تعلیم کسی قوم کا محض ایک شعبہ نہیں بلکہ اس کی روح، فکر اور تہذیبی شناخت ہوتی ہے۔ اگر یہ روح منقسم ہو جائے تو قوم کی فکری وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے اور اگر یہ متوازن، ہمہ گیر اور بامقصد ہو تو وہی قوم تاریخ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔
اسلامی تہذیب کی تاریخ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب مسلمانوں نے علم کو وحدت کے ساتھ اپنایا—جہاں مسجد اور مکتب، عبادت اور تجربہ، وحی اور عقل ایک ہی فکری نظام کے اجزاء تھے—تو انہوں نے نہ صرف دینی میدان میں بلکہ سائنس، فلسفہ، طب، قانون اور سماجیات میں بھی دنیا کی قیادت کی۔ اس کے برعکس، جب نوآبادیاتی دور میں دانستہ یا نادانستہ طور پر تعلیم کو دینی اور عصری خانوں میں تقسیم کر دیا گیا تو یہی تقسیم رفتہ رفتہ فکری انتشار، اخلاقی بحران، سماجی خلیج اور تہذیبی کمزوری کا سبب بن گئی۔
انسانی تہذیب کی پوری تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قوموں کی اصل شناخت ان کے محلات، اسلحے یا خزانے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے اذہان ہوتے ہیں۔ اور اذہان کی تشکیل کا سب سے طاقتور، خاموش اور دیرپا ذریعہ نصابِ تعلیم ہے۔ نصاب وہ فکری سانچہ ہے جس میں ایک نسل کی سوچ، ترجیحات، اقدار اور خواب ڈھالے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نصاب کبھی محض تعلیمی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ہمیشہ ایک تہذیبی، فکری اور نظریاتی معاملہ رہا ہے۔ نصاب اس بات کا تعین کرتا ہے کہ طالب علم کن سوالات کو اہم سمجھے گا، کن تصورات کو حق سمجھے گا، کن حدود میں سوچے گااور معاشرے میں اپنا کردار کیسے متعین کرے گا۔ اگر نصاب مضبوط فکری بنیادوں پر استوار ہو تو وہ صرف طلبہ نہیں بلکہ رہنما، مفکر اور مصلح پیدا کرتا ہے اور اگر نصاب فکری انتشار کا شکار ہو تو وہ قوم کو بھی منتشر کر دیتا ہے۔
نصاب محض کتاب نہیں، فکری منشور ہوتا ہے
یہ سمجھ لینا ایک بنیادی غلطی ہے کہ نصاب محض درسی کتب کا مجموعہ ہوتا ہے۔ حقیقت میں نصاب ایک فکری منشور (Intellectual Manifesto) ہوتا ہے، جو خاموشی سے یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا انسان بنانا چاہتے ہیں؟کیا ہم ایسا انسان چاہتے ہیں جو صرف ہنر مند ہو مگر اخلاق سے خالی ہو؟یا ایسا جو عبادت گزار ہو مگر سماجی شعور سے عاری ہو؟یا ایسا متوازن انسان جو علم، اخلاق، بصیرت اور عمل—سب کو یکجا رکھتا ہو؟ ان تمام سوالات کا جواب نصاب دیتا ہے، خواہ ہم شعوری طور پر اس کا اعتراف کریں یا نہ کریں۔
اکیسویں صدی میں نصاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ آج علم کی رفتار تیز ہے، فکری یلغار شدید ہے، میڈیا اور بیانیہ براہِ راست ذہن سازی کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر نصاب مضبوط فکری ڈھال فراہم نہ کرے تو نوجوان ذہن آسانی سے انتہا پسندی، الحاد یا فکری غلامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا آج نصاب کا کام صرف علم دینا نہیں بلکہ فکری تحفظ (Intellectual Immunity) فراہم کرنا بھی ہے۔ نصاب قوم کی فکری سمت متعین کرتا ہے، تہذیبی شناخت کی حفاظت کرتا ہے، معاشرتی توازن پیدا کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ اسی لیے نصاب کی تشکیل یا اصلاح کوئی معمولی کام نہیں بلکہ ایک قوم ساز ذمہ داری ہے۔
اسلامی تصورِ علم اور نصاب
