مختلف اقوام کے عروج وزوال کے اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ جو قوم عقلمندی، جدوجہد اور مہارت سے کام لیتی ہے، وہ اپنے دورِ تشکیل سے گزرتے وقت حالات کو پلٹ دیتی ہے اور بحران کی کیفیت سے باعافیت گزر کر اپنی تعمیر کے ہنگامہ خیز سفر کا آغاز کرتی ہے اور دورِ تعمیر میں سینہ تان کر چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ زمین کی وراثت درحقیقت ان کا نصیب ہوتی ہے۔
اقوام جب تک کسی اعلیٰ و بلند مقصدِ حیات اور نصب العین کو حاصل کر نے کی راہ پر گامزن رہتی ہیں، ان کا قافلۂ حیات جذبہ و عمل میں سرگرم رہتا ہے اور وہ اپنی منزلِ مقصود کو حاصل کرنے کرنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتیں۔ بالآخر وہ عروج و بلندی اور ترقی سے ہمکنار ہوتی ہیں لیکن جونہی وہ اپنے نصب العین کو بھلا دیتی ہیں، ان کا جذبہ عمل سرد پڑ جاتا ہے اور وہ قوت و ہمت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ نتیجتاً زوال و تنزل ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
جب عروج حاصل ہو جائے تو پھر اسے برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا ہے کیونکہ دورِ عروج میں قوم کے افراد، سہولت پسند، سست اور کاہل ہوجاتے ہیں اور وہ محنت سے جی چراتے لگتے ہیں پھر بلند نظر افراد کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ قوم کی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں عیش و عشرت کے ہاتھوں زنگ آلود ہو جاتی ہیں اور عظیم اور باوقار سلطنت کی بقا اور استحکام کے لیے جو صلاحیتیں ضروری ہوتی ہیں وہ ناپید ہونے لگتی ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم دوسری اقوام کی توانائیاں اپنے دفاع کے لئے مستعار لیتی ہے۔ ممکن ہے اس عمل سے کسی بھی قوم کی ڈوبتی کشتی کو وقتی سہارا مل بھی جاتا ہو لیکن یہ اس کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔
یاد رکھیں! کسی بھی قوم کا نہ تو عروج اتفاقی ہوتا ہے اور نہ ہی زوال حادثاتی ہوتا ہے بلکہ عروج بھی فطرت کے قوانین کا پابند ہوتا ہے اور زوال بھی قدرت کے ازلی اصولوں کے تحت۔ جو قوم صالح، نیک اور پرہیزگار ہوگی، وہ زمین کی وارث ہوگی اور جو صالح نہ رہے گی تو ملک و سلطنت اور خلافت اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ذیل میں اقوامِ عالم کے عروج و زوال کے چند اسباب ذکر کیے جارہے ہیں:
1۔ عروج کی بنیاد: حسن اخلاق
قوموں کے عروج کا سنگ بنیاد اخلاق پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ دنیا میں ان اقوام کو عروج و بلندی عطا کی ہے جو اخلاق کے لحاظ سے دوسری اقوام سے بہتر ہوں اور لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہوں۔ قرآن مجید میں؛ امیر کی اطاعت، امانتوں کی پاسداری ایفائے عہد، بہادر و شجاعت، سچائی، رحمدلی، رواداری، توکل و اعتماد، احتسابِ نفس و خوداری، دشمن سے اچھا سلوک، عدل و انصاف، حیاء وشرافت، نیکی سے محبت، بدی سے نفرت وغیرہ، غیبت نہ کرنا، چوری نہ کرنا، دوسروں کو اچھے القابات سے پکارنا اور ان جیسے دیگر اخلاقی اوصاف کا ذکر مختلف مقامات پر جابجا ملتا ہے۔
