یہ تیرے پُراسرار بندے

امجد حسین چودھری

الله تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اور حضرت انسان نے دنیا میں بے پناہ ترقی کی ہے اور ترقی کی منزلیں سر کر رہا ہے۔ اس کی جستجو کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر وقت نئی کھوج میں لگا رہتا ہے۔ وہ یہ ساری کاوشیں اپنی زندگی کو پر سکون بنانے کے لئے کرتا ہے، اس سکون کو پانے کے لئے وہ کبھی کبھی وہ کام بھی کر جاتا ہے جس کی ملامت اس کا ضمیر بھی کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ خواہشات کے اندھے گھوڑے پر سوار ہوکر چلتا ہی جاتا ہے، اس لیے کہ اس کا مقصد صرف زندگی میں سکون کی تلاش ہوتا ہے۔

لیکن خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں الله والوں کی صحبت میسر آ جاتی ہے۔ یہ صحبت ایسے ہی نہیں مل جاتی بلکہ انسان کو یہ صحبت تب تک میسر نہیں آ سکتی جب تک اس کے اندر اس کی طلب نہ ہو۔ اگر طلب پیدا ہو جائے تو پھر انسان جستجو میں لگ جاتا ہے۔ یہ راستہ بھی اتنا آسان نہیں ہوتا بلکہ اس راہ میں کئی مشکلات آتی ہیں۔ اس میں یقین کا بڑا کردار ہوتا ہے کیونکہ یقین بھی ایک منزل ہے۔ جب انسان یقین کی منزل پا لیتا ہے تو بلآخر وہ اس ہستی تک پہنچ جاتا ہے جس کی اسے جستجو ہوتی ہے۔ یقین کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ شیطان ہے۔ یہ حضرت انسان کو طرح طرح کی سوچوں میں ڈال کر وسوسے پیدا کر دیتا ہے۔

اپنی مراد یعنی الله والوں کو پا لینے کے بعد انسان اسی کا ہو جاتا ہے بشرطیکہ یقین کامل ہو۔ یہی حال کچھ منہاج القران کے کارکنان کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک الگ سوچ، الگ فکر اور انوکھا کردار عطا کیا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ ایک الگ مخلوق لگتی ہے۔ اس لئے کہ انہیں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صورت میں ایک ایسا قائد اور شخصیت مل گئی ہے جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اس شخصیت نے اپنے کارکنان میں کردار کی وہ خوشبو پیدا کردی ہے جو انھیں اپنے رب کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ میں نے ان کارکنان میں اپنے قائد کی یہ خوشبو محسوس کی ہے۔ آیئے! کارکنانِ تحریک کی چند خصوصیات اور صفات کا تذکرہ کرتے ہیں:

1۔ کردار

الله تعالیٰ نے کارکنان تحریک منہاج القرآن کو وہ کردار عطا کیا ہے کہ ان میں قائد کے کردار کی جھلک نظر آتی ہے۔ زبان میں مٹھاس، چہرے پہ مسکراہٹ، دل آئینے کی طرح صاف، بے لوث خدمات کا جذبہ، ہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار، جذبۂ احساس سے سرشار، الله کے دین کی سر بلندی کے لئے ہر وقت کچھ نیا کرنے اور نیا سوچتے رہنا حتی کہ کردار ایسا کہ کسی سے غلطی تو ہو سکتی ہے مگر ان میں کوئی بے ایمان، دھوکہ بازنہیں۔

2۔ اخلاق و روحانیت

الله تعالیٰ نے کارکنانِ تحریک منہاج القرآن کو کیا خوب اخلاق عطا کیے ہیں، ان کی زبان سے کبھی گالی نہیں سنی۔ زبان میں مٹھاس، مسکرا کر بات کرنا، الفاظ کا چناؤ خوبصورت اور انداز گفتگو نہایت شاندار، بات کریں تو نہایت ادب اور شائستگی سے۔

