تعارف، اہمیت وافادیت اور لائحہ عمل
علم انسانی فضیلت اور عظمت کی اساس ہے۔ اللہ رب العزت نے جب عالمِ انسانیت کا آغاز فرمایا تو انسانی شرف، تاریخِ انسانیت اور سلسلۂ نبوت کی بنیاد علم پر رکھی۔ یہ محض ایک فکری نکتہ نہیں بلکہ ایک قرآنی حقیقت ہے کہ انسان کو جو امتیاز عطا ہوا، وہ علم ہی کے سبب عطا ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سامنے سجدہ کروائے جانے کا سبب بھی یہی علم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کے اسماء کا علم عطا فرما کر واضح کر دیا کہ انسانی فضیلت کی بنیاد نہ نسل ہے، نہ قوت، نہ کثرتِ عبادت بلکہ علم ہے۔ گویا انسانیت کی ابتدا ہی علم اورتعلم سے ہو رہی ہے۔ جہاں اللہ رب العزت خود معلم ہے اور آدم علیہ السلام متعلم ہیں۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنے عمل سے علم اور اہلِ علم کی فضیلت کا اظہار فرمایا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن اپنے کسی حجرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ.
دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر آپ ﷺ ان ہی کے ساتھ بیٹھ گئے۔
(سنن ابن ماجه، أبواب كتاب السنة، حدیث: 229)
آپ ﷺ نے حلقۂ علم کو اختیار فرما کر اپنے عمل سے واضح فرما دیا کہ علم اور نفلی عبادت میں سے اگر کسی کو اختیار کرنا ہوتو بہر صورت علم کو اختیار کیا جائے۔
25 ہزار مراکزِ علم کے قیام کا اعلان
آج ہم ایک ایسے دورِ فتن میں سانس لے رہے ہیں، جہاں ہم علمی و عملی، اخلاقی و روحانی، سیاسی و معاشی اور سماجی و معاشرتی الغرض ہمہ گیر زوال کا ناصرف شکار ہوچکے ہیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زوال کی ہمہ گیریت و گہرائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ قلوب و اذہان کے تناؤ، باہمی چپقلش اور معاشرتی رویوں کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
ایسے ماحول میں نباضِ ملتِ اسلامیہ اور مجددِ عصرِ حاضر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے امت کی نبض پر ہاتھ رکھا، مسائلِ کی تشخیص کی اور بتایا کہ اس وقت امتِ مسلمہ کے بالعموم اور اہلِ پاکستان کے بالخصوص تمام امراض کی وجہ جہالت ہے جبکہ تمام مسائل، مشکلات، مصائب اور امراض کا حل صرف اور صرف علم و شعور کے فروغ میں ہے۔
تحریک منہاج القرآن مصطفوی معاشرے کے قیام، بنیادی تعلیم کے فروغ، اخلاقی و روحانی تربیت اور بیداریٔ شعور کے لیے ملک بھر میں سکولز، کالجز، مدارس، اکیڈمیز، مساجد اور گھروں میں مراکزِ علم کا قیام عمل میں لا رہی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اَفرادِ معاشرہ کی اصلاح اور اُن کی تعلیم و تربیت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آئندہ پانچ سالوں میں ملک بھر میں 25 ہزار مراکزِ علم کے قیام کا اعلان فرمایا ہے۔
مراکزِعلم کے راستے جنت کے راستے ہیں
علم کی طلب میں اٹھایا گیا ہر قدم باعثِ نجات ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ
(صحیح مسلم/ الذکر والدعاء 18: 2699)
جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان (و ہموار) کر دیتا ہے۔
یہ فضیلت صرف سیکھنے والوں ہی کے لیے نہیں بلکہ ان گھروں کے لیے بھی ہے جو علم کے مراکز بنتے ہیں۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق جب لوگ کسی گھر میں قرآن کی تلاوت اور اس کے فہم و تدبر کے لیے جمع ہوتے ہیں تو چار عظیم نعمتیں ان پر نازل ہوتی ہیں:
نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ.