اسلام میں علم محض معلومات نہیں بلکہ ہدایت ہے۔ قرآن مجید میں علم کو تزکیہ، عدل اور ذمہ داری سے جوڑا گیا ہے۔ پہلی وحی ہی ’’اقرأ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، مگر وہ پڑھنا جس کا مقصدرب کی معرفت، انسان کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر ہو۔ لہٰذا اسلامی تناظر میں ایسا نصاب جو علم کو اخلاق، مقصد اور جواب دہی سے الگ کر دے، وہ اسلامی تصورِ علم کی روح سے متصادم ہو جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے سنہری ادوار میں نصاب وحی اور عقل کو یکجا رکھتا تھا۔ فقہ کے ساتھ ریاضی، طب اور فلکیات پڑھائی جاتی تھی۔ عالم مسجد، عدالت اور درسگاہ—سب میں مؤثر ہوتا تھا۔ یہی توازن مسلمانوں کو علمی قیادت تک لے گیا۔
دینی نصاب کی خصوصیات
دینی نصاب کسی بھی مسلم معاشرے میں محض تعلیمی سرگرمی کا نام نہیں بلکہ یہ امت کی فکری بقا، تہذیبی شناخت اور روحانی تسلسل کا سب سے مضبوط ضامن ہوتا ہے۔ دینی نصاب وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ایک نسل کو نہ صرف مذہبی معلومات دی جاتی ہیں بلکہ اسے یہ شعور بھی منتقل کیا جاتا ہے کہ وہ کون ہے، اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، اور اس کا تعلق اپنے رب، اپنے معاشرے اور پوری انسانیت سے کس نوعیت کا ہے۔
اسلام میں علم کی تقسیم کبھی ’’دینی‘‘ اور ’’غیر دینی‘‘ خانوں میں نہیں کی گئی۔ قرآن مجید نے علم کو ہدایت سے جوڑا اور رسول اکرم ﷺ نے علم کو حاصل کرنا بلا تخصیص فرض قرار دیا۔ تاہم امت کی تاریخ میں دینی نصاب ہمیشہ اس لیے ممتاز رہا کہ وہ وحی کے علم کا امین تھا، اور وحی وہ مرکز ہے جس کے گرد پوری اسلامی تہذیب گھومتی ہے۔
(1) دینی نصاب: وحی سے جڑا ہوا علم
دینی نصاب کی اصل اہمیت اس حقیقت سے جنم لیتی ہے کہ یہ براہِ راست قرآن و سنت سے مربوط ہوتا ہے۔ قرآن محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ، عقیدہ بھی ہے، اخلاق بھی، قانون بھی ہے، تہذیب بھی اور نظامِ حیات بھی۔ دینی نصاب کے ذریعے طالب علم قرآن کو صرف تلاوت کی حد تک نہیں بلکہ فہم، تدبر اور تطبیق کے ساتھ سیکھتا ہے۔ اسی طرح حدیث نبوی ﷺ محض روایات کا مجموعہ نہیں بلکہ عملی زندگی کی مکمل رہنمائی ہے، جسے دینی نصاب نسل در نسل منتقل کرتا ہے۔ اگر دینی نصاب کمزور پڑ جائے تو دراصل قرآن کا فہم سطحی ہو جاتا ہے، سنت کا عملی پہلو اوجھل ہو جاتا ہے اور دین رسموں تک محدود ہو جاتا ہے اسی لیے دینی نصاب کی مضبوطی امت کی روحانی زندگی کی مضبوطی ہے۔
(2) دینی نصاب اور کردار سازی
دینی نصاب کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض ذہن نہیں بلکہ کردار بناتا ہے۔ یہ طالب علم کو حلال و حرام کا شعور، جواب دہی کا احساس، اخلاقی ذمہ داریاور تقوی سکھاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی عصری نصاب میں یہ پہلو اس شدت اور جامعیت کے ساتھ موجود نہیں۔ دینی نصاب طالب علم کو یہ احساس دلاتا ہے کہ علم امانت ہے، اختیار امتحان ہےاور زندگی جواب دہی کا نام ہے۔ یہی شعور فرد کو خود غرضی، بدعنوانی اور ظلم سے روکتا ہے۔
(3) دینی نصاب اور فکری استقامت
عصرِ حاضر میں مسلمانوں کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں سے ایک فکری انتشار ہے۔ نوجوان سوالات، شکوک اور نظریاتی یلغار کا شکار ہیں۔ ایسے میں دینی نصاب کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ وہ عقیدے میں استقامت، فکر میں وضاحت اور شناخت میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ مضبوط دینی نصاب نوجوان کو الحاد سے بچاتا ہے، شدت پسندی سے روکتا ہےاور فکری غلامی سے نجات دیتا ہے۔ بشرطیکہ یہ نصاب جامد نہ ہو بلکہ زندہ اور مربوط ہو۔
(4) دینی نصاب: روایت اور تجدید کا سنگم
دینی نصاب کی اصل قوت اس میں ہے کہ وہ روایت اور تجدید کے درمیان توازن قائم رکھے۔ محض روایت پر اصرار نصاب کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے اور محض تجدید روایت کو کاٹ دیتی ہے۔ ایک مؤثر دینی نصاب وہی ہے جونصوص کا احترام کرے، اکابر کی محنت کو تسلیم کرے، مگر نئے سوالات سے نہ گھبرائے۔
