بصیرتِ شیخ الاسلام: علم، حکمت اور رواداری

تنویر احمد خان

دو یادگار نشستوں کے احوال

تاریخِ انسانی کے افق پر کچھ ایسی عبقری شخصیات طلوع ہوتی ہیں جو نہ صرف اپنے عہد کی نبض پر ہاتھ رکھتی ہیں بلکہ آنے والی صدیوں کے فکری و نظریاتی رخ کا تعین بھی کرتی ہیں۔ جن کی گفتگو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کی پیشین گوئی اور الجھے ہوئے فکری مسائل کا حل ہوتی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زندگی تجدیدِ دین اور احیائے اسلام کی ایک ایسی روشن داستان ہے جس نے علم کو عمل اور فلسفہ کو بصیرت کے نور سے منور کیا۔

زیرِ نظر مضمون شیخ الاسلام کی 75 ویں سالگرہ کے پرمسرت موقع پر ان کی بے مثال علمی و فکری بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ یہ تحریر میری زندگی کی اُن دو یادداشتوں پر مشتمل ہے جنہوں نے نہ صرف میرے نظریات کو جلا بخشی بلکہ تحریکِ منہاج القرآن کے منہج اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی عالمی بصیرت کو بھی پوری طرح آشکار کیا۔ یہ یادداشتیں محض گزرے ہوئے واقعات نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جب امت فکری انتشار اور گروہی عصبیت کی آگ میں جل رہی تھی، تب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے امت کی کشتی کو انتہا پسندی کے بھنور سے نکال کر رواداری اور بقائے باہمی کے ساحل سے ہمکنار کر دیا تھا۔

1۔ انتہا پسندی کے اندھیروں میں اعتدال کی روشنی

میری پہلی یادداشت کا تعلق ایک ایسی یادگار فکری نشست کی روداد ہے جس نے فکر و نظر کے زاویے بدل دیے۔ 1991ء کے پُر آشوب دور میں جب فرقہ واریت کا زہر رگِ مِلت میں اتر رہا تھا، گورنمنٹ کالج لاہور کے چند نوجوانوں نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے رہنمائی کے لئے چند سوالات کیے۔ یہ محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ ایمان، کفر اور اتحادِ امت کے حساس موضوعات پر ایک ایسا حکیمانہ مکالمہ تھا جس نے انتہا پسندی کے سامنے منطق اور دلیل کا چراغ روشن کیا۔ اس تحریر کو پڑھ کر قارئین کو معلوم ہو گا کہ کس طرح شیخ الاسلام نے قرآن و سنت کی روشنی میں’’ایمان کے حقیقی پیمانے‘‘ کی وضاحت فرمائی اور یہ ثابت کیا کہ امت میں 90 فیصد سے زائد معاملات مشترک ہیں۔ یہ تحریر آج کے دور میں بھی مذہبی رواداری اور بھائی چارے کے قیام کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اس فکری نشست کی روداد ملاحظہ ہو:

میں 1991ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا۔ میں نے چاہا کہ کسی طرح اپنی کلاس اور ہاسٹل کے کچھ قریبی دوستوں کی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے ساتھ ایک علمی نشست کا اہتمام کیا جائے۔ میں نے شیخ الاسلام سے وقت لیا اور اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پہنچا۔ شیخ الاسلام سے ان کے آفس میں تفصیلی نشست ہوئی جس میں بہت سے سوالات ہوئے اور شیخ الاسلام نے کمال اور مدلل گفتگو فرمائی۔ یہ وہی نشست تھی جس میں مجھے شیخ الاسلام کو تحریک منہاج القرآن کی طلبہ تنظیم کے قیام کی تجویز دینے کا موقع بھی ملا۔ طلبہ تنظیم کی تجویز پر شیخ الاسلام بہت دیر تک تعلیمی اداروں کے ماحول اور طلبہ تنظیم کے قیام کے مضمرات پر استفسار کرتے رہے۔

ہمارے مختصر وفد میں تقریبا سب ہی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے نوجوان موجود تھے، جنہوں نے علمی، عصری، سائنسی، تحقیقی، تنظیمی اور سیاسی حوالے سے متعدد سوالات کیے۔ اس موقع پر ایک بظاہر بڑا خطرناک سوال شیخ الاسلام سے کیا گیا۔ یہ ایک ایسا سوال تھا کہ اگر شیخ الاسلام کی جگہ کوئی اور علمی و فکری شخصیت ہوتی تو اس سوال کا قطعا ایسا جواب نہ دے پاتی۔ ان دنوں شیخ الاسلام نے اہل تشیع کی نمائندہ جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ساتھ ملک گیر سطح پر ’’اعلامیہ وحدت‘‘ جاری کیا تھا۔ وہ ’’شیعہ شیعہ کافر شیعہ‘‘کے فرقہ پرستانہ نعرے کے مقابلے میں ’’شیعہ سنی بھائی بھائی‘‘ کے تصور کو ترویج دے رہے تھے۔ ملک گزشتہ دہائی سے فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی زد میں تھا۔ ہمارے وفد میں اہل تشیع بھی تھے اور سپاہ صحابہ سے وابستہ نوجوان بھی۔

(1) ایک نوجوان کا سوال: کافر کون؟

کسی نوجوان نے شیخ الاسلام سے سوال کر دیا:

’’آپ نے اہل تشیع کے ساتھ ’’اعلامیہ وحدت‘‘ کیوں کیا ہے جبکہ وہ پہلے تینوں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی خلافت کو نہیں مانتے، ان پر تنقید کرتے ہیں اور صرف حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی خلافت و ولایت کے قائل ہیں۔ ان کی اذان اور نماز مختلف ہے۔ گھوڑا نکالنا، ماتم کرنا اور اس طرح کی بہت سی چیزوں کو انہوں نے دینی رسوم میں داخل کر دیا ہے۔ ان کے کئی علما کی کتابوں میں متنازعہ اور کفریہ کلمات روایت ہوئے ہیں۔ سپاہ صحابہ انہیں کافر کہتی ہے۔ آپ بتائیں کہ آپ کے نزدیک شیعہ؛ مسلمان ہیں یا کافر؟‘‘

