمال نہیں، بلکہ اس کے بعد عین ممکن ہے کہ غصہ ضبط تو کر لیں (یعنی تلخ بات نہ کریں، انتقام نہ لیں اور برائی کا جواب برائی سے نہ دیں) لیکن اندر ایک ہیجان موجود ہو۔ پس غصہ کو پی جانے سے اونچا درجہ یہ ہے کہ جس نے غصہ دلایا یا تکلیف دی، اسے معاف کر دیا جائے۔ جب انسان معاف کر دیتا ہے تو معافی کا مطلب یہ ہے کہ اس زیادتی کے اثرات بھی دل سے مٹ گئے اور طبیعت میں وہ ہیجان اور اضطراب باقی نہ رہا کہ غصہ دوبارہ جگہ پا سکے۔ گویا وہ لوگ جو غصہ پی جاتے ہیں، وہ نچلا درجہ ہے، مگر ان سے زیادہ باکمال وہ ہیں جو معاف بھی کر دیتے ہیں۔
3۔ پھر فرمایا کہ اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یہ متقین کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ یعنی یہ لوگ نہ صرف معاف کر دیتے ہیں بلکہ جس نے ظلم کیا، حق تلفی کی اور ناروا سلوک کیا، اس کے ساتھ نیکی و احسان کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اس آخری درجہ پر فائز لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ اللہ محسنین سے محبت کرتا ہے۔
"کظمِ غیظ" (غصہ پینے) کی ضرورت اس وقت تک پیش نہیں آتی جب تک غصے کی کیفیت اندر پیدا نہ ہو۔ اگر غصہ پیدا ہوا اور طبیعت میں تپش آئی تو اسے ضبط کرنا مجاہدہ اور ریاضت سے ممکن ہوتا ہے۔ مگر حلم یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں غصہ طبیعت میں پیدا ہی نہ ہو۔ انسان اپنی طبیعت میں اتنی بردباری پیدا کر لے کہ جن حالات میں غصہ آنا چاہیے، ان میں بھی غصہ پیدا نہ ہو۔ اگر طبیعت اور مزاج کا ضبط اس مقام پر پہنچ جائے تو پھر اسے کظمِ غیظ کی مشقت نہیں کرنی پڑتی، بلکہ وہ بلا کوشش ٹھنڈک اور سکون میں رہتا ہے۔ جب طبیعت میں اتنا تحمل، بردباری اور طمانیت آ جائے تو اسے "حلم" کا نام دیا جاتا ہے۔
حلم کا یہ درجہ بعض اوقات محنت، ریاضت اور مجاہدہ سے حاصل ہوتا ہے، لیکن اللہ کی شان ہے کہ وہ بعض ہستیوں کو پیدا ہی "نفسِ مطمئنہ" پر کرتا ہے اور انہیں پیدائشی طور پر حلیم بنا دیتا ہے۔
ó سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرمایا:
اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ.
(ھود، 11: 75)
بے شک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے متحمل مزاج، آہ و زاری کرنے والے، ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے۔
گویا اللہ نے انہیں حلیم الطبع پیدا کیا تھا۔
ó حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے اللہ رب العزت نے بشارت دی اور اس لفظ کو استعمال کرتے ہوئے فرمایا:
فَبَشَّرْنٰـہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ.
(الصافات: 101)
’’پس ہم نے انہیں بڑے بُرد بار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام ) کی بشارت دی۔ ‘‘
یعنی پیدائش سے پہلے ہی یہ بشارت دے دی گئی کہ جو بیٹا پیدا ہوگا وہ صاحبِ حلم اور بردبار ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو حلیم الطبع پیدا کرے تو وہ نفسِ مطمئنہ کے ساتھ آتا ہے اور اسے زیادہ ریاضت نہیں کرنی پڑتی لیکن جو حلیم الطبع پیدا نہیں ہوا، وہ مشقت، تربیت، تجربہ اور مسلسل جدوجہد (Struggle) سے رفتہ رفتہ غصے کو دباتا ہے اور غصہ پیتے پیتے اپنی طبیعت کو اس کا ایسا عادی بنا دیتا ہے کہ غصہ پیدا ہونا ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی مقامِ حلم ہے جہاں قوتِ غضب ٹوٹ کر عقل کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے۔
عام لوگوں کے لیے اس کا آغاز "تحلم" سے ہوتا ہے اور پھر وہ حلم تک پہنچتے ہیں۔ جیسے حصولِ علم کے لیے ابتدا "تعلم" سے ہوتی ہے؛ آدمی پڑھتا ہے، سنتا ہے، مطالعہ کرتا ہے، سفر کرتا ہے اور درجہ بدرجہ صاحبِ علم ہو جاتا ہے، اسی طرح بردباری سیکھنے کے لیے انسان صحبتوں میں بیٹھتا ہے، ریاضت کرتا ہے، ضبطِ نفس کرتا ہے اور اپنی طبیعت کی تبدیلیوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اس مشقت کے نتیجے میں اس کا "تحلم" حلم میں بدل جاتا ہے۔
ó اللہ رب العزت نے اپنی صفات میں بھی حلم کا ذکر فرمایا ہے۔ سورہ الحج میں حلم کو علم کے ساتھ جوڑا اور ارشاد فرمایا:
وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ.
