پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا دورۂ ایشیٔن ممالک

خصوصی رپورٹ

صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے جنوری اور فروری 2026ء میں ایشیائی ممالک (ملائیشیا، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور جاپان) کا ایک انتہائی اہم اور کثیر الجہتی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد "سب کے لیے تعلیم" (Education for All) کے مشن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، جدید معاشی چیلنجز کا اسلامی حل پیش کرنا اور منہاج القرآن کے دعوتی و تنظیمی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ دورہ علم، روحانیت اور عالمی بھائی چارے کے فروغ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔

1۔ ملائیشیا

دورۂ ایشیا کے پہلے پڑاؤ کے طور پر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری ملائیشیا پہنچے، جہاں کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ صدر منہاج ایشین کونسل عبدالرسول بھٹی اور مینیجنگ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فیصل حسین مشہدی کی قیادت میں وفد نے شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر علی رضا (صدر ملائیشیا)، امجد رضا، محمد واثق، غلام علی سولنگی، محمد عمیر القادری، طارق محمود، یاسر مقصود اور مہتاب عباسی سمیت دیگر سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔

1۔ کوالالمپور میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے پاکستانی میڈیا پروفیشنلز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ ایک انٹرایکٹو میٹنگ کی۔ آپ نے صحافیوں کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے اور جدید سماجی و مذہبی موضوعات پر گفتگو کی۔ اس نشست میں کمیونٹی کی ترقی، تعلیم اور معاشرے کی تعمیر میں ذمہ دار میڈیا کے کردار کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا۔ آپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے دورِ حاضر کے فکری، سماجی اور مذہبی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ آپ نے میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی فکری تعمیر اور عوامی شعور کی بیداری میں ذمہ دار میڈیا کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ میڈیا کو محض خبر رسانی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے کمیونٹی کی ترقی اور تعلیمی مشن میں ایک کلیدی پل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ "

2۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے INCEIF یونیورسٹی میں ڈین ایس جی پی ایس پروفیسر ڈاکٹر منصور ابراہیم اور ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر مایا پسپا رحمان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (AI) کے اخلاقی استعمال کے لیے پالیسی فریم ورک کی تیاری اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے ساتھ مشترکہ تحقیق و فیکلٹی کے تبادلے پر اسٹریٹجک تبادلہ خیال ہوا۔ INCEIF یونیورسٹی کی قیادت سے ملاقات کے دوران گفتگو کا محور "اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (AI)" رہا۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جدید تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کو ضم کرنا وقت کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے ایک مضبوط اخلاقی فریم ورک اور پالیسی سازی ناگزیر ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کا موثر اور مثبت استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ "اس ملاقات میں منہاج یونیورسٹی لاہور اور INCEIF کے درمیان مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور نصاب کی تیاری پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

3۔ یونیورسٹی کے ہال "The Lounge" میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے عالمی لیبر قوانین کا مقاصدِ شریعہ کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے ایک نہایت فکر انگیز خطاب کیا۔ آپ نے کہا کہ حقیقی خوشحالی کا ڈھانچہ اس بات پر قائم ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور طبقات، بالخصوص محنت کشوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اسلامی معاشی نظام میں محنت کش کو محض 'فیکٹر آف پروڈکشن' (پیداواری عنصر) نہیں بلکہ ایک 'اخلاقی امانت' (Moral Trust) سمجھا جاتا ہے۔ " مزدوروں کے حقوق، مواقع کی برابری اور سماجی تحفظ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ آپ نے اسلامی فنانس کی صنعت کو مشورہ دیا کہ وہ محض اثاثوں کی نمو (Asset Growth) پر توجہ دینے کے بجائے ٹھوس سماجی اثرات (Social Impact) مرتب کرے اور غریب گھرانوں کی معاشی بحالی کے لیے کام کرے۔

4۔ ملائیشیا کے تھنک ٹینک "The Future Research" میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ایک اہم نشست میں شرکت کی۔ جس میں رکنِ پارلیمنٹ جناب احمد فضلی شعری اور چیئرمین فیوچر ریسرچ محمد اجمل حافظ سمیت اہم شخصیات شریک تھیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اسلامی فنانس کے ابھرتے ہوئے رجحانات پر گفتگو کی اور اپنی کتاب "Faith for a Fragile Planet" جناب احمد فضلی کو تحفتاً پیش کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام میں اخلاقی فنانس اور پائیدار ترقی کے ماڈلز کو اپنانا عالمی معاشی چیلنجز کا بہترین حل ہے۔ ہمیں تحقیق پر مبنی پالیسیاں بنانی ہوں گی جو جدید معیشت اور شریعت کے اصولوں میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ اس موقع پر آپ نے اپنی تصنیفات اور اسلامی فنانس کے حوالے سے جاری تحقیقی کام سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔

5۔ اس دورے کی ایک عظیم الشان سرگرمی منہاج القرآن ملائیشیا اور نصر القرآن کے درمیان ہونے والا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سات زبانوں میں کیے گئے ترجمہ قرآن (عرفان القرآن) کے 2 لاکھ نسخے تقسیم کیے جائیں گے۔ تقریب میں نائب وزیر ڈاکٹر حاجی احمد بن حاجی مصلان اور سابق چیف جسٹس ملائیشیا جناب تیون رؤس نے بھی شرکت کی۔ اس پروقار تقریب میں ملائیشیا کے وزراء اور اعلیٰ قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے ترجمہ قرآن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے کہا کہ قرآنِ کریم کے مستند تراجم کے ذریعے اس کے حقیقی پیغام کو عام کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ یہ اشتراک امن، باہمی افہام و تفہیم اور اخلاقی اقدار کے فروغ کا باعث بنے گا۔ " آپ نے واضح کیا کہ 7 زبانوں میں ان 2 لاکھ نسخوں کی تقسیم مختلف لسانی اور ثقافتی برادریوں کے درمیان قرآن کے پیغام کو سمجھنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گی۔

6۔ 30 جنوری 2026ء کو کوالالمپور کے گرینڈ کانٹینینٹل ہوٹل میں "Education for all" کے عنوان سے ایک بڑا سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں ملائیشیا کی سماجی و علمی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے تعلیم کو معاشرتی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر سماجی ترقی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ سمندر پار پاکستانی برادری کا تعلیمی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا لائقِ تحسین ہے۔ ہمیں اپنی نسلِ نو کو علم اور کردار سازی کے ذریعے بااختیار بنانا ہوگا تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

7۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کوالالمپور، ملائیشیا کی جانب سے شبِ برات کے موقع پر منعقدہ روحانی اجتماع میں صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ایمان افروز اور فکر انگیز خطاب کیا، جس میں انہوں نے شبِ برات کی فضیلت، توبہ کی حقیقت، اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور روحانی تطہیر کے اہم موضوعات پر جامع اور مدلل روشنی ڈالی، حاضرین کو اللہ کے قریب ہونے، اپنے اعمال کی اصلاح اور روحانی زندگی کی تزکیہ کے لیے رہنمائی فراہم کی۔

8۔ صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے سراؤ نشرالقرآن، پُتراجایا (ملائشیا) میں منعقدہ نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خصوصی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اصلاحِ نفس، تقویٰ، اخلاقی تطہیر اور روحانی بیداری جیسے اہم موضوعات پر نہایت جامع اور پُراثر گفتگو کی۔

2۔ ہانگ کانگ

ملائیشیا کا دورہ مکمل کر کے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری ہانگ کانگ پہنچے، جہاں ایئرپورٹ پر حاجی قمر زمان منہاس، حاجی نجیب اور حافظ محمد نسیم نقشبندی نے وفد کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔

1۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل ہانگ کانگ کے زیرِاہتمام پاکستان کلب میں Education for all"سب کے لیے تعلیم" کے عنوان سے ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کلیدی خطاب کیا۔ آپ نے علم کی سماجی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تعلیم محض ڈگری کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو استوار کرنے کا واحد راستہ ہے۔ معیاری اور ہمہ گیر تعلیم تک رسائی ہر فرد کا بنیادی حق ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ آپ نے ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی برادری کی تعلیمی اور فلاحی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے بچوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔

سیمینار میں صدر منہاج ایشن کونسل عبد الرسول بھٹی، مینیجنگ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فیصل حسین مشہدی، صدر منہاج القرآن کوئینز لینڈ آسٹریلیا میاں محمد واثق، سعید الدین، الیاس ایلیکس، ڈاکٹر رضوان اللہ، علامہ نسیم نقشبندی، علامہ حافظ ظہیر احمد، علامہ احمد جمال ناصر، ندیم حسین، کمیونٹی لیڈرز اور علماء کرام نے خصوصی شرکت کی۔

2۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ہانگ کانگ میں “منہاج القرآن کی تعلیمی اور فلاحی خدمات” عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ منہاج یونیورسٹی کے قیام کا بنیادی مقصد انسانی وسائل (Human Resource Development) کی اس اہم ضرورت کو پورا کرنا ہے جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ 40 برسوں کے دوران منہاج یونیورسٹی لاہور سے 50 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ منہاج یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک سوچ، نظریہ اور تحریک کا نام ہے۔

سیمینار میں سرپرست منہاج القران ہانگ کانگ حاجی قمر الزمان منہاس نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، نائب صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل محمد حفیظ نے نقابت کے فرائض سر انجام دئیے۔

3۔ 3 فروری 2026ء کو ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس کالج میں طلبہ سے "ڈیجیٹل سونامی اور ڈیجیٹل توازن" کے موضوع پر خطاب کیا۔ تھا۔ آپ نے شارٹ ویڈیوز اور مسلسل ڈیجیٹل نوٹیفیکیشنز کے نقصانات سے آگاہ کیا اور "محاسبہ" کے اصول کے تحت ٹیکنالوجی کے درست استعمال کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں شارٹ ویڈیوز کی لت اور مسلسل ڈیجیٹل نوٹیفیکیشنز انسانی توجہ، گہری سوچ اور ذہنی و روحانی سکون کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اس 'ڈیجیٹل سونامی' سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی زندگیوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ آپ نے طلبہ کو 'محاسبہ' (Self-accountability) کے اسلامی اصول کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو اپنی عادت بنائیں۔ آپ نے نصیحت کی کہ اسکرین کے سامنے حد سے زیادہ وقت گزارنے کے بجائے اللہ کی بنائی ہوئی حقیقی دنیا میں وقت گزاریں، جسمانی کھیلوں میں حصہ لیں اور بامعنی انسانی رشتے استوار کریں تاکہ ان کی جسمانی اور اخلاقی نشوونما متوازن طریقے سے ہو سکے۔

4۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی جامع مسجد کولون ہانگ کانگ میں منعقدہ "تقریبِ تقسیم اسناد" میں خصوصی شرکت کی۔ تقریبِ تقسیمِ اسناد سے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کے موضوع پر گفتگو فرمائی۔ تقریب میں صدر ملی مجلس سیرت ہانگ کانگ مفتی محمد ارشد، منہاج القرآن ہانگ کانگ کی قیادت علماء کرام، کمیونٹی رہنما اور دیگر احباب نے شرکت کی۔ کورس میں 150 مرد اور خواتین نے شرکت کی۔ اس کورس کے شرکاء کو ترجمہ القرآن کورس کی تکمیل پر سرٹیفکیٹس دئیے گئے۔ علامہ حافظ محمد نسیم نقشبندی منہاجین نے تقریب کا تعارف کروایا۔

5۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج القرآن اسلامک سنٹر سن پو کونگ میں کمیونٹی کے اراکین، سنٹر کے عہدیداران، علماء کرام، رفقاء و اراکین سے ملاقات کی۔ اسلامک سنٹر میں منعقدہ تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ مختلف ادوار میں فکری و عملی تقسیم کا شکار رہی ہے، مگر اعتدال پر قائم طبقے سے وابستگی اللہ کی خاص نعمت ہے۔ اس موقع پر چند احباب کو لائف ممبرشپ سرٹیفکیٹس پیش کیے اور سنٹر کے امام سید تنویر حسین شاہ کو خصوصی مبارکباد دی۔ علامہ حافظ محمد نسیم نقشبندی نے خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا۔

6۔ منہاج القرآن اسلامک سنٹر کھوائی چنگ، ہانگ کانگ میں شبِ برات کے روحانی اجتماع سے صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے فکر انگیز خطاب کیا۔ اجتماع میں بڑی تعداد میں کارکنان اور مقامی کمیونٹی نے شرکت کی۔ خطاب میں باطنی جہاد، محاسبۂ نفس، توبہ، روحانی پاکیزگی اور رمضان و شعبان کی روحانی اہمیت پر جامع رہنمائی دی گئی، جبکہ شبِ برات کو مغفرت، رحمت اور رجوع الیٰ اللہ کی عظیم رات قرار دیا گیا۔

