سوال: تقسیم وراثت کے ضمن میں اسلام کا وضع کردہ نظام کیا ہے؟
جواب: ہمارے معاشرے میں جس طرح دیگر قوانین پر عملدر آمد نہیں ہو رہا اسی طرح وراثت کے متعلق قوانین بھی عملاً غیر مؤثر ہیں۔ اسلام نے تقسیمِ وراثت کا مکمل نظام وضع کیا ہے اور قرآن و حدیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ ورثاء کے حصے بیان کیے گئے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا.
(النساء، 4: 7)
مردوں کے لیے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے۔
اسی طرح تقسیم وراثت کے موقع پر غیر وارث رشتہ داروں، یتیموں اور محتاجوں کے بارے میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا
(النساء، 4: 8)
اور اگر تقسیمِ (وراثت) کے موقع پر (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج موجود ہوں تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور ان سے نیک بات کہو۔
بیٹے، بیٹیوں، والدین، شوہر، بیویوں، بھائیوں اور بہنوں کو وراثت سے حصے دینے کے احکامات درج ذیل ارشاداتِ الہٰیہ سے واضح ہوتے ہیں:
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا.
(النساء، 4: 11)
اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے، اور مُورِث کے ماں باپ کے لیے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو، پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لیے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)، پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے، یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے، بے شک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
ó ایسا شخص جس کی اولاد نہ ہو اور والدین بھی پہلے فوت ہو چکے ہوں تو اس کی وراثت تقسیم کرنے کا طریقہ کار درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ سے ثابت ہے:
یَسْتَفْتُوْنَكَ ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠.
(النساء، 4: 176)
لوگ آپ سے فتویٰ (یعنی شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجیے کہ اللہ تمہیں (بغیر اولاد اور بغیر والدین کے فوت ہونے والے) کلالہ (کی وراثت) کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جو بے اولاد ہو مگر اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس (مال) کا آدھا (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور (اگر اس کے برعکس بہن کلالہ ہو تو اس کے مرنے کی صورت میں اس کا) بھائی اس (بہن) کا وارث (کامل) ہوگا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر (کلالہ بھائی کی موت پر) دو (بہنیں وارث) ہوں تو ان کے لیے اس (مال) کا دو تہائی (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور اگر (بصورتِ کلالہ مرحوم کے) چند بھائی بہن مرد (بھی) اور عورتیں (بھی وارث) ہوں تو پھر (ہر) ایک مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا۔ (یہ احکام) اللہ تمہارے لیے کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
ó جدہ یعنی دادی اور نانی کو چھٹا حصہ ملنے کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ جَدَّةً سُدُسًا.
رسول اللہ ﷺ نے وراثت سے جدہ (دادی یا نانی) کو چھٹا حصہ دیا۔
(ابن ماجه، السنن، 2: 910، رقم: 2725)
اصحابِ فرائض کو ان کے مقررہ حصے دینے کے بعد باقی مال میت کے قریبی مرد کو بطورِ عصبہ ملتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.
میراث اُس کے حق دار لوگوں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔
(بخاري، الصحيح، كتاب الفرائض، باب ميراث الولد من أبيه وأمه، 6: 2476، رقم: 6351)
وراثت کے حوالے سے قرآن وحدیث میں مزید تفصیلات بھی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں لیکن اختصار کی خاطر انہی تصریحات پر اکتفاء کیا ہے۔ مگر ہم قانون وراثت کا نچوڑ اور تقسیم ترکہ کی ترتیب مختصر انداز میں بیان کر دیتے ہیں:
o سب سے پہلے میت کے قابلِ تقسیم ترکہ سے ذوی الفروض (اصحابِ فرائض) کو حصہ دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ورثاء ہیں جن کے حصے قرآنِ مجید میں مقرر ہیں۔ ان ورثاء میں باپ، دادا اوپر تک، اخیافی (ماں شریک) بھائی، شوہر، بیوی، بیٹی، پوتی نیچے تک، حقیقی بہن، علاتی (باپ شریک) بہن، اخیافی بہن، ماں اور جدہ (دادی اور نانی) اوپر تک شامل ہیں۔
o اصحابِ فرائض کے بعد عصبہ نسبی حصہ پاتے ہیں۔ یہ میت کے وہ ورثاء ہیں جن کو اصحابِ فرائض سے بچا ہوا تمام مال مل جاتا ہے اور اصحابِ فرائض نہ ہونے کی صورت میں تمام ترکہ ہی ان کو ملتا ہے۔ عصبہ کی دوقسمیں ہیں: عصبہ نسبی اور عصبہ سببی۔ عصبہ نسبی وہ ہیں جن کا میت سے ولادت کا تعلق ہو اور عصبہ سببی وہ ہیں جن کا میت سے عتاق (غلامی) کا تعلق ہو۔ لیکن آج کل عصبہ کی یہ دوسری قسم ختم ہو چکی ہے۔ عصبہ نسبی کی مزید تین اقسام ہیں: عصبہ بنفسہ، عصبہ بغیرہ اور عصبہ مع غیرہ۔