شیخ الاسلام کو اس وفد میں موجود نوجوانوں کے عقائد کا بالکل پتہ نہیں تھا کہ ان میں دو انتہائیں رکھنے والے عقائد کے حامل نوجوان موجود ہیں۔ اس سوال پر میں اس فکر میں مبتلا ہو گیا کہ اب اگر شیخ الاسلام نے شیعہ کو کافر یا غلط کہہ دیا تو شیعہ دوست ناراض ہوں گے اور اگر نہ کہا تو سپاہ صحابہ والے نوجوان نہ جانے کیا رد عمل دے دیں اور کہیں کوئی نا پسندیدہ صورتحال پیدا نہ ہو جائے۔ بہر حال شیخ الاسلام نے اس کا جو مفصل اور منطقی جواب دیا، اس نے صرف مجھے ہی نہیں بلکہ سب کو مسحور کر دیا۔ ہمیں اس مختصر سے وقت میں انتہائی سادہ طور سے اسلام، ایمان اور کفر کے تصور کی وہ علمی توجیح حاصل ہوئی جو ہمارے ہاں عمومی اور عملی طور پر مفقود ہے۔

شیخ الاسلام کی جدوجہد گواہ ہے کہ آپ نے نہ تو فکری سطح پر تکفیر و انتہا پسندی کو پنپنے دیا اور نہ ہی عملی میدان میں نوجوانوں کے جذبوں کو ’ردِ عمل کی سیاست‘ کی نذر ہونے دیا۔۔۔

ó شیخ الاسلام نے فرمایا:’’بیٹا! یہ تو بہت آسان اور سادہ سا معاملہ ہے۔ آپ ذہین نوجوان ہیں، اگر آپ گہرا مطالعہ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں گے تو خود بھی حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔

قرآن اور حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایمان یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے کہ صرف وہی خالق اور معبود حقیقی ہے۔ تمام انبیاء کی نبوت پر ایمان لایا جائے اور آپ ﷺ کو شارع اور خاتم النبیین مانا جائے۔ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لایا جائے اور آخری کتاب قرآن کے ایک ایک حرف اور بیان کو شک سے پاک، قیامت تک محفوظ، ایمان عقیدے اور عمل کی اساس مانا جائے۔ یوم آخرت، فرشتوں اور تقدیر پر ایمان رکھا جائے۔ ‘‘

ó شیخ الاسلام نے ارکانِ ایمان کے بارے میں واضح کرتے ہوئے فرمایا:

’’ یہ ارکان؛ ایمان کی بنیاد اور پیمانہ ہیں۔ اگر کوئی شخص عملی طور پر مذکورہ امور کی کلی یا جزوی نفی کر دے تو وہ عمل کفر ہو گا اور اگر وہ فرد یا گروہ مذکورہ امور کی کلی یا جزوی نفی کو عقیدہ بنا لے تو اسے کافر کہا جائے گا۔ اب آپ کسی بھی فرد یا گروہ کے عقیدے یا عمل کو اس پیمانے پر پرکھ کر دیکھ لیں، آپ خود نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ ‘‘

(2) کیا ہر گناہ، مکروہ اور حرام فعل پر کفر کا طلاق کیا جاسکتا ہے؟

شیخ الاسلام نے سوال کرنے والے ہمارے دوست کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: ’’ یہ جتنے امور آپ نے اپنے سوال میں بیان کیے ہیں یا ان جیسے اور بھی امور، اگر ان کا غیر جانبدارانہ علمی تجزیہ کیا جائے تو کوئی انہیں غیر ضروری، نا پسندیدہ، غلط، مکروہ، بدعت، گناہ حتی کہ حرام تو کہہ سکتا ہے لیکن ان پر کفر کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے علماء بھی انتہا پسندی اور تنگ نظری کا شکار ہیں۔ بات بات پر اور ہر طرح کے اختلاف پر بغیر کسی شرعی دلیل کے کفر کے فتویٰ صادر کر کے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے۔ ‘‘

شیخ الاسلام کے کلمات سے ہمیں اسلام، ایمان اور کفر کے تصورات کی وہ علمی توجیح حاصل ہوئی جو ہمارے ہاں عمومی اور عملی طور پر مفقود ہے۔۔۔

ó نماز، اذان اور دیگر معاملات کے باب میں وضاحت کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے کہا:

’’ اہل سنت اور اہل تشیع میں فقہی اختلاف ضرور ہیں مگر ایسا نہیں کہ ان کی نماز کو نماز ہی نہ مانا جائے جبکہ نیت اور قبلہ رو ہونے سے لے کر تکبیرِ تحریمہ قیام، رکوع، سجود، تشہد سمیت سبھی لوازماتِ نماز ان کی فقہ کے اعتبار سے ادا کئے جاتے ہیں۔ فقہی اختلاف تو اہل سنت کے چاروں ائمہ اور اہل سنت اور اہل حدیث میں بھی موجود ہیں۔ مسالک میں فقہی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو کافر قرار دینا انتہا پسندی، جہالت اور ظلم ہے۔ اسی طرح گھوڑا نکالنا، محرم کے جلوس منعقد کرنا، ماتم کرنا، یہ کسی کے نزدیک بدعت تو ہو سکتا ہے مگر اسے اور اس جیسے اور معاملات کی بنیاد پر کسی کو کافر ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