اجتماع میں صدر منہاج ایشن کونسل عبد الرسول بھٹی، صدرمنہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل فیصل حسین مشہدی، میاں محمد واسق، سرپرست ایم کیو آئی ہانگ کانگ حاجی قمر منہاس، صدر ہانگ کانگ حاجی نجیب، حفیظ، منہاج القرآن ہانگ کانگ کے تمام EC ممبرز، ممبرز ایشین کونسل، سکالرز MQ علامہ حافظ محمد نسیم نقشبندی، علامہ حافظ محمد ظہیر نقشبندی، علامہ حافظ سید تنویر حسین شاہ، علامہ حافظ محمد طیب شمیم اور منہاج القرآن کے لائف ممبرز کے ساتھ ساتھ دیگر کمیونٹی کے احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈائریکٹر منہاج القرآن ایسوسی ایشن ہانگ کانگ محترم راشد اور محترم طارق محمود آسی کو اُن کی تنظیمی خدمات پر شیلڈز اور منہاج القرآن کی لائف ممبرشپ لینے والے احباب کو اسناد سے نوازا گیا۔

7۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اپنے دورہ ہانگ کانگ کے دوران منہاج القرآن اسلامک سنٹر چھنگی پہنچے جہاں منعقدہ تربیتی نشست سے انہوں نے خصوصی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے امام غزالیؒ کی سیرت و فکری ارتقا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ترجمۂ قرآن کورس کے شرکاء اور منہاج القرآن کے لائف ممبرز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔

8۔ ہانگ کانگ میں قیام کے دوران ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج القرآن انٹرنیشنل ہانگ کانگ کی ایگزیکٹو کونسل اور مقامی علمائے کرام کے ساتھ اہم نشستیں کیں۔ ان نشستوں میں مفتی محمد ارشد (صدر ملی مجلسِ سیرت ہانگ کانگ) ڈاکٹر محی الدین نحوی (امام جامع مسجد کولون ہانگ کانگ) اور علامہ حافظ محمد نسیم نقشبندی سمیت دیگر مقتدر علماء شریک تھے۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:"علماء کا کردار مسلم کمیونٹی کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے انتہائی کلیدی ہے۔ ہانگ کانگ جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں ہمیں اتحاد، میانہ روی اور صیح اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے مربوط کوششیں کرنی ہوں گی۔ " ان ملاقاتوں میں ہانگ کانگ کے اندر منہاج القرآن کے تعلیمی، فلاحی اور دعوتی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دورے کے اختتام پر حاجی قمر زمان منہاس اور چوہدری نجیب کی قیادت میں وفد نے ڈاکٹر صاحب کو ایئرپورٹ سے جنوبی کوریا کے لیے رخصت کیا۔

3۔ جنوبی کوریا

ہانگ کانگ سے روانگی کے بعد ڈاکٹر حسین محی الدین قادری جنوبی کوریا پہنچے، جہاں ایئرپورٹ پر منہاج کمیونٹی اور پاکستانی برادری نے ان کا فقید المثال استقبال کیا۔ استقبالیہ وفد کی قیادت سرپرست منہاج ایشین کونسل میاں علی عمران اور صدر منہاج القرآن جنوبی کوریا شہزاد علی بھٹی کر رہے تھے۔ اس موقع پر حافظ عبدالوحید، شفیع خان، قاضی جاوید اقبال، اسرار الحق، چوہدری محمد جمیل، عقیل مجاہد اور حافظ محمد اشرف گجر سمیت کثیر تعداد میں رفقاء و اراکین موجود تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کو گلدستے پیش کیے۔

1۔ 7 فروری 2026ء کو انچیون (Incheon) میں پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا نے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے اعزاز میں ایک پروقار عشائیے کا اہتمام کیا۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر میاں صابر حسین نے کی، جبکہ ایسوسی ایشن کے چیئرمین مدثر علی چیمہ اور مرکزی قیادت بشمول میاں شکیل اور حاجی محمد کاظم نے ڈاکٹر صاحب کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے پاکستانی تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا سمندر پار مقیم پاکستانی کاروباری شخصیات پاکستان کا اصل اثاثہ اور ملک کا مثبت چہرہ ہیں۔ آپ کی محنت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ہے بلکہ آپ مذہبی، سماجی اور فلاحی میدانوں میں بھی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آپ نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہا: "ہمیں کمیونٹی کے اندر اتحاد، رواداری، باہمی احترام اور مثبت اقدار کو فروغ دینا چاہیے۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل اور پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کے درمیان تعاون مستقبل میں پاکستانی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مزید سنگِ میل ثابت ہوگا۔ "

