علم کی کہانی دراصل انسان کی کہانی ہے۔ وہ انسان جو ابتدا میں اندھیری راتوں میں آسمان کی طرف دیکھ کر حیران ہوتا تھا اور جسے کائنات کی وسعتوں میں کسی غیر مرئی قوت کی دھڑکن محسوس ہوتی تھی۔ جو زمین کی مٹی پر نقشِ پا دیکھ کر سوچتا تھا کہ یہ سب کیسے ہے، کیوں ہے اور اس کے پیچھے کیا حقیقت کارفرما ہے۔۔۔؟ انسان نے جب پہلی بار سوال کیا تھا، تب ہی علم کا سفر شروع ہو گیا تھا مگر یہ سفر کبھی آسان نہ تھا۔ حقیقت کے پردے دبیز تھے۔۔۔ مفاہیم کی دیواریں بلند تھیں۔۔۔ فطرت کے اسرار گہرے تھے۔۔۔ اور انسان کے ذہن کی رسائی محدود۔
وقت کے ساتھ انسان نے دنیا کو سمجھنے کے لیے نئے طریقے تراشے:
1۔ مشاہدہ 2۔ تجربہ 3۔ غور و فکر 4۔ مسلسل سوال
مگر اس سارے سفر میں ایک مشکل ہمیشہ باقی رہی: علم کا پیچیدہ ہو جانا۔ وہ علم جو دھیمی روشنی کی طرح انسان کی رہنمائی کرتا ہے، جب ایک خاص سطح سے آگے بڑھ جاتا ہے تو خود ہی اپنی روشنی کو ایک حد تک بند کر لیتا ہے۔ اس کی تہیں بڑھ جاتی ہیں، اس کی اصطلاحات گہری ہو جاتی ہیں، اس کے دلائل مشکل ہو جاتے ہیں، اس کا حجم وسیع ہو جاتا ہے اور ایک عام انسان اس کے قریب آتے ہوئے خوف محسوس کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانی میں علم کی ہر بڑی پیش رفت اُس وقت ممکن ہوئی جب کسی نے مشکل کو آسان کیا اور آسان کو بامعنی بنایا۔ جب کسی نے گنجلک مسائل کے پیچھے چھپی سچائی کو سادہ الفاظ میں بیان کیا۔۔۔ جب کسی نے فکری دھند کو ہٹا کر حقیقت کو واضح کیا۔۔۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تبسیطِ علوم وجود میں آتی ہے: علم کو انسان کے قریب لے آنے کا فن۔ یہ فن اس بات کا اعتراف ہے کہ علم کی اصل طاقت اس میں نہیں کہ وہ کتنا پیچیدہ ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنے ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔
تبسیطِ علوم؛ علم کو مختصر کرنا نہیں بلکہ اس کا مفہوم واضح کرنا ہے۔ یہ علم کو سطحی نہیں بناتا بلکہ اس کے اندر چھپے مادّے کو ترتیب دیتا ہے۔ یہ نہ تو علم کی بلندی گھٹاتا ہے اور نہ اس کی گہرائی، بلکہ اس کی روشنی کو اس طرح تقسیم کرتا ہے کہ ہر ذہن اپنے ظرف کے مطابق اس سے فیض اٹھا سکے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پہاڑ پر چڑھنے کے لیے راستہ بناتا ہے۔ پہاڑ کی بلندی وہی رہتی ہے، مگر راستہ انسان کے لیے قابلِ طے بن جاتا ہے۔
زبان تبسیطِ علوم کا سب سے بڑا ہنر ہے۔ زبان میں وہ قوت ہے جو پیچیدگی کو سادگی میں بدل دیتی ہے، جو دھند کو ہٹا دیتی ہے، جو مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔ لیکن یہ زبان سطحی نہیں ہوتی، نہ لفاظی کے شور سے بھری ہوتی ہے۔ یہ ایسی زبان ہوتی ہے جو دل میں اتر جائے، ذہن کو روشن کر دے اور مفہوم کو کھول دے۔ یہ زبان اُس ماہر کی زبان ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ کب خاموشی زیادہ معنی خیز ہے اور کب لفظ ضروری۔ کب مثال ذہن کو روشنی دیتی ہے اور کب ایک جامع جملہ پوری بحث کا نچوڑ بن جاتا ہے۔
تبسیطِ علوم کا سب سے عجیب اور خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس فن کا ماہر ایک ہی وقت میں مختلف ذہنی سطحوں کو مخاطب کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم اپنی سب سے بلند صورت اختیار کرتا ہے۔ ایک ہی وضاحت ایک عام قاری کے لیے سادہ تفسیر بن جاتی ہے، ایک طالب علم کے لیے رہنمائی، ایک محقق کے لیے سوال اور ایک عالم کے لیے نئے افق۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں تبسیطِ علوم علم کو زندہ اور حرکی بنا دیتا ہے—جہاں علم ایک جامد لکڑی نہیں بلکہ بہتا ہوا دریا بن جاتا ہے۔
علم کا یہی بہاؤ دراصل تہذیب کا بہاؤ ہے۔ جب علم رک جاتا ہے تو تہذیبیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ جب علم چند ہاتھوں میں قید ہو جاتا ہے تو معاشرے تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ جب علم کی پیچیدگی اسے عوامی فہم سے دور کر دیتی ہے تو ذہنی فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ تبسیطِ علوم ان سب رکاوٹوں کو توڑتا ہے۔ یہ علم کے دروازے کھولتا ہے، فاصلوں کو کم کرتا ہے، ذہنوں کو روشن کرتا ہے اور معاشروں کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی وجہ سے جدید دور میں تبسیطِ علوم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ آج دنیا اطلاعات کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔ ہر طرف سے کبھی نہ ختم ہونے والی معلومات کا سیلاب ہے۔ مگر انسان کے ذہن کی رفتار وہی ہے، اس کی فہم کی ساخت وہی ہے، اس کے سوال وہی ہیں۔ معلومات بڑھ گئی ہیں مگر سمجھ کم ہو گئی ہے۔ الفاظ بڑھ گئے ہیں مگر معنی کم ہو گئے ہیں۔ ایسے میں تبسیطِ علوم وہ واحد فن ہے جو اس بے ترتیبی کے سیلاب کے درمیان فہم کی ناؤ کو بہا کر ساحل تک لے جا سکتا ہے۔
یہ مضمون اسی عظیم فن کی تفصیل ہے۔ یہ اُس سفر کی دعوت ہے جو علم کو دل کی نرم سطح پر اتارتا ہے، جو ذہن کی پرتیں کھولتا ہے، جو سمجھ کو لطیف بناتا ہےاور جو حقیقت کو قریب لاتا ہے۔ یہ مضمون اُن قاریوں کے لیے ہے جو صرف پڑھنا نہیں چاہتے بلکہ سمجھنا چاہتے ہیں، جو صرف جاننا نہیں چاہتے بلکہ ادراک تک پہنچنا چاہتے ہیں اور جو صرف نظریہ نہیں چاہتے بلکہ معنی چاہتے ہیں۔ تبسیطِ علوم کا سفر انسان کا سفر ہے، اور یہ مضمون اسی سفر کا ہمسفر ہے۔
1۔ تبسیطِ علوم کی عمومی تعریف
