شیخ الاسلام کی انفرادیت وامتیاز
اِسلام کی دعوت ہمیشہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے اِظہار کے نئے راستے تلاش کرتی رہی ہے۔ اِبتدائی دور میں خطبات، مکتوبات اور شخصی ملاقاتیں ذریعۂ تبلیغ تھیں؛ بعد ازاں درسگاہیں، کتب، جرائد اور تربیتی مراکز قائم ہوئے۔ عصرِ حاضر کی دنیا معلومات، رابطے اور ذرائع اِبلاغ کی برق رفتاری سے بدل رہی ہے۔ آج دعوتِ دین کے میدان میں وہی فکر مؤثر ثابت ہوتی ہے جو وقت کے تقاضوں کو پہچان کر علم کی روشنی اور پیغامِ ہدایت کو جدید ترین ذرائع کے ذریعے عام کرے۔ اَب ڈیجیٹل میڈیا، اسمارٹ فون، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، پوڈکاسٹ اور AI جیسے پلیٹ فارمز دعوت کے نئے منبر بن چکے ہیں۔ یہ حقیقت سمجھنے والا داعی ہی عصرِ جدید میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
اِسی پس منظر میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی دعوتی حکمتِ عملی منفرد بھی ہے اور ممتاز بھی۔ آپ نے نہ صرف علمی اور فکری سطح پر جدید انسان کی ضرورتوں کا جواب دیا ہے بلکہ جدید ذرائع کے مثبت اِستعمال کو دعوتِ دین کے فروغ کا طاقتور ترین ذریعہ بنا کر ایک نئی روایت قائم کی ہے۔
قرآنِ کریم نے جس تصورِ اِبلاغ کو تبلیغ کی بنیاد بنایا ہے، وہ محض اِطلاع رسانی یا پیغام پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ اُسے ’’دعوت‘‘ کے جامع، ہمہ گیر اور بلیغ تصور کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ دعوت ایسی نداء ہے جو اپنے اندر پیغام، اُسلوب، ذریعہ، مخاطب، قبولیت اور مؤثریت؛ سب کو سموئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت محض بول دینے یا لکھ دینے کا نام نہیں بلکہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے پیغام دل میں اُترے، ذہن کو قائل کرے اور عمل پر آمادہ کرے۔
دعوت: ایک قرآنی تصورِ ابلاغ
دعوت کے اِس قرآنی تصور میں یہ بات واضح ہے کہ اِسلام کسی ایک ذریعۂ اِبلاغ تک محدود نہیں۔ دعوت اپنے اندر ہر اُس وسیلہ کو سمو لیتی ہے جو حق کے پیغام کو مؤثر انداز میں اِنسانوں تک پہنچا سکے۔ چنانچہ دعوت کا میدان فرد سے لے کر جماعت اور مقامی سطح سے لے کر عالمی دائرے تک پھیلا ہوا ہے۔
قرآنِ حکیم نے دعوتِ دین کو دو بنیادی دائروں میں تقسیم کیا ہے: دعوتِ عامہ اور دعوتِ خاصہ۔
’دعوتِ عامہ‘ وہ فریضہ ہے جو اُمتِ محمدیہ کے ہر فرد پر عائد کیا گیا ہے۔ ہر مسلمان، اپنے علم، فہم اور استعداد کے مطابق، خیر و فلاح کی طرف بلانے کا ذمہ دار ہے۔
دعوتِ عامہ کیلئے داعی کی کوئی مخصوص شرائط نہیں ہیں، اُمتِ محمدیہ کا ہر فرد اپنے علم اور صلاحیت کے مطابق داعی ہے اور دعوتِ دین سرانجام دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں ارشادِ ربانی ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ.
(آل عمران، 3: 110)
’’تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کیلئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ‘‘
اس کے برعکس ’دعوتِ خاصہ‘ ایک منظم، باخبر اور باصلاحیت جماعت کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ وہ دعوت ہے جو تعلیم، اصلاح، تربیت اور فکری رہنمائی پر مشتمل ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اس جماعت کے وجود کو اُمت کی کامیابی سے مشروط قرار دیا:
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(آل عمران: 104)
’’اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔ ‘‘
اس آیتِ مبارکہ میں دعوتِ خاصہ کے تین بنیادی اُصول متعین کئے گئے ہیں:
1۔ دعوت کیلئے منظم جماعت 2۔ دعوت کا خیر پر مبنی ہونا
3۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اساس بنانا
دعوت کا اسلوب: حکمت، موعظۂ حسنہ اور جدالِ احسن
قرآنِ مجید نے دعوت کے طریقِ کار کو ایک جامع اُصول میں سمو دیا:
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ.