دینی نصاب امت کی روحانی بنیاد ہے، تہذیبی شناخت کا محافظ ہے، اخلاقی و فکری استقامت کا ذریعہ ہےاور کردار سازی کا سب سے مؤثر نظام ہے۔ تاہم اس کی اصل افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے عصرِ حاضر سے ہم آہنگ اطلاقی اور فکری طور پر زندہ رکھا جائے۔ یہی شعور آگے چل کر دینی و عصری نصاب کے امتزاج کی بنیاد بنتا ہے۔
تاریخِ اسلام میں دینی نصاب کا کردار
اسلامی تاریخ کے ہر دور میں دینی نصاب نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ عہدِ نبوی ﷺ میں مسجدِ نبوی ﷺ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ درسگاہ، عدالت، مشاورتی مرکز اور تربیت گاہ تھی۔ یہی وہ پہلا دینی نصاب تھا جو وحی، اخلاق اور سماجی عمل کو یکجا کرتا تھا۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں یہی نصاب، قاضی، منتظم، مجاہداور مصلح پیدا کرتا تھا۔ بعد کے ادوار میں بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ اور سمرقند جیسے مراکز میں جو عظیم علمی روایت قائم ہوئی، اس کی بنیاد دینی نصاب ہی تھا، جس میں تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، منطق اور فلسفہ سب ایک مربوط نظام کے تحت پڑھائے جاتے تھے۔ یہ دینی نصاب ہی تھا جس نے امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام غزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ اور ہزاروں دیگر اکابرین پیدا کیے، جو محض عالم نہیں بلکہ عہد ساز شخصیات تھیں۔
برصغیر میں دینی نصاب کی روایت
برصغیر پاک و ہند میں دینی نصاب کی روایت نہایت مضبوط رہی ہے۔ یہاں مدارس نے اسلامی تشخص کی حفاظت کی، استعمار کے فکری دباؤ کا مقابلہ کیا اور عوام کو دین سے جوڑے رکھا۔ درسِ نظامی نے صدیوں تک اس خطے میں دینی ضروریات کو پورا کیا۔ اس نصاب نے ایسے علماء پیدا کیے جنہوں نے فتویٰ بھی دیا، تدریس بھی کی، دعوت بھی دی اور استعمار کے خلاف فکری مزاحمت بھی کی۔ یہ سب دینی نصاب کی برکت تھی۔
یاد رکھیں! تہذیبیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب وہ اپنی تعلیمی بنیادیں کھو دیتی ہیں۔ جب نصاب اپنی اقدار سے کٹ جائے، دوسروں کی فکری غلامی قبول کر لے یا محض وقتی مفادات کا تابع ہو جائے تو وہ قوم اپنی سمت کھو بیٹھتی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کے ساتھ یہی ہوا۔ نصاب کے ذریعے دینی اور دنیاوی علم کو الگ کر دیا گیا۔ ایک طبقہ مذہب تک محدود ہو گیا، دوسرا مذہب سے بیگانہ ہو گیا۔ یہ تقسیم محض تعلیمی نہیں بلکہ ذہنی اور تہذیبی تھی، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پس یہ ایک علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ تسلیم کیا جائے کہ وقت گزرنے کے ساتھ دینی نصاب میں جمود پیدا ہو گیا۔ نصاب نے روایت کو تو محفوظ رکھا مگر عصری سوالات سے ربط کمزور پڑ گیا، اطلاقی پہلو پیچھے رہ گیا اور جدید معاشرتی تناظر نظر انداز ہونے لگا۔ یہاں سے دینی نصاب کی تشکیلِ نو کی ضرورت نے جنم لیا۔
عصری نصاب کی اہمیت
دینی نصاب کے بعد اگر کسی عنصر کو عصرِ حاضر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے تو وہ عصری نصاب ہے۔ ہر دور کی ایک زبان ہوتی ہے—نظریاتی، فکری اور علمی۔ آج کی دنیا کی زبان سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، قانون اور ابلاغ ہے۔ جو قوم اس زبان سے ناواقف ہو، وہ چاہے کتنی ہی اخلاقی برتری کی دعوے دار ہو، عالمی مکالمے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتی۔ عصری نصاب دراصل اسی زبان کو سکھانے کا ذریعہ ہے۔