علمی اعتبار سے تبسیطِ علوم کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’پیچیدہ، کثیرالجہتی، تجریدی اور معقّد علمی مباحث کو ایسی ترتیب، ایسی ساخت اور ایسی لسانی وضاحت میں منتقل کیا جائے کہ مختلف ذہنی سطحوں کے حامل افراد بھی ان کے بنیادی مفاہیم تک رسائی حاصل کر سکیں۔ یہ عمل محض سادہ کاری نہیں، بلکہ معانی کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ اس میں علم کی گہرائی کم نہیں ہوتی بلکہ اس کی ایسی قابلِ فہم صورت پیدا کی جاتی ہے جو ذہن کے لیے قابلِ قبول ہو۔ تبسیطِ علوم دراصل علم کی ترجمانی اور ذہن کی تشکیل کا عمل ہے، نہ کہ صرف آسان الفاظ کے استعمال کا نام۔ ‘‘
تبسیطِ علوم کو مزید سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ مشکل بات کو اس طرح سمجھایا جائے کہ بات اپنی جگہ قائم رہے، مگر سمجھنے والا الجھ نہ جائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی گہرے سمندر سے موتی نکال کر اس طرح پیش کیا جائے کہ ہر شخص اسے دیکھ بھی سکے اور اس کی قدر بھی سمجھ سکے۔ مقصد یہ نہیں ہوتا کہ علم کو کمزور یا سطحی بنا دیا جائے، بلکہ مطمع نظر یہ ہوتا ہے کہ علم کو قابلِ فہم شکل میں پیش کیا جائے۔
یہ عمل صرف مشکل لفظوں کو آسان لفظوں سے بدلنے کا نام نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ بات کو ترتیب کے ساتھ، مثالوں کے ذریعے اور مخاطب کی ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر بیان کیا جائے، تاکہ سننے والا یا پڑھنے والا یہ محسوس کرے کہ یہ بات اس کے لیے ہے۔ تبسیطِ علوم دراصل علم اور انسان کے درمیان ایک پُل بنانا ہے، ایسا پُل جو علم کی گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے ہر عام ذہن کو اس تک پہنچنے کا راستہ دے دیتا ہے۔
2۔ تبسیطِ علوم: قرآنی اصطلاحات کی روشنی میں
تبسیطِ علوم کو عموماً ایک جدید علمی یا تعلیمی اصطلاح سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید خود تبسیطِ علوم کا سب سے اعلیٰ، جامع اور متوازن نمونہ ہے۔ قرآن نے نہ تو علم کی گہرائی کو کم کیا، نہ ہی حقیقت کی سطحیت اختیار کی، بلکہ اس نے گہرے حقائق کو انسانی فہم کے قریب لانے کے لیے ایک مکمل اسلوبِ ابلاغ اختیار کیا۔
قرآن مجید تبسیطِ علوم کو کسی ایک لفظ میں محدود نہیں کرتا، بلکہ مختلف قرآنی اصطلاحات، اسالیب اور فکری اصولوں کے ذریعے اسے ایک زندہ، متحرک اور حکیمانہ علم کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید عمل تبسیط کو کن اصطلاحات سے بیان کرتا ہے؟ آیئے ان کامطالعہ کرتے ہیں:
(1) تبیین: علم کو واضح اور قابلِ فہم بنانا
قرآن مجید علم کو محض پیش نہیں کرتا بلکہ اس کی وضاحت اور تشریح کو رسالت کا بنیادی فریضہ قرار دیتا ہے:
لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
(النحل: 44)
’’آپ لوگوں کے لیے وہ (پیغام اور احکام)خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں۔ ‘‘
تبیین کا مطلب یہ ہے کہ علم کو اس انداز سے بیان کیا جائے کہ اس میں ابہام باقی نہ رہے، لیکن اس کی معنوی گہرائی بھی متاثر نہ ہو۔ تبسیطِ علوم دراصل اسی تبیین کا عملی اظہار ہے، یعنی علم کو ایسے سانچے میں ڈھالنا کہ سننے والا یا پڑھنے والا اصل مفہوم تک رسائی حاصل کر سکے۔
(2) تیسیر: فہم میں آسانی، حقیقت میں کمی نہیں
قرآن اپنے بارے میں خود اعلان کرتا ہے:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ
(القمر: 17)
’’اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے۔ ‘‘
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ آسانی قرآن کا اساسی اصول ہے۔ یہ آسانی سطحیت نہیں، بلکہ فہم کے راستے ہموار کرنا ہے۔ تبسیطِ علوم اسی قرآنی روح کا تسلسل ہے، جس میں علم کو مشکل بنانے کے بجائے اس تک پہنچنے کا سفر آسان کیا جاتا ہے۔
(3) بلاغِ مبین: مؤثر اور واضح ابلاغ
قرآن مجید میں رسالت کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا:
مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
(النور: 54)
بلاغِ مبین کا مطلب ہے ایسا ابلاغ جو سننے والے تک صحیح، واضح اور مکمل صورت میں پہنچ جائے۔ اگر علم منتقل تو ہو جائے مگر سمجھ میں نہ آئے، تو وہ بلاغ نہیں بنتا۔ تبسیطِ علوم دراصل اسی بلاغِ مبین کو یقینی بنانے کی سعی ہے۔
(4) تفصیل: پیچیدگی کو ترتیب میں ڈھالنا
قرآن خود کو یوں متعارف کراتا ہے:
كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ
(فصلت: 3)
’’(اِس) کتاب کا جس کی آیات واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں۔ ‘‘
تفصیل کا مفہوم یہ ہے کہ بڑے اور گہرے مضامین کو چھوٹے، مربوط اور قابلِ فہم حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ تبسیطِ علوم میں یہ اصول نہایت اہم ہے، کیونکہ غیر منظم علم ذہن کو بوجھل کر دیتا ہے، جبکہ منظم علم فہم کو آسان بنا دیتا ہے۔
(5) امثال: مثالوں کے ذریعے ذہنی پل بنانا
قرآن مجید کی ایک منفرد تعلیمی حکمت یہ ہے کہ وہ مجرد حقائق کو مثالوں کے ذریعے واضح کرتا ہے:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ
(العنکبوت: 43)
’’ اور یہ مثالیں ہیں ہم انہیں لوگوں (کے سمجھانے) کے لیے بیان کرتے ہیں۔ ‘‘
مثال انسانی ذہن کے لیے ایک ذہنی سیڑھی ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ پیچیدہ حقیقت تک پہنچتا ہے۔ تبسیطِ علوم میں مثال، کہانی اور تشبیہ محض ادبی حسن نہیں بلکہ علمی ضرورت بن جاتی ہے۔