(النحل، 16: 125)
’’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔ ‘‘
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دعوت کا پہلا تقاضا اِخلاص ہے، یعنی وہ دعوت صرف اللہ رب العزت کی طرف ہو۔ اس کے بعد دعوت کے تین اُسلوب بیان ہوئے:
(1) دعوت بالحکمت (2) موعظۂ حَسنہ (3) جدال احسن
• حکمت سے مراد مخاطب کی ذہنی سطح، نفسیاتی کیفیت، سماجی ماحول اور فکری پس منظر کو سمجھ کر گفتگو کرنا ہے۔
• موعظۂ حسنہ جذبات، دل اور اِحساسات کو مخاطب بناتی ہے۔
• جدالِ اَحسن سے مراد اِختلاف کے باوجود شائستگی، وقار اور حسنِ اَخلاق کو برقرار رکھنا ہے۔
حکمت میں یہ بھی شامل ہے کہ داعی مخاطب کی ضرورت کو سامنے رکھے۔ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ رب العزت نے جتنے انبیاء کو بھیجا اُس قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ قوم اُن کی بات سمجھ سکے:
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡۖ.
(إبراهيم، 14: 4)
’’اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لیے (پیغامِ حق) خوب واضح کر سکے۔ ‘‘
زبان سے مراد صرف لغت و ادب اور زبان و بیان نہیں، بلکہ لسان کے معنیٰ میں قوم کی نفسیات، ادبی زبان، شعور، معاشرت اور اُس دور کے تقاضے بھی شامل ہیں۔
جب داعی کا مخاطب عام آدمی ہو جسے سائنس، فلسفہ اور منطقی موضوعات سے غرض نہ ہو بلکہ اُس پر جذبات کی بات اثر کرتی ہو تو ایسی صورت میں داعی اُس کے دل کی کیفیت پر اثرانداز ہونے کیلئے موعظۂ حسنہ کے اُصول پر دعوت دے گا۔ اسی طرح دعوت کے عمل میں کئی بار داعی کا مخاطب دین سے بُغض رکھنے والا طبقہ ہوتا ہے، اُس صورت میں داعی کیلئے ضروری ہے کہ وہ موعظۂ حسنہ کی بجائے جدالِ اَحسن کے اُصول پر عمل کرے۔
اس طبقے کے ساتھ داعی عمدہ انداز کے ساتھ جدال (debate) کرے۔ مذکورہ آیت مبارکہ کے الفاظ ’بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ‘ سے مراد بھی یہی ہے کہ صرف عمدہ طریقے سے نہیں بلکہ نہایت ہی اَحسن طریقے کے ساتھ مخالف سے بات کی جائے۔ کیونکہ قرآن مجید نے داعی کے لیے شرط لگا دی کہ جب وہ مخالف سے بات کرے تو اُس کو نہ تو للکارے، نہ جھگڑے کے اندازمیں بات کرے، نہ اُس پر تہمت لگائے، نہ فتویٰ بازی کرے، نہ اُس کی تذلیل و تحقیر کرے، نہ اُسے اسلام سے خارج کرے۔ اگر وہ غیر مسلم ہے تو بات کا آغاز یہاں سے نہ کرے کہ تم کافر ہو، مشرک ہو، تم تو سیدھے جہنم میں جاؤ گے، بلکہ ایسے افراد کے ساتھ بات کرنے کا انداز اور سلیقہ بھی قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے اور وہ ’جِدالِ احسن‘ہے کہ ایسے افراد سے صرف اچھے طریقے سے نہیں بلکہ بہت ہی اچھے طریقے سے۔۔۔ صرف عمدہ طریقے سے نہیں بلکہ بہت ہی عمدہ طریقے سے۔۔۔ صرف پیار بھرے انداز سے نہیں بلکہ بہت ہی پیارے انداز سے دعوت دی جائے۔
دعوت اور جدید ذرائع: ایک ناگزیر حقیقت
دعوت ایک زندہ عمل ہے، جمود اس کا دشمن ہے۔ فکری، اِصلاحی اور اِنقلابی تحریکوں کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار بڑی حد تک دعوت کی مؤثریت پر ہوتا ہے اور دعوت کی مؤثریت براہِ راست اُس کے ذرائع سے جڑی ہوتی ہے۔ فرسودہ ذرائع بہترین پیغام کو بھی غیرمؤثر بنا دیتے ہیں۔