قوموں کی ترقی نہ مادی ترقی کی فراوانی سے ہوتی ہے اور نہ صرف عقل و دماغ کی ترقی سے بلکہ اس کے لیے اخلاق کی ضرورت ہے۔ لوگوں کی مدد کرنا، مسکینوں و مظلوموں کی فریاد رسی کرنا، جدوجہد سے جی نہ چرانا وغیرہ یہ وہ تمام اوصاف ہیں جو کامیاب قوم بننے کے لیے ناگزیر ہیں۔ یاد رکھیں! ہر قوم میں انقلاب و تغیرات صرف اخلاق کے ذریعے ہوتے ہیں اور وہی ان کے مستقبل کا سنگ بنیاد رکھتے ہیں۔ جب کسی قوم کا شیرازہ اخلاق درہم برہم ہوجاتا ہے تو وہ قوم مر جاتی ہے۔ تمام قومیں صرف اخلاق ہی کے ذریعہ حرکت کرتی ہیں، صرف غور و فکر سے دنیا کا کام نہیں چلتا ہے۔
جس طرح اقوام کے عروج و اقبال کا سنگ بنیاد اخلاق کو گردانا جاتا ہے، اسی طرح زوال کی بنیاد بھی بداخلا قی پر استوار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قوموں کی بربادی اور ہلاکت کا سبب بداخلاقی کو قرار دیا ہے۔ جو قومیں اپنی سلطنت اور ملک سے بہت مخلص ہوں اور وہ اخلاقی اقدار کو اپنالیں تو اللہ رب العالمین کا یہ اصول ہے کہ وہ ایسی قوموں کو ترقی وعروج دیتا ہے اور جب کوئی قوم فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے تو پھر اس کا قانون فطرت حرکت میں آتا ہے اور وہ اس قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔
جب حکمران طبقہ اور قوم کے باثروت لوگ بےحیائی، خود غرضی، ہوس، لالچ، عیش پرستی، لذت پرستی، بد عنوانی و بےایمانی جیسی غلیظ عادات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر ان کو چھوڑتے نہیں بلکہ ڈتے رہتے ہیں تو یہ فسق و فجور کی حالت و کیفیت عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوتی ہے۔
قوم لوط اخلاقی دائرے کو پار کرکے بےحیائی میں آخری حد تک گئے تو خدا نے ان پر اپنا غضب نازل کیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہمیشہ ناپ تول میں کمی کرتی تھی لیکن توبہ وندامت کے باعث وہ بچ گئی۔ حضرت نوح علیہ السلام، ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام کی بھی اقوام تعیش پسندی و تفاخر میں مبتلا تھیں۔ جو بھی قومیں حرام کمائی سے مال و زر جمع کرتی رہی ہیں اور غرور وتکبر میں گم تھیں، تباہی و ہلاکت کے وقت اس سامان نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ نیست و نابود ہو گئیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کی تباہی کی ایک وجہ بدعہدی اور فسق بھی بیان کی ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ.
(الاعراف، 7: 102)
’’اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں عہد (کا نباہ) نہ پایا اور ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا۔ ‘‘
بنی اسرائیل میں جب برائیاں پھیلیں تو اللہ نے ان پر فرعون کو مسلط کر دیا اور پھر فرعون کو اس کا ظالمانہ رویہ اور تکبر لے ڈوبا۔
2۔ اجتماعیت و اتحاد
قوموں کے عروج کا دوسرا بنیادی سبب اجتماعیت و اتحاد ہے۔ کو ئی بھی کام چاہے وہ انقلابی ہو یا پھر اصلاح کا، اجتماعیت کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ قوم کی اصلاح و تنظیم کے لیے اتحاد اور اجتماعیت کا ہونا لازمی ہے۔ جب تک کسی بھی قوم کے افراد کے خیالات وعقائد میں عمومیت اور اتحاد نہ ہو اس وقت تک اقوام ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ.