(6) حکمت: علم کی مقدار، موقع اور مخاطب کا شعور
قرآن اعلان کرتا ہے:
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ
(البقرۃ: 269)
’’جسے چاہتا ہے دانائی عطا فرما دیتا ہے۔ ‘‘
حکمت تبسیطِ علوم کی روح ہے۔ حکمت یہ سکھاتی ہے کہ کتنا کہنا ہے، کس سے کہنا ہے، کس وقت کہنا ہے۔ بغیر حکمت کے علم یا تو فتنہ بن جاتا ہے یا بوجھ۔ اسی لیے قرآن نے حکمت کو علم کے ساتھ لازم کر دیا۔
(7) لہجہ اور اسلوب: ابلاغ کی نفسیاتی جہت
قرآن نہ صرف کیا کہنا سکھاتا ہے بلکہ کیسے کہنا بھی سکھاتا ہے:
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا
(طٰہٰ: 44)
’’ سو تم دونوں اس سے نرم (انداز میں) گفتگو کرنا۔ ‘‘
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ لہجہ انسانی قبولیت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ تبسیطِ علوم صرف فکری عمل نہیں، بلکہ نفسیاتی اور جذباتی شعور بھی ہے۔ نرم لہجہ علم کو دل تک پہنچا دیتا ہے۔
3۔ جامع قرآنی تصورِ تبسیطِ علوم
ان تمام قرآنی اصطلاحات کو سامنے رکھا جائے تو تبسیطِ علوم کی ایک جامع قرآنی تعریف یوں سامنے آتی ہے:
’’تبسیطِ علوم قرآن کے اس حکیمانہ منہج کا نام ہے جس میں علم کی گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے، تبیین کے ذریعے وضاحت۔۔۔ تیسیر کے ذریعے آسانی۔۔۔ تفصیل کے ذریعے ترتیب۔۔۔ مثال کے ذریعے قربِ فہم۔۔۔ حکمت کے ذریعے توازن۔۔۔ اور نرم اسلوب کے ذریعے قبولیت پیدا کی جاتی ہے‘‘۔
اس تعریف کو مزید ان لفظوں میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے:
• تبسیطِ علوم قرآنِ مجید کے اس منہجِ علم و ابلاغ کا نام ہے جس کے تحت علمی، فکری اور معنوی حقائق کو ان کی اصل گہرائی اور فکری وقار برقرار رکھتے ہوئے انسانی فہم کے قریب لایا جاتا ہے۔
• یہ منہج علم کو سطحی بنانے یا اس کی قدر و قیمت کم کرنے کے بجائے، اسے تبیین کے ذریعے واضح۔۔۔ تیسیر کے ذریعے قابلِ رسائی۔۔۔ تفصیل کے ذریعے منظم۔۔۔ اور امثال کے ذریعے قابلِ ادراک بناتا ہے۔
• اس قرآنی اسلوب میں حکمت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو علم کی مقدار، ترتیب، موقع اور مخاطب کے شعور کو متوازن رکھتی ہے۔
• یہ حسنِ خطاب اور نرم اسلوب ابلاغ علم کو محض فکری سطح تک محدود نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے نفسیاتی قبولیت اور عملی اطلاق کے قابل بناتی ہے۔
• تبسیطِ علوم ایک جامع قرآنی علمی حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کا مقصد علم کی ترسیل نہیں بلکہ علم کی تفہیم، داخلی تشکیل اور قابلِ عمل شعور کی تشکیل ہے۔
تبسیطِ علوم کوئی جدید تعلیمی تجربہ نہیں، بلکہ قرآن کا اصل تدریسی اسلوب ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام علم کو خواص تک محدود نہیں کرتا بلکہ انسانیت کے ہر درجے تک پہنچانا چاہتا ہے۔ آج کے مصنف، معلم، خطیب اور محقق کے لیے قرآن کا یہ منہج ایک زندہ رہنمائی ہے—کہ علم کو مشکل بنا کر نہیں، بلکہ قابلِ فہم بنا کر زندہ رکھا جاتا ہے۔
4۔ تبسیطِ علوم کے لیے اسلامی علمی روایت میں رائج اصطلاحات
اسی تناظر میں اسلامی علمی روایت میں تبسیطِ علوم کے لیے متعدد اصطلاحات استعمال ہوتی رہی ہیں، جو سب اس بنیادی قرآنی ہدف سے جڑی ہوئی ہیں کہ علم اپنی اصل گہرائی، وقار اور معنوی وزن کے ساتھ برقرار رہے، مگر اس تک رسائی انسانی فہم کے لیے ممکن ہو جائے۔
1۔ تبیین کا مفہوم حقیقت کو روشن کرنا اور ابہام کے پردے ہٹانا ہے، تاکہ علم مبہم معلومات کے بجائے واضح شعور کی صورت اختیار کرے۔
2۔ تفہیم سے مراد ذہن کو معنی کی سمت رہنمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ علم محض سن لیا گیا مواد نہ رہے بلکہ سمجھا ہوا اور داخلی سطح پر قبول کیا گیا شعور بن جائے۔
3۔ تسهیل یا تیسیر کا مقصد مشکل کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کی فکری ساخت اور گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے قابلِ فہم بنانا ہے، جسے اسلامی علمی زبان میں تيسيرُ المشكلات کہا جاتا ہے، یعنی مشکلات کو اس انداز سے آسان بنانا کہ ان کی ماہیت مسخ نہ ہو۔
4۔ اسی سلسلے کی ایک اہم اصطلاح تقریب ہے، جس سے مراد علم اور قاری یا سامع کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے، تاکہ علم اجنبی اور دور نہ رہے بلکہ ذہن کے قریب آ جائے۔
5۔ ایصالِ معانی اس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں علم محض عقل تک محدود نہیں رہتا بلکہ دل اور احساس تک منتقل ہو جاتا ہے اور یوں علم قبولیت اور اثر پذیری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
6۔ اسی طرح تشریح علمی گتھیوں کو آہستہ آہستہ کھولنے کا منظم عمل ہے، جو دراصل تفكيكُ المشكلات سے قریب ہے، یعنی پیچیدہ مسئلہ کو اس کے اجزاء میں تقسیم کر کے سمجھنا۔
7۔ توضیح اس وضاحت کو کہا جاتا ہے جس کے بعد مفہوم ذہن میں ایک واضح اور مستحکم صورت اختیار کر لیتا ہے، جسے جدید فکری زبان میں تحويلُ التعقيد إلى وضوح کہا جا سکتا ہے۔
