موجودہ دور جہاں ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے غلبہ کا دور ہے، وہیں مسلم امہ کو ایسے علمی و فکری راہنماؤں کی ضرورت ہے جو جدید علوم اور اسلامی اقدار کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکیں۔ اسی تناظر میں چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا حالیہ دورۂ مصر علمی و سفارتی میدان میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی کانفرنسز میں شرکت، عالمِ اسلام کی مقتدر علمی شخصیات سے ملاقاتیں اور جدید دور کے پیچیدہ مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کرنا تھا۔ مصر، جو کہ صدیوں سے اسلامی علم و فن کا گہوارہ رہا ہے، وہاں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی علمی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریکِ منہاج القرآن کا فکر اعتدال اور جدیدیت کا حسین امتزاج ہے۔
1۔ وزارتِ اوقاف مصر کی 36 ویں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت اور خصوصی خطاب
چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے حکومتِ مصر کی دعوت پر وزارتِ اوقاف کی 36ویں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کا اہتمام وزارتِ اوقاف مصر نے سپریم کونسل برائے اسلامی امور کے تعاون سے "اسلام میں پیشہ ورانہ اخلاقیات، اثرات اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ان کا مستقبل" کے عنوان سے قاہرہ میں کیا تھا، جس میں ممتاز علماء اور مفکرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کانفرنس میں "مصنوعی ذہانت کے دور میں کاروباری پیشوں کی اخلاقی اقدار: مقاصدِ شریعہ اور جدید ٹیکنالوجی کے چیلنجز کے تناظر میں ایک مطالعہ" کے عنوان سے معرکۃ الآراء مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اسلامی تناظر کو مستحکم کرنے کے راستے متعین کرتے ہوئے کہا کہ
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اپنی تمام تر تجزیاتی رفتار اور درستی کے باوجود کبھی انسانی ضمیر، اخلاقی اقدار اور اسلامی شریعت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ یہ محض ایک آلہ (Tool) ہے جسے ایک ایسے اعلیٰ نصاب اور ضابطے کے تابع ہونا چاہیے جو اس کے راستے کی اصلاح کرے اور اس کے نتائج کی درست سمت میں رہنمائی کرے۔ ہماری اسلامی تہذیب کا یہ نقطۂ نظر 'مقاصدِ شریعہ' کی نمائندگی کرتا ہے، جو تکنیکی مہارت اور اخلاقی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ "
آپ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں خودکار فیصلوں کو حلال و حرام کے میزان اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے ترازو میں تولنا ہوگا۔ یہ طرزِ عمل جدید ٹیکنالوجیز کو الگورتھم کے ذریعے قیمتوں میں ہیرا پھیری، اشتہارات کے ذریعے گمراہی، صارفین کے رویوں کے استحصال اور خودکار فیصلوں میں شفافیت کی کمی جیسے منفی رجحانات سے روکتا ہے۔
آپ نے شرکاء کو ایک بنیادی سوال کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہ کہ "ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری منڈیوں (Markets) کی قیادت کس قسم کی ذہانت کو کرنی چاہیے؟ کیا وہ ذہانت جو صرف اعداد و شمار کی زبان اور محض مادی منافع کو جانتی ہو؟ یا وہ ذہانت جو حضور نبی اکرم ﷺ کی ہدایات سے مستنیر ہو، جس کی بنیاد عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ پر ہو؟ یقیناً مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مارکیٹوں کی قیادت 'نبوی اقدار' کی روح کے سپرد ہونی چاہیے، جہاں مارکیٹ عبادت گاہ بن جائے، تجارت ضمیر کی جگہ ہو اور ٹیکنالوجی امانت داری کا مظہر بن جائے۔ تاکہ ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں محمدی ﷺ سچائی اور مدینہ کی پہلی ریاست کے اخلاقی اصولوں کے ساتھ داخل ہو سکیں۔ "