(3) فقہی اختلاف اور موافقت کی وضاحت

شیخ الاسلام نے فقہی اختلاف اور موافقت کے حوالے سے نہایت خوبصورت بات کرتے ہوئے فرمایا:

’’میرے نزدیک اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان دیگر مسالک کی نسبت سب سے زیادہ فقہی اختلاف ہے، لیکن یہ اختلاف بھی 10 فیصد سے کم ہے جبکہ 90 فیصد سے زائد معاملات میں ہمارے درمیان موافقت پائی جاتی ہے۔ یہ کیسی بد قسمتی اور ظلم ہے کہ ہم بہت قلیل سے اختلافی معاملات کی لکیر پیٹتے رہیں اور 90 فیصد سے زائد کثیر مشترکات کو فراموش کر دیں۔ دین اور امت کے احوال تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے اپنے عقائد پر رہتے ہوئے اختلافات کو زیر بحث لانے کی بجائے اتفاقات اور مشترکات کو فروغ دیا جائے۔ ‘‘

ó شیخ الاسلام نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ’’رہی بات خلافت کی تو وہ ایک انتظامی مسئلہ تھا جس پر ابتدا میں بعض صحابہ کی رائے میں بھی اختلاف رہا۔ یہ اجتماعیت کا فطری تقاضا ہے کہ انتظامی معاملات میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی انتظامی معاملہ کو کیسے کفر کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ معاملہ اسی دور میں حل ہو گیا تھا، لہذا اس پر اپنے مذہبی مباحث اور دینی نظریات استوار کرنا درست نہیں ہے۔ اگر کوئی اس دور کے تناظر میں علمی، انتظامی اور سیاسی بنیاد پر یہ نقطۂ نظر رکھے کہ پہلے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ہونا چاہئے تھا تو یہ ایک Academic Debate ہے جس میں نظری اختلاف کی بنیاد پر کفر کی بات کرنا جہالت ہے۔ اگر کوئی اس نظریہ کے ساتھ ساتھ کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پہلے خلیفہ ہونا چاہئے تھا، وہ صرف اہلِ بیت کی ہی مدح کرے اور دیگر خلفا کے بارے میں سکوت اختیار کرے تو امت کی وحدت کا عظیم مقصد تقاضا کرتا ہے کہ اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے ردعمل میں رواداری اور سکوت اختیار کیا جائے۔ کیونکہ اس اختلاف کو متشدد انداز سے 1400 سال سے نہ کوئی ختم کر سکا ہے اور نہ اس طور ختم کرسکے گا۔ ایسے معاملات کو ایمانیات سے جوڑنا غلط ہوگا۔ ایسے اور اسی طرح کے دیگر سب معاملات کی بنیاد پر کسی کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ‘‘

دلائل کی بنیاد پر اپنے منفرد اسلوب کے مطابق شیخ الاسلام نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

’’ان سب فقہی یا انتظامی معاملات میں آراءکے اختلافات کسی بھی صورت اللہ، انبیا، الہامی کتابوں یا باقی ارکان ایمان کی نفی پر دلالت نہیں کرتے۔ اس لئے انہیں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے لیکن کفر نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں! البتہ اگر کوئی انتہا پسند ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عصمت پر تہمت لگائے تو اس کا یہ عمل کفر ہوگا۔ اس لئے کہ اصول اور پیمانے پر پرکھا جائے تو یہ عمل ’’ایمان بالکتب‘‘ کی نفی ہوگا۔ اس لئے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود ام المومنین رضی اللہ عنہا کی عصمت و پاکیزگی کی گواہی دی ہے۔ پس ایسا تجاوز قرآن مجید پر ایمان کی نفی ہو گا۔ قرآن مجید کے کسی ایک حکم کی تکذیب’’ایمان بالکتب‘‘ کی نفی ہے اور یہ عمل کفر تصور کیا جائے گا۔ ‘‘

ó شیخ الاسلام نے یہ سوال؛ ’’شیعہ مسلمان ہیں یا نہیں؟‘‘ اس کے جواب میں فرمایا:

’’میرے نزدیک شیعہ مسلمان ہیں۔ اگر میں انہیں مسلمان نہ سمجھتا تو ’’اعلامیہ وحدت‘‘ کیوں کرتا۔ البتہ ایک نہایت قلیل انتہا پسند عدد بعض ایمانی معاملات میں تجاوز کرتا رہا ہے۔ بعض رافضی شدت پسندوں نے اپنی کتابوں میں متنازع تحریریں بھی رقم کی ہیں جو ناقابل ِقبول ہیں۔ اسی طرح کچھ ذاکرین جن کی دوکانداری ہی متنازع معاملات پر استوار رہی ہے، وہ زیادتی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔

اس باب میں یہ بات پیش نظر رہے کہ ایسے انتہا پسند افراد صرف شیعیت میں نہیں بلکہ ہر مسلک میں موجود رہے ہیں۔ ہر مسلک کے علما ءکی کتب سے انتہا پسندانہ، گستاخانہ اور متنازع تحریریں مل جائیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ متعلقہ مسالک کے زیادہ تر ماننے والے خود بھی ایسی متنازع تحریروں کو نہیں مانتے۔ مخالف مسالک کے مناظرین کسی ایک یا چند متشدد مصنفین کے متنازعہ بیانات کو پورے مسلک پر چسپاں کر کے ایک دوسرے کو گستاخ ِرسول، کافر اور مشرک بنانے پر کمر بستہ ہیں۔ اگر اس طرزِ عمل کو درست مان لیا جائے تو روئے زمین پر شاید ہی کوئی مسلمان باقی بچے۔ اس لئے میں چند یا بعض لوگوں کے تجاوز کی بنیاد پر مسلمانوں کے کسی مکمل مسلک کی تکفیر کے خلاف ہوں۔ یہ بھی مسلکی تعصب ہے کہ ہم دوسرے مکاتب ِفکر کے علما کی متنازع عبارتوں اور بیانات پر تو کفر کا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں لیکن اپنے مسالک کے معاملات پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔ ‘‘