ان تمام اصطلاحات کا مشترکہ جوہر یہی ہے کہ علم کو سطحی بنانے کے بجائے اسے فہم کے قابل بنایا جائے۔ اسی فکری تسلسل میں اسلامی روایت میں تبسيطُ المشكلات، حلُّ المشكلات اور معالجةُ المشكلات جیسے تصورات بھی سامنے آتے ہیں، جن کا مقصد مسائل کو محض فوری طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنے، سنبھالنے اور بامعنی حل تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اسلامی علمی روایت نے کبھی علم کو سادہ بنانے کے نام پر اس کی معنوی گہرائی کو قربان نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ یہ اہتمام کیا کہ گہرے مفاہیم کو ایسے سانچوں میں ڈھالا جائے جنہیں مختلف ذہنی سطحوں کے افراد سمجھ سکیں۔ یہی وہ قرآنی منہج ہے جس نے اسلامی علوم کو صدیوں تک مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں قابلِ قبول اور مؤثر بنائے رکھا۔
5۔ تبسیطِ علوم کے علمی اصول
اس فن کے چار بنیادی ستون ہیں:
(1) تجریدِ مفہوم (Conceptual Abstraction)
ایک پیچیدہ علمی نظریے میں بے شمار ضمنی پہلو، مثالیں، تاریخی پس منظر اور تکنیکی تفصیلات ہوتی ہیں۔ تبسیط کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ غیر ضروری تفصیلات کو الگ کر کے ’’اصل مفہوم‘‘ کو شناخت کیا جائے۔ یہ عمل علمی بصیرت کے بغیر ممکن نہیں۔
(2) تحلیل و تنظیم (Deconstruction & Reconstruction)
پیچیدگی کو اس کے بنیادی اجزا میں تقسیم کرنا اور پھر ان اجزا کو اس طرح منظم اور مربوط کرنا کہ مفہوم پہلے سے زیادہ واضح، مربوط اور قابلِ فہم ہو جائے، یہی تبسیطِ علوم کا بنیادی عمل ہے۔ اس طریقے میں پہلے مسئلے کی گتھیاں کھولی جاتی ہیں، پھر معانی کو ایک نئی، منظم اور بامقصد ترتیب میں جوڑا جاتا ہے، تاکہ ذہن انہیں آسانی سے قبول کر سکے۔ یہی وہ فکری عمل ہے جو قدیم علمِ منطق میں استدلال کی بنیاد بنا۔ یہی امام غزالی کے ہاں برہانی فکر کی صورت اختیار کرتا ہے، اور عصرِ حاضر میں انسانی ذہن کے فہم اور ادراک کے اصولوں کے مطابق علم کی تنظیم کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
(3) لسانی وضاحت (Linguistic Clarity)
لسانی وضاحت سے مراد یہ ہے کہ الفاظ اور اصطلاحات کی پیچیدگی کو اس طرح کھولا جائے کہ مفہوم واضح، مربوط اور قابلِ فہم ہو جائے۔ اس عمل میں نہ تو ابہام باقی رہتا ہے اور نہ ہی علمی معیار مجروح ہوتا ہے۔ اس کے لیے زبان کے قواعد پر دسترس، معنی کے دقیق فرق کا شعور اور بیان کی ایسی مہارت ضروری ہوتی ہے جو قاری یا سامع کی ذہنی سطح کے مطابق ہو۔ ساتھ ہی تدریسی نفسیات کی آگاہی بھی اہم ہے، تاکہ بات اس ترتیب اور لہجے میں پیش کی جائے جو ذہن میں الجھن پیدا کرنے کے بجائے فہم کو سہولت فراہم کرے۔ یوں لسانی وضاحت علم کو نہ صرف واضح بناتی ہے بلکہ اسے قابلِ قبول اور مؤثر بھی بناتی ہے۔
(4) تدریجی تفہیم (Gradual Progression)
تدریجی تفہیم سے مراد یہ ہے کہ علم کو یکبارگی ذہن پر انڈیلنے کے بجائے مرحلہ وار اور منظم انداز میں منتقل کیا جائے۔ تبسیطِ علوم کا یہ اصول اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتا ہے کہ انسانی ذہن ایک وقت میں محدود مقدار میں ہی نئے مفاہیم کو قبول کر سکتا ہے۔ اسی لیے فہم کی تعمیر آہستہ آہستہ کی جاتی ہے، جہاں ہر نیا تصور پچھلے تصور پر استوار ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک معمار اینٹ پر اینٹ رکھ کر عمارت کھڑی کرتا ہے، استاد بھی تدریج کے ساتھ ذہن میں علمی نقشہ بناتا ہے، تاکہ علم محض یاد نہ رہے بلکہ سمجھ کا حصہ بن جائے۔
6۔ تبسیطِ علوم کے فوائد
تبسیطِ علوم معاشرتی ترقی، علمی بیداری، تعلیمی اصلاحات اور فکری ارتقاء میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ یہ علم کو محدود حلقوں سے نکال کر وسیع سماجی دائرے میں داخل کرتی ہے۔ جب علم قابلِ فہم انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ طبقاتی رکاوٹیں توڑ دیتا ہے اور عوامی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں نوجوان ذہنوں میں علمی اعتماد پیدا ہوتا ہے؛ وہ علم سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس بارے سوال کرنے، اسے سمجھنے اور آگے بڑھانے کی جرأت حاصل کرتے ہیں۔ آسان فہم علم تحقیق کے لیے پہلی سیڑھی بنتا ہے، کیونکہ جو بات سمجھ میں آجائے وہی مزید جستجو، سوال اور تحقیق کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اسی طرح تبسیطِ علوم مختلف علمی میدانوں کے درمیان ربط پیدا کرتی ہے، جس سے علم بکھرنے کے بجائے ایک مربوط اور ہم آہنگ صورت اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی ہر بڑی علمی تحریک کے پس منظر میں ایسے افراد ضرور نظر آتے ہیں جنہوں نے پیچیدہ حقائق کو سادہ اور واضح بنا کر نئی نسل کے لیے علم کے دروازے کھولے، اور یوں فکری جمود کو حرکت اور ارتقاء میں بدل دیا۔
7۔ تبسیطِ علوم کے لیے اخلاقی و علمی ضوابط
تبسیطِ علوم محض ایک فنی مہارت نہیں بلکہ ایک علمی امانت ہے، اس لیے اس کے لیے واضح اخلاقی اور علمی ضوابط کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر یہ ضوابط نظرانداز کر دیے جائیں تو تبسیط علم کی خدمت کے بجائے اس کی تحریف کا سبب بن سکتی ہے۔ اسلامی علمی روایت میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ علم کو آسان بناتے ہوئے اس کی صداقت، وقار اور معنوی گہرائی کو محفوظ رکھا جائے۔ ذیل میں تبسیطِ علوم کے چند اخلاقی و علمی ضوابط درج کیے جارہے ہیں:
(1) علمی امانت داری کا ضابطہ
تبسیطِ علوم کا پہلا اور بنیادی ضابطہ علمی امانت داری ہے۔ کسی بھی نظریہ، متن یا مؤقف کو آسان بناتے وقت اس کے اصل مفہوم، مقصد اور فکری حدود کو برقرار رکھنا لازم ہے۔ تبسیط کا مطلب یہ نہیں کہ بات کو اپنی سہولت یا ذاتی رائے کے مطابق ڈھال دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اصل علم کو دیانت داری کے ساتھ قابلِ فہم بنایا جائے۔ جہاں امانت داری ختم ہوتی ہے، وہیں تبسیط، تحریف میں بدل جاتی ہے۔