اِسلام چونکہ ایک عالمگیر اور تا قیامت رہنے والا دین ہے، اس لئے وہ زمانے کی تبدیلیوں سے خائف نہیں۔ اِسلامی تعلیمات جدید اِیجادات کو محض اُن کے ماخذ کی بنا پر رد نہیں کرتیں، بلکہ اُن کے اِستعمال کی اَخلاقی و شرعی حدود متعین کرکے اُنہیں دعوتِ حق کیلئے قابلِ استعمال بناتی ہیں۔
بدقسمتی سے جن دہائیوں میں عالمِ مغرب میں جدید ذرائع اِبلاغ ایجاد ہو رہے تھے اُن دنوں عالمِ اسلام زوال کے دور سے گزر رہا تھا۔ اُن ذرائع کو اِسلام کے خلاف اِستعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہمارے ہاں ردِعمل کی نفسیات پیدا ہوئیں۔ اس فضا میں عالمِ مغرب کی ہر نئی اِیجاد کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اُس کے اِستعمال سے گریز کو دینداری سمجھا گیا۔ ابتداءً لاؤڈ اسپیکر، کیمرہ، ویڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کو فتنہ اور کفر قرار دے کر اُن سے کنارہ کشی اِختیار کر لی گئی۔
یہ فتاویٰ بلاشبہ خلوصِ نیت سے اَخلاقی بگاڑ، فحاشی و عریانی کے سدِّباب کیلئے دیئے گئے تھے، مگر اُس دور کے مفتی اِس حقیقت کا اِدراک نہ کر سکے کہ زمانہ اپنی رفتار بدل چکا ہے۔ جدید ذرائع اِبلاغ کے منفی اِستعمال کے جواب میں اُن پر کفر کا فتویٰ لگانے سے مغربی ثقافت کا سیلاب نہیں رُک سکتا، ٹیلی ویژن توڑنے کی ترغیب اَخلاقی اِصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتی اور انٹرنیٹ کو ممنوع قرار دینے سے نسلِ نو اُس کے اِستعمال سے باز نہیں رہ سکتی۔ یہ رویہ اَخلاقی بگاڑ کو روکنے میں اس لئے ناکام رہا، کیونکہ ’منفی اِستعمال‘ کا جواب اِنکار نہیں بلکہ ’مثبت متبادل‘ ہوتا ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری: فکری بصیرت اور دعوتی جدت
ایسے ماحول میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ایک بالکل مختلف راستہ اِختیار کیا۔ آپ نے جدید ذرائع اِبلاغ کو بذاتِ خود خیر یا شر قرار دینے کی بجائے اُنہیں محض آلات قرار دیا؛ جن کی قدر و قیمت اُن کے اِستعمال سے متعین ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنی ہمہ جہت مساعی کے روزِ اوّلین سے ہی اِحیائے اسلام، تجدید دین، دعوت و تبلیغِ اسلام اور مصطفوی مشن کے فروغ کیلئے روایتی و غیر روایتی ذرائع اِبلاغ کو نہایت مہارت اور مؤثر انداز میں اِستعمال کیا، جن میں چند مثالیں ذیل میں موجود ہیں:
(1) خطابات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ
8019ء کی دہائی میں، جب روایتی مذہبی طبقہ فوٹوگرافی اور تصویر کی حرمت کا قائل تھا، شیخ الاسلام نے ’’قال اللہ و قال الرسول‘‘ کی ترویج اور فروغِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کیلئے آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کو اِستعمال میں لانے کا فیصلہ کیا۔ 1982ء میں نظامتِ منہاج پروڈکشنز کا قیام عمل میں آیا۔ تب سے اب تک منہاج پروڈکشن شیخ الاسلام کے 7000 سے زائد خطابات کی آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کر چکی ہے، جو اگلی نسلوں کیلئے علمی و فکری اثاثہ ہیں۔ اسی ریکارڈ کی بدولت مکمل خطابات اور شارٹ کلپس شیخ الاسلام کے آفیشل یوٹیوب چینل (youtube.com/DrQadri) اور تحریک کے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزانہ کی بنیاد پر شائع ہوتے ہیں۔