(الحج، 22: 59)
’’ اور بے شک ﷲ خوب جاننے والا بردبار ہے۔ ‘‘
ó اللہ نے شکر کو حلم کے ساتھ جوڑا اور ارشاد فرمایا:
وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ.
(التغابن، 64: 17)
’’اور اللہ بڑا قدر شناس ہے بُردبار ہے‘‘۔
ó سورۃ البقرہ میں حلم کو مغفرت کے ساتھ جوڑا اور ارشاد فرمایا:
وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ.
(البقرہ، 2: 225)
’’اور ﷲ بڑا بخشنے والا بہت حلم والا ہے۔ ‘‘
حلم کو معافی کے ساتھ جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے معاف کر دیا تو گویا نامہ اعمال سے گناہ یا سزا کو اس طرح مٹا دیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ اللہ رب العزت کا اپنی صفات میں حلم کو علم، شکر اور مغفرت کے ساتھ جوڑنا اس وصف کی انتہائی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔
حلم اور علم کا باہمی تعلق
یاد رکھیں! اگر حلم نہ ہو تو علم بے وقار ہو جاتا ہے۔۔۔ اگر حلم نہ ہو تو عمل بے وقار ہو جاتا ہے۔۔۔ اور اگر حلم یعنی بردباری نہ ہو تو انسان کی پوری زندگی اور سیرت بے وقار ہو جاتی ہے۔۔۔ یہاں تک کہ تبلیغ و نصیحت بھی بے کار ہو جاتی ہے۔ جس طرح کسی کے پاس علم ہو مگر عقل نہ ہو، یا وہ بندہ کم عقل ہو تو وہ علم اس کے لیے فائدہ مند نہیں رہتا، کیونکہ اس میں نہ تو علم کی صحیح جہت کو سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی اس علم کو صحیح طریقے سے دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسے یہ ادراک نہیں ہوتا کہ کیا کہنا ہے، کب کہنا ہے اور کس کو کیا کہنا ہے۔۔۔؟ چونکہ عقل نہیں ہے، اس لیے علم کا آلہ ایک ایسے اندھے کے ہاتھ میں ہے جو بے عقل ہے اور وہ اس سے کسی کا سر بھی قلم کر دے گا۔
پس عقل کے بغیر علم اسی طرح بیکار ہے جیسے ایک نابینا شخص کے سامنے سورج کی روشنی چمک رہی ہے مگر وہ روشنی اس کے لیے فائدہ مند نہیں۔ وہ سورج کروڑوں کو راستہ دکھائے گا مگر نابینا شخص اسے نہیں دیکھ سکتا۔ اسی طرح جس کے پاس علم ہو، جس نے کتابیں پڑھی ہوں لیکن عقل نہ ہو، تو اس نے گویا علم کو محض اپنے کندھوں پر لاد رکھا ہے۔ اس علم کا اسے کوئی نفع اور فائدہ نہیں ہے۔ عقل کے بغیر علم تباہی لاتا ہے۔
ہم کثرت کے ساتھ اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے کتابیں پڑھ رکھی ہیں، مدرسے گزار رکھے ہیں اورعلم کے نام پر ان کے پاس اوراق کا انبار تو ہے مگر وہ عقلمندی سے محروم ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ کیا بات کہنی ہے، کس ڈھب سے کہنی ہے اور کس طریقے سے کہنی ہے۔۔۔؟ اِس وقت کی ضرورت کیا ہے۔۔۔؟ ان نسلوں کی حاجت کیا ہے اور قوم کی ضرورت کیا ہے۔۔۔؟ اشکال کیا ہے اور اسے رفع کس طرح کرنا ہے۔۔۔؟ استدلال کیسے کرنا ہے اور اس کا اطلاق کیسے کرنا ہے؟ چونکہ عقل نہیں ہے، اس لیے انھیں علم کا ہتھیار استعمال کرنا بھی نہیں آتا۔ بے عقل کے ہاتھ میں علم ہونا تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
