شیخ الاسلام کی عالمگیر دینی خدمات، فکر اور شخصیت پر عربی زبان میں منظوم خراجِ عقیدت

ڈاکٹر حسن محی الدین قادری

آپ کے دستِ ہنر میں ہے مجدد کا کمال
آپ کے کاندھوں نے اٹھایا بارِ ماضی وحال

مجددِ رواں صدی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں بہارِ زیست کی تقریبِ سعید کی مناسبت سے 75 اَشعار پر مشتمل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کے قلم سے نکلا ہوا شاہ کار عربی قصیدہ منظوم اُردو ترجمہ کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے:

1. اَلْعِلْمُ نُوْرٌ سَاطِعٌ يَمْحُو الظَّلَامْ
فِي شَيْخِ الْإِسْلَامِ الْمُنِيْرِ عَلَى الْأَنَامْ

علم روشن نور ہے جو مٹا دے تیرگی
شیخ الاسلام ہیں اسی کی جگمگاتی روشنی

2. جَمَعَ الْفُنُوْنَ قَدِيْمَهَا وَجَدِيْدَهَا
أَهْدَى الْقُلُوبَ مَعَارِفَ الْقَوْمِ الْكِرَامْ

یکجا کیا علومِ جدید و قدیم کو
موڑا دلوں کو منزل رہِ مستقیم کو

3. قَدْ كَانَ كَالطَّبَرِيِّ فِي تَفْسِيرِهِ
بَلْ كَانَ كَابْنِ كَثِيرٍ الْبَرِّ الْإِمَامْ

وہ ہیں تفسیر میں امام طبری کی طرح
اور ہیں ابن کثیر کی بزرگی و نیکی کی طرح

4. يَا شَيْخَ ‹‹فَاتِحَةِ الْكِتَابِ›› هُدَاكَ فِي
‹‹إِيَّاكَ نَعْبُدُ›› مَطْلَعُ الْبَدْرِ التَّمَامْ

آپ سورہ فاتحہ کے اسرار کے عقدہ کشا
اس کی گہرائی کو کھولے آپ کی فکرِ رسا

5. أَنْتَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي الْحَدِيثِ بِمُسْنَدٍ
كَالدَّارَقُطْنِيِّ الْمُقَدَّمِ فِي الْعِظَامْ

آپ علم حدیث میں امام احمد کی مثال
اور بزرگی میں ہیں دارقطنی کا جمال

6. وَشَرَحْتَ سُنَّةَ أَحْمَدَ كَمُجَدِّدٍ
فَكَشَفْتَ عَنْ رُوحِ الْأَحَادِيْثِ اللِّثَامْ

شرحِ قول احمدؐ کی مجدد کی طرح
آپ کے کشاف سے ہر اک معانی کھل گیا

7. وَغَدَوْتَ رَازِيًّا وَسُبْكِيًّا لَنَا
لَكَ فِي أُصُولِ الدِّيْنِ مَحْمُوْدُ الْمَقَامْ

آپ رازی اور سبکی کی طرح سے بے مثال
اور فہم اصول دین میں بھی باکمال

8. تَحْكِي دَلَائِلَ مَنْطِقٍ وَبَيَانَهُ
وَتُقِيمُ بُرْهَانًا بِمُخْتَصَرِ الْكَلَامْ

ہے دلائل سے مزین حرف منطق کا بیان
جس میں اختصار کی مضبوطی سے پڑ جاتی ہے جان

9. يَا صِنْوَ مُحْيِي الدِّينِ أَنْتَ جُنَيْدُنَا
بِتَصَوُّفٍ وَبِقَلْبٍ صَبٍّ مُسْتَهَامْ

اے جنید بغدادی اور ابن العربی کے قمر
آپ عشق و تصوف والے دل سے بہرہ ور

10. تَرْقَى بِأَرْوَاحِ الْمُرِيْدِيْنَ السَّمَا
قَوْلًا وَفِعْلًا بِاخْتِلَاجَاتِ الْغَرَامْ

آپ ارواحِ مریداں کو لیے جائیں سوئے فلک
اور بھریں قول و عمل میں حُبّ الہٰی کی چمک

11. أَبْشِرْ سُيُوطِيَّ الْمِدَادِ فَكُتْبُكُمْ
زَادَتْ عَلَى أَلْفٍ وَمَاضٍ لِلْأَمَامْ

اے سیوطی باعثِ فرحت ہے یہ روانی آپ کی
اِک ہزار سے زائد کتب ہیں ضَوفشانی آپ کی

12. فَكَأَنَّكَ الْجَوْزِيُّ فِي تَصْنِيْفِهِ
يَرْنُوْ لَهُ الْعُلَمَا كَمَا يَرْنُو الْعَوَامْ

کثرتِ تالیف میں ہیں ابن جوزی کی جھلک
دیکھتے ہیں سارے اس کی روشنی اس کی دمک

13. وَتَأَلَّقَ ‹‹الْفَتْحُ الْكَبِيرُ›› كَمَا بَدَتْ
فِي مَشْرِقِ ‹‹الْأَنْوَارِ›› رَايَاتُ السَّلَامْ

مہر کی طرح چمک اٹھی ہے یوں ’فتح الکبیر‘
کھینچ دی ’اَنوار‘ نے لہلہلاتے پرچم کی لکیر

14. وَبِـ:‹‹الرَّوْضِ الْبَاسِمِ›› الْمُنِيفِ زَهَتْ بِنَا
أَخْلَاقُ أَحْمَدَ فِي تَبَاشِيْرِ الْوِئَامْ