اسلام کا داعی اور تحریک کا قائد ہونے کے ناطے مجھے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے کس عمل سے اسلام کو فائدہ ہو گا اور کیا عمل اسلام کے بارے میں برے تاثر اور نقصان کا سبب ہو سکتا ہے۔۔۔

ó شیخ الاسلام کی آواز میں امت کا درد اور وحدت کی فکر صاف جھلک رہی تھی۔ اسی درد اور فکر کے ساتھ انھوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

’’ایک اور بڑا ظلم یہ ہوا کہ علماء کے درمیان ہونے والی مباحث اور اختلافات کو جب عام افراد تک لے جایا گیا تو انتہا پسندانہ اور متعصبانہ روش نے علما کے اختلافات کو عام مسلمانوں میں تفرقہ کی بنیاد بنا دیا۔ متشددین نے اپنی فرقہ وارانہ دوکانداریاں چلانے کیلئے جذبات کی آگ کو بھڑکایا، اپنے متعلقین میں ہیجان پیدا کرنے کیلئے متنازعہ موضوعات، تحریروں اور بیانات کا سہارا لیا حتی کہ ان پر بہت سی کتابیں لکھ ماریں۔ اس طرزِ عمل سے تقسیم؛ گروہوں میں اور اختلافات ؛فرقہ واریت میں تو بدل سکتے ہیں مگر اس کا اصلاح اور خدمت ِدین سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘

ó شیخ الاسلام نے اعلامیہ وحدت پر ہونے والے اعتراض کے حوالے سے فرمایا:

’’ اعلامیہ وحدت پر بھی اسی طرح کے چند انتہا پسند عناصر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ فقط یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے شیعہ بھائیوں سے ’’اعلامیہ وحدت‘‘ کیا ہے۔ وہ اس اندھا دھند مخالفت میں شیعہ کو دیکھ رہے ہیں، یہ دیکھ ہی نہیں رہے کہ اعلامیہ وحدت ہے کیا؟ اعلامیہ وحدت میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر نے باہم انہی امور پر تو اتفاق کیا ہے جن کو منوانے کیلئے تشدد اور تکفیر کی آگ بھڑکائی گئی ہے۔ اعلامیہ وحدت میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر نے باہم اتفاق کیا ہے کہ’ اہل بیت اطہار، امہات المومنین، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سمیت تمام برگزیدہ ہستیوں کا احترام کیا جائے گا۔۔۔ ہر طرح کی فرقہ واریت کو مسترد کیا جائے گا۔۔۔ اختلافی معاملات کی بجائے مشترکات کو اجاگر کیا جائے گا۔۔۔ اور امت میں افتراق و انتشار کے رجحانات کے مقابلے میں وحدت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے گا۔ آپ وہ کام جو زمانوں سے شدت، گالی اور بندوق کے ذریعے سے نہیں کر سکے، اگر وہ سب کام مواخات اور محبت سے ہو رہا ہے تو یہ مقامِ اطمینان و مسرت ہونا چاہیئے نہ کہ اسے ایک نئی منفی مہم جوئی کی بنیاد بنا دیا جائے۔ ‘‘

شیخ الاسلام نے نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا اس مسئلہ پر آپ کی تشفی ہو گئی ہے یا اس معاملے پر مزید گفتگو کی جائے؟ سب نے اپنے کامل اطمینان کا اظہار کیا اور بات اگلے سوال کی طرف بڑھ گئی۔ اس نشست کے بعد ہمارے ہاسٹل کی سطح پر کم ازکم تمام مکاتب فکر سے متعلق نوجوانوں کے ہوتے ہوئے بھی اور سب مسلکی اور جماعتی تنوع کے باوجود مذہبی رواداری اور بھائی چارے کا قابلِ رشک ماحول رہا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اعتدال، حکمت اور رواداری عطا فرمائے اور امت میں خیر اور وحدت کا وسیلہ بنائے رکھے۔

2۔ لاشوں کی سیاست یا اسلام کے تشخص کی حفاظت؟

میری دوسری یادداشت کا تعلق تعلیمی اداروں میں پھیلی بارود کی بو اور اس کے مقابل امن کی خوشبو کے سفر سے ہے۔ 90ءکی دہائی کا وہ پُرآشوب عہد، جب تعلیمی درسگاہیں ’لاشوں کی سیاست‘ اور’قبضہ گروپوں‘ کے نرغے میں تھیں، مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ (MSM) کا قیام کسی آگ کے دریا کو پار کرنے جیسا کٹھن فیصلہ تھا۔ میرے ذہن کے دریچوں میں محفوظ یہ یادداشت ایک طرف طلبہ سیاست میں تشدد کے کلچر اور’جماعتی عصبیت‘کے مہلک زہر کو بے نقاب کرتی ہے تو دوسری طرف شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی اُس عالمی بصیرت کو بھی ظاہر کرتی ہے جس نے نائن الیون کے وقوع پذیر ہونے سے برسوں پہلے ہی اسلام کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں کو بھانپ لیا تھا۔

یہ محض ایک یادداشت نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری جہت ہے جس نے نوجوانوں کو’’انتقام کے جنون‘‘ سے نکال کر’’کردار کی شجاعت‘‘ اور’’ دین اسلام کی تعلیمات ِ امن و محبت کے داعی ‘‘ کے مقام پر لا کھڑا کیا۔ اس یادداشت کو احاطہ تحریر میں لانے کا میر اایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب قیادت کا وژن بلند ہو تو خون کی ندیاں بہانے کے بجائے دلوں کو فتح کرنے کے راستے کیسے روشن ہوتے ہیں۔ یہ یادداشت بھی شیخ الاسلام سے ایک نشست کے احوال پر مشتمل ہے مگر اس سے پہلے اس کا پسِ منظر جاننا ضروری ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