مسلمان اگر جدید علوم سے کٹ جائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ فیصلے تو دینا چاہتے ہیں مگر جدید حقائق کو سمجھے بغیراور نتیجتاً ان کی بات غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصری نصاب کو محض دنیاوی ضرورت سمجھنا ایک بڑی فکری غلطی ہے؛ حقیقت میں یہ دعوت، قیادت اور اثر پذیری کی شرط ہے۔
اسلام اور عصری علوم: کوئی تضاد نہیں
یہ تصور کہ عصری علوم دین سے متصادم ہیں، نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ تاریخِ اسلام سے۔ اسلام نے علم کو ہمیشہ خیر، نفع اور خدمتِ انسانیت کے زاویے سے دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ نےجنگی حکمتِ عملی سیکھی، طب سے فائدہ اٹھایا، مختلف تہذیبوں کے تجربات قبول کیے۔ بشرطیکہ وہ اخلاقی حدود کے اندر ہوں۔
اسلامی تاریخ میں الخوارزمی نے ریاضی کو فروغ دیا، ابن الہیثم نے سائنسی طریقِ تحقیق وضع کیا، ابن سینا نے طب کو عروج دیا یہ سب عصری علوم ہی تھے، مگر دینی شعور کے تابع۔ لہٰذا اصل مسئلہ عصری نصاب کا ہونا نہیں بلکہ اس کا بے مقصد اور بے اخلاق ہونا ہے۔
آج کی دنیا میں بیانیہ طاقت کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ذہن سازی کے بڑے ذرائع بن چکے ہیں۔ اگر دینی طبقہ ان میدانوں سے ناواقف رہے تواس کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہےاور دوسروں کا بیانیہ غالب آ جاتا ہے۔ عصری نصاب طالب علم کو ابلاغ کے اصول، میڈیا کی نفسیاتاور جدید اظہار کے ذرائع سکھاتا ہے تاکہ وہ دین اور اخلاق کی بات موثر انداز میں پیش کر سکے۔
اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج صرف عسکری نہیں بلکہ فکری ہے۔ الحاد، مادیت، نسبیت (Relativism) اور ثقافتی استعمار ایسے نظریات ہیں جو نوجوان ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ عصری فلسفہ، سوشل سائنسز اور جدید فکر سے ناواقفیت دینی بیانیے کو کمزوراور نوجوان کو غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ عصری نصاب طالب علم کو جدید نظریات کی ساخت، ان کے پس منظر، اور ان کے کمزور پہلو سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے، تاکہ وہ دفاع بھی کر سکے، مکالمہ بھی اور تنقید بھی مگر علمی بنیاد پر۔
دینی اور عصری نصاب کے یکجا ہونے کی اہمیت
تعلیم کی تاریخ میں جب بھی کسی قوم نے فکری وحدت، تہذیبی توازن اور علمی ہمہ گیری کو اپنایا، وہ قوم نہ صرف اپنے زمانے کی قیادت پر فائز ہوئی بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے بھی فکری سمت متعین کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے برعکس، جب تعلیم کو مصنوعی خانوں میں تقسیم کر دیا گیا—ایک طرف روحانیت اور روایت، دوسری طرف مادیت اور جدت—تو نتیجہ انتشار، تضاد اور زوال کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں دینی اور عصری نصاب کے امتزاج کی اہمیت محض ایک تعلیمی تجویز نہیں بلکہ ایک تہذیبی ضرورت بن جاتی ہے۔
برصغیر کے تعلیمی منظرنامے کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں تعلیم کو کبھی ایک وحدانی نظام کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ اسے دو متحارب خانوں میں تقسیم کر دیا گیا: دینی تعلیم اور عصری تعلیم۔ یہ تقسیم ابتدا میں وقتی اور انتظامی نوعیت کی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک فکری خلیج میں بدل گئی، جس نے نہ صرف تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ معاشرے کی فکری وحدت کو بھی پارہ پارہ کر دیا۔ دینی و عصری نصاب کی یہ دوئی محض نصابی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ اس نے دو الگ ذہن، دو الگ مزاج، دو الگ سماجی طبقات اور بالآخر دو متضاد قومی بیانیے پیدا کر دیے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی تفہیم کے بغیر تعلیمی اصلاح کی کوئی بھی کوشش بارآور نہیں ہو سکتی۔