(2) گہرائی اور سادگی کے توازن کا ضابطہ
تبسیطِ علوم میں سادگی مطلوب ہے، مگر گہرائی کی قیمت پر نہیں۔ اس فن کا تقاضا یہ ہے کہ علم کی بنیادیں، استدلال اور فکری وزن محفوظ رہیں، جبکہ بیان ایسا ہو جو قاری یا سامع کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اگر سادگی حد سے بڑھ جائے تو علم سطحی بن جاتا ہے اور اگر گہرائی ہی گہرائی ہو تو فہم ممکن نہیں رہتا۔ تبسیطِ علوم کا اخلاقی تقاضا یہی توازن ہے۔
(3) مخاطب کی فہم کا لحاظ رکھنے کا ضابطہ
تبسیطِ علوم کا مقصد علم کو ہر ذہن تک پہنچانا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مخاطب کے لیے ایک ہی سطح کی گفتگو کی جائے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ مخاطب کی عمر، علمی پس منظر اور ذہنی استعداد کو مدنظر رکھا جائے۔ جو بات ایک طالبِ علم کے لیے مناسب ہو، وہ ضروری نہیں کہ عام قاری کے لیے بھی ہو۔ تبسیطِ علوم میں یہ شعور نہایت اہم ہے۔
(4) تدریج اور ترتیب کی پابندی
علم کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں پیش کرنا تبسیطِ علوم کا ایک بنیادی اخلاقی اصول ہے۔ پیچیدہ مباحث کو یکبارگی پیش کرنا ذہنی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مفاہیم کو آسان سے مشکل کی طرف اور اجمال سے تفصیل کی طرف لے جایا جائے۔ یہ تدریج علم کو قابلِ فہم بنانے کے ساتھ ساتھ ذہنی احترام بھی پیدا کرتی ہے۔
(5) حدودِ علم کی وضاحت کا ضابطہ
تبسیطِ علوم میں یہ دیانت بھی شامل ہے کہ جہاں علم محدود ہو، وہاں اس کی حدود کو واضح کر دیا جائے۔ ہر سوال کا فوری اور سادہ جواب دینا علمی دیانت نہیں۔ بعض امور ایسے ہوتے ہیں جن میں اختلاف، اجتہاد یا مزید تحقیق کی گنجائش ہوتی ہے۔ تبسیط کا مطلب یہ نہیں کہ غیر یقینی امور کو یقینی بنا کر پیش کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ علم کی وسعت اور حدود دونوں کو واضح رکھا جائے۔
(6) مقصدیت اور خیر خواہی کا ضابطہ
تبسیطِ علوم کا مقصد محض متاثر کرنا یا مقبولیت حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فہم پیدا کرنا اور علمی خیر خواہی کا مظاہرہ کرنا ہونا چاہیے۔ جب تبسیط شہرت، سنسنی یا ذاتی مفاد کے لیے کی جائے تو وہ علم کی خدمت کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ نیت کی درستگی، تبسیطِ علوم کا ایک اہم اخلاقی ستون ہے۔
الغرض تبسیطِ علوم اسی وقت ایک بامقصد اور مفید علمی عمل بنتی ہے جب وہ اخلاقی ذمہ داری اور علمی دیانت کے ساتھ انجام دی جائے۔ یہ فن علم کو کم نہیں کرتا بلکہ اسے محفوظ رکھتے ہوئے عام فہم بناتا ہے۔ جب تبسیط علم احترام، سچائی اور فہم کے جذبے کے ساتھ کی جائے تو وہ نہ صرف فرد کی تربیت کرتی ہے بلکہ معاشرے کی فکری بنیادوں کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ یہی تبسیطِ علوم کا اصل مقام اور اصل وقار ہے۔
8۔ تبسیطِ علوم کے اسلامی مآخذ: قرآن، سنت، فقہ، کلام، فلسفہ، تصوف
تبسیطِ علوم کا علمی ورثہ اسلامی تہذیب میں کسی ایک مضمون یا ایک دور تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا جامع فکری سلسلہ ہے جو قرآنِ مجید سے شروع ہو کر حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، علمِ کلام، فلسفہ، تصوف اور اسلامی فکر کی پوری تاریخ پر پھیلا ہوا ہے۔ ان بنیادی مآخذ کو اُن کے تاریخی، فکری اور علمی سیاق میں جاننا ضروری ہے تاکہ قاری جان سکے کہ اسلامی ذہن نے علم کو قابلِ فہم بنانے کی کیا حکمتِ عملی اختیار کی اور یہ عمل کس حد تک منہجی اور اصولی تھا:
1۔ تبسیطِ علوم کا سب سے پہلا اور بنیادی ماخذ قرآنِ مجید ہے۔ قرآن کا اندازِ بیان تیسیر، وضاحت، تدریج اور تفہیم پر قائم ہے۔ قرآن نے انسان کی ذہنی سطح، اس کے تجربے، اس کی زبان اور اس کے سوالات کا خیال رکھتے ہوئے گفتگو کی۔ اسی وجہ سے قرآن نے مثالیں دیں، قصے بیان کیے، سوال و جواب کا انداز اختیار کیا، اور مختلف طبقاتِ فکر کو ان کی ذہنی استعداد کے مطابق خطاب کیا۔ یہ تمام اسالیب خود اس بات کی دلیل ہیں کہ قرآن نے علم کو فہم کے دروازے سے داخل کیا، نہ کہ پیچیدگی اور فلسفیانہ گہرائی کے ذریعے۔ اگرچہ قرآن میں گہرائی اپنی جگہ موجود ہے اور صدیوں سے مفسرین اس سے معانی کشید کرتے آئے ہیں۔
2۔ دوسرا بنیادی ماخذ سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں تبسیط، تنویع، تدریج، وضاحت اور سادگی سب نمایاں ہیں۔ آپ نے اہم حقائق کو مثالوں کے ذریعے بیان کیا، اخلاقیات کو عملی ماڈل بنا کر دکھایا، پیچیدہ عقائد کو مختصر جملوں میں سمو دیا اور لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی دعوت، تربیت اور ابلاغ کا پورا نظام نبوی منہج سے وابستہ ہے۔ سنتِ نبوی نے علم کو زندگی کے تجربے میں ضم کر کے بیان کیا اور یہ تبسیطِ علوم کی سب سے عملی شکل ہے۔
3۔ تبسیطِ علوم کا تیسرا ماخذ فقہ اور اصولِ فقہ ہے۔ ائمۂ مجتہدین نے زندگی کے پیچیدہ مسائل کو فقہی اصولوں، قواعد اور ضوابط میں ڈھالا۔ اختلافی مسائل کو منظم اصولوں کے تحت تحلیل کیا اور فقہی ذخیرے کو موضوعاتی ابواب میں ترتیب دیا۔ فقہ کے اس نظم نے عام مسلمان اور طالب علم دونوں کے لیے دین کو قابلِ فہم بنایا۔ اصول فقہ نے تبسیطِ علوم کی منطقی بنیاد فراہم کی—جزویات کو کلیات سے جوڑا، علت و معلول کو واضح کیا اور دلائل کی ترتیب کو قائم رکھا۔
