عصرِ حاضر میں ایمان و اسلام کی حفاظت کا قلعہ

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

آج ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کی 75 ویں سالگرہ کی خوشیاں منارہے ہیں۔ اللہ رب العزت ہمارے قائد کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جس راہ پر انہوں نے ہمیں گامزن فرمایا ہے، ہم اس پر استقامت اور جواں ولولوں کے ساتھ اپنے سفر کو جاری اور ساری رکھیں، تاکہ اللہ تعالیٰ وہ منزل جلد ہمیں عطا فرما دے جس کا خواب ہمارے قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خود بھی دیکھا اور ہمیں بھی دکھایا ہے۔

یوں تو مختلف مہینوں کو مختلف نسبتیں حاصل ہیں لیکن تحریکِ منہاج القرآن کے وابستگان کو ماہِ فروری سے ایک خاص اور گہری نسبت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں وہ عظیم شخصیت پیدا فرمائی جس کی وجہ سے آج ہم جو کچھ امتِ محمدیہ ﷺ اور پاکستان کے عوام کے لیے سوچتے اور کرنا چاہتے ہیں، اس کا شعور، اس کی فکر اور اس کا نظریہ ہمیں اسی شخصیت کے توسّل سے ملا ہے۔ اسی عظیم نسبت کی وجہ سے پوری دنیا میں اس تحریک کے کارکنان اور وابستگان اس ماہ کے دوران اپنی محبت کے اظہار کے طور پر عظیم الشان انداز میں ہزارہا پروگرامز کا انعقاد کرتے ہیں۔ درحقیقت فروری کا یہ مہینہ تحریکِ منہاج القرآن کے لیے ہر سال بیداریِ شعور کا مہینہ ہے جو دنیا بھر میں تحریکِ منہاج القرآن کی فکر، نظریہ، اساس اور شیخ الاسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اللہ رب العزت کا یہ کتنا بڑا کرم اور انعام ہے کہ اس نے ہمیں انسان بنایا اور انسانیت کا شرف بخشا۔ پھر اس دنیا میں بسنے والے سات ارب سے زائد انسانوں میں سے اس نے ہمیں منتخب کیا اور مسلمان بنایا اور تاجدارِ کائنات ﷺ کا امتی بنایا۔ اگرچہ تمام لوگ اسی کی مخلوق ہیں اور وہی سب کا مالک، رب اور خالق ہے، مگر اس نے ہم پر یہ خاص انعام فرمایا۔

وہ دیگر مخلوقات کو بھی کھلاتا اور پلاتا ہے، لیکن انسان کو اس کے ساتھ ایک دعوت بھی دیتا ہے اور اس کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا ہے کہ تمھیں کھلاتا پلاتا میں ہوں، اس لیے تم مجھے تلاش کرو اور حق کی جانب اپنا سفر جاری رکھو۔ یعنی اللہ نے انسان کے ذمہ ایک اضافی کام لگایا ہے، مگر یہاں بھی اس کا کرم اور انعام ملاحظہ کریں کہ ہمیں پیدائش کے ساتھ ہی اس نے تاجدارِ کائنات ﷺ کی امت میں شامل فرما کر ہماری زندگی کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ گویا اس نے ہمیں ہدایت کے راستے پر ہی پیدا فرمایا ہے۔ اب ہم نے صرف قدم بڑھا کر اس راستے پر چلنا ہے۔ ہمارے لیے اس نے پہلا مرحلہ یوں آسان فرما دیا کہ ہمیں ہدایت کی راہ کو تلاش کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی، بلکہ اس نے ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں اس راہ پر کھڑا کر دیا ہے اور فرمایا کہ اگر کامیابی و فلاح چاہیے تو اس راہ پر چلو۔ یہ اس کا کرم اور انعام ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ.

(الحجرات، 49: 17)

’’یہ لوگ آپ پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں۔ فرما دیجیے: تم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتلاؤ بلکہ اﷲ تم پر احسان فرماتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا ہے، بشرطیکہ تم (ایمان میں) سچے ہو۔ ‘‘

ہم لوگ عموماً اس کی اتنی بڑی نعمت کو سمجھ نہیں پاتے اور اسے اس کی ایک عام عطا (For granted) سمجھتے ہیں۔

سب سے بڑی نعمت ایمان اور اسلام ہے

اس نعمت کی حقیقت ان لوگوں سے پوچھیے جنہیں اس کا صحیح ادراک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صورت میں ہمیں کتنی بڑی دولت عطا فرمائی ہے۔ بزرگانِ دین، علمائے کرام اور مجددینِ اسلام سے تعلق رکھنے والی جلیل القدر شخصیات سے کبھی پوچھیں کہ اسلام کتنی بڑی نعمت ہے، تو وہ اپنا دل کھول کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

لَوْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَ الْعَبْدَ مِنْ أَوَّلِ الدُّنْيَا إِلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَضَى عُمُرَهُ كُلَّهُ فِي السُّجُودِ وَالشُّكْرِ عَلَى نِعْمَةِ الإِسْلَامِ، لَمَا أَدَّى شُكْرَ هَذِهِ النِّعْمَةِ.