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے تحقیقی مقالے کے اختتام پر درج ذیل عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا :
1۔ ڈیجیٹل تجارت اور مصنوعی ذہانت کے لیے ایک منضبط قانون ساز اور اخلاقی ڈھانچہ تیار کرنا ناگزیر ہے جو شفافیت کو فروغ دے، صارفین کا تحفظ کرے اور لالچ، الگورتھم کے ذریعے قیمتوں میں ہیرا پھیری اور ڈیجیٹل اجارہ داری کو روکے۔
2۔ ڈیجیٹل کرنسیوں اور مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی تنازعات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
3۔ قانون، ٹیکنالوجی اور معاشیات کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ ادارے بنائے جائیں جو ڈیجیٹل مارکیٹوں کی کارکردگی کا سراغ لگائیں اور انحراف کی صورت میں ادارہ جاتی علاج فراہم کریں۔
4۔ اخلاقی اور تعلیمی بحالی کے لیے اسلامی تجارتی اخلاقیات، ڈیٹا کے استعمال کے اصول اور مصنوعی ذہانت کے موضوعات کو یونیورسٹیوں اور ٹیکنیکل کالجز کے نصاب میں شامل کیا جائے۔
5۔ تاجروں اور پیشہ ور افراد کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام ترتیب دیے جائیں تاکہ اداروں کے اندر 'حلال گورننس' اور سماجی ذمہ داری کا احساس مضبوط ہو۔
6۔ عصرِ حاضر کی معیشت اور سمارٹ کنٹریکٹس (Smart Contracts) پر جدید اجتہادی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
7۔ جامعہ الازہر جیسے بڑے ادارے ایسے 'مراکزِ فضیلت' (Centers of Excellence) قائم کریں جو پیشہ ورانہ اخلاقیات، عدل، دیانت اور میانہ روی کی اقدار کو فروغ دیں۔
2۔ مفتیِ اعظم مصر، شیخ الازہر کے نمائندوں، جامعہ الازہر کی قیادت اور بین الاقوامی شخصیات سےخصوصی ملاقاتیں
1۔ اس دورہ کے دوران ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے مصر کے مفتیِ اعظم ڈاکٹر نظیر محمد عیاد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں منہاج یونیورسٹی لاہور اور دارالافتاء مصر کے درمیان علمی و تحقیقی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ مفتیِ اعظم نے منہاج القرآن کی علمی خدمات کو سراہا اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید مسائل پر مشترکہ فکری کام کی اہمیت پر زور دیا۔
2۔ بعد ازاں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے جامعہ الازہر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سلامہ جمعہ داؤد، سابق نائب صدر ڈاکٹر محمد ابوہاشم پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد الدائم علی سلیمان الجندی سیکریٹری جنرل برائے مجمع البحوث الاسلامیہ جامعۃ الازہر، پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالرحیم البیومی سابق سیکریٹری جنرل سپریم کونسل برائے اسلامی امور، پروفیسر ڈاکٹر محمد مہنّا مشیر برائے خارجہ تعلقات شیخ جامعۃ الازہر، شیخ عفیف الدین عبد القادر منصور الکیلانی (روضۂ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے نقیب الاشراف اور عراق کے معروف مبلغِ اسلام)، چیئرمین سپریم کونسل برائے اسلامی امور مملکتِ بحرین شیخ عبد الرحمن بن محمد بن راشد آل خلیفہ اور دیگر اہم عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ ان نشستوں میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب اور علمی کام کا تعارف پیش کیا گیا، جسے جامعہ الازہر کے اساتذہ نے بے حد سراہا۔ خاص طور پر اسلامی ریسرچ اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد عبدالداؤد الجندی کے ساتھ ملاقات میں علمی و فکری تبادلہ خیال ہوا اور انہیں شیخ الاسلام کی تصانیف کا تحفہ پیش کیا گیا۔