(صحیح مسلم/ الذکر والدعاء 11: 2699)
اس پر سکینت نازل ہوتی ہے۔۔۔ اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔۔۔ فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں۔
یہ سکینت، رحمت، فرشتوں کا گھیراؤ اور اللہ کا ذکر ہے جو مراکز علم کو دیگر مجالس پر فوقیت دیتا ہے۔
علم سے دعوت تک
علم انسان کو متعلم بناتا ہے، پھر معلم، اور آخرکار داعی۔ یہی وہ تسلسل ہے جو دین کی بقا اور فروغ کی ضمانت ہے۔ قرآن نے داعی کے منصب کو انبیاء کا وصف قرار دیا اور نبی اکرم ﷺ کو واضح طور پر داعی الی اللہ فرمایا:
وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا.
(الأحزاب، 33: 46)
مرکزِ علم کا قیام محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت دینی و دعوتی عمل ہے۔ یہی عمل افراد کو سنوارتا ہے، معاشرے کو بیدار کرتا ہے اور مصطفوی مشن کو عملی شکل دیتا ہے۔ اگر ہر صاحبِ ایمان اپنے گھر کو ہفتہ وار مرکزِ علم بنا لے تو ہزاروں مراکز بغیر کسی مالی بوجھ کے وجود میں آ سکتے ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے مراکز علم کی اہمیت اور قیام کے حوالے سے رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
درحقیقت علم ہی انسانیت کے شرف اور فضیلت کی بنیاد ہے۔ اسی علم سے سلسلۂ نبوت و رسالت کا آغاز ہوا، اسی کے باعث حضرت آدم علیہ السلام کو ملائکہ کے سامنے سجدہ کروایا گیا، اور اسی علم نے انسان کو ملائکہ کے ساتھ کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی میں شریک کر دیا۔ جب علم کو یہ مقام حاصل ہے تو اسے گھروں میں جگہ دینا کوئی اضافی بوجھ نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے۔
مصطفوی انقلاب کی بنیاد علم ہے۔ اسی تصور کے تحت 25 کروڑ آبادی والے ملک میں 25 ہزار مراکزِ علم کا قیام کوئی ناقابلِ عمل منصوبہ نہیں، بلکہ ایک نہایت سادہ اور قابلِ عمل حکمتِ عملی ہے۔ اس کے لیے نہ کسی مالی وسائل کی ضرورت ہے، نہ نئی عمارتیں خریدنے کی حاجت، نہ تعمیر اور نہ ہی کرائے پر جگہ لینے کی۔ اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ وہی گھر، جن میں لوگ خود رہتے ہیں، علم کے مراکز قرار دے دیے جائیں اور ہفتہ میں سے کسی ایک دن کو مختص کرکے اس علمی، فکری اور روحانی سرگرمی کو منعقد کیا جائے۔
لہٰذا ہر رفیق کے لیے یہ کام نہایت آسان ہے کہ وہ اپنے گھر کو مرکزِ علم بنائے۔ ہفتے میں چند لمحات علم کے لیے مخصوص کر دینا، ایک سادہ سا حلقۂ علم قائم کرنا اور تعلیم و تعلم کے اس سلسلے کو جاری رکھنا ہی اس عظیم مقصد کی عملی صورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے علم گھر گھر پہنچ سکتا ہے اور مصطفوی انقلاب کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے‘‘
مراکزِ علم کے قیام کے مقاصد
تحریک منہاج القرآن کے زیرِ اہتمام قائم ہونے والے کسی بھی مرکزِ علم سے مراد ایک ایسا مرکز ہے جہاں قرآن و حدیث اور سیرت و اخلاقِ نبوی ﷺ پر مشتمل اصلاحِ اعمال و احوال کی ایسی تعلیمی جدوجہد کی جائے، جس کے نتیجے میں مصطفوی معاشرے کا قیام ممکن ہوسکے۔ ملک بھر میں قائم ہونے والے مراکزِ علم کے مقاصد درج ذیل ہیں:
1۔ قرآن فہمی اور سنتِ رسول ﷺ پر عمل کی ترغیب دينا۔
2۔ عقیدہ صحیحہ ا ور افکارِ اسلامیہ کا فہم حاصل كرنا۔
3۔ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ سے حبی و عشقی تعلق پختہ کركے اس كے ذريعے آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع کا داعیہ بیدار کرنا۔
4۔ معاشرے کو اُسوہ محمدی ﷺ کاعملی نمونہ بنانا۔
5۔ اخلاقی و روحانی اُمور کی ترغیب اور تزکیۂ نفس کی عملی تربیت دينا۔
6۔ افرادِ معاشرہ کی ذہنی و فکری بالیدگی کا اہتمام کرنا۔
7۔ معاشرے میں احترامِ انسانیت اور خدمتِ خلق کے جذبات کو پروان چڑھانا۔
8۔ بنیادی اور ناگزیر فقہی مسائل سے آگاہی دینا۔
9۔ محض مطالبۂ حق کی بجائے فرائض کی ادائیگی کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے حقوق و فرائض کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا۔
10۔ معاشرہ میں باہمی اخوت و بھائی چارہ کا فروغ کرنا۔
مراکزِ علم کے بنیادی خدّ و خال
1۔ یہ ایک اکیڈمی/ تربیت گاہ کی طرز کا عوامی (تعلیمی و فلاحی) مرکز ہے۔
2۔ ان مراکزِ علم کے قیام کے لیے کسی ایک مخصوص جگہ پر قیام کی شرط نہیں لگائی گئی بلکہ تعلیمی اداروں، مساجد، مدارس، دفاتر اور گھروں میں جہاں بھی سازگار ماحول اور سہولیات میسرہوں، قائم کیے جارہے ہیں۔
3۔ ایک مرکز علم میں کم از کم 15 سے 20 افراد تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
4۔ مرکز کی طرف سے فراہم کردہ سلیبس ہی مرکزِ علم میں پڑھایا جاتا ہے۔
5۔ مرکز علم میں تدریس ہفتہ وار 1 گھنٹہ ہو تی ہے۔
6۔ اختتام پر شرکاء کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
7۔ ہر مرکزِ علم پر تدریس کے فرائض مرکزی نظامت ای پی ڈی کی طرف سے تربیت یافتہ معلم ہی سر انجام دیتا ہے۔ منتظم اگر خود تدریس کے فرائض سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی معلمین ٹریننگ ورکشاپ میں شرکت لازمی ہو تی ہے۔
8۔ خواتین کے مراکز علم کا قیام، نگرانی، معلمات کی فراہمی اور معاونت منہاج القرآن ویمن لیگ کے ذمہ ہوتی ہے۔
9۔ منتظم / معلم مرکز علم سلیبس میں دی گئی عملی ورکشاپ اور سرگرمیوں کے انعقاد کو یقینی بناتا ہے۔
نصاب کی تفصیل
• نصاب 6 ماہ پر مشتمل ہے۔ جس میں کل 24 لیکچرز ہیں۔ ایک لیکچر کا دورانیہ 1گھنٹہ ہے اور ہر لیکچر میں تین مضمون رکھے گئے ہیں۔ ہر لیکچر کے آخر میں مرکز سے جاری کردہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا شارٹ ویڈیو کلپ چلایا جاتا ہے۔
• نصاب کے پہلے مرحلے میں 8 مضامین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
1۔ تجوید و قراءت 2۔ ترجمہ وتفسیر
3۔ سیرت الرسول ﷺ 4۔ فقہ
5۔ آداب ِ زندگی 6۔ افکار
7۔ شخصیت سازی 8۔ مواخات
منہاج 365 پر مرکز علم کی رجسٹریشن اور رپورٹنگ کا نظام
1۔ تنظیمی عہدیدار، رفقاء و وابستگان اور عوام الناس میں سے کوئی بھی فرد مرکز علم قائم کر سکتا ہے۔
2۔ مراکزِ علم کے قیام کا خواہش مند مرکز کی طرف سے جاری کردہ منہاج 365 ایپ میں رجسٹریشن کروائے گا۔