(امام غزالی، احیاء علوم الدین)

اگر انسان کو کائنات کے بننے کے ساتھ ہی پیدا کر دیا جاتا اور وہ قیامت تک اپنے مسلمان بنائے جانے پر اللہ کی شکر گزاری میں سجدہ ریز رہتا اور اس کی زبان مسلسل مصروفِ حمد رہتی، تب بھی وہ اس نعمت کا حق ادا نہیں کر سکتا تھا۔

یہ وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے کہ ہمیں مسلمان گھرانوں میں پیدا فرمایا، مگر ہم اس کی قدر نہیں جانتے۔ ہم اس کی فکرمندی میں مشغول نہیں رہتے اور اس بات کا احساس نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کتنا عظیم معاملہ فرمایا ہے۔

متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ہر صحابی نعمتِ ایمان و اسلام سے بہرہ یاب ہونے کے بعد عمر بھر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکر بجا لاتا رہا کہ اللہ نے اس پر خاص کرم فرماتےہوئے ایمان و اسلام کی نعمت عطا فرمائی۔

سیدنا یعقوب علیہ السلام کا واقعہ یاد کیجیے کہ جب ان کے پاس ایک شخص یہ خوشخبری لے کر پہنچا کہ مجھے سیدنا یوسف علیہ السلام کی خبر مل گئی ہے۔ اس پر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ میرا یوسف کیسا ہے؟ وہ جوان ہو کر کیسا لگتا ہے؟ اس کا لباس کیسا ہے یا اس کی شکل و صورت اور وجاہت کیسی ہے؟ آپ علیہ السلام نے ایسا کچھ بھی نہ پوچھا بلکہ صرف ایک سوال کیا:

"تم اچھی خوشی کی خبر لائے ہو، مگر یہ بتاؤ کہ میرے یوسف کو کس دین پر چھوڑ کر آئے ہو؟ یعنی تم نے اسے کس دین پر پایا ہے؟ اس قاصد نے جواب دیا کہ "میں نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو اس خدائے واحد پر ایمان لانے والا پایا ہے۔ تب حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبانِ اقدس سے یہ الفاظ نکلے: اللہ کا شکر ہے، اب نعمت مکمل ہو گئی ہے۔ یعنی انہوں نے صرف بیٹے کی زندگی کی خبر پا کر یہ نہیں کہا کہ نعمت مکمل ہو گئی، بلکہ جب یہ اطمینان کر لیا کہ بیٹا زندہ بھی ہے اور خدائے واحد پر ایمان بھی رکھتا ہے، تب فرمایا کہ اب نعمت مکمل ہوئی ہے۔

نعمت کی بے قدری نعمت کے چھن جانے کا باعث بنتی ہے

اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صورت میں ہمیں جو عظیم نعمت عطا فرمائی ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے مگر افسوس کہ ہمیں جتنا اس کا احساس ہونا چاہیے، وہ مفقود ہے۔ ہم اس حوالے سے کوتاہی اور بے نیازی برتتے ہیں۔ یاد رکھیں! جب انسان اللہ کی نعمتوں سے بے نیازی برتنے لگے، انہیں معمولی سمجھنے لگے اور دل میں ان کی قدر نہ رہے، تو اللہ تعالیٰ وہ نعمتیں واپس لے لیتا ہے۔

ó سیدنا سفیان ثوری فرماتے ہیں:

مَنْ لَمْ يَخَفْ سَلْبَ الْإِيمَانِ، سُلِبَ مِنْهُ عِنْدَ الْمَوْتِ.

"جو شخص بھی اپنے ایمان کے چھن جانے کا خوف نہ رکھے اور مطمئن ہو کر بیٹھ جائے تو اس کا ایمان اس سے چھن جاتا ہے اور اسے اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔

(مرقاة المفاتيح)

اس سے مراد یہ ہے کہ جب انسان یہ فکرمندی چھوڑ دے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمت مجھے عطا کی ہے، میں نے اسے محفوظ رکھنا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ خیر کا جو معاملہ فرمایا ہے، میں نے اس میں اضافہ کرنا ہے۔۔۔ اپنے دینی عقائد افکار اور نظریات کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔ اپنی عبادات اور ان نسبتوں کی حفاظت کرنی ہے جو ہمیں ہمارے دین نے عطا کی ہیں۔۔۔ اللہ کی خشیت اور تاجدارِ کائنات ﷺ کی محبت کو اپنے دل میں ہمیشہ قائم و دائم رکھنا ہے۔۔۔ اہل بیتِ اطہارf کی محبت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم اور اہل اللہ کی نسبت اور محبت کو اپنے دل میں بسانا ہے اور ان کے ساتھ جینا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی امت کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنا ہے، جب انسان ان چیزوں کی فکرمندی میں نہیں رہتا اور ان کی قدر نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ وہ نعمت اس سے واپس لے لیتا ہے۔

قابلِ غور امر یہ ہے کہ 'اسلام' سے بڑھ کر سب سے بڑی نعمت انسان پر اور کیا ہو سکتی ہے۔۔۔؟ انسان کو تاجدارِ کائنات ﷺ کی غلامی سے بڑی کیا نعمت میسر آ سکتی ہے۔۔۔؟ آقا علیہ السلام کی اطاعت، اتباع اور نسبت سے بڑی کیا نعمت ہو سکتی ہے جو کسی انسان پر اللہ نے فرمائی ہو۔۔۔؟ پس جب ہمیں یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے تو ہمیں اس پر ہمیشہ اس کا شکر گزار بن کر رہنا چاہیے۔