اسی طرح اگر علم ہو اور عمل نہ ہو تو وہ علم بے تاثیر اور بے توقیر ہوجاتا ہے۔۔۔ اگر علم ہو مگر صدق، سچائی اور حسنِ نیت نہ ہو، تو وہ علم محض دکھلاوا اور ریاکاری بن کر رہ جاتا ہے اور بیکار ہو جاتا ہے۔ اگر علم ہو مگر تقویٰ اور خدا خوفی نہ ہو، تو وہ علم "فتنہ" بن جاتا ہے۔ اسی علم کے ذریعے لوگ فتنہ اور فساد پھیلاتے ہیں، لوگوں کو آپس میں لڑایا جاتا ہے اور علم ہی کے ذریعے پھوٹ ڈالی جاتی ہے۔ جہالت کے ذریعے پھوٹ اور تفرقہ ڈالنا کم نقصان دہ ہوتا ہے، مگر علم کے ذریعے پھوٹ ڈالنا پوری امت کے ٹکڑے کر دیتا ہے اور زندگیوں کو برباد کر دیتا ہے۔ جاہل جو پھوٹ ڈالے گا اس کا ازالہ قدرے آسان ہے، مگر علم کے ذریعے جو پھوٹ ڈالی جائے گی اور تباہی مچائی جائے گی، چونکہ اس میں تقویٰ اور خدا خوفی نہیں ہوگی، اس لیے اس کا ازالہ بڑا مشکل ہے۔
اسی طرح اگر کسی کے پاس علم ہے مگر اس کی طبیعت میں حلم اور بردباری نہیں ہے، تو وہ شخص ہر روز فتویٰ بازی کرے گا، ہر وقت تکفیریت کرے گا، لوگوں کو کافر بنائے گا، کسی کو مشرک ٹھہرائے گا، کسی کو بدعتی کہے گا، کسی کو گمراہ قرار دے گا، کسی کو اسلام سے خارج کرے گا، کسی کو اہل سنت سے خارج کرے گا اور کسی کو مسلم امہ سے ہی نکال دے گا۔ کیونکہ اس کے علم میں حلم اور بردباری نہیں ہے۔ جب حلم اور بردباری نہیں ہوتی تو عقل کا چراغ بجھ جاتا ہے، کیونکہ علم کا نام ہی عقلمندی ہے۔ جہاں عقل مغلوب ہوتی ہے وہاں جہالت قبضہ کرلیتی ہے اور پھر اس سے فساد، بغض اور عناد جنم لیتا ہے۔
حلم کے بغیر علم کا استعمال انتہا پسندی کو جنم دیتا ہے
علم جب حلم کے بغیر استعمال ہوتا ہے تو انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور مزاجوں اور رویوں میں اعتدال اور وسعت ختم ہو جاتی ہے۔ اس دور میں سب سے زیادہ مشکل کام لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور راہِ اعتدال پر چلانا ہے۔ اول تو لوگ علماء کے رویوں کے باعث دین سے متنفر ہو گئے ہیں، نوجوان نسلوں میں علماء کے رویوں نے دین کی رغبت نہیں چھوڑی بلکہ انہیں بیزار کر دیا ہے۔ اب جو چند لوگ مساجد اور دینی حلقوں میں آتے ہیں، انہیں علم کا دعویٰ رکھنے والوں خواہ وہ مدرسے میں ہو، مسجد کے منبر پر ہو، یوٹیوب پر ہو، الغرض جہاں پر بھی ہوں، جب وہ بغیر حلم اور بردباری کے علم کی بات کرتے ہیں تو وہ اپنی انتہا پسندانہ سوچ، فتویٰ بازی کے ذریعے اپنے سننے والوں کے مزاجوں اور رویوں کو وسعت، اعتدال اور برداشت سے دور کردیتے ہیں۔ وہ لوگوں کی تذلیل و تکفیر کرتے ہیں اور تشدد پر اکساتے ہیں، نتیجتاً دھڑے بندیاں ہوتی ہیں اور تفرقہ پروری جنم لیتی ہے۔ یہ سب کچھ دراصل علم کے نام پر کاروبار ہے۔ ہم اپنے معاشرے میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں، یہ صرف حلم کے فقدان کے سبب ہے۔ یہ ساری بیماریاں اور ہلاکتیں علم کی دنیا میں بھی پائی جاتی ہیں اور جہالت کی دنیا میں بھی۔ اگر اہل دین کے پاس حلم نہیں ہوگا تو علم بھی بدنام ہوگا، دین بھی بدنام ہوگا اور علمائے دین بھی بدنام ہوں گے۔
علمِ نافع؛ تحمل کے بغیر ممکن نہیں
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں سیدنا خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ اس واقعہ میں حضرت خضر علیہ السلام کی شان میں ایک جملہ بیان فرمایا:
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَـآ اٰتَیْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا.