3۔ کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے بحرین کی سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کے صدر شیخ عبدالرحمان بن محمد بن راشد آل خلیفہ اور عراق سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالمِ دین شیخ عفیف الدین عبدالقادر منصور الگیلانی سے بھی ملاقات کی، جس میں عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ان تمام ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ دارالافتاء اور منہاج یونیورسٹی جیسے اداروں کے درمیان تعاون وقت کی ضرورت ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت جیسے سلگتے ہوئے مسائل اور جدید سائنسی ورژنوں کے بارے میں درست فہم حاصل کیا جا سکے۔ مصری دارالافتاء کا تصورات کی تصحیح اور انتہا پسندانہ افکار کے مقابلے کا تجربہ عالمی سطح پر ایک بہترین نمونہ ہے، جسے علمی اور روحانی بنیادوں پر مزید وسعت دی جانی چاہیے۔ "
3۔ قاہرہ انٹرنیشنل بک فیئر میں شرکت اور لیکچر
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے دنیا کے بڑے ثقافتی میلوں میں شمار ہونے والے "قاہرہ انٹرنیشنل بک فیئر" (57 ویں سیشن) کا دورہ کیا۔ یہاں آپ نے ایک خصوصی نشست میں "مصنوعی ذہانت کے دور میں کتاب کی اہمیت" پر علمی لیکچر دیا، جس میں کثیر تعداد میں محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کتاب محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر اور فکر کی گہرائی کا وسیلہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں جہاں معلومات کی بہتات ہے، وہاں 'کتاب' مستند علم اور انسانی سوچ کو پراگندہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہے۔
• علاوہ ازیں، آپ نے سابق مفتیِ اعظم مصر ڈاکٹر علی جمعہ کے خصوصی سیمینار "تعمیرِ انسانیت" میں بھی شرکت کی، جہاں وزیرِ اوقاف ڈاکٹر اسامہ الازہری سمیت کئی ممالک کے وزراء اور مفتیانِ کرام موجود تھے۔
4۔ مقدس مقامات اور تاریخی آثار کی زیارت
علمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے قاہرہ میں موجود درج ذیل اہم روحانی و تاریخی مقامات پر حاضری دی:
1۔ آپ نے قاہرہ مصر میں واقع مسجد اور مقام رأ س سیدنا امام حسین e پر حاضری دی، نفل ادا کیے اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کی۔ وہاں موجود تبرکاتِ نبوی ﷺ (قمیص مبارک، موئے مبارک، عصائے مبارک) اور خلفائے راشدین کے دور کے نادر نسخہ ہائے قرآن کی زیارت بھی کی۔
2۔ آپ نے سیدہ نفیسہ بنت الحسن سلام اللہ علیھا کے مزار اور مسجد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
3۔ آپ نے مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت میں تعمیر کردہ فنِ تعمیر کے شاہکار "مسجدِ مصرالکبیر" کا دورہ بھی کیا۔
4۔ آپ نے قاہرہ میں موجود "علم فاؤنڈیشن برائے احیائے ورثہ" کا دورہ کیا جہاں 20 لاکھ سے زائد عربی و اسلامی قلمی نسخے موجود ہیں۔
• ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا یہ دورہ محض ایک روایتی دورہ نہیں تھا بلکہ یہ مشرق اور مغرب کے علمی مکالمہ کی ایک کڑی تھی۔ مصر جیسے علمی مرکز میں آپ کی بھرپور شرکت اور جدید مسائل (AI) پر آپ کا مدلل خطاب اس بات کی علامت ہے کہ منہاج القرآن کا پلیٹ فارم عالمی سطح پر اسلام کی درست اور جدید تصویر پیش کر رہا ہے۔ اس دورے کے نتیجے میں جہاں منہاج یونیورسٹی لاہور اور مصر کے علمی اداروں کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھلے ہیں، وہاں یہ پیغام بھی عام ہوا ہے کہ اسلام ہر دور کے چیلنجز کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی ان سرگرمیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علم، اعتدال اور جدیدیت ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