ایمان و اسلام کی حفاظت کیونکر ممکن ہے؟

اس دنیا میں رہتے ہوئے روز و شب انسان کو کسی نہ کسی تکلیف، مصیبت اور پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ معاش، کاروبار، مہنگائی، اولاد، بیماری، حادثات، عدل و انصاف کا نہ ملنا، غصبِ حقوق، لڑائی جھگڑے، فتنے، غلط فہمیاں الغرض طرح طرح کے مصائب کا سامنا اس دنیا میں ہر ایک کو ہے۔ ان تمام مسائل کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اسی نے اپنی مخلوق کو ان حالات میں رکھا ہے تاکہ انہیں آزمائے۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ.

(سورۃ البلد، 90: 4)

’’بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے۔ ‘‘

جب یہ تکالیف آتی ہیں تو انسان کی نگاہ حقیقی نعمتوں سے ہٹ کر صرف اپنی تکالیف اور آزمائشوں پر چلا جاتا ہے اور وہ روزمرہ کے مسائل میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ جب زندگی کے مصائب و آلام تیر بن کر روز انسان کے ایمان پر حملہ آور ہوں، جب زندگی کی پریشانیاں تیر بن کر انسان کے ایمان اور جذبہِ اسلام پر حملہ کریں، تو اب سوال یہ ہے کہ انسان ان سے کیسے محفوظ رہے۔۔۔؟ انسان اپنی ایمانی کیفیات کا تحفظ کیسے کرے۔۔۔؟ اپنے اسلام کا تحفظ کیسے کرے۔۔۔؟ وہ ان نعمتوں کا محافظ کیسے بنے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہیں۔۔۔؟

ان تمام سوالوں کا حل قرآنِ مجید ہمیں عطا کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا:

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ. صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ۙ۬ۦ.

(الفاتحہ، 1: 5-6)

’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اِنعام فرمایا۔ ‘‘

قرآن ہمیں یہ حل دیتا ہے کہ جب تم پر صبح و شام زندگی میں مصائب و آلام کے حملے ہوں۔۔۔ ہر سمت سے تمہارے ایمان اور اسلام پر حملہ ہو رہا ہو۔۔۔ تمہاری استقامت پر حملہ ہو رہا ہو۔۔۔ کہیں تمہیں رشوت لینے پر مجبور کیا جائے۔۔۔ کہیں تمہیں اپنا ایمان بیچنے پر مجبور کیا جائے۔۔۔ کہیں تمہاری عزت کا سودا ہو رہا ہو۔۔۔ کہیں تمہارے سر کو جھکایا جائے اور تم پر ظلم کیا جائے۔۔۔ اور کہیں تم پر مصائب و آلام کی ایسی بارش کی جائے کہ تم ٹوٹنے لگو تو ایسے حالات میں میری چھاؤنیوں اور قلعوں میں آ جایا کرو، میری 'حفاظت' میں آ جایا کرو۔

انسان سوال کرتا ہے کہ مولیٰ! تیری چھاؤنی، قلعہ اور محافظت کی جگہ کیا ہے۔۔۔؟ اللہ فرماتا ہے: میری چھاؤنیاں؛ میرے وہ مکرم بندے، اولیاء، صوفیاء، مردِ قلندر، مجددین اور علمائے ربانیین ہیں جو اللہ اور مصطفیٰ ﷺ کی فکر کی خیرات بانٹتے ہیں۔ ان کی سنگت اور نسبت میں آ جایا کرو۔۔۔ ان کی محبت میں آ جایا کرو۔۔۔ ان کی جماعت میں شامل ہو جایا کرو۔۔۔ اور ان کے راستے میں ان کے رفیق بن جایا کرو۔ جب تم ان کے پاس آ جاؤ گے، تو میں خود تمہارے ایمان کی حفاظت کروں گا۔

شیخ الاسلام: عصرِ حاضر میں ایمان کی حفاظت کا قلعہ

اس پرآشوب دور میں تحریکِ منہاج القرآن اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صحبت و سنگت میں ہونے والی علمی، فکری اور روحانی سرگرمیاں؛ جو اعتکاف، گوشہ درود، محافلِ میلاد اور خطابات و کتب کی صورت میں جاری و ساری ہیں، یہ سب وہ چھاؤنیاں اور قلعے ہیں جو ہماری اور ہمارے ایمان کی حفاظت کررہے ہیں۔

اس حقیقت کو جاننے کا ایک بہت آسان Litmus Test ہے اور وہ یہ کہ جب ہم سب رفقاء و وابستگان مختلف محافل و پروگرامز میں ایک دوسرے کے قریب بیٹھتے ہیں، تو کیا ہم یہ محسوس نہیں کرتے کہ ہم اپنے قائد کے قلعہ میں محفوظ ہیں؟ یقیناً ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی اس قلعہ سے الگ ہو جائے، تنہا اور اکیلا رہ جائے، تو کیا اس کا ایمان، قلعہ میں رہنے والے کی نسبت زیادہ محفوظ رہے گا؟نہیں بلکہ قلعہ میں ہی ایمان محفوظ رہتا ہے۔

