شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ

خصوصی رپورٹ

تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے اسلامک سنٹرز اور دفاتر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ لاتعداد شہروں میں شیخ الاسلام سے قلبی و حبی تعلق رکھنے والے مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد نے بھی اُن کی 75ویں سالگرہ کی خوشی منائی او ر اُنہیں مبارکباد دی اور اُن کی صحت و تندرستی کے لئے دعائیں کیں۔ اس ضمن میں مرکزی تقاریب منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ اور منہاج یونیورسٹی لاہور میں منعقد ہوئیں۔ ان تقاریب میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور شیخ الاسلام کی علم و امن اور اتحاد و یکجہتی کے لئے انجام دی جانے والی قومی و ملی خدمات پر اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت ایک ایسا روشن چراغ ہے جو علم، حکمت، روحانیت اور انسانی خدمت کے ہر پہلو سے منور ہے۔ ان کی زندگی محض ایک عام انسانی زندگی نہیں، بلکہ ایک ایسے علمی، فکری اور روحانی سفر کی داستان ہے جو امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے ایک ہزار سے زائد کُتب تصنیف کیں جن میں سے 700سے زائد کُتب شائع ہو چکی ہیں، بقیہ طباعت کے مراحل میں ہیں، یہ ایک ریکارڈ ہے۔ 14سو سال کی تاریخ میں شیخ الاسلام واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اتنی بڑی تعداد میں کُتب تصنیف کیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر اور بیرون ملک بھی یونیورسٹیاں، کالج، سکول قائم کئے جہاں لاکھوں طلبہ و طالبات بامقصد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے ہر سال ہزار ہا خاندان مختلف مدات میں مستفید ہورہے ہیں۔

منہاج یونیورسٹی لاہور کا قیام شیخ الاسلام کی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک ایسی خدمت ہے جس کا ذکر آج ہر زبان پر ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں منہاج یونیورسٹی لاہور سرفہرست تعلیمی ادارہ ہے۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے بہترین تعلیمی معیار اور محفوظ ماحول کے باعث یہاں ہزار ہا طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ منہاج یونیورسٹی لاہور میں 12فیکلیٹیز، 36ڈیپارٹمنٹ اور انڈر گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ کے 150ڈگری پروگرام کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی لاہور پرائیویٹ سیکٹر کی واحد یونیورسٹی ہے جو ہر سال مستحق و ذہین طلبہ و طالبات کو مالی مدد اور سکالر شپس کی صورت میں 70ملین روپے سے زائد کا مالی فائدہ پہنچا رہی ہے۔ منہاج یونیورسٹی لاہورکو اپنی نوعیت کے 8منفرد ریسرچ سنٹرز اسے پرائیویٹ و پبلک یونیورسٹیز میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔ اسی طرح پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے حوالے سے بھی شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کے ویژن کی روشنی میں وطن عزیز میں سیکڑوں بے مثال ادارے کام کررہے ہیں یہ ادارے منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت فروغِ علم کے لئے کوشاں ہیں۔

علم کی روشنی ہر گھر تک پہنچانے کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خصوصی ہدایات پر 1994ء میں منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے محدود وسائل کے باوجود پاکستان بھر میں سکولوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا اور ریموٹ ایریاز کے لاکھوں طلبہ و طالبات کو تعلیمی اداروں تک رسائی دی۔ ایم ای ایس کے تحت چلنے والے سکولوں میں منہاج ماڈل سکولز، منہاج پبلک سکولز، منہاج گرائمر سکولز، لارل ہوم انٹرنیشنل سکولز، لارل ایجوکیشن سروسز، پاک اردو سکول سسٹم، لارل پبلشرز قابل ذکر ہیں۔ لارل سکولز ہومز کی 100سے زائد فرنچائزز قائم ہو چکی ہیں۔ ایم ای ایس کے تحت چلنے والے سکولنگ نیٹ ورک میں دینی اور دنیوی علوم یکساں پڑھائے جارہے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو مرکزیت حاصل ہے۔

اگر بات خدمت انسانیت کی جائے تو اس حوالے سے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن پاکستان اور پاکستان سے باہر قابل تحسین اور قابلِ تقلید اپنا دینی انسانی، قومی و ملی کردار ادا کررہا ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن ایک قومی و بین الاقوامی فلاحی و رفاہی تنظیم ہے جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے ہر شعبہ زندگی میں مدد و تعاون فراہم کرنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کوشاں ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری، محرومیوں کے خاتمے اور قدرتی آفات اور بحرانوں کے متاثرین کی بحالی کے لئے عملی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام آغوش کمپلیکس لاہور، آغوش آرفن کیئر ہوم کراچی، آغوش آرفن کیئر ہوم سیالکوٹ، منہاج کالج برائے خواتین خانیوال فیز ون عوامی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ منہاج کالج برائے خواتین خانیوال کا پہلا فیز مکمل ہو چکا ہے۔ خواتین کا یہ پہلا کالج ہے جہاں عصری علوم کے ساتھ ساتھ خواتین کو دینی علوم بھی پڑھائے جائیں گے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اجتماعی شادیوں، فراہمی آب، فری دستر خوان، بیت المال، سٹوڈنٹس ویلفیئربورڈ، مستحقین کی ماہانہ کفالت، فری آئی سرجری کیمپ، قدرتی آفات میں مدد، فری ایمبولینس سروس، منہاج ہسپتال و فری ڈسپنسریز کے فلاحی منصوبہ جات سالہا سال دکھی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن مستحق و ذہین طلباء کو ان کی تعلیم مکمل کرنے کے حوالے سے بھی مالی معاونت فراہم کررہا ہے۔ ہر سال سیکڑوں طلبہ و طالبات منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے مالی تعاون کے نتیجے میں اپنی تعلیم مکمل کررہے ہیں۔