80 ءکی دہائی کے اواخر میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خاتمے کے بعد جب سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں تو ان سے وابستہ لیبر اور سٹوڈنٹس آرگنائیزیشنز پوری طاقت سے اداروں پر مسلط ہو گئیں۔ ان تنظیمات نے حقیقی طور پر مزدوروں اور طلبہ کے حقوق کیلئے جدوجہد کی بجائے تعلیمی اور سرکاری اداروں کو متعلقہ جماعتوں کے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ طلبہ تنظیمات میں نظریاتی ابلاغ کی بجائے تعصب، انتہاپسندی، تشدد اورتعلیمی اداروں پر قبضے کا کلچر عام تھا۔ ملک بھر کے تقریبا ہر تعلیمی ادارے پر کسی نہ کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی جماعت کی ذیلی طلبہ تنظیم کا قبضہ تھا۔ کسی طلبہ تنظیم کے قبضہ کا مطلب یہ تھا کہ اس مخصوص طلبہ تنظیم نے طاقت اور اسلحہ کے زور پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے اور کسی بھی دوسرے نظریہ کے حامل طلبہ کو اپنے اجتماعی تشخص کے اظہار اور اپنے نظریات کے ابلاغ کی اجازت نہیں۔ قابض طلبہ تنظیمات متعلقہ تعلیمی اداروں پر اپنے پرچم لہرانے اور دیواروں پر وال چاکنگ کے ذریعے اپنے قبضہ کا اظہار کرتیں۔ تعلیمی اداروں میں لاشوں کی سیاست غالب تھی۔ ہر سال کئی ہونہار نوجوان ان طلبہ تنظیمات کے مابین خونی تصادم میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔

ان حالات میں اکتوبر 1994ءمیں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سرپرستی اور ہدایات کی روشنی میں مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ(MSM) کا قیام عمل میں آیا تو ہمارے لئے تعلیمی اداروں میں دعوتی کام’’آگ کے دریا میں ڈوب کے جانے‘‘سے کم نہیں تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ ہمیں پیشگی ان مشکلات کا اندازہ نہ ہو لیکن حالات ہماری توقعات سے کہیں زیادہ دشوار اور کٹھن ثابت ہوئے۔ ملک بھر کے طول و عرض میں قدم قدم پر ہمیں خوف، تشدد، اغوا، دہشت گردی اور خونی حالات کا سامنا رہا۔ امن کا علم تھامے ہوئے ہم نے جہاں جہاں تعلیمی اداروں میں قدم رکھا، ہمارے طلبہ پر ان تعلیمی اداروں میں زندگی تنگ کر دی گئی۔ ہم نے جس بھی تعلیمی ادارے میں اپنی فکر کے فروغ کی کوشش کی، بلا تفریق تقریبا ہر جگہ سے متشدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

میں چند یا بعض لوگوں کے تجاوز کی بنیاد پر مسلمانوں کے کسی مسلک کی مکمل تکفیر کے خلاف ہوں۔ یہ بھی مسلکی تعصب ہے کہ ہم دوسرے مکاتب ِفکر کے علما کی متنازع عبارتوں اور بیانات پر تو کفر کا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں لیکن اپنے مسالک کے معاملات پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔۔۔

اس غیر موافق صورتحال میں تعلیمی اداروں میں رواداری کے قیام کیلئے ہم نے دیگر طلبہ تنظیمات کی مرکزی قیادتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ تعلیمی اداروں میں عدم ِتشدد اور رواداری کے قیام کی ان کوششوں کے نتیجے میں 1995ءمیں تمام طلبہ تنظیمات کے مابین نہ صرف بات چیت کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم’’متحدہ طلبہ محاذ‘‘ کے نام سے قائم ہوگیا بلکہ مجھے اس کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہ ہماری اتنی بڑی کامیابی تھی کہ ہم ایک ہی جست میں قومی سطح پر اپنے وجود اور عدمِ تشدد کے موقف کو منوانے میں کامیاب رہے۔ متحدہ طلبہ محاذ کی قیادت اور تحرک میں بنیادی کردار MSM کا ہی تھا۔ سو ہم نے اسے ایک مؤثر پلیٹ فارم میں ڈھالنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ متحدہ طلبہ محاذ کے قیام کے بعد ہمارے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا اور ہم حکمت کے ساتھ اپنے کام کو آگے بڑھاتے چلے گئے۔

مختلف تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ نے پنجاب یونیورسٹی میں بھی اپنی تنظیم بنائی۔ آغاز ہی میں ہمیں اس سلسلے میں خاطر خواہ کامیابیاں ملیں اور طلبہ کی کثیر تعداد ہماری طرف متوجہ ہوئی لیکن ہماری یہ کامیابیاں اور طلبہ میں نمایاں مقام حاصل کرنا معاصر طلبہ تنظیم کو ایک آنکھ نہ بھایا، نتیجتاً یہاں موومنٹ کے کارکنان کو اس طلبہ تنظیم کی طرف سے بہت زیادہ مزاحمت حتی کہ تشددکا بھی سامنا کرنا پڑا۔ میرے پاس اس وقت MSMکے مرکزی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری تھی مگر اس کے باوجود اس طلبہ تنظیم کے بدترین تشدد کا مجھے بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ اگر مرکزی قیادت محفوظ نہ تھی تو عام کارکن کو کن حالات کا سامنا ہو گا۔