پس صراط الذین انعمت علیھم کے مصداق شیخ الاسلام کی صحبت اور سنگت وہ قلعہ اور چھاؤنی ہے جو ہمارے ظاہر کی بھی حفاظت کرتی ہے اور ہمارے باطن کی بھی نگہبانی کرتی ہیں۔ یاد رکھیں! اصل نعمت 'اسلام' ہے جس کی ہمیں حفاظت کرنی ہے، کیونکہ اسی پر ہمارا انجام ہونا ہے اور اسی کے بارے میں ہم سے سوال و جواب ہوں گے لیکن اس نعمت کی حفاظت تب ہی ممکن ہے، جب انسان ان محفوظ قلعوں میں آ جائے۔ پھر وہ شیطان کے حملوں سے بھی بچ جاتا ہے اور فکری و نظریاتی یلغار سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس قلعہ و چھاؤنی میں خیر ہی خیر ہے۔ یہاں اگر کوئی کسی طرح کی غفلت میں مبتلا ہونے لگے، کسی کی آنکھ لگنے لگے تو اس کا ہم سفر اسے جگا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

یَدُ اللّٰهِ عَلَی الْجَمَاعَةِ

(جامع ترمذی، ابواب الفتن)

اللہ کا ہاتھ (حمایت و نصرت) جماعت پر ہے۔

جماعت ہی وہ قلعہ ہوتی ہے جس پر خدا کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے۔ منہاج القرآن کے رفقاء و وابستگان کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس صدی میں ہمیں سب سے مضبوط قلعہ عطا فرمایا ہے۔ اس قلعہ میں جب ہم جذبات، احساسات اور محبت کے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں، تو یہاں کوئی دنیاوی مفاد، کاروبار کرنے، لین دین طے کرنے یا ملازمت کی تلاش میں نہیں آتے بلکہ یہاں آنا تو صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی خاطر ہے۔ جب کوئی اس نیت سے جمع ہوتا ہے تو یہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ کی خاطر مل بیٹھنا عبادت ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے، جب لوگ ایک ہی بستی اور ایک ہی قلعہ کے مکین ہوں۔ اس قلعہ کی دیواریں ایمان و اسلام کی بھی حفاظت کرتی ہیں اور دنیا کے مصائب و آلام سے بھی بچاتی ہیں۔ اس لیے کہ جو تنہا رہ جائے، اسے نہ جانے دنیا، نفس، شیطان میں سے کون اچک لے اور اس کے ایمان و اسلام کی خرابی کا سبب بن جائے۔ پس جو جڑ کر رہتا ہے، اللہ اسے اپنے بندوں کی 'چھاؤنی' میں محفوظ کر لیتا ہے۔

وقتِ اختلاف معرفتِ حق رکھنے والا سب سے بڑا عالم ہے

اللہ تعالیٰ نے اس دور میں ہمیں جس عظیم المرتبت شخصیت کے ساتھ وابستہ کیا ہے اور جس 'چھاؤنی' کے ہم مکین ہیں، ایسی شخصیات اللہ تعالیٰ ہر دور میں عطا کرتا رہا ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ جب ظلم و ستم حد سے بڑھ جاتا ہے اور ایمان و اسلام کی قدریں پامال ہونے لگتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ کسی کو سہارا بنا کر بھیجتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: "جانتے ہو سب سے بڑا عالم کون ہے؟" عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہی ارشاد فرمائیے۔ " آپ ﷺ نے فرمایا:

أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ.

(حلیۃ الاولیاء)

لوگوں میں سب سے بڑا عالم وہ ہے جو حق کو اس وقت پہچان لے جب لوگ (اختلاف اور) شک میں مبتلا ہوں۔

اس حدیثِ مبارک کے مطابق اگر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اقدامات اور افکار کو دیکھتے ہیں تو شیخ الاسلام اس حدیث مبارک کی عملی تصویر کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس سرزمین پر جب بڑے بڑے مذہبی و سیاسی معاملات پیش آئے اور سارا جہاں، تمام علماء اور مفکرین ایک طرف تھے اور کنفیوژن کا شکار تھے، اس وقت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے واشگاف الفاظ میں حق کا علم بلند کیا اور اس پر ڈٹ گئے۔ یہ آقا ﷺ کے اسی فرمان کی عملی تصویر ہے کہ جب سارا جہاں شک میں ہو تو عالمِ ربانی اور مجدد وہی ہوتا ہے جو حق کی بات پر قائم رہے۔

وہ زمانہ یاد کریں جب انتہا پسندی عروج پر تھی۔ ہر کوئی تذبذب کا شکار تھا، علماء، سیاستدان، دانشور الغرض ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ "مارنے والا بھی کلمہ گو ہے اور مرنے والا بھی"۔ ان حالات میں سوال پیدا ہوا کہ پھر حق پر کون ہے؟ اس وقت شیخ الاسلام نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف ایک مبسوط اور ضخیم فتویٰ لکھا، بلکہ علی الاعلان فرمایا کہ جو دہشت گرد ہے اور کسی انسان کی ناحق جان لیتا ہے، وہ کسی صورت مسلمان اور حضور نبی اکرم ﷺ کا غلام نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح اگر ہم شیخ الاسلام کے دیگر متعدد اقدامات اور افکار پر نگاہ ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں جب بھی امت یا پاکستان کسی بڑے فکری اختلاف میں مبتلا ہوا، خواہ وہ سیاسی معاملہ ہو، یا مذہبی معاملہ ہو، اس کا تعلق عقائد کے ساتھ ہو یا معاشرت کے ساتھ، شیخ الاسلام نے حق کی وہ بات کہی جو اس وقت شاید کسی کو سمجھ نہ آئی ہو، مگر بعد میں ہر کسی نے اعتراف کیا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری بالکل صحیح کہتے تھے۔