o اصحابِ فرائض اور عصبہ نسبی نہ ہوں تو ترکہ عصبہ سببی کو ملتا ہے۔ عصبہ سببی، غلام کو آزاد کرنے والا ہے جو آج کل نہیں ہے۔
o اگر کسی بھی قسم کے عصبہ نہ ہوں تو باقی مال دوبارہ نسبی اصحابِ فرائض میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو رد کہتے ہیں لیکن اس میں زوجین کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ سببی یعنی رشتہ زوجیت کے سبب وارث ہوتے ہیں۔
o اگر اصحابِ فرائض اور عصبات میں سے کوئی وارث زندہ نہ ہو تو ذوی الارحام کو ترکہ ملتا ہے۔ یہ میت کے وہ رشتہ دار ہیں جن کا حصہ قرآن وحدیث میں مقرر نہیں ہے، نہ اجماع سے طے پایا ہے اور نہ وہ عصبات ہیں، جیسے پھوپھی، خالہ، ماموں، بھانجا اور نواسہ وغیرہ۔
o اگر ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولی الموالات کو ترکہ ملتا ہے۔ فقہ کی اصطلاح ایک خاص قسم کے معاہدہ کو موالات کہتے ہیں۔ میراث میں یہ عقد احناف کے ہاں معتبر ہے جبکہ شوافع کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ اس کے مولی بننے کی کچھ شرائط ہیں لیکن یہاں تفصلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
o مذکورہ بالا ورثاء میں سے کوئی نہ ہو تو وہ شخص وارث ہو گا جس کے لیے میت نے اپنے غیر سے نسب کا اقرار کیا ہو یعنی کسی مجہول النسب کے بارے میں یہ کہا ہو کہ یہ میرا بھائی یا چچا ہے، اور اس کے اس اقرار سے اس کا نسب اس غیر سے ثابت نہ ہوا ہو، اور اقرار کرنے والے نے اپنے اقرار سے موت تک رجوع بھی نہ کیا ہو تو وہ مقرلہ بھائی یا چچا ہونے کی حثیت سے وارث ہو گا۔ اس کی بھی کچھ شرائط ہیں۔
o اگر مذکورہ بالا ورثاء میں سے کوئی نہ ہو اور میت نے کسی کے لیے ایک تہائی سے زائد یا سارے ترکہ کی وصیت کی ہو تو تہائی سے زائد یا سارا ترکہ اسی کو دے دیا جائے گا۔
o اگر مذکورہ بالا تمام لوگوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو میت کا ترکہ بیت المال میں جمع کروا دیا جائے گا۔
ó آخر میں ایک قابل توجہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ وراثت سے حصہ پانے کے لیے وارث اور مورث کا دین ایک ہونا ضروری ہے کیونکہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ.
مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ ہی کافر کسی مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔
(بخاري، الصحيح، كتاب الفرائض، باب لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم وإذا أسلم قبل أن يقسم الميراث فلا ميراث له، 6: 2484، رقم: 6383)
مذکورہ بیان کردہ ترتیب سے ہی ورثاء میں حصے تقسیم کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ بعض اوقات کچھ ورثاء کی موجودگی میں کچھ دوسرے ورثاء محروم ہوجاتے ہیں، جیسے قریبی وارث کی موجودگی میں دور والا وارث محروم ہو جاتا ہے۔
سوال: اسلام میں یتیم پوتے کی وراثت بارے کیا احکام ہیں؟
جواب: میت کی مذکر اولاد کی موجودگی میں اس کا یتیم پوتا بحیثیتِ وارث حصہ نہیں پاتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تقسیمِ وراثت کے شرعی احکام کی بنیاد ’الاقرب فالاقرب‘ کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ اس اصول کی بناء پر یہ قانون طے کیا گیا ہے کہ اصحاب الفرائض (جن کے حصے قرآن و حدیث نے مقرر کر دیے ہیں) کو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی اموالِ وراثت میت کے قریب ترین رشتہ دار کو بطور عصبہ مل جائے گا۔ میت کے ساتھ اس کے پوتے کی رشتہ داری اپنے باپ کے واسطے سے ہے جبکہ اس کی اپنی اولاد بلاواسطہ رشتہ دار ہے‘ اس لیے میت کے بیٹے کی موجودگی میں اس کی بیٹیاں اور بیٹے عصبہ بنیں گے اور وراثت کے اصولی مستحق ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولی رجل ذکر.
اصحاب الفرائض کو ان کا حق دینے کے بعد جو باقی بچے وہ قریبی ترین مرد وارث کے لیے ہے۔
(صحیح البخاري، 2: 997)
اس اصول کی بنا پر ہی اگر میت کی وفات کے وقت اس کی کوئی مذکر اولاد زندہ نہیں ہے صرف بیٹیاں اور پوتا ہے تو بیٹیوں کو حصہ دینے کے بعد پوتا بطور عصہ دادا کی وراثت سے حصہ پائے گا‘ کیونکہ اس صورت میں یہ قریبی ترین مرد رشتہ دار ہے۔
اسی طرح شریعت نے وصیت کا قانون بھی متعارف کروا رکھا ہے‘ اس کی رو سے اگر کسی شخص کو خدشہ ہو کہ اس کی اولاد اس کے یتیم پوتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گی تو وہ اپنی زندگی میں ان کے لیے جتنی چاہے جائیداد ہبہ کر سکتا ہے یا ان کے حق میں اموالِ وراثت سے ایک تہائی مال تک کی وصیت کر سکتا ہے۔ ہمارے فقہاء کے نزدیک بعض حالات میں پوتے کے لیے وصیت کرنا مستحب اور بعض اوقات واجب بھی ہو جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اسلام کا نظامِ وراثت بڑی حکمتوں پر مبنی ہے۔ اس کے اصولوں کے مطابق اگر یتیم پوتے کو بیٹوں کے ساتھ بطور وارث حصہ نہیں دیا گیا ہے تو وقت ِضرورت اس کی حاجت راوائی اور کفالت کے دیگر پختہ انتطامات کیے ہیں۔