اس طلبہ تنظیم کی ان پر تشدد کارروائیوں پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر وہ کون سے دلائل ہیں جس بناء پر میرے ہم مکتب اور کلمہ گو بھائیوں کو مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر اس طرح کا ظلم و تشدد کرنا پڑتا ہے؟ اس وقت مجھے فکری اور نظریاتی جدوجہد کے باب میں جماعتی عصبیت کے زہر کے اس حد تک ہلاکت خیز ہونے کا ادراک نہیں تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ حق اور خیر کیلئے کام کرنیوالےانتہا پسندی، عدم ِبرداشت اور تشدد کے رستے پر کیسے چل نکلتے ہیں؟ اپنے آپ کو حق پر سمجھنا درست ہے لیکن صرف اپنے آپ کو ہی حق پر سمجھنا تعصب اور خارجیت ہے۔ یہ تقسیم اور فرقہ واریت کی بنیاد ہے۔ میں حیران تھا کہ وہ جماعتیں، تحریکیں یا تنظیمیں جن کی پہچان ہی دین ہے، وہ کس طرح عدمِ رواداری پر مشتمل انتہا پسندانہ اور متشدد رویے اپنا لیتی ہیں؟

بعد ازاں یہ حقیقت پوری گہرائی کے ساتھ آشکار ہوئی کہ ہمارے اجتماعی زوال میں جو کردار نسلی، لسانی، مسلکی، مذہبی اور گروہی عصبیت نے ادا کیا ہے، وہ کردار کبھی کوئی بیرونی دشمن بھی ادا نہیں کر سکا۔ اس لئے بیرونی دشمن نے ہمیشہ گروہی عصبیت کو ہوا دے کر امت میں تقسیم اور تفریق کے مہلک ہتھیار کا سب سے زیادہ اور مؤثر استعمال کیا ہے۔

جماعتی اور گروہی عصبیت کیا ہے؟ یاد رکھیں! جب بھی کوئی جماعت، تنظیم یا تحریک ، اپنی جیسی کسی دوسری جماعت کو خیر اور بھلائی کا کام کرتے دیکھتی ہے، یعنی جس خیر کا عامل کوئی دوسرا گروہ ہو تو ان سے وہ دوسرا برداشت نہیں ہوتااور نہ وہ خیر قابلِ قبول ہوتی ہے۔ یہی جماعتی عصبیت ہے جس میں آج اسلام اور خیر کی نام لیوا الاماشااللہ تقریبا سب ہی جماعتیں مبتلا ہیں۔

تعصب حق سے انحراف کا رستہ ہے۔ اسی تعصب نے ہماری یکجہتی پارہ پارہ کر دی ہے۔ ہم ایک قوم بننے کی بجائے بہت سے غیر مؤثر اور متصادم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ کاش ہم باہم متصادم ہونے کی بجائے خیر کے کاموں میں ایک دوسرے کے معاون ہوں۔۔۔ کیا یہ اچھا نہ ہوتا ہم ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کی بجائے اسلام اور پاکستان مخالف قوتوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے معاون ہوتے۔۔۔ اپنے اجتماعی تشخصات قائم رکھتے ہوئے کچھ معاملات پر تو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔۔۔ کیا دہریت اور لادینیت ہمارا مشترکہ چیلنج نہیں تھے۔۔۔؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ ہم مل کر خدا کے وجود اور دین کا انکار کرنیوالے طلبہ و طالبات کو خدا اور اسلام کی طرف واپس لاتے۔۔۔؟ کیا ہم سب اسلامی تشخص رکھنے والے جملہ معاملات پر اخلاص کے ساتھ اشتراک عمل نہیں کر سکتے تھے۔۔۔؟ اگر ہم خیر کے کاموں میں قرآنی حکم کے تحت ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہوتے اور تعلیمی اداروں میں مواخات کا رنگ نظر آتا تو کیا ہم دین سے فکری یا عملی طور پر دور ہو جانے والے طلبہ و طالبات کی دین سے قربت کا سبب نہ بنتے۔۔۔؟ کیا اس طرح ہم زیادہ تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب نہ ہو جاتے۔۔۔؟ افسوس کہ ہم خود اپنے رستے کی دیوار تھے اور دیوار ہیں۔

یہ تعصب ہی تھا، جس کا شکار مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کی قیادت اور کارکنان بن رہے تھے۔ مجھ پر اور MSM کے دیگر طلبہ پر بہیمانہ ظلم و ستم کی اطلاع جب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو دی گئی تو یہ تفصیلات سنتے ہوئے شیخ الاسلام کے چہرے سے حیرت، پریشانی، غصہ اور تکلیف کے تاثرات نمایاں تھے۔

شیخ الاسلام نے ہم سے پوچھا: ’’ بیٹا! آپ لوگ اس صورتحال میں کیا سوچتے ہیں۔۔۔؟ ‘‘مرکزی صدر MSM برادرم محمد حنیف مصطفوی نے کہا: ’’ ہم آپ سے صرف بدلے کی اجازت لینے آئے ہیں۔ ہمیں بزدلی اوربے توقیری برداشت نہیں۔ ہمیں آپ سے نہ اسلحہ چاہئے اور نہ مالی مدد۔ ہم اسباب خود پیدا کرلیں گے۔ آپ فقط ہمیں اجازت دیں، پھر آپ دیکھیں کہ آپ کے بیٹے کس شجاعت اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دنیا دیکھے گی کہ ہماری نہتی پرامن اور صلح جو قیادت اور کارکنان پر ظلم کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ اس میں ہماری جانیں بھی جا سکتی ہیں۔ اگر اس ٹکراؤ میں ہم مارے بھی گئے تو ہمیں اپنی جانوں کی کوئی پروا نہیں۔ ‘‘

اگر آج ہمارے ہاتھ اپنے کلمہ گو بھائیوں کے خون سے سرخ نہیں تو یہ ہم پر اور قوم پرشیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا احسان ہے۔ وہ چاہتے تو اس صورتحال کو کوئی بھی رخ دے سکتے تھے۔۔۔