تقریب میں مینجنگ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن فیصل حسین، میاں محمد واثق، میاں علی عمران، مدثر علی چیمہ، قدوس بھٹی، ملک مظہر, شہزاد علی بھٹی، حافظ عبدالوحید، چوہدری جمیل، قاضی جاوید، اسرارالحق، عقیل مجاہد اعوان، زاہد سلہری، عتیق الرحمن، گلفام ارشد، شفیع خان، حافظ اشرف، فیضان چھینہ سمیت پاکستانی کمیونٹی، بالخصوص پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کے نمائندگان، منہاج ایشین کونسل، منہاج القرآن انٹرنیشنل کوریا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ معزز شخصیات نے شرکت کی۔

2۔ جنوبی کوریا میں قیام کے دوران ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے "ایجوکیشن فار آل" کے مشن کے تحت ایک خصوصی نشست میں شرکت کی۔ اس پروگرام میں آپ نے تعلیم کی آفاقی اہمیت پر روشنی ڈالی اور شرکاء کے سوالات کے سیر حاصل جواب دیے۔ آپ نے اپنے فکری نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق تیار کر سکتے ہیں۔ ہمارا مشن صرف خواندگی نہیں بلکہ ایسی تعلیم فراہم کرنا ہے جو کردار سازی اور اخلاقی اقدار سے لیس ہو۔

3۔ "میٹ اینڈ گریٹ" سیشن کے بعد ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مقامی اور پاکستانی میڈیا سے گفتگو کی۔ آپ نے جنوبی کوریا میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل، تعلیم کی ضرورت اور دورِ حاضر کے چیلنجز پر گفتگو کی۔ آپ نے میڈیا نمائندگان کو تلقین کی کہ وہ معاشرے کی فکری اصلاح کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں۔ آپ کی گفتگو کو شرکاء نے بصیرت افروز اور حوصلہ افزا قرار دیا، جس سے کوریا میں مقیم پاکستانی برادری کے اندر ایک نیا ولولہ پیدا ہوا۔

4۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مسجد الحرمین منہاج القرآن اسلامک سینٹر انچھن سٹی میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی علمی، روحانی اور فلاحی خدمات اور امت مسلمہ کی فکری، تعلیمی، سماجی اور روحانی میدان میں خدمات کو بیان کیا۔

4۔ جاپان

دورۂ ایشیا کے آخری پڑاؤ کے طور پر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری جاپان پہنچے، جہاں ٹوکیو ایئرپورٹ پر ملک ممتاز، معاذ اعجاز، عبدالرحیم آرائیں، حسن عمران اور دیگر اراکین نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ بعد ازاں، جب آپ ٹاکاساکی اسٹیشن (Gunma-ken) پہنچے تو وہاں امیر منہاج القرآن جاپان علامہ نفیس حسین قادری کی قیادت میں وارث قادری، محمد حفیظ، عبدالقدوس بھٹی اور دیگر رفقاء نے ان کا پُرجوش خیر مقدم کیا۔

1۔ جاپان کے علاقے تویاما (Toyama-ken) میں ایک نہایت پر اثر روحانی اجتماع منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے "رجوع الی اللہ" کے موضوع پر رقت آمیز خطاب کیا۔ آپ نے انسانی زندگی کے حقیقی مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "توبہ اور اللہ کی طرف رجوع ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی قلبی سکون اور روحانی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے تابع کرنا ہوگا تاکہ ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔ "

پروگرام میں میاں علی عمران سرپرست منہاج ایشین کونسل، فیصل حسین مینیجنگ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل جاپان، ملک ممتاز، خواجہ عمر، میاں محمد واثق، طیب شیرازی، معاذ اعجاز، رفاقت خان، ندیم خان سمیت مقامی کمیونٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

2۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے جامع مسجد معصومیہ ایسے ساکی، جاپان میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دینی و اخلاقی اقدار، معاشرتی ہم آہنگی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر خصوصی زور دیا اور عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات اپنانے کی تلقین کی۔

نمازِ جمعہ کے اجتماع میں میاں علی عمران سرپرست منہاج ایشین کونسل، فیصل حسین مینیجنگ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، خواجہ عمر، معاذ اعجاز، حسن عمران، فہیم بٹ، عبد الحفیظ، عبد القدوس بھٹی، خاور کلے اور حافظ محمد احمد سمیت مقامی کمیونٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

3۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج یوتھ کوآرڈینیشن کونسل جاپان کے عہدیداران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں صدر یوتھ کونسل حسن عمران نے جاری سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ آپ نے نوجوانوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مستقبل کے حوالے سے قیمتی تنظیمی ہدایات دیں اور ان کے جذبے کی تعریف کی۔

4۔ 13 فروری 2026ء کو ڈسٹرکٹ ایباراکی (Ibaraki) کے بینکویٹ ہاؤس "ALIMOR" میں ایک عظیم الشان سیمینار منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں جاپان بھر سے پاکستانی کمیونٹی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں تعلیم کو عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ "معیاری اور ہمہ گیر تعلیم تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے کی ترقی اور انسانی کردار سازی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو علم اور مضبوط کردار کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ عالمی سطح پر اسلام اور پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔ "

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا یہ کثیر الجہتی دورۂ ایشیا علمی، دعوتی اور تنظیمی لحاظ سے بے پناہ کامیاب رہا۔ ملائیشیا میں قرآن کی اشاعت کے معاہدوں سے لے کر ہانگ کانگ میں "ڈیجیٹل سونامی" سے آگاہی، کوریا میں بزنس کمیونٹی کی فکری رہنمائی اور جاپان میں روحانی بیداری کے پیغامات تک، اس دورے نے ثابت کیا کہ تحریکِ منہاج القرآن دورِ حاضر کے جدید مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ اس دورے کے ثمرات نہ صرف مقامی کمیونٹیز کے لیے مشعلِ راہ ہوں گے بلکہ یہ عالمی سطح پر امن، رواداری اور تعلیم کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا اعزاز "یونیسکو چیئر برائے تعلیمِ امن و بین الثقافتی مکالمہ"تفویض

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ پہلی چیئر ہے جس کا اعزاز پاکستان کے حصے میں آیا

UNESCO Chair on Peace, Education & Intercultural Dialogue

صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل اور ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز، منہاج یونیورسٹی لاہور، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی علم و امن کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پاکستان کی پہلی UNESCO Chair on Peace, Education & Intercultural Dialogue ("یونیسکو چیئر برائے تعلیمِ امن اور بین الثقافتی مکالمہ") تفویض کی گئی۔ یہ یونیسکو چیئر منہاج یونیورسٹی لاہور میں قائم کی گئی ہے۔ یہ عالمی اعزاز منہاج یونیورسٹی لاہور کو دنیا بھر کے ممتاز اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فہرست میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔ منہاج یونیورسٹی لاہور، یونیسکو کے تعلیمی فریم ورک کے تحت امن، مکالمہ، تحقیقی تعاون اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ یہ چیئر منہاج القرآن انٹرنیشنل اور منہاج یونیورسٹی لاہور کی امن کوششوں، انتہاپسندی کے تدارک، اعتدال پسندی کے فروغ اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ کو پروان چڑھانے کے لیے کی گئی طویل المدتی کاوشوں کا باوقار اعتراف ہے۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز، شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اس تاریخی کامیابی پر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اس اعزاز کو ایک اجتماعی کامیابی قرار دیا جو عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے دہائیوں پر محیط علمی، فکری اور عملی خدمات کا مظہر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ یونیسکو چیئر رواداری، بقائے باہمی اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کے مشن کو نئے عزم اور وسیع تر بین الاقوامی روابط کے ساتھ مزید مضبوط کرے گی۔

یونیسکو چیئر برائے تعلیمِ امن اور بین الثقافتی مکالمہ کے مقاصد میں امن کے مطالعات (Peace Studies) میں تحقیق اور علمی کاوشوں کو فروغ دینا، مختلف کمیونٹیز کے درمیان بین الثقافتی ہم آہنگی اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنا، پالیسی سازی پر مبنی تحقیق اور عالمی تعلیمی تعاون کو فروغ دینا، اور پائیدار امن پر مرکوز تعلیمی ڈھانچوں کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔ اس یونیسکو چیئر کا قیام عالمی تعلیمی اور امن کی کوششوں میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو تقویت دیتا ہے۔ یہ منہاج یونیورسٹی لاہور کو جنوبی ایشیا میں امن کی تعلیم، تحقیق اور مکالمے کے ایک اہم مرکز کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔

تعلیمی برادری، اسکالرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے عالمی امن اور بین الثقافتی تعاون میں پاکستان کے مثبت تشخص کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