(الکہف، 18: 65)
’’تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام ) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے علمِ لدنی (یعنی اَسرار و معارف کا اِلہامی علم) سکھایا تھا۔ ‘‘
یعنی انہیں علمِ لدنی دینے سے پہلے رحمت عطا کی گئی تھی۔ ان کے دل میں رحمت، شفقت، نرمی، دوسروں کے ساتھ بھلائی کی سوچ اور نصیحت رکھی تھی۔ مقصد یہ ہے کہ وہی علم "علمِ لدنی" بن سکتا ہے اور وہی علم "علمِ نافع" بن سکتا ہے جس شخص کی طبیعت میں رحمت، شفقت، نرمی، بردباری، ٹھنڈک اور برداشت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں علم اور رحمت کو جوڑ دیا، گویا دل، طبیعت اور مزاج میں نرمی، رفق اور رحمت کا ہونا حلم ہے؛ اور اس حلم کے ہوتے ہوئے جب علم نصیب ہو اور وہ علم استعمال ہو، تو پھر وہ صحیح معنیٰ میں نافع ہے۔ اس کی ضرورت عالم کو بھی ہے، متعلم کو بھی ہے اور ہر شخص کو زندگی میں اس کی ضرورت ہے۔
ó حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، وَتَعَلَّمُوا لِلْعِلْمِ السَّكِينَةَ وَالْحِلْمَ.
’’علم حاصل کرو، اور علم کے لیے سکینہ (سکونِ قلب) اور حلم (بردباری) سیکھو۔ ‘‘
(المعجم الاوسط، للطبرانی، حدیث نمبر: 6251)
آقا علیہ السلام نے علم اور حلم کو جوڑ دیا؛ اگر سکینت، اطمینانِ قلب، بردباری، دھیما پن، ٹھنڈا پن اور نرم روی نہیں ہوگی تو علم سانپ اور اژدھا بن جائے گا۔ گویا اگر حلم سیکھیں گے تو علم خیر کا باعث ہوگا۔
ایک اور مقام پر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
وَلَا تَكُونُوا مِنْ جَبَابِرَةِ الْعُلَمَاءِ فَيَغْلِبَ جَهْلُكُمْ عِلْمَكُمْ.
’’اور تم جابر علماء میں سے نہ ہو جانا کہ تمہاری جہالت تمہارے علم پر غالب آ جائے۔ ‘‘
(سنن الدارمی، 1: 116)
اگر تمہاری طبیعتوں میں حلم اور بردباری نہیں ہوگی، بلکہ جلد بازی، عجلت پسندی، فوری غلبہ پانے کا جذبہ، دوسرے کو دبا دینے، رد کرنے، بھگا دینے اور اسے نیچا دکھا کر اس پر چھا جانے کا جذبہ ہوگا، تو تم عالم نہیں رہو گے بلکہ ظالم ہو جاؤ گے۔ تم جبر کرو گے اور پھر تمہاری جہالت تمہارے حلم اور بردباری پر چھا جائے گی اور علم مغلوب ہو جائے گا۔
ó اسی لیے آقا علیہ الصلوۃ والسلام یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ أَغْنِنِي بِالْعِلْمِ، وَزَيِّنِّي بِالْحِلْمِ، وَأَكْرِمْنِي بِالتَّقْوَى، وَجَمِّلْنِي بِالْعَافِيَةِ.
(مسند الفردوس، دیلمی، حدیث نمبر: 1251)
’’اے اللہ! مجھے علم کے ذریعے (دنیا سے) غنی کر دے، مجھے حلم کے ذریعے زینت عطا فرما، تقویٰ کے ذریعے مجھے بزرگی دے اور عافیت کے ذریعے مجھے جمال عطا فرما۔ ‘‘
یعنی مجھے اتنا علم دے جو خیر اور نفع پر مبنی ہو تاکہ میں کسی کا محتاج نہ رہوں اور طبیعت میں غنا آ جائے۔ گویا علم ایک ایسی دولت ہے کہ بندہ اس سے غنی ہو جاتا ہے اور اسے دوسری دولت کی محتاجی نہیں رہتی۔
ó سیدنا مولا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر مسلمان شخص حلم سیکھ لے اور اپنے اندر بردباری پیدا کر لے، تو اس کا درجہ ایسا ہو جائے گا جیسے اس نے ساری زندگی راتوں کو قیام کیا اور سارے دن روزے رکھے۔
گویا وہ پوری زندگی صائم و قائم رہا؛ اس نے زندگی کی تمام راتیں مصلیٰ پر اللہ کی عبادت، قیام اور سجود میں گزاریں اور تمام دن روزے کے ساتھ گزارے۔ علم اور علمی برداشت انسان کو اتنا بلند درجہ دیتی ہے کہ اس سے بندے کا مزاج (Mood) اور طبیعت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں سختی (Roughness) نہیں رہتی بلکہ نرمی آجاتی ہے اور یہی نرمی انسان کو مزین کرتی ہے۔
اہلِ حلم ہی کو علماء ربانیین اور اہلِ فضل کہا گیا ہے
اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَلٰـکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ.