اسلامی تصورِ علم کی بنیاد ہی وحدت پر ہے۔ قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاریخ سے سبق سکھاتا ہے، فطرت کے قوانین پر تدبر کی ترغیب دیتا ہے اور ساتھ ہی اخلاق، عبادت اور روحانیت کو انسانی زندگی کا محور قرار دیتا ہے۔ اس تناظر میں علم کو دینی اور دنیاوی خانوں میں بانٹ دینا اسلامی فکر کی روح کے منافی ہے۔ لہٰذا دینی و عصری نصاب کا یکجا ہونا دراصل اسلامی علمی روایت کی طرف واپسی ہے۔
(1) فکری وحدت اور متوازن ذہن کی تشکیل
دینی اور عصری علوم کے امتزاج کا سب سے بڑا فائدہ متوازن ذہن کی تشکیل ہے۔ ایسا ذہن جو وحی کی روشنی میں سوچتا ہو، عقل کو وحی کا معاون سمجھتا ہواور جدید علم کو اخلاقی حدود کے اندر استعمال کرتا ہو۔ جب ایک طالب علم قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ سماجیات، معیشت، قانون، سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی واقف ہوتا ہے تو اس کی سوچ یک رخی نہیں رہتی، ردِ عمل کے بجائے فہم پر مبنی ہوتی ہےاور جذبات کے بجائے دلیل سے کام لیتی ہے۔ یہی متوازن ذہن معاشرے میں فکری اعتدال کو فروغ دیتا ہے اور انتہاپسندی، تنگ نظری اور فکری جمود کے راستے مسدود کر دیتا ہے۔
(2) دین کا جامع اور عصری فہم
جب دینی تعلیم عصری علوم کے ساتھ جڑتی ہے تو دین محض مسجد اور مدرسے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ریاست، معیشت، سماج اور بین الاقوامی تعلقات تک وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا عالمِ دین جدید قانونی مسائل پر بصیرت رکھتا ہے، معیشت اور مالیات کے تقاضوں کو سمجھتا ہے، میڈیا اور ابلاغ کی طاقت سے واقف ہوتا ہے اور عالمی تناظر میں اسلام کا مؤثر مقدمہ پیش کر سکتا ہے یوں دین ایک زندہ، متحرک اور رہنمائی فراہم کرنے والا نظام بن کر سامنے آتا ہے، نہ کہ ماضی کی یادگار۔
(3) عصری علوم کی اخلاقی تطہیر
عصری علوم بذاتِ خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے، ان کی قدر و قیمت کا تعین اس مقصد سے ہوتا ہے جس کے لیے انہیں استعمال کیا جائے۔ جب عصری تعلیم دینی اقدار سے خالی ہو تو وہ طاقت تو پیدا کرتی ہے مگر ذمہ داری نہیں، وسائل تو دیتی ہے مگر انصاف نہیں۔ دینی و عصری نصاب کے امتزاج سے عصری علوم کو اخلاقی سمت، انسانی ہمدردی اور اجتماعی فلاح کا مقصدملتا ہے۔ اس امتزاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فرد کامیاب پروفیشنل ہونے کے ساتھ باکردار انسان بھی ہوتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ریاست، اداروں اور معاشرے کو اخلاقی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
(4) علماء کا قومی دھارے میں مؤثر کردار
دینی و عصری نصاب کے یکجا ہونے سے سب سے بڑی تبدیلی علماء کے کردار میں آتی ہے۔ ایسا عالم ریاست سے کٹا ہوا نہیں ہوتا، جدید اداروں سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور قومی معاملات میں رائے دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ وہ قانون سازی میں رہنمائی کر سکتا ہے، سماجی مسائل پر مؤثر آواز بن سکتا ہےاور نوجوان نسل کے سوالات کا مدلل جواب دے سکتا ہے۔ یوں عالمِ دین محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ قومی مفکر کے طور پر ابھرتا ہے۔
(5) نوجوان نسل کے فکری بحران کا حل
آج کی نوجوان نسل سب سے زیادہ جس بحران کا شکار ہے وہ مقصدیت کا فقدان، اخلاقی ابہام اور شناخت کا بحران ہے۔ دینی و عصری نصاب کا امتزاج نوجوان کو زندگی کا واضح مقصد، علم کا صحیح مصرف اور کردار کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایسا نوجوان نہ مذہب سے بیزار ہوتا ہے، نہ جدید دنیا سے خوفزدہ بلکہ دونوں کو ایک وحدت میں دیکھتا ہے۔ یہی نسل مستقبل کی قیادت کے لیے موزوں ہوتی ہے۔