3۔ منہاج 365 ایپ میں ’’ مرکز علم‘‘ موڈیول میں اپنا مرکز علم رجسٹرڈ کرنا ہوگا۔
4۔ رجسٹریشن کے بعد ’’کلاس رپورٹ جمع کرائیں ‘‘ بٹن پر کلک کرکے مرکز علم کے شرکاء کی تفصیل شامل کرے گا۔
5۔ مرکز علم کی حاضری رپورٹ جمع کروانے کے لیے باری باری تمام شرکاء کی تفصیلات شامل کی جائیں گی (ان تفصیلات میں تین بنیادی معلومات نام، ولدیت اور جنس ضروری جبکہ فون نمبر، ای میل اور تعلیم آپشنل ہیں)۔
6۔ شرکاء کی تفصیلات شامل کرنے کے بعد ’’کلاس حاضری لگائیں‘‘ بٹن پر کلک کرکے سلیبس میں پڑھے گئے لیکچر کا انتخاب، مرکز علم کلاس میں پڑھے گئے درود پاک کی تعداد اور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کے کلپ کا عنوان درج کریں گے۔ اس کے نیچے شرکاء کے نام لسٹ کی صورت میں آرہے ہوں گے جن میں سے صرف غیر حاضر ہونے والے فرد کو کلک کرکے حاضری رپورٹ جمع کرا دی جائے گی۔
مراکزِ علم کے قیام میں نظامت ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ (ای پی ڈی) کا کردار
نظامت ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ نے روایتی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ فروغِ علم کے لیے غیر روایتی ذرائع کو بھی اپنایا ہے۔ اس کے لیے بنیادی دینی علوم وفنون پر مشتمل بیسیوں کورسز ترتیب دیے گئے جن میں سے قابلِ ذکر؛ ڈپلومہ ان قرآن سٹڈیز، عرفان القرآن کورس، عرفان الحدیث کورس، حفظ الحدیث کورس، فنِ خطابت و نقابت کورس، عریبک لینگوئج کورس، سفر نور کورس (مضامین قرآن)، عرفان التجویدِ و القراءۃ اور اسلامک لرننگ کورس شامل ہیں۔
نظامت ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ (EPD) کو مراکز علم کے عظیم الشان پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی ہے جو ملک بھر کی تنظیمات کے ساتھ مل کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔
مراکز علم کی تنفیذ کے مراحل
1۔ پہلے مرحلے میں ملک کے ستر سے زائد شہروں میں وزٹس اور تربیتی پروگرامز کے ذریعے ہزار ہا لوگوں کو اس پراجیکٹ کے تعارف اور تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
2۔ دوسرے مرحلے میں تنظیمی ڈھانچے کا قیام تقریبا ستر فیصد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں نائب ناظمین اعلیٰ زونز، صدور فورمز اور تنظیمات کے ذریعے ناظمین مراکز علم کی تقرری کا عمل تیزی سے تکمیل پذیر ہے اور ان کے نوٹیفکیشنز جاری کیے جارہے ہیں۔
3۔ تیسرے مرحلے میں ملک بھر میں سیکڑوں کی تعداد میں مراکز علم کھلنے شروع ہوگئے ہیں علاہ ازیں زون وائز/ فورم وائز لانچنگ کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔
4۔ چوتھے مرحلے میں نظامت ای پی ڈی کے جملہ نگران اپنے اپنے زونز میں وزٹس کر رہے ہیں اور مراکز علم کے قیام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مراکز علم کے افتتاح بھی کر رہے ہیں۔
مراکزِعلم آن لائن اکیڈمی
ملک بھر کے معلمینِ مراکزِ علم کی تیاری اور سہولت کے پیش نظر نظامت ای پی ڈی نے پندرہ روزہ مراکز علم آن لائن اکیڈمی کا آغاز کیا ہے۔ جس کے تحت پندرہ دن تک معلمین کی رجسٹریشن کر کے معلمین کی ٹریننگ کے بعد انہیں سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