آقا علیہ السلام کا فرمان کہ عالمِ ربانی وہی ہے جسے شک کے دور میں بھی حق کی خبر ہو، اس فرمان کی جیتی جاگتی تصویر آج کے دور میں ہمیں شیخ الاسلام کی صورت میں نظر آتی ہے۔

شیخ الاسلام اپنے علم میں سورج کی مانند ہیں

بزرگوں اور اہل اللہ کے تذکروں میں علماء کی تین اقسام نہایت اہمیت کی حامل ہیں، جن کا تذکرہ عموماً علمِ نافع اور علمِ غیر نافع کی بحث میں کیا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا جنید بغدادیؒ، امام غزالیؒ اور دیگر صوفیائے کرام نے علم کی تاثیر کے حوالے سے علماء کو ان تین درجات میں تقسیم کیا ہے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے 'احیاء علوم الدین' میں اس مفہوم کو یوں بیان فرمایا ہے:

1۔ الْعَالِمُ الَّذِي هُوَ فِي عِلْمِهِ كَالشَّمْعَةِ تُضِيءُ لِلْغَيْرِ وَتَحْرِقُ نَفْسَهَا.

وہ عالم جو اپنے علم میں ایک شمع کی مانند ہے کہ دوسروں کو تو روشنی دیتا ہے مگر خود کو جلا ڈالتا ہے۔

یعنی دوسرے تو اس سے نفع پاتے ہیں مگر وہ خود اس نور سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ ایسے علماء اور سکالرز ہمیں بآسانی نظر آجاتے ہیں کہ جنھیں سن کر لوگ تو خیر کی راہ پر آ جاتے ہیں لیکن ان کا کلام خود ان پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ وہ اپنے گلی محلے کو تو زندہ کرتے ہیں مگر خود مردہ ہی رہتے ہیں۔ ان کا علم 'علمِ نافع' نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے اندر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی لو نہیں جلی ہوتی اور تاجدارِ کائنات ﷺ کی غلامی کی شمع روشن نہیں ہوتی۔ وہ فلسفہ کی کتابیں تو لکھ دیتے ہیں، لیکن خود اپنی زندگی میں فلسفے کے گنجلکوں سے آزاد نہیں ہو پاتے۔

2۔ علماء کی دوسری قسم یہ ہے :

الْعَالِمُ الَّذِي لَا نُورَ لَهُ فِي نَفْسِهِ وَلَا يُضِيءُ لِغَيْرِهِ.

وہ عالم جس کی اپنی ذات میں کوئی نور ہے اور نہ وہ دوسروں کو روشنی دے سکتا ہے۔

3۔ تیسری قسم کے علماء وہ ہیں جو:

الْعَالِمُ الَّذِي هُوَ فِي عِلْمِهِ كَالشَّمْسِ، نُورُهَا فِي نَفْسِهَا وَضَوْؤُهَا لِلْعَالَمِ.

وہ عالم جو اپنے علم میں سورج کی مانند ہے؛ اس کا نور اس کی اپنی ذات میں بھی ہوتا ہے اور اس کی روشنی پورے عالم کے لیے بھی ہوتی ہے۔

یعنی وہ خود بھی صاحبِ بصیرت ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی صاحبِ بصیرت بناتا ہے۔۔۔ جس کے علم سے لوگ بھی زندگی پا لیتے ہیں اور وہ خود بھی زندگی حاصل کرلیتا ہے۔۔۔ وہ اپنے علم سے خود بھی زندہ ہوتے ہیں اور اپنے گرد و نواح کو بھی زندہ کرتے ہیں۔ پھر اس میں بھی کسی کا مقام اتنا ہے کہ کوئی اپنے گلی محلے کو اپنے علم سے زندہ کرتا ہے۔۔۔ کسی کی حد اس سے زیادہ ہے اور وہ پورے شہر کو اپنے علم اور معرفت سے زندہ کرتا ہے۔۔۔ کوئی اپنے ملک کو علم سے زندہ کرتا ہے۔۔۔ اور پھر کسی کے علم کی شمع کی لو اتنی ہوتی ہے کہ وہ پورے عالم کے اندھیرے اپنے علم سے دور کر دیتا ہے اور اقوامِ عالم کو اپنے علم سے زندہ کر دیتا ہے۔

ó مشہور صوفی بزرگ شیخ احمد زروقؒ فرماتے ہیں:

الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ: عَالِمٌ بِمَا عَمِلَ فَذَاكَ السَّعِيدُ، وَعَالِمٌ بِمَا لَمْ يَعْمَلْ فَذَاكَ الشَّقِيُّ، وَعَالِمٌ عَامِلٌ مُعَلِّمٌ فَذَاكَ الَّذِي يُدْعَى عَظِيمًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ.