(آل عمران، 3: 105)
’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں اس کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے۔ ‘‘
سابقہ اقوام کےحالات اس بات پر شاہد ہیں کہ جو قومیں نااتفاقی اور مختلف فرقوں میں بٹ جاتی ہیں، وہ تباہ وبرباد ہو جاتی ہیں اور صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہیں۔ بنی اسرائیل کی تباہی کی وجہ بھی نااتفاقی اور تفرقہ بازی تھی۔ جب ان کا اختلاف شدت اختیار کر گیا تھا تو اس اختلاف وانتشار کے باعث ان کی دینی اور اخلاقی زندگیاں مختلف خرابیوں کی آماجگاہ بن گئیں۔ پھر اللہ نے ان کی ظاہری قوت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اللہ کا یہ اٹل قانون ہے کہ جو قوم بھی آپس میں متحد نہیں رہتی، اس کے لیے صفحہ ہستی سے مٹنا لازمی ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی نااتفاقی ان کی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ وہ آپس میں عداوت و حسد اور کینہ رکھنے لگے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو کم تر اور لا جواب ظاہر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ جب قومیں اپنی ساری توانائیاں ایسے فضول کاموں پر خرچ کر دیتی ہیں تو دشمن طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر پاتیں یہاں تک کہ نیست و نابود ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اخوت پیکر بننے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠.
(الحجرات، 49: 10)
’’بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور ﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘
3۔ غور و فکر کرنےکی بجائے جذبات پرستی
قوموں کے زوال کا ایک سبب غور و فکر اور عقل کے حریف ہوجانا ہے اور ایسے ادب وفنون میں دلچسپی لینا ہے جس کی بنیاد جذبات پر رکھی گئی ہو۔ قرآن مجید نے ایک مہذب معاشرے کے انسان کے لئے ضابطہ حیات پیش کیا۔ انہیں وہ تمام اصول بیان کئے گئے ہیں جو ایک پسماندہ قوم کو ترقی کی راہ دکھانے کے لئے ضروری ہیں۔ قرآن نے صرف عبادات پر ہی زور نہیں دیا بلکہ صنعت و حرفت تجارت وغیرہ میں وہ تمام اصول بیان کئے ہیں جو انسان کے امن کے لیے ضروری ہیں۔ قرآن نے فلسفہ یا سائنس کا کوئی جامع نظریہ پیش نہیں کیا کیونکہ نظریات تو بدلتے رہتے ہیں، لیکن ایک ہمہ گیر فلسفہ حیات اور نظریہ کائنات پیش کیا جس کی صداقت ازلی بھی ہے اور ابدی بھی۔ قرآن مجید نے اسلاف پرستی، روایت پرستی اور تنگ نظری کی شدید مخالفت کی۔ انسان کو ہدایت دی کہ وہ دنیا کی سیر کرے۔ قدرت کی نشانیوں کو دیکھے اور ان پر غور و فکر کر کے عقل سے نتائج اخذ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا.