(آل عمران، 3: 79)
’’ بلکہ (وہ تو یہ کہے گا) تم ﷲ والے بن جاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس وجہ سے کہ تم خود اسے پڑھتے بھی ہو۔ ‘‘
ائمہ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ وہ علماء جو حلم اور بردباری رکھنے والے ہوں، ایسے علماء کو اللہ پاک "علماء ربانیین" کہتا ہے۔ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی وضاحت میں بیان فرمایا کہ اگر لوگ ان کے ساتھ جہالت کا سلوک کریں، کوئی ناروا سلوک کریں، کوئی ناشائستہ بات ان سے کر دیں، یا ان کے متعلق کوئی نامناسب رویہ اختیار کریں، تو وہ اس کے جواب میں اپنی جہالت کو غالب نہیں آنے دیتے بلکہ وہ علم سے کام لیتے ہیں، وہ بردباری اور کمال درجے کی برداشت سے کام لیتے ہیں۔
ان لوگوں کے بارے میں آقا علیہ السلام نے فرمایا:
جب قیامت کے دن محشر کا وقت ہوگا، تو حساب و کتاب سے پہلے عرش سے ایک ندا آئے گی کہ "اہلِ فضل کہاں ہیں؟" یعنی وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جو اہل فضیلت اور بزرگی والے لوگ ہیں۔ قلیل تعداد میں کچھ لوگ کھڑے ہو جائیں گے۔ حکم ہوگا: "الجنۃ!" یعنی تیزی سے جنت میں چلے جاؤ۔ گویا ان کا حساب و کتاب ہی نہیں ہوگا۔
راستے میں انہیں ملائکہ ملیں گے اور وہ ان سے پوچھیں گے کہ آپ لوگ اتنی تیزی سے سیدھا جنت میں جا رہے ہیں، کیا آپ سے کوئی حساب و کتاب نہیں ہوا؟اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اہلِ فضل ہیں۔ ملائکہ پوچھیں گے کہ وہ فضل کیا ہے جو اللہ نے آپ پر کیا ہے؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ فضل اللہ نے آج (قیامت میں) نہیں بلکہ دنیا میں ہی کر دیا تھا۔ اس نے ہماری طبیعتوں اور مزاجوں کو ایسا بنادیا تھا کہ جب کوئی ہم سے زیادتی کرتا تھا تو ہم صبر کرتے تھے، جب کوئی ہمیں اذیت دیتا تھا تو ہم اس کو معاف کر دیتے تھے، اگر کوئی ہمارے ساتھ درشتی، بدتمیزی اور ناشائستگی سے پیش آتا تھا تو ہم اس کے مقابلے میں بردباری اختیار کرتے تھے۔ ہم برا ردعمل نہیں دیتے تھے۔ پس اللہ نے ہماری سیرتوں اور ہماری طبیعتوں کو ایسا بنا دیا اور آج اسی کی جزا میں قیامت کے دن ہمیں بغیر حساب و کتاب کے جنت میں بھیج دیا گیا۔
علم کو حلم سے مزین کرنا عین بھلائی ہے
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
اے انسان! عین بھلائی یہ نہیں ہے کہ تیری زندگی میں مال بڑھ جائے، تیری اولاد بڑھ جائے، تیری طاقت بڑھ جائے، تیرا جاہ و حشم بڑھ جائے، تیری قوت و سلطنت بڑھ جائے بلکہ خیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے علم کی بہت زیادہ دولت عطا کر دے اور تمہارے علم کو حلم سے مزین کر دے۔ گویا علم ہماری زندگی میں بردباری کا حصہ بڑھا دے۔
ó سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک اور ارشادِ گرامی ہے کہ علم حاصل کرو مگر اپنے علم کو وقار، تمکنت اور بردباری کے ساتھ مزین کرو۔
ó سیدنا امام حسن بن علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حلم اور بردباری یہ ہے کہ اگر کوئی شخص میرے ایک کان میں مجھے گالی دے اور ساتھ ہی دوسرے کان میں مجھ سے معذرت کر لے تو میں اسی وقت اس کی معذرت کو قبول کر لوں گا۔ یعنی میں اس کی گالی پر اپنی طبیعت میں غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکنے ہی نہیں دوں گا اور غصہ کو اپنے اندر داخل ہی نہیں ہونے دوں گا۔ اس کیفیت کا نام حلم ہے۔
طبیعت میں حلم کا ہونا پیغمبرانہ رویہ ہے
جب طبیعتوں میں اللہ تعالیٰ حلم اور بردباری پیدا کر دیتا ہے تو انسان کے رویے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ پیغمبرانہ رویے ہیں۔ آپ جس پیغمبر کی بھی سیرت کا مطالعہ کرلیں، ہر ایک میں یہ رنگ غالب نظر آئے گا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ایک روز کہیں سے گزر رہے تھے تو وہاں موجود کچھ یہود نے آپ کو برا بھلا کہا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں انہیں اچھائی اور بھلائی کی بات کہی۔ آپ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے تو آپ کو اتنا برا بھلا کہا ہے اور آپ نے جواب میں اتنی اچھائی کی بات کی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