(2) پاکستان ٹیلی ویژن (PTV)
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے نہ صرف عوامی سطح پر خطابات کے ذریعے بلکہ قومی سطح پر پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے بھی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ کا طریقہ اِختیار فرمایا۔ 11 اپریل 1983ء کو پاکستان ٹیلی ویژن پر شیخ الاسلام کا پروگرام ’’فہم القرآن‘‘ کے نام سے شروع ہوا۔ اُس پروگرام کو عوام میں ایسی مقبولیت ملی کہ لوگ ہفتہ بھر اس پروگرام کا اِنتظار کرتے اور پروگرام آن ایئر ہوتے ہی اپنی جملہ مصروفیات چھوڑ کر ہمہ تن گوش ہو کر TV کے آگے بیٹھ جاتے۔ یہ پروگرام لاکھوں کروڑوں افراد تک دعوتِ دین کو پہنچانے کا باعث بنا۔
(3) دینی و عصری علوم کا امتزاج
پاکستان میں تعلیمی نظام طویل عرصے سے زوال کا شکار ہے۔ سکولوں، کالجوں اور جامعات سے نکلنے والے طلبہ میں تخلیقی صلاحیتیں نمایاں ہیں اور نہ ہی فکری پختگی۔ قومی و نظریاتی وابستگی کمزور ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف دینی مدارس بھی مجموعی طور پر وہ فکری وسعت اور تحقیقی گہرائی پیدا نہیں کر پا رہے جو ماضی کے علمی مراکز کا خاصہ تھی۔ عصرِ حاضر کی تیز رفتار سائنسی اور فکری ترقی کے مقابلے میں بعض مذہبی حلقوں کا فکری جمود اور کہیں کہیں شدت پسندانہ رجحانات نے اِس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اِن حالات میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دینی و عصری تعلیم کی دُوئی اور ثنویت کو قومی زوال کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے ایک جامع تعلیمی ماڈل پیش کیا۔ اُسی سوچ کے تحت 18 ستمبر 1986ء کو لاہور میں جامعہ اِسلامیہ منہاج القرآن کا قیام عمل میں آیا، جو بعد ازاں کالج آف شریعہ اینڈ اِسلامک سائنسز کے نام سے منہاج یونیورسٹی لاہور کے اوّلین کالج کی حیثیت اِختیار کر گئی۔ اِس اِدارے میں علومِ شریعہ کے ساتھ جدید عصری تعلیم، منظم نظم و نسق اور اَخلاقی و روحانی تربیت کو یکجا کیا گیا ہے۔
اِس تعلیمی اِدارے کا مقصد ایسی متوازن قیادت کی تیاری ہے جو تحقیق و اِجتہاد کی صلاحیت رکھتی ہو، فرقہ واریت اور اِنتہاپسندی سے بالاتر ہو اور جدید تعلیم یافتہ ذہن سے مؤثر مکالمہ کرسکے۔ دین اور دنیا کی مصنوعی تقسیم کے خاتمے پر مبنی یہ تعلیمی ماڈل ایک اہم تجدیدی قدم قرار دیا جاتا ہے، جس کے اَثرات اَب دیگر دینی اِداروں میں بھی محسوس کئے جا رہے ہیں، جہاں عصری تعلیم کو بتدریج نصاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ آج تین دہائیاں گزرنے کے بعد بہت سے مدارس اِس ’تجدِیدی حکمت‘ کو سمجھنے کے بعد اپنے ہاں دُنیاوِی تعلیم کا اِنتظام شروع کر رہے ہیں۔
(4) کمپیوٹرائزڈ ممبر شپ