(محمد، 47: 24)
’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں۔ ‘‘
اللہ کے نزدیک غور و فکر کرنے والے لوگوں کا مقام ان لوگوں سے زیادہ ہے جو غور و فکر کی بجائے اندھی تقلید اپناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے کے لیے غور و فکر اور سمجھ بوجھ کو استعمال کرنے کا قرآن مجید میں جگہ جگہ حکم دیا ہے۔
4۔ عروج و زوال کے عملی اصول
کسی انسان کے سامنے اگر کوئی ایسا مقصد ہو جس کو وہ حاصل کرنا چاہتا ہو، اس کے حصول کے لیے وہ دن رات جستجو و جدوجہد کرتا ہو، اس شے کا مل جانا، اس انسان کی زندگی کا نصب العین ہو اور نہ ملنا موت و تباہی کے برابر ہو، پھر انسان اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے ان قوانین اور ضوابط کی پیروی کرے گا جو اس مقصد کو پانے میں انسان کی مدد کریں۔ یہی معاملہ اقوام و ملل کے ساتھ بھی ہے۔ اقوام کو اپنے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کے لیے چند شرائط وقیود کو قبول کرنا پڑتا ہے ورنہ وہ ذلت و انحطاط کے گڑھے میں جا گرتی ہیں۔ قرآن مجید نے اقوام کے قومی و اجتماعی اعلیٰ مقاصد کے لیے کچھ شرائط و حدود مقرر کی ہیں جب تک وہ شرائط نہ پوری کی جائیں، اقوام کامیابی سے محروم رہتی ہیں اور یہی ان کی رسوائی و ذلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عروج و زوال کے درج ذیل عملی اصول بیان فرمائے ہیں:
1۔ کسی بھی قوم کی اصلاح و تنظیم کا پہلا اصول ایمان ہے۔ ایمان سے مراد وہ نظریات اور قوانین و ضوابط ہوتے ہیں جن پر کسی بھی قوم کی تحریک کی بنیاد رکھی گئی ہو۔ ایمان کا مطلب صرف زبان سے یا چند ظاہری اعمال سے کسی عقیدہ کی تصدیق کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں انسان اپنی مرضی، خواہش حتیٰ کہ اپنی ذات کو اس عقیدے کے مالک کے ارادے پر چھوڑ دیتا ہے جس پر وہ ایمان لایا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ.
(الحجرات، 49: 14)
’’دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجیے، تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ ‘‘
ایمان کا مطلب کامل درجہ یقین، بھروسہ اور محبت ہے۔ جب تک کامل درجہ کا اقرار انسان کے دل میں پیدا نہیں ہوتا، وہ اللہ کی صداقت و سچائی اور اللہ کے قوانین و اصولوں پر کامل یقین اپنے قلوب میں پیدا نہیں کر سکتا، تب تک انسان کے لیے کامیابی کا کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا۔ اگر شک کا ایک کانٹا بھی دل کے اندر چبھ رہا ہو تو انسان کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
قوموں کو جب کامل یقین، حد درجہ کا بھروسہ اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے تبھی وہ اپنی منزل مقصود کو حاصل کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سی ایسی اقوام کو تباہ کر دیا ہے جو خالص ایمان نہیں لائے تھے اور اللہ کے احکامات کو دل سے قبول نہیں کیا۔ ارشاد فرمایا:
وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ. ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ.
(یونس، 10: 13، 14)
’’ اور بے شک ہم نے تم سے پہلے (بھی بہت سی) قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایمان لاتے ہی نہ تھے، اسی طرح ہم مجرم قوم کو (ان کے عمل کی) سزا دیتے ہیں۔ پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ (اب) تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ‘‘
2۔ کسی بھی قوم کی ترقی اور اصلاح کا دوسرا سبب عمل صالح ہے۔ اس سے مراد کسی بھی کام کو ایسے سر انجام دینا جس طرح اس کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہی اقوام اور افراد کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہوں گے جو کامل ایمان کے ساتھ عمل صالح کریں گی۔ ارشاد فرمایا:
وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ.
(الانبیاء، 21: 105)
’’اور بلاشبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکوکار بندے ہوں گے۔ ‘‘
جس طرح دنیا میں کوئی بھی شخص اپنا کاروبار یا اپنے ہاں ملازمت کسی نااہل شخص کے سپرد نہیں کرتا تو اس بات کی کیسے توقع رکھی جائے کہ دنیا کے کارخانہ کا انتظام کسی نااہل قوم کے سپرد کیا جائے گا۔ وعملوا الصلحٰت سے مراد یہی ہے کہ دنیا میں وہی انسان اور اقوام ترقی و فتح مندی اور کامیابی کی منزلیں طے کرسکتی ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جو بھی عمل و سعی کریں، وہ صالح ہو۔
3۔ اقوام کے عروج و زوال کا تیسرا اصول صبر ہے۔ انسان جب اپنے ایمان کے مطابق اپنے اعمال سر انجام دیتا ہے اور پھر اسے تکمیل تک پہنچانے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اس دوران اسے راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں جن کو برداشت کرنا اور اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا صبر کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ.