4۔ چوتھا ماخذ علمِ کلام ہے۔ علمِ کلام نے عقائد کے مشکل اور تجریدی مباحث کو استدلالی ترتیب کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ وہ ذہنی قبولیت حاصل کر سکیں۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ نے فلسفیانہ اعتراضات کو منطقی اور عام فہم انداز میں حل کیا۔ امام غزالی کی تحریریں تبسیطِ علوم کی بہترین مثال ملتی ہے، جہاں فلسفہ، کلام اور اخلاق کو ایسے اسالیب میں بیان کیا کہ پیچیدگی کم ہوئی اور بات زیادہ روشن ہو گئی۔
5۔ پانچواں ماخذ علمِ فلسفہ ہے۔ مسلمان فلاسفہ نے یونانی فلسفہ کو نہ صرف اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا بلکہ مشکل فلسفیانہ نظامات کو ترتیب دے کر زیادہ قابلِ فہم بنایا۔ فارابی، ابن سینا اور ابن رشد جیسے فلاسفہ نے انتہائی پیچیدہ مسائل کو واضح مسالک اور نظریاتی سانچوں میں پیش کیا، جس سے فلسفہ عام ذہن کے لیے بھی قابلِ مطالعہ ہو گیا۔
6۔ چھٹا اور انتہائی لطیف ماخذ تصوف ہے۔ صوفیا نے معرفت، اخلاق، روحانیت اور باطنی احوال کو حکایت، شعر، مثال اور روزمرّہ تجربے کی زبان میں بیان کیا۔ ان کی زبان میں سادگی تھی، مگر معانی وسیع۔ ان کے بیانات میں روشنی تھی، مگر گہرائی کم نہیں ہوتی تھی۔ داتا گنج بخش، امام قشیری، مولانا روم، سعدی اور عطار رحمھم اللہ سب تبسیطِ علوم کے جمالیاتی پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تصوف نے علم کی مشکل روحانی جہات کو دل کی زبان میں منتقل کیا اور یہ تبسیطِ علوم کا وہ پہلو ہے جو عقل کے ساتھ ساتھ دل کو بھی روشن کرتا ہے۔
یوں تبسیطِ علوم کے مآخذ قرآن سے شروع ہو کر پورے اسلامی فکری ورثے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر علم، ہر دور، ہر مکتب فکر نے اس عمل کو اپنے انداز میں اپنایا، مگر مقصد ایک ہی رہا: علم کو اس کے وقار اور گہرائی سمیت قابلِ فہم بنانا۔ لہٰذا تبسیطِ علوم اسلامی روایت کا محض ایک طریقِ تعلیم نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل، ایک اصولی تحریک اور ایک تہذیبی ذمہ داری ہے۔
9۔ تبسیطِ علوم میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا منہج
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے پورے علمی منہج کی بنیاد درج ذیل حقائق پر قائم ہے:
(1) بنیادی نظریہ: آسانی کو علم میں تبدیل کرنے کا فلسفہ
شیخ الاسلام کے منہج کا بنیادی نظریہ علم کو آسان بنانا ہے۔ علم کو آسان بنانے کا مطلب اس کی گہرائی کو کم کرنا نہیں ہے، بلکہ آسانی کو خود علم کا حصہ بنا دینا ہے۔ ان کا منہج ہمیں قرآن کے اس اصول کی یاد دلاتا ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ یعنی اللہ نے وضاحت اور سہولت کو علم کی فطری شکل بنا دیا۔ اسی طرح حدیثِ نبوی خاطِبُوا النَّاسَ عَلَى قَدَرِ عُقُولِهِمْ انسانوں کے ذہنی درجے کے مطابق گفتگو کی تربیت دیتی ہے۔ شیخ الاسلام کا پورا اسلوب اسی نبوی منہج کا عملی تسلسل معلوم ہوتا ہے، جہاں مشکل مفاصد کو قابلِ فہم اور پیچیدہ علوم کو قابلِ رسائی بنانے کے لیے سادگی کو ایک علمی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
(2) علمی گہرائی کا تحفظ: مسئلہ کو کم کیے بغیر واضح کرنا
شیخ الاسلام کے فریم ورک کا پہلا ستون یہ ہے کہ مشکل موضوعات کی گہرائی کو کسی موقع پر کم نہیں ہونے دیا جاتا۔ وہ فقہ، حدیث، اصول یا تفسیر کی باریکیوں کو چھوڑے بغیر انہیں سہل زبان میں بیان کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عام مقرر یا مصنف کمزور پڑ جاتا ہے کیونکہ پیچیدگی کو سادہ کرتے ہوئے اکثر مفہوم اپنی اصالت کھو دیتا ہے۔ لیکن شیخ الاسلام مشکل مسئلہ کو مختصر نہیں کرتے، بلکہ اس کی فکری ہڈی برقرار رکھتے ہوئے اسے قابلِ فہم بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’اسلام اور دہشت گردی‘‘ جیسی عالمی سطح کی کتابیں، جن کا مواد فقہی طور پر نہایت دقیق ہے، عام قاری کے لیے بھی سمجھ میں آتی ہیں اور عالمی محقق کے لیے بھی علمی مراجع بن جاتی ہیں۔
(3) لسانی سادگی: زبان نرم، مفہوم گہرا
شیخ الاسلام کے اندازِ بیان کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ الفاظ نرم، صاف، عام فہم اور سادہ ہوتے ہیں مگر مفہوم انتہائی گہرا۔ یہ قرآن کے اس منہج سے ہم آہنگ ہے: ’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ‘‘ یعنی وضاحت اُس زبان میں ہوتی ہے جو قوم سمجھ سکے۔ شیخ الاسلام اسی فطری نفسیات کے مطابق پیچیدہ فقہی اصطلاحات، تفسیر اور فلسفہ کی گتھیوں کو روزمرہ زبان میں کھول دیتے ہیں۔ ان کے درسِ قرآن میں جب وہ ’’علّتِ فاعلی‘‘ جیسے مشکل فلسفیانہ تصور کو قلم اور ہاتھ کی مثال سے سمجھاتے ہیں تو سامع محسوس کرتا ہے کہ علم اب ہاتھ سے چھونے والی حقیقت بن گیا ہے۔
(4) مثال، تشبیہ اور تمثیل: تصور کو بصری شکل دینا
شیخ الاسلام کی تیسری بڑی تکنیک یہ ہے کہ وہ ہر مشکل تصور کے لیے ایک ایسی مثال دیتے ہیں جو سامع کے ذہن میں فوری نقش بن جائے۔ یہ عمل قرآن کے اس اسلوب سے ماخوذ ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ یعنی مثالیں ذہنی وضاحت کا آلہ ہیں۔ شیخ الاسلام فلسفۂ روح کو بجلی کی روشنی کی مثال سے سمجھاتے ہیں، تقدیر کو عادت اور ارادہ کی روزمرّہ مثالوں سے واضح کرتے ہیں اور اصولِ فقہ کو عملی واقعات سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کی مثال نہ تو بہت طویل ہوتی ہے اور نہ ہی غیر ضروری، بلکہ بلکل اُتنی ہی جتنی ذہن میں ’’تصویر‘‘ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہو۔