تحریکِ منہاج القرآن کی رفاقت سازی کا آغاز 17 اکتوبر 1980ء کو ہوا۔ رفقاء و اراکین کی معلومات جامع ڈیٹابیس میں منظم رکھنے اور تحریکی لٹریچر کی ترسیل کیلئے 1984ء میں نظامتِ ممبرِشپ کا قیام عمل میں آیا۔ 90 کی دہائی تک، جب حکومتی اِداروں میں بھی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا رجحان نہیں تھا، نظامتِ ممبرشپ نے اپنا تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر لیا تھا۔ بعد ازاں منہاج انٹرنیٹ بیورو نے نظامتِ ممبرشپ کیلئے ’ممبرشپ سافٹ ویئر‘ تیار کیا، جس کی مدد سے تحریک منہاج القرآن اور اس کے جملہ فورمز کے رفقاء و وابستگان کا ڈیٹا منظم کیا گیا۔ منہاج365 میں آن لائن ممبرشپ کی سہولت بھی مہیا کر دی گئی ہے۔
(5) رسائل و جرائد
پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور عصری تقاضوں کے پیش نظر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 1987ء میں ماہنامہ منہاج القرآن اور 1992ء میں ماہنامہ دخترانِ اسلام کا اِجراء کیا۔ یہ دونوں شمارے پاکستان کے کثیرالاشاعت جرائد میں شامل ہیں، اور اپنی اِشاعت کے اوّلین دن سے بغیر کسی تعطل کے شائع ہورہے ہیں۔ ماہنامہ منہاج القرآن اور ماہنامہ دخترانِ اسلام، تحریک منہاج القرآن کے علمی و تحقیقی جرائد کی ویب سائٹ www.minhaj.info پر شائع کیے جاتے ہیں۔
(6) تحقیق و تصنیف
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دعوتِ دین کے فروغ کیلئے جہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بھرپور اِستفادہ کیا، وہیں تحقیق و تصنیف کے میدان میں بھی ایک منظم اور جدید ماڈل متعارف کرایا۔ 1980ء کی دہائی میں خطبات اور دروس کے بڑھتے ہوئے علمی ذخیرے کو مستقل تحقیقی اور مطبوعہ صورت میں محفوظ کرنے کے لیے 7 دسمبر 1987ء کو منہاج القرآن رائٹرز پینل قائم کیا گیا، جو بعد ازاں فریدِ ملتؒ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (FMRi) کے نام سے ایک جامع تحقیقی اِدارہ بن گیا۔
یہ اِدارہ جدید اُسلوبِ تحقیق کو اِختیار کرتے ہوئے اِسلام کے حقیقی پیغام کی اِشاعت اور نئی نسل کو فکری و اَخلاقی بحرانوں سے نکالنے کے مقصد پر کام کر رہا ہے۔ اِدارے کے مختلف تحقیقی شعبہ جات کی وساطت سے قائدِ تحریک کے دینی، سماجی، فکری اور سائنسی موضوعات پر خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کیا جاتا ہے۔ اَب تک 650 علمی و تحقیقی کتب شائع ہوچکی ہیں، جن میں سے بیشتر ڈیجیٹل فارمیٹس میں عام قارئین کیلئے مفت دستیاب ہیں۔
قابلِ ذکر اَمر یہ ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اپنی کتب اور خطابات پر کوئی رائلٹی وصول نہیں کرتے اور اُن سے حاصل ہونے والی آمدن کو تحریکِ منہاج القرآن کے لئے وقف کرنے کا اِعلان اُن کے فکری اِستغناء اور دعوتی اِخلاص کی بہترین مثال ہے۔
(7) منہاج القرآن پبلی کیشنز
1982ء میں ہی منہاج القرآن پبلی کیشنز کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا۔ یہ شعبہ جہاں مرکزی سیل سنٹر سمیت پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں بک سٹالز پر کتب کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے، وہیں گھر بیٹھے آن لائن خریداری کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے۔ شیخ الاسلام کی تصانیف کی آن لائن خریداری کیلئے ویب سائٹ www.minhaj.biz ملاحظہ فرمائیں۔