علماء تین طرح کے ہیں: ایک وہ جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے (ذاتی زندگی حاصل کی)، سو وہ خوش بخت ہے۔ دوسرا وہ جو علم رکھتا ہے مگر عمل نہیں کرتا، سو وہ بدبخت ہے۔ تیسرا وہ جو علم رکھتا ہے، عمل بھی کرتا ہے اور دوسروں کو تعلیم بھی دیتا ہے (گرد و نواح کو زندہ کرتا ہے)، پس یہ وہ ہے جسے آسمانوں کی بادشاہت میں 'عظیم' پکارا جاتا ہے۔

(آداب السلوک و آداب المریدین)

ان روایات و اقوال کو پڑھتے جائیں اور ان علامات اور نشانیوں کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری میں ڈھونڈتے جائیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مردِ قلندر کے ساتھ جوڑا ہے کہ جس کی شخصیت ایسی عالمانہ ہے کہ جو خود بھی اپنے علم سے زندہ ہوئے ہیں۔۔۔ ان کے افکار بھی زندہ ہیں۔۔۔ اور ان کا ہر ہر لمحہ زندہ ہے۔۔۔ اور پھر وہ فقط اپنی ذات میں زندہ نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اہلِ پاکستان کو شعورِ قرآن، شعورِ سنتِ مصطفیٰ ﷺ ، شعورِ آئین اور شعورِ حقوق دیا۔۔۔ انہوں نے عالمی سطح پر دردِ انسانیت کا شعور دیا۔۔۔ عالمِ مغرب میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو شعور دیا۔ انہوں نے اپنے علم اور اپنے کام سے لاکھوں لوگوں کو زندہ کر دیا۔ وہ نوجوان جو دہشت گردی کی راہ پر چلے گئے تھے اور جو انتہا پسندی کے شکار ہوگئے تھے، ان کو واپس آقا ﷺ کی محبت اور امن کے پیغام سے وابستہ کیا۔

حقیقی عالم وہی ہوتے ہیں جو خود بھی زندہ ہیں اور جو ان سے جڑ جاتا ہے، اسے بھی زندہ کر دیتے ہیں

تحریکِ منہاج القرآن کے رفقاء و وابستگان کے قلوب اور ضمیر اس لیے زندہ ہیں کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے ساتھ وابستہ ہیں جن کے علم نے نہ صرف انھیں عرب و عجم میں زندہ رکھا ہے بلکہ ان سے وابستہ ہر شخص زندہ ہے۔ اس لیے کہ وہ ملکِ پاکستان، امتِ مسلمہ اور اسلام کے احیاء و تجدید کے لیے ہر محاذ پر مصروفِ عمل ہے۔ وہ اکثریت کی طرح حالات سے سمجھوتہ کیے ہوئے نہیں ہے بلکہ ہر میدان میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

لوگ جب انھیں تجدید و احیاء دین اور مصطفوی معاشرے کے قیام کے لیے سرگرداں دیکھتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔؟ تم بے چین و بے قرار کیوں ہو۔۔۔؟ انھیں معلوم نہیں کہ ہمارا ساتھ یہ ماجرا اس لیے ہوا ہے کہ ہم اس مردِ کامل کے ساتھ جڑے ہیں جو خود بھی زندہ ہے، جس کا اپنا ضمیر زندہ ہے اور جب سے ہم اس کے ساتھ جڑے ہیں، ہمارا ضمیر بھی زندہ ہو گیا ہے۔۔۔ جب سے ہم اس کے دامن سے لگے ہیں، ہم غیرت مند ہو گئے اور غیور ہو گئے ہو۔۔۔ اب ہم اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ اپنے سے پہلے تاجدارِ کائنات ﷺ کی امت کے بارے میں سوچتے ہیں۔۔۔ اپنے سے پہلے پاکستان کی عوام اور غریبوں کے حقوق کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہم میں اور باقیوں میں یہی فرق ہے کہ ہم زندہ ہیں اور باقیوں میں بھی زندگی کی رمق پھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس بات کو یوں سمجھیں کہ جب پورا کا پورا شہر ہی مُردوں کا ہو تو ان کے درمیان موجود چند زندہ افراد کی موجودگی عجیب لگتی ہے۔ اگر کسی قبرستان میں چند زندہ لوگ چلے جائیں تو وہ اپنے آپ کو بڑا عجیب محسوس کریں گے، کیونکہ شہر مُردوں کا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی اپنے گھر میں ہی اپنے مُردوں کو دفنانے لگے تو عجیب لگے گا۔ پس جہاں زندگی ہوتی ہے وہاں مُردے دفن نہیں کیے جاتے، اور جہاں مُردے بستے ہوں وہاں زندگی عجیب لگتی ہے۔ اس 25 کروڑ کی آبادی میں ہم عجیب اس لیے ہیں کہ مُردوں کے شہر میں زندہ لوگ عجیب نظروں سے ہی دیکھے جاتے ہیں۔

ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مُردوں کی بستی میں ہمیں زندہ رکھا ہے۔۔۔ جہاں پر لوگوں کے ضمیر مرگئے ہیں، وہاں ہمارے ضمیر زندہ ہیں۔۔۔ جہاں پر ایمان فروخت ہوتا ہے، وہاں ہم اپنے ایمان کے محافظ ہیں۔۔۔ اور جہاں پر لوگ اب حرام کھانے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں، ہم آج بھی حرام کو حرام سمجھتے ہیں۔ یہ اس 'چھاؤنی' اور قلعہ کا اثر ہے جس کی حفاظت کے حصار کے اندر ہم رہتے ہیں۔ اچھی صحبت و سنگت کی چھاؤنی و قلعہ میں رہنے والے ہی مضبوط ایمان والے ہوتے ہیں۔

تجدید و احیائے دین کے لیے کوششیں کرنے والوں پر ہونے والے انعاماتِ الہٰیہ

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کو اللہ کی مخلوق کی خاطر، اللہ کے دین کی خاطر اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر وقف کردیا ہے۔ جب کوئی بندہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں رہتی بلکہ پھر اس کا جینا مرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہوجاتا ہے۔

امام غزالی رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو اپنی زندگی کو کاملاً اللہ کی مخلوق کے نام کر دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے وقف ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیا اور آخرت میں عظمتیں عطا فرماتا ہے۔ آخرت کی عظمتیں آخرت میں دیکھنے والے دیکھیں گے لیکن جو عظمتیں اس دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے، آیئے ان کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کیا کچھ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو عطا فرما رکھا ہے۔ اور یہی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے:

1۔ پہلی خصوصیت اور عظمت یہ ہے کہ اللہ رب العزت اس بندے کا ذکر اپنی زبان سے خود فرمانے لگ جاتا ہے۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ جس کا ذکر اور جس کے چرچے آسمانوں میں ہونے لگ جائیں تو اسے ان دنیا والوں کے نعروں اور ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔

حدیثِ قدسی میں ہے:

فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ.

 (صحیح بخاری، رقم:7405)

پس اگر وہ (بندہ) مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے نفس (شان کے مطابق) میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت (فرشتوں) میں یاد کرتا ہوں۔

اس دنیا میں اگر صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ، ایم این اے یا دنیاوی اعلیٰ منصب پر فائز کوئی شخص کسی عام آدمی کا نام اپنی زبان سے لے تو اس شخص کے جوش اور خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ تو ذرا سوچیے کہ جب وہ خالقِ کائنات کسی کا نام اپنی مجلس میں لینے لگ جائے تو اس شخص پر اللہ کے فضل و کرم کا عالم کیا ہوگا۔

2۔ دوسری عظمت اُسے یہ دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس خاص بندے کے تمام امور کی تدبیر خود فرمانے لگ جاتا ہے۔

سوال کیا جاتا ہے کہ 45 سال میں شیخ الاسلام اور تحریکِ منہاج القرآن کا نیٹ ورک 100ممالک میں کیسے پھیل گیا۔۔۔؟ اتنے کم عرصہ میں اتنی کتابیں کیسے تحریر فرما دیں۔۔۔؟ اتنے خطابات کیسے فرما دیے۔۔۔؟ سیکڑوں ادارہ جات کیسے قائم فرما دیے۔۔۔؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کا ہو جاتا ہے، اس کے امور کی تدبیر بھی خود اللہ ہی کرتا ہے اور جب اللہ تدبیر کرے تو اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں ہوتی۔

پس دنیا کے معاملات پر پریشان نہ ہوا کریں، یہاں کبھی کچھ ملتا ہے اور کبھی کچھ نہیں ملتا۔ صرف اس پر یقین رکھا کریں کہ تدبیر کرنے والا اللہ ہے۔ جب اس بات پر یقین ہے کہ ہمارا قائد ’’اُس‘‘ کا ہے تو اس بات پر بھی یقین رکھا کریں کہ پھر معاملات کی تدبیر بھی اللہ خود فرماتا ہے۔

3۔ تیسرا انعام یہ عطا کیا جاتا ہے کہ ایسے بندے کے رزق کا کفیل بھی اللہ خود ہو جاتا ہے۔ اللہ اسے رزق کے حوالے سے بھی پریشان نہیں رہنے دیتا۔

4۔ چوتھا انعام اس بندے پر یہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے اس بندے کا خود مددگار بن جاتا ہے۔ کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے، اللہ اس کا مددگار بن جاتا ہے۔

5۔ پانچواں انعام یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔

6۔ چھٹا انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کی ہمتیں بلند کر دیتا ہے۔

اس انعام و عظمت کے تناظر میں شیخ الاسلام کی ہمتوں کا جائزہ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کیسی ہمتیں عطا کی ہیں کہ سارا زمانہ ایک طرف ہو پھر بھی وہ حق بات پر ڈٹ جاتے ہیں اور کسی جابر و قاہر سے ٹکر لینے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ خود تو باہمت ہیں لیکن انہوں نے اپنے چاہنے والوں کو بھی ہمت عطا کر دی ہے۔ رفقاء و کارکنانِ تحریک بڑے سے بڑے کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں اور اس کے سامنے حق کی بات پر ڈٹ سکتے ہیں۔ کارکنان میں یہ ہمتیں کہاں سے آئیں؟ یہ انھیں ان کے قائد نے دی ہیں اور اس قائد کو یہ ہمتیں اللہ رب العزت نے دی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے کہ جو میرا ہو جاتا ہے تو پھر میں اس کی ہمتیں بلند کر دیتا ہوں۔