(5) ترتیب و تدرّج: ذہن کو تیار کرنا، پھر مفہوم دینا
شیخ الاسلام کی گفتگو میں سب سے نمایاں چیز ترتیب ہے۔ وہ کبھی اچانک کسی مشکل موضوع پر نہیں جاتے بلکہ پہلے ذہن کو حرارت دیتے ہیں، ماحول اور پس منظر بناتے ہیں، پھر موضوع کی بنیاد رکھتے ہیں اور آخر میں اصل مسئلہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ وہی ترتیب ہے جو قرآن نے سورۃ العصر میں قائم کی: زمانہ، انسان، خسارہ، ایمان، عمل، نصیحت، صبر۔ شیخ الاسلام اس ترتیب کو تدریسی منہج میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس لیے سننے والا کبھی محسوس نہیں کرتا کہ علم اُس پر بوجھ بن رہا ہےبلکہ وہ اسے ایک قدرتی سفر کی طرح قبول کرتا ہے۔
(6) مخاطب کی نفسیاتی سطح کا خیال
تبسیطِ علوم کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر سامع کی ذہنی سطح یکساں نہیں ہوتی۔ شیخ الاسلام اس حقیقت کو بہت باریکی سے سمجھتے ہیں۔ ایک محفل میں اگر پروفیسر بیٹھے ہوں تو ان کا اندازِ بیان علمی ہوتا ہے؛ اگر عام لوگ ہوں تو مثالیں زیادہ ہوتی ہیں؛ اگر نوجوان ہوں تو زبان تازہ اور جذباتی ہوتی ہے اور اگر مغربی اسکالر ہوں تو گفتگو عقلی، تحقیقی اور سائنسی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو حدیثِ نبوی کے اس اصول کا عملی نمونہ بن جاتا ہے کہ ’’لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کرو۔ ‘‘
(7) روحانی تاثیر: علم کو نور میں بدل دینا
شیخ الاسلام کی گفتگو میں ایک ایسی روحانی تاثیر ہوتی ہے جو صرف ذہن کو نہیں بلکہ دل کو بھی کھول دیتی ہے۔ یہ تاثیر ان کے بیان میں روحانیت کے سبب آتی ہے: ذکر، خشوع، محبتِ رسول ﷺ اور قرآن کے ساتھ مسلسل تعلق سے۔ قرآن کہتا ہے:
أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ
یہ نور وہی ہے جو ان کے بیان میں محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی گفتگو صرف واضح نہیں ہوتی، وہ موثر بھی ہوتی ہے، دل میں اُترتی ہے، شعور کو جگاتی ہے اور سامع کے وجود میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔
10۔ شیخ الاسلام کا چار مرحلہ تدریسی ماڈل
شیخ الاسلام کا تدریسی منہج چار مرحلوں میں بہتا ہوا محسوس ہوتا ہے:
(1) سامع کے ذہن کو سننے پر آمادہ کرنا
شیخ الاسلام کے تدریسی منہج کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کسی پیچیدہ علمی موضوع میں بلا تمہید داخل نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان کا ذہن یکدم گہرائی قبول نہیں کرتا، بلکہ اسے پہلے راستہ، ماحول، پس منظر اور ایک ذہنی نقشہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی گفتگو کا آغاز سوالات، تمہیدات اور مختصر ذہنی خاکوں سے کرتے ہیں، جو سننے والے کو اس بات کے لیے تیار کر دیتے ہیں کہ اب ایک فکری سفر شروع ہونے والا ہے۔
یہ طریقہ قرآن کے منہج سے ہم آہنگ ہے، جہاں اکثر مشکل مسائل سے پہلے تمثیل، قصہ، ابتدائی اصول یا ذہنی تنبیہ آتی ہے۔ شیخ الاسلام بھی اسی قرآنی حکمت کو اختیار کرتے ہیں۔ وہ پہلے سامع کے ذہن میں اس موضوع کی ضرورت، اس کا پس منظر اور اس کی معنوی اہمیت کو جگاتے ہیں یعنی ذہن ’’قبولیت‘‘ کی حالت میں آ جاتا ہے، جس کے بعد علم بوجھ بننے کے بجائے نور کی طرح اترتا ہے۔
(2) تصور کی تشکیل: مفہوم کو بنیادوں کے ساتھ کھڑا کرنا
جب ذہن تیار ہو جاتا ہے تو شیخ الاسلام دوسرا مرحلہ شروع کرتے ہیں: تصور کی تعمیر۔ یہاں وہ موضوع کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں، یعنی تعریفات، بنیادی اصطلاحات، فریم ورک اور وہ ضروری مقدمات جن کے بغیر آگے کی تفصیلات سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے پورا نقشہ دکھاتے ہیں، پھر اس نقشے کے حصوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس سے قاری کو کوئی بھی بحث ’’الگ تھلگ‘‘ محسوس نہیں ہوتی؛ ہر چیز ایک مرکزی خیال سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ بھی قرآن کے اس اسلوب کی عملی شکل ہے جہاں اللہ تعالیٰ پہلے اصول بتاتا ہے، پھر ان کی تفصیلات کھولتا ہے۔ شیخ الاسلام کے دروسِ فلسفہ، جیسے ’’روح کیا ہے؟‘‘ یا ’’ تقدیر کیا ہے؟‘‘ اس منہج کی شاندار مثالیں ہیں۔ وہ پورے مفہوم کا ایک عالمی خاکہ سامنے رکھ دیتے ہیں، جس کے بعد ہر تفصیل اپنی جگہ خود بخود سمجھ میں آنے لگتی ہے۔
(3) دلیل کی توضیح: قرآن، حدیث، عقل اور تاریخ کا مربوط امتزاج
تیسرا مرحلہ وہ ہے جہاں شیخ الاسلام علم کو صرف وضاحت یا مثال تک محدود نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے سند، دلیل اور حجت دیتے ہیں۔ وہ قرآن کی آیات، احادیثِ مبارکہ، اقوالِ ائمہ، تاریخی واقعات، عقلی استدلال، اور نفسیاتی شواہد، سب کو ایک مربوط سلسلے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس انضمام کی خوبی یہ ہے کہ سامع کو محسوس ہوتا ہے کہ موضوع نہ صرف واضح ہوا ہے بلکہ اب مضبوط بھی ہو گیا ہے۔ ان کے بیان میں دلیل کبھی خشک نہیں ہوتی وہ دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والا اس کی ضرورت بھی سمجھتا ہے اور اثر بھی محسوس کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، ’’جہاد اور دہشت گردی‘‘ جیسے حساس موضوع میں انہوں نے قرآنِ مجید، احادیث، ائمہ کی آراء، فقہی قواعد اور تاریخی شواہد کو ایک ایسے توازن سے پیش کیا کہ پیچیدہ فقہی اصول بھی عام ذہن کے لیے روشن ہو گئے۔ دلیل کی یہ ہم آہنگی ان کے منہج کا علمی حسن ہے۔