شیخ الاسلام نے مجھ سے پوچھا:’’بیٹا آپ کیا کہتے ہیں۔۔۔؟ ‘‘میں نے عرض کیا: میں نہیں چاہتا کہ میری ذات دو کلمہ گو گروہوں کے درمیان تصادم اور جنگ و جدال کا حوالہ بنے۔ مزید آپ جو رہنمائی فرمائیں۔

(1) ردِعمل میں اسلام کا اجتماعی تشخص پیشِ نظر رہے

شیخ الاسلام نے محبت اور شفقت سے میرا ماتھا چوما اور پھر آپ نے جو فرمایا، وہ امن و محبت اور پیغام ِ اعتدال و رواداری پر مبنی آپ کی تعلیمات کا اظہار ہے۔

ó آپ نے فرمایا:’’میری دو حیثیتیں ہیں: ایک میں آپ کا باپ ہوں۔ بطور باپ یہ سب دیکھ کر میرا سینہ جل رہا ہے۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ اپنے بیٹے کے ساتھ ہونیوالے اس ظلم کا ایسا بھر پور بدلہ لیا جائے کہ آئندہ کوئی ایسا ظلم کرتے ہوئے ہزار بار سوچے۔

میں دوسری حیثیت میں دنیا بھر میں اسلامی دعوت کے فروغ کی ایک بڑی اجتماعیت کا بانی اورسربراہ ہوں۔ اسلام کا داعی اور تحریک کا قائد ہونے کے ناطے مجھے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے کس عمل سے اسلام اور ہماری جدوجہد کو فائدہ ہو گا اور کیا عمل ہمارے کام اور تاثر کے لئے نقصان کا سبب ہو سکتا ہے۔

اس وقت مغربی دنیا اسلام پر بنیاد پرستی کا لیبل لگا کر اسلام کو outdated اور مستقبل کی دنیا کیلئے خطرے کے طور پر پیش کررہی ہے۔ میری نظر دیکھ رہی ہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں دنیا بھر میں مسلمانوں کو شدت پسندی اور تشدد سے جوڑا جا ئے گا۔ آنے والا وقت اسلامی دعوت اور شناخت کیلئے بہت کٹھن ہونے والا ہے۔ مسلمانوں کو جاہل اور جارح کہہ کر دراصل قران اور حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات اور تشخص کے خلاف سازش تیار کی جا رہی ہے۔ ہماری کسی بھی قسم کی جارحیت؛ چاہے ہمارے پاس اس کا جیسا بھی جواز ہو، دراصل اسلام کو متشدد ثابت کرنے والوں کیلئے ایک حوالہ اور دلیل شمار ہوگی۔ چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف ہونے والی سب سازشوں سے بڑی سازش کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ اسلام کو امن ِعالم کیلئے خطرہ دکھا کر پوری دنیا کو اسلام سے متصادم کیا جائے گا۔ ہمارا طرزِ عمل اسلام کے امن اور رواداری پر مشتمل تاثر کے فروغ پر استوار ہونا چاہیئے۔ ‘‘

ó شیخ الاسلام نے MSM کے کارکنان پر ہونے والے مظالم پر ردعمل دینے کے حوالے سے رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:

اگر کوئی چھوٹا موٹا معاملہ ہوتا تو میں اس کی اجازت دے بھی دیتا لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کہ ردعمل میں اٹھائے گئے یہ قدم دونوں اطراف سے بیسیوں زندگیوں کے خاتمہ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاسی اور مذہبی جماعتیں لاشوں کی سیاست کر رہی ہیں۔ اگر میں پاکستان کے روایتی رہنماؤں کی طرح ہوتا تو مجھے آپ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے تھی اور آپ کو اسلحہ دینا چاہیئے تھا۔ آپ لڑتے مرتے اور ہم دیگر جماعتوں کی طرح اپنے نوجوانوں کی لاشوں پر سیاست کی دکان چمکاتے لیکن میرا ایمان، ضمیر اور فہم مجھے اس کی اجازت نہیں دیتے۔

بیٹا! اگر اس ردعمل کا نتیجہ باہمی لڑائی اور تشدد ہے تو یہ آج اسلام کے خلاف ہونے والی ریشہ دوانیوں کا حصہ بننے جیسا ہے۔ ہمیں اسلام کا داعی بننا ہے تو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف ہو نے والی سازشوں اور مصطفوی انقلاب کے عظیم مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ ہمارا عمل دوسروں کے عمل کے ردعمل میں نہیں بلکہ اپنے کردار، اصولوں اور مقاصد کے تناظر میں متعین ہونا چاہئے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی سیرت سے ہمیں یہی درس ملتا ہے۔ میرے بیٹو! میں آپ کا حوصلہ، جرأت اور غیرت دیکھ کر آپ پر فخر کرتا ہوں، آپ سے بے حد خوش ہوں لیکن میں آپ کو کسی بھی قیمت پر اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ‘‘