ó منہاج یونیورسٹی لاہور میں ’’فاؤنڈرز ڈے‘‘ کی خصوصی تقریب منعقد ہوئی اس تقریب میں ہزار ہا طلبہ و طالبات نے حصہ لیا اور شیخ الاسلام کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے خدمات پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے مختلف ہینڈی کرافٹس اور تخلیقی فن پاروں کے ذریعے شیخ الاسلام کی علم و امن کے لیے خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ یہ تقریب ایک مثالی اجتماع تھی جس میں تعلیمی، سماجی، روحانی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مختلف پہلو نمایاں کئے گئے۔

تقریب میں شریک مقررین نے زبردست الفاظ میں شیخ الاسلام کو رواں صدی کی ایک بلند پایہ علمی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے فکر و فلسفہ پر عمل پیرا ہونے کی بات کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شیخ الاسلام نے امت مسلمہ میں اتحاد، رواداری، اعتدال پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے جو فکری اور عملی خدمات انجام دی ہیں، وہ مثالی اور قابل تقلید ہیں۔ ان کی کوششیں صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں بین المذاہب مکالمہ، امن و بھائی چارے کے فروغ اور علمی پروگراموں کے ذریعے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کوششیں آج کے زمانے میں امت مسلمہ کے لیے نہایت اہم اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

تقریب میں منہاج یونیورسٹی لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے ڈپٹی چیئرمین و صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو اقوام متحدہ کی جانب سے چیئر برائے امن، تعلیم اور بین الثقافتی مکالمہ تفویض ہونے پر خصوصی مبارکباد بھی پیش کی گئی۔ فاؤنڈرز ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے خصوصی خطاب کیا اور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی عالمی، ملی و قومی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بعض شخصیات اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک عہد اور ایک فکر کی نمائندگی کرتی ہیں اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ بھی ایسی ہی نابغۂ روزگار ہستی ہیں۔ آپ عصرِ حاضر میں علمی اتھارٹی اور فکری رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ علم، بصیرت، حکمت، اعتدال اور تنظیمی صلاحیتوں کا حسین امتزاج ہیں۔ آپ کی خطابت، تصنیف و تالیف اور ادارہ سازی نے عالمی سطح پر اثرات مرتب کئے ہیں اور دین کی اصل روح کو عصری تقاضوں کے مطابق پیش کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے قیادت کے تصور پر معروف مفکر Warren Bennis کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے وژن کو عملی شکل دینے اور اپنے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو، مصر کی معروف جامعۃ الازہر میں خطاب کے بعد علمائے مصر نے آپ کی علمی گہرائی کا اعتراف کیا جبکہ بین الاقوامی کانفرنس کے بعد نامور ماہرِ قانون A. K. Birohi نے بھی آپ کے علمی مقام کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ 1996ء میں سیال شریف میں شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی نے کم عمری میں آپ کو شیخ الاسلام کا لقب عطا کیا جو آپ کی غیرمعمولی علمی، روحانی اور مخفی خداداد صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن جہاد، اجتہاد اور تہجد کا حسین امتزاج ہے اور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ خدمتِ دین اور قیادت کے باہم مربوط تصور کا استعارہ ہیں۔ آپ نہ صرف خود قائد ہیں بلکہ ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو امت مسلمہ کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا کردار ادا کرے گی۔

فاؤنڈرز ڈے کی تقریب میں معروف وائلن نواز استاد رئیس احمد خان نے خوبصورت انداز میں صوفیانہ دھنیں پیش کیں، اس کے علاوہ وطن عزیز کے نامور شاعر، دانشور زاہد فخری نے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا اور شیخ الاسلام کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر سابق وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی ڈاکٹر اسلم غوری کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد کو پرائڈ آف یونیورسٹی ایوارڈ، اور ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اینڈ فنانس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب کو بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ فیکلٹی ممبرز ڈاکٹر اسد محمود خان، ڈاکٹر عائشہ شفقت اور ڈاکٹر فہد نوید کوثر کو ریسرچ ایکسیلنس ایوارڈ اور عمارہ مقصود قادری اور سامعہ احسن کو ایم یو ایل ایکسیلنس ایوارڈز عطا کیے گئے۔ یہ ایوارڈز نہ صرف تعلیمی خدمات کی حوصلہ افزائی ہیں بلکہ علمی محنت اور تحقیق کو فروغ دینے کا بھی ذریعہ ہیں۔

ó اسی طرح 19فروری کو شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ پر ایک محفل حسن قرأت اور استقبال رمضان تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وطن عزیز کے نامور قراء حضرات نے قرآن مجید کی دل پذیر تلاوت پیش کی۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ قراء سید صداقت علی، نور محمد چشتی اور خالد حمید کاظمی نے تلاوت کے ذریعے حاضرین کے دل و دماغ کو منور کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا لکھا گیا عربی کلام بھی پیش کیا گیا، جس کا منظوم اردو ترجمہ ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی نے پیش کیا۔ تحفیظ القرآن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے بھی تلاوت پیش کی، جس سے یہ واضح ہوا کہ تعلیم اور روحانیت دونوں کا امتزاج شیخ الاسلام کی تعلیمات کا مرکزی حصہ ہے۔

تقریب میں مقررین نے شیخ الاسلام کے قلمی خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کی کتب اور تحقیقی مضامین میں علم اور فہم کے ساتھ ساتھ اخلاق اور روحانیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ شیخ الاسلام نے علمی، فکری اور روحانی میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کے افکار اور نظریات آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

منہاج القرآن کی مرکزی تقریب میں وطن عزیز کے لیے دعا کی گئی اور شرکاء نے شیخ الاسلام کی درازی عمر، صحت و تندرستی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