(6) اجتہاد، تحقیق اور فکری ارتقا
اسلامی تہذیب کی روح اجتہاد میں ہے، اور اجتہاد اس وقت ہی ممکن ہے جب نصوص کا گہرا فہم ہو اور زمانے کے تقاضوں سے آگاہی ہو۔ دینی و عصری نصاب کا امتزاج تحقیق کے نئے دروازے کھولتا ہے، فقہی فکر کو تازگی بخشتا ہے اور اسلامی قانون کو جدید دنیا کے قابل بناتا ہے۔ یہی امتزاج اسلامی فکر کو جمود سے نکال کر ارتقا کی طرف لے جاتا ہے۔
(7) قومی وحدت اور مشترکہ بیانیہ
جب ایک ہی نصاب سےعالم بھی نکلے، دانشور بھی، وہ ماہرِ قانون بھی ہو اور معیشت و سائنس دان بھی تو قوم کے اندر فکری ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، طبقاتی خلیج کم ہوتی ہے اور قومی بیانیہ مضبوط ہوتا ہے، دینی و عصری نصاب کا امتزاج دراصل قوم کو ایک زبان، ایک فکر اور ایک سمت فراہم کرتا ہے۔
(8) عالمی سطح پر مؤثر نمائندگی
آج کی دنیا مکالمے کی دنیا ہے۔ اسلام کی مؤثر نمائندگی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جواسلامی فکر میں مستحکم ہوں، جدید علمی زبان جانتے ہوں اور عالمی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔ دینی و عصری نصاب کا امتزاج ہی ایسے افراد پیدا کر سکتا ہے جواسلاموفوبیا کا علمی جواب دیں، بین الاقوامی فورمز پر مدلل گفتگو کریں اور امت کا مقدمہ وقار کے ساتھ پیش کریں۔
(9) تہذیبی بقا اور فکری خود اعتمادی
سب سے بڑھ کر، دینی و عصری نصاب کا امتزاج تہذیبی خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، غلامانہ ذہنیت کا خاتمہ کرتا ہے اور امت کو اپنی علمی روایت پر فخر سکھاتا ہے۔ یہ امتزاج اس بات کا اعلان ہے کہ مسلمان نہ ماضی کے قیدی ہیں، نہ مغرب کے محتاج بلکہ ایک مستقل، خود مختار اور متوازن تہذیب کے وارث ہیں۔
دینی و عصری نصاب کی تشکیلِ نو میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا کردار
تعلیمی اصلاح محض چند کتابوں کی تبدیلی یا چند مضامین کے اضافے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ یہ دراصل فکر کی تشکیلِ نو، زاویۂ نگاہ کی تبدیلی اور تہذیبی سمت کے تعین کا عمل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے تعلیمی نظام میں حقیقی اور دیرپا اصلاح آئی، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسی فکری شخصیت ضرور موجود تھی جس نے زمانے کے سوالات کو سمجھا، روایت کی روح کو محفوظ رکھا اور مستقبل کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھا۔ برصغیر کے موجودہ تعلیمی منظرنامے میں یہ کردار جس جامعیت، وسعتِ نظر اور فکری استقامت کے ساتھ سامنے آتا ہے، وہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ذات ہے۔ شیخ الاسلام کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے تعلیم کو نہ صرف بطورِ عالم دیکھا بلکہ بطورِ مفکر، مصلح، قانون دان اور بین الاقوامی سطح کے اسکالر اس پر غور کیا۔ یہی ہمہ جہتی فکر انہیں محض ایک مدرس یا داعی کے بجائے ایک نصاب ساز مفکر کے درجے پر فائز کرتی ہے۔
(1) شیخ الاسلام کا تصورِ علم: وحدت، مقصدیت اور ہمہ گیری
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نزدیک علم کی سب سے بڑی تقسیم مفید اور غیر مفید کی ہے، نہ کہ دینی اور دنیاوی کی۔ ان کا تصورِ علم براہِ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہے، جہاں علم کومعرفتِ الٰہی کا ذریعہ، انسانیت کی خدمت کا وسیلہ اور عدل و احسان کے قیام کا آلہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کی فکر میں وحی عقل کی دشمن نہیں، عقل وحی کی متبادل نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ یہی نظریۂ وحدتِ علم نظام المدارس پاکستان کے نصاب کی فکری بنیاد بنا، جس میں دینی و عصری علوم کو ایک متوازن، مربوط اور مقصدی نظام میں سمویا گیا۔