(4) اثر کی ترسیل: بات دل میں اترنا اور قاری کی تبدیلی
جب ذہن تیار ہو جائے، تصور واضح ہو جائے، اور دلیل مضبوط ہو جائے، تو شیخ الاسلام گفتگو کو صرف علمی سطح پر نہیں چھوڑتے، بلکہ اسے اثر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہی ان کے منہج کا سب سے منفرد پہلو ہے۔ ان کے بیان میں ایک روحانی نرمی، اخلاقی حرارت اور تربیتی گہرائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے موضوع قاری کے ذہن میں اترنے کے ساتھ اس کے دل کو بھی چھوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں علم ’’معلومات‘‘ سے بڑھ کر ’’تبدیلی‘‘ بن جاتا ہے۔ قرآن اسی کیفیت کو بیان کرتا ہے:
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ یعنی علم کا اصل مقصد ہدایت ہے، صرف فہم نہیں۔ شیخ الاسلام اسی قرآنی مقصد کو برتتے ہیں۔ ان کی گفتگو ذہن کو روشن کرتی ہے، مگر ساتھ ہی انسان کے اندر عملی تحریک بھی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ایک تقریر سن کر بہت سے لوگ کہتے ہیں، ’’آج نہ صرف سمجھ آیا، بلکہ دل بھی بدل گیا۔ ‘‘ یہی ’’ اثر کی ترسیل” ہے: تبسیطِ علوم کا آخری اور سب سے مقدس مرحلہ۔
یہ چار مراحل ’’تبسیطِ علوم‘‘ کو ایک منظم فن بنا دیتے ہیں۔
11۔ شیخ الاسلام کے اسلوب کا جامع اثر: علم کا زندہ بہاؤ
شیخ الاسلام کی گفتگو میں علم جامد نہیں رہتا، وہ بہتا ہے، کھلتا ہے اور قاری و سامع کے ذہن میں ایک روشنی بن کر پھیلتا ہے۔ ان کا بیان صرف سمجھاتا نہیں—تربیت بھی کرتا ہے۔ صرف وضاحت نہیں کرتا، وجدان کو بھی جگاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خطبات سننے اور کتابیں پڑھنے کے بعد انسان محسوس کرتا ہے کہ پیچیدہ علوم اُس کے لیے پہلی بار کھل کر سامنے آئے ہیں۔
شیخ الاسلام کا فریم ورک اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ علم کی گہرائی اور سادگی ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ انہوں نے قرآن کے منہج اور سنتِ نبوی کے اسلوب کو عصرِ حاضر کی علمی زبان میں منتقل کر کے دنیائے علم کے لیے ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔ ان کا تبسیطی ماڈل صرف ’’بیان کا طریقہ‘‘ نہیں، بلکہ علم کو زندہ کرنے کا طریقہ ہے۔ ایک ایسا طریقہ جس سے مشکل علوم روشنی بن کر دل و دماغ میں اترتے ہیں۔
حرف آخر
تبسیطِ علوم محض ایک علمی اسلوب نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے، سنوارنے اور آگے بڑھانے کا ایک شعوری منہج ہے۔ جب علم قابلِ فہم بن جاتا ہے تو وہ دل میں اترتا ہے، اور جب دل میں اتر جائے تو عمل میں ڈھل جاتا ہے۔ اس مضمون میں بیان کیے گئے اصول ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ علم کو بوجھ بنانے کے بجائے روشنی بنایا جائے، اختلاف کو الجھن کے بجائے وسعت سمجھا جائے، اور پیچیدگی کو رکاوٹ نہیں بلکہ ترتیب کے ذریعے فہم میں بدلا جائے۔
تبسیطِ علوم ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھی ایک نہایت مؤثر طریقہ ہے۔ جو شخص پیچیدہ بات کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اپنی سوچ، گفتگو اور فیصلوں میں زیادہ واضح، متوازن اور بااعتماد ہو جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں یہی صلاحیت بہتر قیادت، مؤثر ابلاغ، مسئلہ حل کرنے کی اہلیت اور ٹیم کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، جبکہ ذاتی زندگی میں یہ ذہنی سکون، فکری وضاحت اور درست ترجیحات کے تعین میں مدد دیتی ہے۔
ذاتی طور پر میں اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے کسی خطاب اور کسی کتاب سے کبھی غفلت نہیں برتی۔ ان کے خطابات اور تصانیف کے ساتھ مسلسل وابستگی ہی اس مضمون کی بنیاد اور اس کی روح ہے۔ یہی مستقل سماعت، مطالعہ اور غور و فکر اس فن کی پہچان کا ذریعہ بنا۔ تاہم میں اسے اپنی محنت کا کمال نہیں سمجھتا، بلکہ اس شعور اور اس آگاہی کو اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کا خاص فضل مانتا ہوں، ایک ایسا تحفہ جو سیکھتے رہنے، سوال کرتے رہنے اور علم کے سامنے عاجز رہنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔
قارئین کے لیے اصل دعوت یہی ہے کہ وہ ان اصولوں کو صرف مطالعہ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی روزمرّہ زندگی میں برتیں۔ گفتگو میں وضاحت، سوچ میں ترتیب، فیصلوں میں حکمت اور عمل میں تدریج کو اختیار کریں۔ علم حاصل کرتے وقت بھی اور علم بانٹتے وقت بھی یہ دیکھیں کہ بات سمجھ میں آرہی ہے یا نہیں، دل کو چھو رہی ہے یا نہیں اور فرد و معاشرے میں بہتری پیدا کر رہی ہے یا نہیں۔
اگر ہر فرد اپنے دائرۂ کار میں علم کو آسان، قابلِ فہم اور بامقصد بنا دے تو یہی طرزِ فکر انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بن سکتی ہے، اسلام کی حقیقی روح کو اجاگر کر سکتی ہے اور پاکستان کو فکری استحکام، سماجی ہم آہنگی اور علمی ترقی کی راہ پر آگے لے جا سکتی ہے۔
علم جب اخلاص، حکمت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو وہ صرف فرد کو نہیں بدلتا بلکہ اقوام کی تقدیر بھی سنوار دیتا ہے۔ یہی اس سفر کا اصل مقصد ہے اور یہی اس مضمون کا بنیادی پیغام۔