’’ہر شخص وہی کچھ خرچ کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے، اُن کے پاس برائی تھی، انھوں نے اسے استعمال کیا اور میرے پاس بھلائی تھی، میں نے اُسے خرچ کیا۔ ‘‘
گویا جس کے پاس برائی ہے، وہ دوسرے کی برائی ہی بیان کرے گا۔۔۔ جس کے من میں گالیاں بھری ہیں، وہ دوسرے کو گالی ہی دے گا۔۔۔ جس کے من میں غصہ ہے، وہ دوسرے پر غصہ ہی نکالے گا۔۔۔ جس کے من میں غیبت، چغلی اور خصالِ مزمومہ (بری عادتیں) ہیں، اس کی زبان سے بھی بری باتیں ہی نکلیں گی اور اس کے فعل سے بھی بری باتیں ہی ظاہر ہوں گی۔ اگر اللہ نے کسی کے اندر خیر کا چشمہ کھول دیا ہے، کسی کے اندر بھلائی کا خزانہ رکھ دیا ہے تو اس کے پاس نیکی، بھلائی، عمدگی، اچھائی، احسان ہی ہے اور وہ خرچ بھی نیکی اور بھلائی ہی کرے گا۔
ó امام مالک فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک روز کہیں سے گزرے تو راستے میں ایک خنزیر بیٹھا ہوا تھا جس کے سبب راستہ بند تھا اور وہاں سے گزرنا مشکل تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اس خنزیر سے کہا: راستہ چھوڑ دو، تیرا بھلا ہو۔ آپ کے ساتھ موجود آپ کے ساتھیوں نے پوچھا کہ "تیری خیر ہو" کیا یہ بات آپ نے ایک خنزیر کو کہی ہے؟ آپ نے فرمایا: بلاشبہ وہ خنزیر ہے، اگر میں اُسے برے الفاظ کہتا تو میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو برے انداز سے گفتگو کرنے کی عادت نہ پڑ جائے۔ میں تو ہر ایک سے بھلائی کے ساتھ بات کرتا ہوں، لہٰذا میں اس خنزیر کی خاطر اپنی زبان کی عادت کو بگاڑنا نہیں چاہتا۔
ہماری معاشرتی زندگی میں تحمل و برداشت کا فقدان
اس واقعہ کے تناظر میں ہمیں سوچنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔؟ آج اہلِ دین، علمائے دین اور دین کے مبلغین کہاں کھڑے ہیں۔۔۔؟ کیا مسجد کے منبر و محراب سے اس حلم اور بردباری کی بات ہوتی ہے۔۔۔؟ ہم تو بغیر کسی تحقیق کے دوسرے پر چڑھ دوڑتے ہیں، فوراً فتویٰ لگاتے ہیں اور ایک ہنگامہ خیزی کر دیتے ہیں۔ آج دین اور مذہب محض ہنگامہ خیزی کا نام بن کر رہ گیا ہے اور اہل دین کے لیے وقار اور قدر و منزلت بالکل شجرِ ممنوعہ بن گئی ہے۔ جب اہلِ دین اور علماء دین کو اس انداز سے پیش کیا، ایک دوسرے کو للکارا، ایک دوسرے کی برائی کی، ایک دوسرے پر فتویٰ بازی کی، ایک دوسرے کو گمراہ ٹھہرایا، بے ایمان ٹھہرایا، اسلام سے خارج کیا اور برے القاب اور غصہ سے یاد کیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب دین پھیلانے والے لوگ نوجوان نسل کے لیے محض ایک Entertainment Item (تفریح کا سامان) بن کر رہ گئے ہیں۔
علم جب حلم کے بغیر استعمال ہوتا ہے تو انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور مزاجوں اور رویوں میں اعتدال اور وسعت ختم ہو جاتی ہے۔ اس دور میں سب سے زیادہ مشکل کام لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور راہِ اعتدال پر چلانا ہے
نتیجتاً لوگ انہیں صرف Entertainment کے لیے سنتے ہیں، ان پر ہنسنے کے لیے یا بطور لطیفہ انہیں سنتے ہیں۔ پھر ان کا یہ رویہ دیکھ کر دین سے ہی متنفر ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے، اس ایجنڈے پر لوگوں کو دانستہ یا نادانستہ طور پر لگایا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ دین اور مذہب کے نام پر ایسے رویے پیش کرو ایسے "نان ایشوز" (Non-issues) کو ایشوز بناؤ اور ایک دوسرے کے خلاف اس طرح بولو اور بھڑکو کہ تمہارے اس رویے سے لوگ دین سے بیزار ہو جائیں۔
یاد رکھیں! جو لوگ دین کے علمبردار کہلاتے ہیں، جو دین کی تبلیغ کرتے ہیں، خواہ وہ یوٹیوب پر ہوں، فیس بک پر ہوں، منبر و محراب پر ہوں یا جلسوں میں ہوں جو رویہ ان کا ہوتا ہے، عام لوگ اسی رویے کو "دین" کا رویہ سمجھتے ہیں۔ وہ اسے صرف ان علمائے دین کا ذاتی فعل نہیں سمجھتے بلکہ اسے دین کی تصویر سمجھتے ہیں۔ وہ تمام لوگ جو رہبری کے منصب پر فائز ہیں، اللہ تعالیٰ نے جنہیں لوگوں کی رہنمائی کا منصب دیا ہے، جن کی زبان سے دین کا کلمہ ادا ہوتا ہے، جو دین کی اشاعت و تبلیغ کرتے ہیں، لوگ جن سے دین سیکھتے ہیں یا سیکھنے کی امید رکھتے ہیں اور وہ ایک نمونہ سمجھے جاتے ہیں؛ جب ان کا رویہ حلم اور بردباری سے خالی ہوگا، جب ان کے رویے میں غصہ، نفرت، انتہا پسندی اور تکفیریت ہوگی تو نوجوان نسل دین کی طرف قطعاً راغب نہیں ہوگی۔