• میں نے اکثر و بیشتر اپنے تحریکی دوستوں کو با وضو پایا ہے۔ یہ الله کا وہ فضل ہے جو وہ اپنے محبوب بندوں پر کرتا ہے جس سے وہ بہت سی برائیوں سے بچ جاتا ہے۔ یہ سب قائد کی نظر کا فیض اور اللہ والوں کی صحبت کا اثر ہے۔

• شیخ الاسلام نے گوشہ درود قائم کر کے اپنے کارکنان میں ایک نئی جہت اور نئی سوچ پیدا کر دی جس کی بدولت تحریک سے جڑا ہر شخص ہمہ وقت درود پاک کے ورد میں مصروف عمل رہتا ہے۔ اس کی زبان پہ درود پاک کے گجرے ہر وقت جاری و ساری رہتے ہیں۔ یوں اس کا تعلق گنبد خضرا کے مکیں سے مسلسل قائم رہتا ہے جو کسی سعادت سے کم نہیں۔

• ایک دوسرے کا ادب، دوسروں کی تعظیم، بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ ہمیشہ ادب سے پیش آنا، منہاج القرآن کے کارکنان کا وہ عظیم سرمایہ ہے جو انھیں اپنے قائد سے ملا ہے۔

3۔ دین کی خدمت کا جذبہ

ہر کارکن دین کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہے۔ اس دور میں جہاں انسان بہت سارے مسائل میں گھرا ہوا ہے اور اس کے لئے زندگی گزرنا مشکل ہوگیا ہے، اس کے باوجود ہر کارکن ہر وقت الله کے دین کی سربلندی کے جذبہ سے سرشار ہے۔ اپنا وقت نکالتا ہے، اپنی جیب سے خرچ کرتا ہے اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جو دین اور مشن کی خدمت کے لئے قرضہ بھی اٹھا لیتے ہیں، لیکن مشنِ مصطفوی کے کام میں کسی مشکل کو نہیں آنے دیتے۔ منہاج القران کے ورکرز اپنے کام سے عقیدت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کو وہ بڑے سے بڑا پروگرام بھی نہایت شاندار طریقے سے انجام دیتے ہیں۔

4۔ تنظیمی نظم و ضبط

تنظیمی نظم تحریک کے لوگوں کا خاصہ ہے۔ ہر کام نظم و ضبط سے ہوتا ہے۔ پروٹوکولز کا باقاعدہ خیال رکھا جاتا ہے جس سے تحریک کے کام میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تحریک ایک باقاعدہ مرتب کردہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے سے بڑے پروگرامز جیسے دروس قرآن، میلاد کانفرنس، اعتکاف نہایت احسن طریقے سے انجام پذیر ہوتے ہیں۔

ان کارکنان تحریک کی آپس میں کوآرڈینیشن بھی بے مثال ہے۔ کام ایک دوسرے کی مشاورت سے کیا جاتا ہے، ہر ایک کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور جس کو جو کام دیا جاتا ہے وہ اسے من و عن قبول کرتا ہے اور اسے سعادت سمجھ کر سرانجام ہے۔

5۔ عمل کے پیکر

منہاج القران کے ورکرز میں ایک انفرادیّت یہ بھی ہے کہ وہ خیالات کو عمل میں لاتے ہیں۔ اور اس کو زمین پر زندہ کرتے ہیں۔ وہ ہمہ وقت ان سرگرمیوں میں مصروفِ عمل رہتے ہیں:

1۔ اسلامی تعلیم کا فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی، اخلاقی، روحانی اور سماجی اصلاح، دعوت، مطالعاتی حلقے، تقریبات اور ذاتی طرز عمل کے ذریعےعوام الناس تک مشنِ مصطفوی کا پیغام پہنچانا۔

2۔ مختلف سرگرمیوں جیسے قرآن و حدیث کی کلاسز، مراکزِ علم، کانفرنسز، میلاد کی محفلیں، قومی و مذہبی تقریبات، فلاحی سرگرمیاں اور کمیونٹی سروس۔