(2) پرتشدد ردِعمل کی وجوہات اور نقصانات

شیخ الاسلام نے بات کو جاری رکھتے ہوئےپرتشدد ردعمل کی وجوہات اور تشدد کی پالیسی اختیار کرنے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’ردعمل بہت حساس محرک ہے۔ اکثر اوقات ردعمل میں تجاوز ہو جاتا ہے۔ عدم ِبرداشت، عدم ِرواداری، انتہا پسندی، قبضہ، اسلحہ اور تشدد میں مبتلا کئی افراد اور جماعتیں ہمیشہ سے ایسے نہیں ہوتیں بلکہ اکثر اوقات ہر گروہ کے پاس اپنے ردعمل کا جواز ہوتا ہے۔ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے ردعمل میں اپنے تحفظ کے نام پر اسلحہ اٹھا لیتے ہیں اور انھیں سمجھ ہی نہیں آتی کہ وہ کب ’’تحفظ‘‘ سے ’’تسلط‘‘ کی طرف تجاوز کر گئے۔ اس لئے ردعمل دینے میں ہمیشہ احتیاط اور دور اندیشی ملحوظِ خاطر رہنی چاہیئے اور یہ احتیاط اس وقت مزید ضروری ہو جاتی ہے جب ردعمل دینے والے مذہبی تشخص کے حامل ہوں۔ اس لیے کہ جب میں عالمی سطح پر اسلام کے خلاف تیاریوں کو دیکھتا ہوں تو اسلام کے سفیر اور داعی کے طور پر مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ہر طرح کے تشدد اور تصادم سے احتراز برتنا ہو گا۔ ورنہ ہمارا پرتشدد ردِعمل اور طرزِ عمل ہمارے اور اسلام کے اجتماعی تشخص کو داغدار کر دے گا۔ ‘‘

ماحصل

ہم شیخ الاسلام سے اس قدر جامع رہنمائی اور دعائیں لے کر رخصت ہوئے۔ اس ملاقات میں شیخ الاسلام نے میری طرف متوجہ ہو کر جو کچھ فرمایا، وہ ایک نو عمر کارکن کیلئے دنیا کا سب سے بڑا تمغہ ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ اس رات دو منظم مذہبی جماعتوں کے درمیان طویل خونی تصادم کے راستے میں شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری آگئے۔ اگر آج ہمارے ہاتھ اپنے کلمہ گو بھائیوں کے خون سے سرخ نہیں تو یہ ہم پر اور قوم پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا احسان ہے۔ وہ چاہتے تو اس صورتحال کو کوئی بھی رخ دے سکتے تھے۔

آج جب میں اپنی ڈائری میں درج ان یادداشتوں پر ایک نگاہ ڈالتا ہوں تو حیرت و تعجب میں گم ہو جاتا ہوں کہ شیخ الاسلام نے یہ باتیں نائن الیون (11/9) سے پانچ چھ سال پہلے فرمائی تھیں حالانکہ اس وقت مسلم دنیا ایسے کسی بھی چیلنج سے نا آشنا تھی۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی اور دہشتگردی کے الزام کو ایک عالمی پالیسی کا درجہ دے دیا گیا۔ شیخ الاسلام کی ہمارے ساتھ ہونے والی یہ تفصیلی گفتگو بعد میں ظاہر ہونے والی تمام سازشوں کے قبل از وقت ادراک اور تدارک پر مشتمل تھی۔ اس وقت چونکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر اسلام کے خلاف ہونے والی عالمی جنگ کا دور دور تک نام و نشان تک نہیں تھا، اس لئے شیخ الاسلام کی بہت سی باتوں کی حقیقت بہت سال بعد آشکار ہوئی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے علم، حکمت اور وژن کا انکار حسد اور تعصب ہوگا۔

محترم قارئین! یہ دونوں یادداشتیں محض گزرے ہوئے واقعات کی بازگشت نہیں بلکہ اس فکری انقلاب کا تسلسل ہیں جس کا آغاز شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 45 سال قبل کیا تھا۔ یہ دونوں یادداشتیں اس حقیقت کا زندہ جاوید ثبوت ہیں کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک عہد ساز فکر اور عالمگیر تحریک کا نام ہے۔ ان کی زندگی کا ہر ورق گواہ ہے کہ جب بھی امت پر کڑا وقت آیا یا کسی فتنہ نے سر اٹھایا یا فرقہ وارانہ جنونیت نے امت کے وجود کو لہولہان کیا، آپ نے امن، محبت اور اعتدال کی وہ شمع روشن کی جس کی لو آج پوری دنیا کو منور کر رہی ہے۔ شیخ الاسلام نے ہر موڑ پر امت کی رہنمائی ایک ایسے حکیمِ وقت کے طور پر کی جس کی نظر حال کے ہنگاموں سے کہیں آگے مستقبل کے چیلنجز پر جمی ہوتی ہے۔ ان کی جدوجہد گواہ ہے کہ انہوں نے نہ تو فکری سطح پر تکفیر و انتہا پسندی کو پنپنے دیا اور نہ ہی عملی میدان میں نوجوانوں کے جذبوں کو ’ردِ عمل کی سیاست‘ کی نذر ہونے دیا بلکہ نوجوانوں کے ہاتھوں سے ’بارود اور تعصب‘ چھین کر انہیں’علم اور رواداری‘ کے زیور سے آراستہ کیا۔

اگر میں پاکستان کے روایتی رہنماؤں کی طرح ہوتا تو مجھے آپ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے تھی اور آپ کو اسلحہ دینا چاہیئے تھا۔ آپ لڑتے مرتے اور ہم دیگر جماعتوں کی طرح اپنے نوجوانوں کی لاشوں پر سیاست کی دکان چمکاتے لیکن میرا ایمان، ضمیر اور فہم مجھے اس کی اجازت نہیں دیتے

آج ان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ فکری پختگی اور عملی حکمت کا جو حسین امتزاج ہمیں ان کی شخصیت میں ملتا ہے، وہی ہمارے ہر بحران کا حل ہے۔ ان کی فکر کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ اسلام کا حقیقی چہرہ’امن، رواداری اور علمی برتری‘ہے۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں منہاج القرآن اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی اعتدال، رواداری، مواخات اور خیر پر مبنی حقیقی تعلیمات و فکر کے سچے داعی بن کر اس مصطفوی مشن میں ان کا دست و بازو بننے کی توفیق عطا فرمائے، شیخ الاسلام کے سایۂ عاطفت کو صحت و سلامتی کے ساتھ تادیر ہم پر قائم و دائم رکھے اور انھیں عمرِ خضر عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ ۔