(2) برصغیر کے تعلیمی بحران کی درست تشخیص
کسی بھی اصلاحی منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مسئلے کی تشخیص کتنی درست ہے۔ شیخ الاسلام نے برصغیر کے تعلیمی بحران کو نہایت گہرائی سے سمجھا اور واضح کیا کہ اصل مسئلہ مدارس کا وجود نہیں، یونیورسٹیوں کا قیام نہیں بلکہ تعلیمی تقسیم (Educational Dualism) ہے۔ انہوں نے بارہا اس امر کی نشاندہی کی کہ مدارس کو پسماندہ کہنا ناانصافی ہےاور جدید تعلیم کو دین دشمن قرار دینا جہالت۔ اصل خرابی اس ذہن میں ہے جو علم کو خانوں میں بانٹتا ہے۔ یہی تشخیص نظام المدارس پاکستان کے قیام اور اس کے نصاب کی تشکیلِ نو کا نقطۂ آغاز بنی۔
(3) دینی و عصری علوم کے جامع نصاب کی تشکیل
محض دینی نصاب، اگر عصری شعور سے خالی ہو، تو وہ دین کو محدود اور جامد بنا دیتا ہے اور محض عصری نصاب، اگر اخلاقی و روحانی بنیاد سے محروم ہو، تو وہ انسان کو طاقت تو دیتا ہے مگر حکمت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دینی اور عصری نصاب کو الگ الگ رکھنا نہ دین کے حق میں مفید ہے، نہ دنیا کے اور نہ ہی قوم کے مستقبل کے لیے۔ اس تقسیم نے ایسے ذہن پیدا کیے جو یا تو دین سے کٹے ہوئے ہیں یا دنیا سے نابلد، اور یہی فکری دوئی آج امتِ مسلمہ کے بیشتر مسائل کی جڑ ہے۔
اس کے برعکس دینی و عصری علوم کا امتزاج متوازن شخصیت کی تشکیل کرتا ہے، علم کو مقصدیت عطا کرتا ہے، اخلاق اور مہارت کو یکجا کرتا ہے، قوم کو ایک مشترکہ فکری بیانیہ فراہم کرتا ہے۔ یہ امتزاج نہ صرف علماء کو قومی دھارے میں مؤثر بناتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو شناخت، مقصد اور سمت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہی وہ تعلیمی ماڈل ہے جو شدت پسندی، فکری جمود اور اخلاقی انحطاط کا دیرپا علاج بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے محض نصاب پر تنقید نہیں کی بلکہ مسئلے کی گہری تشخیص کی اور ایک متوازن تعلیمی فلسفہ پیش کیااور اس فلسفے کو نظام المدارس پاکستان کی صورت میں عملی قالب عطا کیا۔
ان کی قیادت میں تشکیل پانے والا نصاب نہ روایت کا انکار ہے، نہ جدت کا بے لگام قبول، بلکہ ایک ایسا معتدل، مربوط اور ارتقائی تعلیمی نظام ہے جو قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم ہے، اسلامی علمی روایت سے جڑا ہوا ہےاور عصرِ حاضر کے تقاضوں کا شعوری جواب ہے۔ نظام المدارس پاکستان کا نصاب اس بات کا عملی اعلان ہے کہ دین اور دنیا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو تکمیلی پہلو ہیں۔ یہ نصاب اس امید کی کرن ہے کہ اگر اسے خلوص، تسلسل اور فکری دیانت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو مدارس اور ریاست کے درمیان خلیج کم ہو سکتی ہے، علماء جدید معاشرے میں رہنمائی کا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور پاکستان ایک متوازن، معتدل اور فکری طور پر مضبوط تعلیمی ماڈل دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔
(4) نظام المدارس پاکستان: تصور سے نظام تک
شیخ الاسلام کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے محض نظری گفتگو پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تصور دیا، ادارہ قائم کیا، نصاب تشکیل دیا، امتحانی نظام بنایا، اسناد کو قومی و بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروایا۔ نظام المدارس پاکستان دراصل ان کے تعلیمی فلسفے کا عملی اظہار ہے۔ یہ نظام اس سوچ پر قائم ہے کہ مدرسہ جدید ریاست کا حصہ ہو، عالمِ دین قومی دھارے میں کردار ادا کرےاور تعلیم یکساں معیار کی حامل ہو یہی وجہ ہے کہ نظام المدارس کے نصاب میں قرآن، حدیث، فقہ اور عقائد کے ساتھ ساتھ سماجی علوم، قانون، معیشت، کمپیوٹر، زبانیں اور تحقیق کو باقاعدہ اور مربوط انداز میں شامل کیا گیا۔