جب تک دین کی تبلیغ کرنے والے لوگ جو دوسرے کو دوزخ میں نہ پہنچا دیں، انہیں سکون نہیں ملتا، جب تک وہ دوسرے پر جنت کا دروازہ بند نہ کر دیں، تب تک ان کی طبیعت کو سکون نہیں آتا، ایسے لوگوں کے طرزِ عمل اور رویوں سے نوجوان نسل کو کیا پیغام جائے گا؟ کیا وہ دین کی طرف راغب ہوں گے۔۔۔؟ کیا وہ مسجدوں میں آئیں گے۔۔۔؟ کیا وہ دینی حلقوں میں آئیں گے یا اپنی زندگی میں دین اپنائیں گے۔۔۔؟ ہرگز نہیں۔ وہ تو یہی سمجھیں گے کہ دین اسی لڑائی جھگڑا اور تفرقہ کا نام ہے۔ دین کی دشمن قوتیں عالمی سطح پر دین کا یہی نقشہ چاہتی ہیں۔ اسی لیے انتہا پسند اور دہشت گرد پیدا کیے جاتے ہیں، انہیں وسائل مہیا کیے جاتے ہیں، انہیں اسلحہ دیا جاتا ہے، ان کی باقاعدہ Mind settingاور Brain washing کی جاتی ہے اور انہیں تیار کر کے ان سے یہ کام لیے جاتے ہیں۔ تاکہ دین بدنام ہو، قرآن بدنام ہو، سنتِ نبوی ﷺ بدنام ہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا وقار کے ساتھ نام لینے والا کوئی نہ رہے اور دین خود بخود ان غلط اقدار (Values) کی وجہ سے کمزور ہوتا چلا جائے۔
جو کام دشمنانِ دین ظاہراً نہیں کر سکتے، وہ ان نام نہاد اہل دین، نمائندگانِ دین اور رہبرانِ دین کے ہاتھوں سے لیا جاتا ہے۔ وہ دین کے نمائندے بن کر سامنے آتے ہیں اور پھر ایسے رویے اختیار کرتے ہیں جنہیں نوجوان نسل دیکھتی ہے۔ پھر وہ لوگ جو ان ویڈیوز کو پھیلاتے ہیں، انہیں اس بات سے کوئی غرض اور سروکار نہیں کہ دین کا وقار مجروح ہو رہا ہے، نوجوان نسل دین سے متنفر ہو رہی ہے، دین کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے بلکہ انہیں صرف اس بات سے غرض ہے کہ انہیں یوٹیوب سے ڈالرز آرہے ہیں، ان کے Views بڑھ رہے ہیں اور ان کے یوٹیوب اور فیس بک چینل بہت زیادہ چل رہے ہیں۔ پس جب ڈالرز کے عوض دین کو اس طرح پیش کیا جائے گا تو امت کو اور اگلی نسلوں کو سیرتِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ قرآنی کا کیا نقشہ ملے گا؟ اس کا ہم میں سے ہر کوئی بخوبی اندازہ لگاسکتا ہے۔
حلم و بردباری: پیغامِ سیرت نبوی ﷺ
انسان کی اپنی طبیعت اور مزاج میں حلم، بردباری، نرمی، برداشت، خیر، تحمل، احسان، تواضع اور انکساری جیسی خوبیاں پیدا کرنا اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں رحمت، برکت، وسعت اور برداشت کا رویہ رکھنا؛ یہ صرف اس بندہ کے لیے یا دوسرے کے لیے ہی بہتر نہیں ہے، بلکہ یہ دینِ مبین کے لیے بہتر ہے اور آقا علیہ السلام کی امت کے لیے خیر کا باعث ہے۔ وہ تمام کارکنان، مبلغین اور علماء، خواہ ان کا تعلق منہاج القرآن سے ہو یا وہ دیگر کسی بھی جماعت سے وابستہ ہوں، ان پر یہ لازم و واجب ہے کہ وہ دین کی بات یا علم کا کوئی کلمہ اپنی زبان سے نکالنے سے پہلے اپنے باطن کا جائزہ لیں کہ ان کے اندر کتنا حلم اور کتنی بردباری موجود ہے۔ چونکہ جو کچھ انسان کے اندر ہوتا ہے، وہی اس کی زبان پر آتا ہے اور وہی رویہ معاشرے میں دین کا نقشہ پیش کرتا ہے۔
آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ سے ہمیں بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں جو تحمل و بردباری کے عکاس ہیں۔ ان کے مطالعہ سے ایمان کو تازگی ملتی ہے اور علم و بردباری کی اصل حقیقت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ پوری انسانیت میں سب سے بڑھ کر صاحبِ حلم اور بردبار تھے، سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے، اور سب سے زیادہ غصے کو دبانے والے تھے۔
ó حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آقا علیہ السلام نے اشج بن عبد القیس سے فرمایا:
إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالأَنَاةُ.