(البقرہ، 2: 45)
’’اور صبر اور نماز کے ذریعے (اللہ سے) مدد چاہو۔ ‘‘
دنیا میں سرفرازی و اقبال کی منزلوں پر ٹھہرے رہنے کے لیے صبر کا مقام اونچا ہے۔ یاد رکھیں! کسی بھی عظیم انسان کو عظیم مادی وسائل اور ظاہری ذرائع نہیں بناتے بلکہ اس کے پیچھے ذہنی رجحان اور فکر مستقیم ہوتی ہے۔ جو انسان کے جسم خاکی میں بے بہا عمل کی روح پھونک دیتی ہے۔ اسی لئے قرآن مجید انسانوں پر یقین کامل، پختہ عزم اور عمل پیہم کی ہدایت کرتا ہے اور ان سب کے حصول کے لیے استقامت اور صبر کے ساتھ حق پر ڈٹے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف استقامت کی تلقین نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی صبر وبہادری کی طرف لانے کی سخت تاکید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی وجہ سے بلندی و سرفرازی عطا کی۔ ارشاد فرمایا:
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ.
(السجدہ، 32: 24)
’’اور ہم نے ان میں سے جب وہ صبر کرتے رہے کچھ امام وپیشوا بنا دیے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے رہے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ ‘‘
جب کوئی قوم قیام و بقا کی جدوجہد شروع کرتی ہے تو نئے تقاضے اور نئے مطالبے سامنے آتے ہیں۔ پرانی چیزیں چھوڑنی اور نئی چیزیں اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ میدان میں مخالفین بھی موجود ہوتے ہیں جن سے ہر موڑ، ہر ٹکراؤ اور ہر موقع پر مخالفت ہوتی ہے۔ نئی نئی تکلیفوں اور مصیبتوں سے مقابلہ ہوتا ہے، پس ان حالات میں جو قوم جس قدر ہمت اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتی ہے، اسی قدر اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
5۔ الہامی کتب سے انحراف وانکار
اللہ تعالیٰ نے تمام امتوں میں کسی نہ کسی صورت میں اپنے احکامات و پیغامات پہنچائے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اللہ کے نازل کردہ احکامات کا انکار کیا گیا، ان میں تحریف کی گئی تو زوال ان امتوں کے لئے لازمی قرار پایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ ؗ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ.
(البقرہ، 2: 87)
’’تو کیا (ہوا) جب بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس وہ (احکام) لایا جنہیں تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم (وہیں) اکڑ گئے اور بعضوں کو تم نے جھٹلایا اور بعضوں کو تم قتل کرنے لگے۔ ‘‘
مسلمانوں نے بھی جب جب قرآنی احکامات سے روگردانی کی تو تباہی کی طرف ہی دھکیلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ان اللہ یر فع ہذا الکتاب اقواما و بضع بہ آخرین.
’’اللہ تعالیٰ اقوام کو اس کتاب پر عمل کرنے سے بلند کرے گا اور (نہ کر نے پر) اس سے ہی پستی میں ڈال دے گا۔ ‘‘
6۔ نعمتوں کی قدر عروج اور نعمتوں کی ناشکری ذریعہ زوال
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو چلانے کے لیے کچھ اصول وضوابط بنائے ہیں جنہیں اللہ کی سنت یا پھر دستور الہی کہا جاتا ہے۔ ان اصولوں پر چلنے میں کائنات کی بقا ہے اور نہ ماننے میں ہلاکت وبربادی ہے۔ ان میں ایک اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عزت و بلند اقبال اور ترقی و عروج جیسی نعمتوں سے نوازتا ہے تو وہ قوم اگر ان عزتوں اور کرامتوں کا خود کو اہل ثابت کرتی ہے تو پھر ترقی کی منزلیں باآسانی طے کرتی جاتی ہیں لیکن اگر وہ اپنے اعمال وکردار سے خود کو اس کے قابل نہ کرپائیں اور اس کے اطوار اس شرف کے خلاف ہوجائیں تو پھر اللہ ان سے عزتوں اور عروج کے تاج چھین لیتا ہے۔ عزتوں اور بلندیوں کو قائم رکھنے کے لیے قوموں کو قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ جب قومیں سستی اور تساہل پسندی کو اپناتی ہیں اور ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتیں، پھر تباہی ان کا مقدر لکھ دی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام کے لئے ایک ہی اصول مقرر کر دیا ہے چاہے وہ مسلم ہو یا غیرمسلم۔ جو بھی قوم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر بجا لائے اور اس کا حق بھی ادا کرے تو وہ دنیا کی امام اور باوقار قوم ٹھہرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ.