ماحصل
آج کا دور بظاہر علم و معلومات کا دور کہلاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معلومات کی فراوانی اور علم کی قلت کا زمانہ ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے، ہر موضوع پر مواد دستیاب ہے، مگر اس کے باوجود معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی زوال، روحانی خلا اور عملی بے سمتی کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج انسان کے پاس ڈیٹا تو ہے مگر دانش نہیں۔۔۔ خبر تو ہے مگر بصیرت نہیں۔۔۔ معلومات تو ہیں مگر رہنمائی نہیں۔۔۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں مراکزِ علم کی ناگزیریت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ مراکزِ علم محض چند لیکچرز یا نشستوں کا نام نہیں بلکہ یہ وہ فکری و روحانی تربیت گاہیں ہیں جہاں انسان کو صحیح سوچنا، درست سمجھنا اور متوازن عمل کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ مراکز دلوں کو قرآن سے جوڑتے ہیں۔۔۔ ذہنوں کو سنت کی روشنی دیتے ہیں۔۔۔ اور کردار کو سیرتِ مصطفی ﷺ کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔
آج امت مسلمہ کو سب سے بڑا چیلنج جہالت نہیں بلکہ شعوری گمراہی ہے؛ ایسی گمراہی جو علم کے نام پر پھیلتی ہے مگر علم کے مقاصد سے خالی ہوتی ہے۔ ایسے میں مراکزِ علم وہ مضبوط قلعے ہیں جو نوجوان نسل کو فکری انتہا پسندی، دینی افراط و تفریط، اخلاقی بے راہ روی اور روحانی خشک سالی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی مراکز گھروں کو تربیت گاہ۔۔۔ محلوں کو اصلاحی مراکز۔۔۔ اور معاشرے کو مصطفوی کردار کا آئینہ بناتے ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے وقت کی اس سنگین ضرورت کو بروقت محسوس کیا اور 25 ہزار مراکزِ علم کے قیام کا اعلان کر کے قوم کو ایک واضح راستہ دکھا دیا۔ یہ درحقیقت قوم کی فکری تعمیرِ نو کا منصوبہ ہے؛ ایسا منصوبہ جو فرد سے شروع ہو کر خاندان، معاشرے اور ریاست تک اثر انداز ہوتا ہے۔ آج الحمدللہ ملک بھر میں سیکڑوں مراکزِ علم قائم ہو چکے ہیں اور مزید تیزی سے قائم ہو رہے ہیں۔ یہ ایک خاموش مگر طاقتور علمی انقلاب ہے جو گلیوں، محلوں، مساجد، گھروں اور تعلیمی اداروں سے اٹھ رہا ہے۔ مگر یہ سفر چند افراد کے بس کا نہیں، یہ پوری قوم کی شراکت کا متقاضی ہے۔
آئیے! آپ بھی اس کارِ خیر کا حصہ بنیے۔ اگر آپ کے پاس:
• ایک کمرہ ہے تو وہ مرکزِ علم بن سکتا ہے۔
• چند افراد ہیں تو وہ علم کے قافلے میں بدل سکتے ہیں۔
یاد رکھیے!آج اگر ہم نے علم کو عام نہ کیا تو آنے والی نسلیں جہالت کی قیمت ادا کریں گی۔ ہم سب مل کر شیخ الاسلام کے اس حیات آفریں مشن کا حصہ بنیں، اپنے اپنے علاقوں میں مراکزِ علم قائم کریں، علم کا چراغ جلائیں اور مصطفوی معاشرے کی تعمیر میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔ یہی وقت ہے، یہی ضرورت ہے، اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