(8) پرنٹنگ پریس
دعوتِ دین اور فکری اِبلاغ میں مطبوعہ لٹریچر کی اہمیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے منہاج القرآن نے بروقت ایک منظم طباعتی نظام قائم کیا۔ اِسی ضرورت کے تحت 23 جون 1989ء کو منہاج القرآن پرنٹنگ پریس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس پریس کا بنیادی مقصد فریدِ ملتؒ ریسرچ اِنسٹیٹیوٹ اور منہاج القرآن پبلیکیشنز کے اِشتراک سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تصانیف، مرکز سے شائع ہونے والے رسائل و جرائد، تحریکی و فکری لٹریچر اور منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کی نصابی کتب کی بروقت اور معیاری اِشاعت کو یقینی بنانا ہے۔ اِس اِقدام کے ذریعے اِشاعتی عمل کو خودکفیل، منظم اور معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا، جس نے تحریک کے فکری پیغام کو وسیع تر حلقوں تک پہنچانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
(9) آفیشل ویب سائٹس
تحریک منہاج القرآن کی مرکزی ویب سائٹ www.minhaj.org کے نام سے 1994ء میں منظر عام پر آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں پڑھا لکھا طبقہ بھی انٹرنیٹ سے شناسا نہیں تھا۔ www.minhaj.org کو کسی بھی آرگنائزیشن کی پہلی پاکستانی ویب سائٹ ہونے کا اِعزاز حاصل ہے۔
1996ء میں اشاعتِ اسلام کی غرض سے کی جانے والی تحریک منہاج القرآن کی جملہ مساعی کو سائبر سپیس پر پیش کرنے کیلئے مرکزی سیکرٹریٹ پر منہاج انٹرنیٹ بیورو کا قیام عمل میں آیا۔ تحریکِ منہاج القرآن کا پیغام عالمی سطح پر عام کرنے کے لئے منہاج انٹرنیٹ بیورو نے minhaj.org کے علاوہ 60 سے زائد مختلف ویب سائٹس ڈویلپ کر رکھی ہیں۔ لٹریچر پر مبنی ویب سائٹس میں عرفان القرآن، The Manifest Quran، منہاج بکس اسلامک لائبریری، منہاج اسلامک انسائیکلوپیڈیا، منہاج ٹی وی وی، ماہانہ میگزین، دی فتویٰ وغیرہ بطورِ خاص قابل ذکر ہیں۔ مرکزی سیکرٹریٹ کے مختلف شعبہ جات کی ضرورت کے مطابق 20 سافٹ ویئر ڈویلپ کر رکھے ہیں۔ نیز موبائل ایپس کی ڈویلپمنٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
(10) موبائل ایپس
(11) منہاج 365 (تنظیمی و سوشل میڈیا پورٹل)
منہاج القرآن انٹرنیشنل کا آفیشل ڈیجیٹل پورٹل، جو مرکز اور تنظیمات کو ایک خودکار نظام کے تحت مربوط کرتا ہے۔ اِس پورٹل میں سوشل میڈیا، مراکزعلم، تنظیمات، ٹریننگ، آن لائن ممبرشپ، عطیہ خون، فہم دین جیسی سہولتوں کے ساتھ ساتھ سالانہ ختم البخاری، شہراعتکاف، عالمی میلاد کانفرنس اور نیشنل یوتھ ایوارڈ جیسے اہم ایونٹس سے متعلقہ ماڈیولز شامل ہیں۔ اس کی مدد سے مرکز سے جاری ہونے والے ٹاسکس ذیلی عہدیداروں تک خودکار طریقے سے پہنچتے ہیں۔ تنظیمات اور کارکنان کی پیش رفت اور رپورٹس بالترتیب بالائی عہدیداران کو دکھائی دیتی ہیں، تاکہ ہر عہدیدار اور کارکن ایک منظم، مربوط اور فعال نظام کا حصہ بن سکے۔ یہ پورٹل آئی فون اور اینڈرائیڈ سٹورز کے علاوہ ویب سائٹ کی صورت میں بھی دستیاب ہے:
www.minhaj365.org
(12) ای لرننگ (eLearning)