7۔ ساتواں انعام اللہ تعالیٰ اس بندے کو یہ عطا فرماتا ہے کہ اسے غنائے قلب دے دیتا ہے۔ پھر وہ بندہ بے نیاز ہو جاتا ہے اور اسے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ صرف وہی کرتا ہے جو حق اور سچ ہے۔ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ مخالفتیں ہوں گی بلکہ وہ اپنی جان داؤ پر لگاکر بھی ہمیشہ حق بات کہتا ہے۔

8۔ آٹھویں عظمت یہ ملتی ہے کہ اللہ اسے نورِ قلب عطا فرما دیتا ہے۔ اس نور سے اس کو بصیرت نصیب ہو جاتی ہے اور پھر اس بصیرت سے وہ Vision نصیب ہو تا ہے کہ سارا زمانہ جو نہیں دیکھ پاتا مگر وہ مردِ قلندر اسے دیکھ لیتا ہے۔

9۔ نویں عظمت اس کے نصیب میں یہ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اپنے اس بندے کی ہیبت اور رعب قائم کردیتا ہوں۔

شیخ الاسلام نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی بنیاد 1980ء میں رکھی۔ اس وقت آپ کی عمر 29 سال تھی۔ اس زمانے میں بھی آپ جہاں تشریف لے جاتے، بڑے سے بڑے علماء و مشائخ، حکمران، سیاستدان سب دل میں آپ کا احترام رکھتے تھے۔ کیوں؟ اللہ تعالیٰ اس راز سے خود پردہ اٹھا رہا ہے کہ جو میرا ہو جاتا ہے، اس کا رعب میں لوگوں کے دلوں میں قائم کر دیتا ہوں۔

10۔ دسواں انعام اللہ تعالیٰ یہ عطا فرماتا ہے کہ اپنے ایسے محبوب بندوں کے لیے مخلوق کے دلوں میں بھی محبت پیدا کر دیتا ہے۔

11۔ گیارہواں انعام اُسے یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ روئے زمین کی ہر چیز خواہ وہ دریا ہوں، صحرا ہوں، ہوا ہو، اپنے ایسے بندوں کے لیے مسخر فرما دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وحشی جانوروں کو بھی اپنے اس بندے کا مطیع کر دیتا ہے۔

12۔ بارہواں انعام و عظمت اُسے یہ دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے زمین کے خزانے عطا فرماتا ہے۔ دیکھنے میں کچھ بھی نہ ہو، مالی استطاعت نہ ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ غیب سے یوں خزانے عطا فرماتا ہے کہ محدود مدت کے اندر سارے زمانے میں منہاج القرآن کے نیٹ ورک بن جاتے ہیں۔ دیکھنے میں کوئی بڑا مالدار منہاج القرآن کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ سب محنت مزدوری کرنے والے مڈل اور لوئر طبقہ کے لوگ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ یوں کام کرواتا ہے کہ دنیا بھر میں تحریکِ منہاج القرآن کے ادارے بن جاتے ہیں۔

13۔ تیرہواں انعام یہ ہے کہ اپنے اس بندے کو اللہ تعالیٰ ایسی وجاہت عطا فرماتا ہے کہ مخلوقِ خدا پھر اس کا وسیلہ ڈھونڈتی پھرتی ہے۔

14۔ چودھواں انعام اور عظمت یہ ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا کو تاثیر عطا کر دیتا ہے۔ وہ جو بھی دعا اللہ کے حضور کرتا ہے اور جس بندے کے لیے اس کی بارگاہ میں سفارش کرتا ہے، اللہ اسے قبول کرلیتا ہے۔

آج ہم اپنے محبوب قائد مجدد المئۃ الحاضرۃ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ولادت کی سالگرہ کی خوشیاں منارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی عظیم شخصیت ہمیں عطا فرمائی۔ اس پرمسرت موقع پر ہمیں عہد کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم شخصیت کے ذریعے ہمیں منہاج القرآن کی صورت میں جو قلعہ عطا فرمایا ہے ہم سب کو اس قلعہ میں استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ رہنا ہے۔ ہم جب ایک نیک بندے کے قلعہ میں آ بیٹھے ہیں تو اب صرف بیٹھنا نہیں ہےبلکہ کچھ کام بھی کرنا ہے۔ اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔ اسلام کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔ اپنے اندر اسلام کی اقدار کو بیدار کرنا اور ان کی حفاظت کرنی ہے۔ مخلوق کا درد بانٹنا ہے اور ان کا ہم سفر ہونا ہے۔۔۔ ان کو راہِ ہدایت دکھانی اور ان میں شعور بیدار کرنا ہے۔۔۔ ان کے اندر احساس جگانا اور انہیں بھی زندہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندہ بنایا ہےتو ہم نے مخلوق کو زندہ کرنا ہے۔۔۔ ان کے شعور اور ضمیر کو زندہ کرنا ہے۔۔۔ ان کی زمین پر دستک دینی اور انھیں جھنجھوڑنا ہے اور انھیں حق و باطل کے درمیان فرق سمجھاتے رہنا ہے۔