3۔ کارکن قیادت اورعوام کے درمیان ایک کڑی کا کام کرتے ہیں۔ وہ قیادت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اورشہر، قصبے اور گاؤں کی سطح پر لوگوں کو متحرک کرتے ہیں۔

4۔ منہاج القرآن کا کارکن صرف ایک منتظم نہیں بلکہ ایک رول ماڈل ہے۔ نظم و ضبط، اخلاقیات اور اسلامی کردار، ذاتی اصلاح امن، رواداری اور خدمت کی زندہ مثال۔ ذاتی تبدیلی منہاج القرآن کے فلسفہ میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

5۔ زیادہ تر کارکنان رضاکارانہ طور پر خدمت کرتے ہیں۔ وقت، مہارت اور وسائل دیتے ہیں۔ تعلیمی تعاون، سماجی بہبود، ڈیزاسٹر ریلیف اور کمیونٹی کی مدد اور خدمت کا جذبہ ہر ایک کے ہمیشہ پیشِ نظر رہتا ہے۔

منہاج القرآن کے کارکنان (رفقا/ ممبران/ رضاکار) بنیادی طور پر پوری تحریک منہاج القرآن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ منہاج القرآن کے کارکنان کوخلوص، نظم و ضبط اور خدمت پر مبنی ذہنیت کے نایاب امتزاج کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سراہا جاتا ہے۔

خلاصۂ کلام

• منہاج القرآن کے کارکنان شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے وژن کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ ان کا کام صرف تنظیمی نہیں ہے بلکہ نظریاتی اور روحانی ہے۔ وہ حقیقی طور پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ علم، امن اور اصلاح کے ذریعے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔

• ایک نمایاں خوبی، ان کا سیکھنے اور سکھانے سے محبت کرنا ہے۔ وہ قرآن و حدیث کی تعلیم، کردار کی تعمیر اور انتہا پسندی کے خلاف بیداری کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ یہ فکری نقطہ نظر ان کے کام کو متوازن اور معتبر بناتا ہے۔

• منہاج القرآن کے کارکنان امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ تشدد اور انتہا پسندی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ مکالمہ اور باہم گفتگو پر زور دیتے ہیں جو آج کی دنیا میں خاص طور پر قابل قدر ہے۔

• زیادہ تر کارکن خالصتاً رضا کارانہ بنیادوں پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ پہچان، شہرت یا انعام کی توقع کیے بغیر وقت، توانائی اور وسائل کی قربانی دیتے ہیں۔ یہ بے لوث خدمت ان کی سب سے قابل تعریف خصلتوں میں سے ایک ہے۔

• تقریبات، اجتماعات اور فلاحی منصوبے اچھی طرح سے منظم ہوتے ہیں، جو پیشہ ورانہ مہارت اور کمال درجہ کے ٹیم ورک کو ظاہر کرتے ہیں۔

مذہبی کاموں کے علاوہ بھی وہ سماجی اور انسانی خدمت مثلاً؛ فلاحی پروگرام، آفات سے نجات، خون کے عطیات اور میڈیکل کیمپ وغیرہ کی صورت میں سرگرم عمل ہوتے ہیں۔

• وہ مستقل مزاجی سےکام کرتے ہیں، اکثر پردے کے پیچھے، شہرت کی تلاش کے بغیر مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ تنقید یا چیلنجز کے باوجود صبر کرتے ہیں اور طویل مدتی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

• منہاج القرآن کے کارکنوں کی سب سے متاثر کن خوبی یہ ہے کہ وہ روحانیت، علم، نظم و ضبط اور خدمت کی عظیم مثال ہیں۔ ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ افراد اور معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا، ان کا مطمع نظر ہوتا ہے۔

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کو سلامت رکھے، ہمیشہ خوش رہیں۔ اسی جذبہ سے سرشار رہیں، اپنے قائد کا دست و بازو بنیں، اپنی صفوں میں دراڑ نہ آنے دیں اور ایک فیملی اور ایک ٹیم کی طرح آگے بڑھتے رہیں۔