(الانفال، 8: 53)
’’یہ (عذاب) اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر ارزانی فرمائی ہو یہاں تک کہ وہ لوگ از خود اپنی حالتِ نعمت کو بدل دیں (یعنی کفرانِ نعمت اور معصیت و نافرمانی کے مرتکب ہوں اور پھر ان میں احساسِ زیاں بھی باقی نہ رہے تب وہ قوم ہلاکت و بربادی کی زد میں آجاتی ہے) بے شک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ ‘‘
پس اپنی جملہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اپنی پوری صلاحتیں بروئے کار لاکر اپنے فرائض کو سرانجام دینا اور اپنے عہدہ و منصب کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا، شکر ہے اور ان ذمہ داریوں سے انحراف کرنا اور اپنے عہدہ و منصب کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا، کفرانِ نعمت ہے۔
جب انسان اپنے مقصد کو بھلا کر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا غلط استعمال کرتا ہے، ظلم و فساد پھیلاتا ہے تو خدا ان سے عزتیں چھین لیتا ہے۔ یہی معاملہ اقوام کے ساتھ بھی ہے۔ اگر علم و حکمت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں توخلقِ خدا کو ان سے فائدہ پہنچانا نعمت کا شکر اور قدر ہے۔ اس کے برعکس اگر تعلیم کو صرف دولت و شہرت کے حصول ذریعہ بنایا جائے تو یہ کفران نعمت ہے، جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ قوموں کی نعمتوں کو انتقام کے ساتھ اسی وقت چھینتا ہے جب اس قوم میں معصیت اور فساد آجاتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو قوموں کو تباہ کردیتی ہیں۔
7۔ ناقص نظام تعلیم
کسی بھی سلطنت قوم اور فرد کی زندگی میں اقبال وعروج کے لیے علم نہایت لازمی تصور گردانا جاتا ہے۔ جب قومیں ایسے علوم سے کنارہ کر لیتی ہیں جو ان کی بقا اور عزت و جلال کے ضامن ہوں تو پھر تباہی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک اقوام اپنی مفید تعلیمی سرگرمیوں پر اپنی توانیاں خرچ کرتی رہی ہیں، وہ عروج و اقبال کی بلندیوں پر بسیرا کرتی رہی ہیں لیکن جب وہ اپنا وقت بےکار مشاغل میں صرف کرنے لگ جائیں تو ذلالت و تباہی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرجاتی ہیں۔ روما سلطنت کا شمار عظیم سلطنتوں میں ہوتا تھا۔ اس میں علم و فضل اور تہذیب و تمدن کی ایسی کرنیں پھوٹیں کہ مشرق و مغرب کی سلطنتوں کو منور کر دیا۔ لیکن جب ان کا نظام تعلیم بدلا پھر اس کو کوئی بھی زوال سے نہ بچا سکا۔ جو شیلی تقریریں اور شعر وشاعری کی طرف امراء اور طالبعلموں کا رجحان ہوگیا۔ سائنس و ٹیکنالوجی، فلسفہ، ریاضی اور تاریخ جیسے مضامین کو پس پشت کر دیا گیا۔ تعلیم غلاموں کے سپرد کرکے جب امراء صرف رنگین محلوں میں عیش و عشرت کے لیے رہ جائیں تب تباہی کی راہیں ہموار ہوجاتی ہیں۔