’’تمہارے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے: ایک حلم (بردباری) اور دوسری اناۃ (وقار، دانائی اور ثابت قدمی)۔ ‘‘
(صحیح مسلم، رقم: 17)
یعنی جلد بازی اور عجلت پسندی سے گریز کرنا اللہ کو محبوب ہے۔ مسند احمد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آقا علیہ السلام نے ان کا ایک وصف حلم و بردباری اور دوسرا "حیا اور لحاظ داری" بیان فرمایا۔ اب ہم اپنی زندگیوں میں خود سوچیں کہ کیا ہمارے اندر حیا اور لحاظ نام کی کوئی شے باقی بچی ہے؟ کسی نے اگر ہمارے ساتھ زندگی میں ایک بار بھی نیکی کی ہو اور اس کے بعد وہ ننانوے کام شر کے بھی کرے، تب بھی اس کی اس ایک نیکی کو یاد رکھنا اور اس کا لحاظ کرنا "حلم" ہے۔ اسی لیے تو علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کسی ایک شخص میں کفر کے 99 اسباب پائے جائیں اور صرف ایک سبب اس کے ایمان پر دلالت کرتا ہو، تو اس 99 کو چھوڑ دو اور اس ایک سبب کو قبول کرتے ہوئے اسے کافر نہ ٹھہراؤ۔ یہ دین کا اپنا مزاج اور حلم کا وہ درجہ ہے جو ہمیں سکھایا گیا ہے۔
’’اے اللہ! مجھے علم کے ذریعے (دنیا سے) غنی کر دے، مجھے حلم کے ذریعے زینت عطا فرما، تقویٰ کے ذریعے مجھے بزرگی دے اور عافیت کے ذریعے مجھے جمال عطا فرما۔ ‘‘
ó ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا:
ó ’’تم لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، لوگوں کو مشکلات میں ڈالنے والے نہیں۔ ‘‘
آقا علیہ السلام کے اس فرمان سے اہل دین، علمائے دین، مبلغین اور دین کا پرچار کرنے والوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ دین کو آسان بنا کر امت کے سامنے پیش کریں۔ خاص طور پر اس ماحول میں جہاں پوری دنیا سے دین و ایمان پر فکری، نظریاتی، اقتصادی، سیاسی، معاشی، فلسفیانہ، علمی اور اخلاقی حملےہورہے ہیں اور ہر لمحہ انسان کا ایمان چھیننے والے موجود ہیں، ایسے وقت میں اگر دین کو تنگی والا مذہب بنا کر پیش کریں گے، اسے مشکلات سے بھرا ہوا دین دکھائیں گے، اس میں نفرت اور حقارت بھر دیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف بدمزگی اور ناشائستگی کا منظر پیش کریں گے تو باہر سے تو ایمان پر حملہ پہلے ہی ہورہا ہے، ان تبلیغی رویوں سے بھی ایمان پر حملہ ہو گیا تو پھر کچھ محفوظ نہ رہے گا۔
لہذا قرآن مجید کی تعلیمات اور آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کا حلم اپنائیے، اس کے بغیر کوئی نیکی اور کوئی عمل کام آنے والا نہیں۔ اگر ہم اپنی طبیعتوں میں حلم، نرمی، رواداری، برداشت اور تواضع پیدا کر لیں اور جلد بازی کو چھوڑ دیں تو ہمارے ظاہر و باطن میں خیر کے دروازے کھل جائیں گے۔