دسمبر 2009ء میں شیخ الاسلام کی رہنمائی میں فاصلاتی تدریسی پروگرام کے آغاز کے لیے ویب سائٹ
www.equranclass.comکا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد بیرون ملک مقیم مسلمانوں اور ان کے بچوں کو اسلامی علوم سے آراستہ کرنا ہے۔ بعد ازاں 2017ء میں طالبات کے لیے www.femaletutor.com کے نام سے الگ کیمپس قائم کیا گیا، جس میں منہاج کالج برائے خواتین کی فاضلات تدریسی فرائض انجام دیتی ہیں۔ اس تدریسی پروگرام کے ذریعے ہونے والے درجن بھر کورسز جاری ہیں۔
شیخ الاسلام کا ویژن اور چند نمایاں تاریخی فیصلے
• 1982ء: ریکارڈنگ آڈیو خطابات
• 1984ء: ریکارڈنگ ویڈیو خطابات۔ جب ابھی تصویر بنانا حرام تھا۔
o نقل مسودات، خطابات کی کتابی شکل میں اِشاعت
• 1987ء: کمپیوٹرائزڈ ممبرشپ ریکارڈ۔ جب حکومتی اِدارے بھی کمپیوٹرائزڈ نہ تھے۔
• 1989ء: پرنٹنگ پریس کا قیام
• 1993ء: جامعہ اسلامیہ کیلئے کمپیوٹر کورسز۔ جب ملک کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سطح کی کمپیوٹر ایجوکیشن بھی میسر نہ تھی۔
• 1994ء: منہاج القرآن انٹرنیشنل کی ویب سائٹ کا اِجراء۔ جب ملک میں کسی حکومتی ادارے، کسی صحافتی ادارے، کسی تعلیمی ادارے، کسی بینک کی کوئی ویب سائٹ نہ تھی۔
• 1996ء: منہاج انٹرنیٹ بیورو کا قیام
• 1997ء: پہلی آن لائن نشریات برموقع لیلۃ القدر
• 1998ء: منہاج یونیورسٹی میں ماڈرن ٹیکنالوجی کلاسز کا آغاز
• 2001ء: تحقیق و تصنیف میں جدید ٹیکنالوجی سے اِستفادہ۔ ہزاروں ڈیجیٹل کتب کو فرید ملتؒ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا حصہ بنا دیا گیا۔
• 2002ء: منہاج ٹی وی ویب سائٹ کا اِجراء
• 2005ء: سوشل میڈیا ٹولز سے اِستفادہ
• 2006ء: یوٹیوب پر خطابات کا آغاز
• 2009ء: اسکالر آن لائن / ویڈیو کانفرنسنگ کا آغاز
• 2009ء: فاصلاتی تعلیم کیلئے اِی لرننگ پروگرام کا آغاز
• 2011ء: منہاج ٹی وی ڈیپارٹمنٹ کا قیام
• 2016ء: منہاج یونیورسٹی میں CMSکا آغاز
• 2021ء: فہم دین پراجیکٹ کا آغاز
• 2022ء: منہاج اسلامک انسائیکلوپیڈیا کا اِجراء
• 2024ء: منہاج 365 کا اِجراء۔ تنظیمی و سوشل میڈیا پورٹل
خلاصۂ کلام
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی اصل اِنفرادیت یہ ہے کہ آپ نے دعوتِ دین کو ماضی پرستی میں قید کیا، نہ جدیدیت کے ہاتھوں مغلوب ہونے دیا، بلکہ قرآن کے اَبدی اُصولوں کی روشنی میں جدید ذرائع کو مسخر کرکے اِسلام کی حقیقی، متوازن اور حسین تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ جدید ذرائع سے گریز نہیں بلکہ اُن کی تطہیر اور درست اِستعمال ہی دعوتِ دین کا مستقبل ہے۔ اِسی فکری جرأت، دعوتی حکمت اور اِدارہ جاتی نظم نے تحریکِ منہاج القرآن کو عصرِ حاضر کی نمایاں اور مؤثر دینی تحریکوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ یہ محض اِدارہ جاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری اِنقلاب کی علامت ہے۔
آخر پر نوجوان قارئین کیلئے پیغام ہے کہ وہ اپنی قیادت کے دست و بازو بنیں اور جدید ذرائع اِبلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کا پیغام پھیلانے میں ہر ممکن حصہ لیں۔