مقفیٰ نثر، مترنم شعر، فقرے بازی، چٹکلے اور دل آویز تقاریر کے ذریعے بادشاہوں اور امراء خوش ہوتے تھے۔ لہذا ذہین افراد کی توجہ اسی کام کی طرف مبذول ہوگئی اور ارسطو کا فلسفہ بھی نہ سمجھ سکی۔ برصغیر میں بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ امراء اور بادشاہ طبقہ سرور کی کیفیت میں رہتے۔ جدید علوم سے بےاعتنائی، خطابت اور شعر وشاعری کے شوق نے ان کو ساری دنیا میں ذلیل کروایا۔ کوئی بڑا سائنسدان پیدا نہ ہوا۔ نہ فلسفی اور نہ کوئی ماہر اقتصادیات اور نہ ہی سیاستدان جو وقت کی نزاکت کو بھانپ سکے۔ پھر بیرونی حملوں نے سلطنتوں کو تباہ کر دیا۔
خلاصۂ کلام
کائنات کا یہ نظام جو مروج ہے ایک حکیم و دانا خالق کی تصویر کشی ہے۔ اس کامل اور حسین کائنات کی جس طرح اس عظیم نے نقاشی کی ہے، اسی طرح اس کی بقا استمرار کے لیے اپنی حکمت سے کچھ قواعد و ضوابط اور اصول وضع کئے ہیں، انھیں الہی زبان، سنت اللہ اور فطرتِ الہی کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اقوام کا عروج اپنی ذات سے اٹھ کر دوسروں کے لیے جینے میں رکھا ہے۔ جو قومیں دوسروں کو نفع پہنچاتی ہیں، عدل و انصاف پر مبنی قوانین پر عمل کرتی ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی ہیں، وہ عظمتوں اور عزتوں کی بلندیوں پر فائز رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نصب العین کی خاطر جان تک کو قربان کرنے والوں کے لیے فتح مقرر کر رکھی ہے۔ صبر و استقامت سے اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا قوموں کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں یقین جیسی قوت پیدا ہوتی ہے اور یہ یقین انہیں ان کی منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔
لیکن اس کے بر عکس جو قومیں دوسروں پر ظلم کرتی ہیں، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے سے پہلو تہی کرتی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانیوں میں حد سے تجاوز کرتی ہیں، وہ تباہ وبرباد اور ذلت سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ اتحاد کا فقدان ہوجانا اور اللہ کی نعمتوں پر ناشکری کرنا اقوام کو زوال کی طرف لے جانا ہے۔
جو اقوام دوسروں پر بھروسہ کر کے بیٹھ جاتی ہیں اور اپنی حالت کو خود بدلنے کی کوشش نہیں کرتی پھر اللہ بھی ایسی اقوام کی تباہ حالی کی پرواہ نہیں کرتا اور ان کو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔ طبقہ اشرافیہ کا عیش و عشرت میں مگن ہونا، ان کی قوم کے سب لوگوں کو لے ڈوبتا ہے۔ وہ لوگ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ان کو دنیا میں یونہی آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، وہ جو کچھ چاہیں کریں، ان سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سائنسی علوم اور جدید ٹیکنالوجی سے غفلت برتنے والوں کو برباد کیا اور کائنات میں غور وفکر کرنے والے اور تحقیق میں ہمہ تن مصروف رہنے والی اقوام کو زندہ رکھا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے اٹل قوانین ہیں جن سے کسی بھی قوم کو استثناء حاصل نہیں۔ ان پر عمل کرنے میں انسانوں، اقوام اور تہذیبوں کا عروج ہے اور ان سے غفلت برتنا تباہی و بربادی کا سبب ہے۔