(5) نصاب کی تشکیل: روایت کی حفاظت، جدت کی شمولیت
شیخ الاسلام نے نصاب سازی میں دو انتہاؤں سے شعوری طور پر اجتناب کیا۔ قدیم نصاب کو جوں کا توں نافذ کر دینے اور مغربی نصاب کی غیر تنقید کے بجائے تقلیدانہوں نے ایک تیسرا راستہ اختیار کیا، جس میں روایت کو بنیاد بنایا گیا مگر اس پر جمود مسلط نہیں کیا گیا، جدت کو قبول کیا گیا مگر تہذیبی خود سپردگی نہیں کی گئی۔ یہی متوازن حکمتِ عملی نظام المدارس کے نصاب کو ایک انقلابی مگر قابلِ قبول نصاب بناتی ہے۔
(6) عالمِ دین کے تصور کی تشکیلِ نو
شیخ الاسلام کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک عالمِ دین کے تصور کی تشکیلِ نو ہے۔ ان کے نزدیک عالم صرف فتوے دینے والا نہیں صرف محراب و منبر تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی رہنما، فکری رہبر اور زندہ ضمیر ہونا چاہیے۔ اسی تصور کے تحت نصاب میں تنقیدی سوچ، تحقیقی منہج، عصری مسائل کا فہم اور ابلاغی صلاحیت کو بنیادی حیثیت دی گئی، تاکہ فارغ التحصیل علماءزمانے سے خوفزدہ نہ ہوں، بلکہ اس کی رہنمائی کر سکیں۔
(7) شدت پسندی کے فکری اسباب کا علمی حل
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے شدت پسندی کا مقابلہ نعروں سے نہیں، طاقت سے نہیں بلکہ علم اور نصاب کے ذریعے کیا۔ ان کے نزدیک انتہاپسندی کا بڑا سبب محدود فہم، یک رخی تعلیم اور عصری شعور کی کمی ہے۔ چنانچہ نظام المدارس کے نصاب میں اعتدال، مکالمہ، اختلاف کا ادب اور مقاصدِ شریعت کے ساتھ ساتھ معیشت، قانون، عمرانیات، سیاسیات اور کمپیوٹر کی تعلیم کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نصاب تشدد نہیں، برداشت، تنگ نظری نہیں بلکہ فکری وسعت پیدا کرتا ہے اور نظری نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا حامل بنا تا ہے۔
(8) بین الاقوامی تناظر اور عالمی قبولیت
شیخ الاسلام نے نصاب کو محض مقامی ضرورت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کیا، جدید تعلیمی اصولوں سے ہم آہنگ کیا اور عالمی سطح پر قابلِ قبول بنایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نظام المدارس کی اسناد تسلیم کی جا رہی ہیں، اس کے فارغ التحصیل عالمی فورمز پر کردار ادا کر رہے ہیں اور اسلامی تعلیم ایک مہذب، مدلل اور علمی زبان میں پیش ہو رہی ہے۔
(9) تسلسل، نگرانی اور ارتقا
شیخ الاسلام کا کردار نصاب کی منظوری پر ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ اس کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں، بدلتے حالات کے مطابق اصلاح کرتے ہیں اور نصاب کو جمود سے بچاتے ہیں۔ یہی تسلسل کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کی اصل ضمانت ہوتا ہے۔
پس یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دینی و عصری علوم کے امتزاج پر مبنی شیخ الاسلام کا مرتب کردہ نصاب محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ امت کی فکری تشکیلِ نو کا ایک سنجیدہ اور بامقصد اقدام ہے۔ یہ اقدام اس یقین کی بنیاد پر کھڑا ہے کہ علم عبادت بھی ہے، ذمہ داری بھیاور امانت بھی اور اس امانت کو جس بصیرت، جرأت اور وسعتِ نظر کے ساتھ اٹھایا گیا ہے، اس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری قیادت اور نظام المدارس پاکستان کی تعلیمی کاوشیں تاریخ میں ایک نمایاں باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