’’روضِ باسم‘‘ نے کیا ہے یوں ہمیں آراستہ
خلق احمد کی طرح یہ ہر دم ہے مرہم ساختہ

15. وَبِصَوْتِكَ الصَّدَّاحِ تَخْطُبُ خُطْبَةً
تُحْيِي الْقُلُوبَ مُبَلْسِمًا كُلَّ السَّقَامْ

آپ کے خطبے میں ہے ایسی بلندی کا سراغ
زندہ کر دے جو دلوں کو اور بیماری سے دے فراغ

16. كَالْأَشْعَرِيِّ نَرَاكَ وَالنَّوَوِيِّ فِي
وَعْظٍ وَإِرْشَادٍ وَلَا تَخْشَى الْمَلَامْ

’اشعری‘ کی اور ’نووی‘ کی جھلک ہے آپ میں
وعظ کرنے میں کہاں خوف و جھجھک ہے آپ میں

17. هَا أَنْتَ رَبَّيْتَ الْأُلُوفَ وَقَدْ أَبَوْا
إِلَّاكَ فَانْسَابُوا إِلَيْكَ عَلَى الدَّوَامْ

آپ نے انکار کرنے والوں کی بھی کی ہے تربیت
آپ کی جانب ہوئی ان سب کی مراجعت

18. تَبْنِي عَلَى أَطْلَالِنَا نُوْرَ الْهُدَى
فَالْعَهْدُ فِي الْأَجْيَالِ مَعْقُوْدُ الزِّمَامْ

آپ نے کھنڈرات پر نورِ ہدایت کردیا تعمیر
نسلوں کو عہد وفا سے کردیا روشن ضمیر

19. لِقِيَادَةٍ تَنْقَادُ لِابْنِ فَرِيدِهَا
كَالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَمَا فِيْهَا انْفِصَامْ

خم سرِ تسلیم تیرے سامنے ہیں ’ابن فرید‘
یہ لڑی مضبوط ہے جس میں نہیں قطع و برید

20. شَيَّدْتَ صَرْحَ الْعِزِّ وَالْأَمْجَادِ فِي
زَمَنِ التَّخَلِّي وَالْخَطَايَا وَاللِّئَامْ

آپ نے عزو شرف کا بول بالا کردیا
ایسے دورِ پُرفتن کو آگہی سے بھر دیا

21. تِسْعُوْنَ شَعْبًا أَوْ يَزِيْدُ رَفَعْتَ عَلَمَ
‹‹مِنْهَاجِ الْقُرْآنِ›› إِلَى فَوْقِ الْغَمَامْ

مشرق و مغرب میں گونجی ہیں صدائیں آپ کی
چل رہی ہیں آسمانوں پر ہوائیں آپ کی

22. وَالْجَامِعَاتِ أَقَمْتَ تَخْتَرِقُ السَّمَا
حَتَّى غَدَتْ عَلَمًا بِمُنْتَصَفِ الْوِسَامْ

کھل گئے ابواب علم آپ کے فیضان سے
روشنی پھیلی جہاں میں آپ کے عرفان سے

23. يَا مُصْلِحًا كَالْآمِدِيِّ وَقَاضِيًا
بِالْعَدْلِ فِي إِحْكَامِ أَحْكَامٍ جِسَامْ

آمدی سی آپ کے انصاف کی پہچان ہے
آپ کو پیچیدہ مسائل کا بہت عرفان ہے

24. بُرْهَانُكَ الصَّافِي بِأَخْلَاقٍ رَوَى
مَنْ كَانَ قَبْلَكَ عَنْ مِيَاهِكَ فِي صِيَامْ

آپ نے اخلاق کی قوت سے قائم کی دلیل
اور فیض علم سے کی رہنمائی کی سبیل

25. أَخْلَاقُكَ الزَّهْرَاءُ حِلْمٌ رَحْمَةٌ
وَسَمَاحَةٌ مِنْ دُونِ غِلٍّ وَانْتِقَامْ

آپ شاہِ دوجہاںؐ کے خُلق سے ہیں فیض یاب
اور سخاوت میں انھی کے لطف سے ہیں کامیاب

26. وَفِرَاسَةٌ تُهْدِيْكَ نُورًا بَاهِرًا
جَلَّى بِفَضْلِ اللَّهِ دَرْبَكَ يَا إِمَامْ

آپ اک فہم و فراست میں چمکتا نور ہیں
آپ کے رستے خدا کے فضل سے معمور ہیں

27. وَبِقَوْلِكَ التَّجْدِيدُ يَشْمَخُ قَلْعَةً
مِنْ بَعْدِ مَا هُدَّتْ وَكَانَتْ كَالرُّكَامْ

ہو گئی تجدید ارفع آپ کے اقوال سے
وہ زمیں سے اٹھ پڑی پھر آپ کے افعال سے

28. فَلَأَنْتَ مِسْكُ خِتَامِ أَزمَانٍ خَلَتْ
كَانَتْ بِأَفْذَاذِ الرِّجَالِ لَهَا قِيَامْ

عہد رفتہ کی مہکتی آپ میں مہکار ہے
اور بزرگوں کے عمل کا آپ میں اظہار ہے

29. بِإِدَارَةٍ وَبَصِيرَةٍ أَحْكَامُكُمْ
فِيهِنَّ إِرْشَادٌ وَوَعْيٌ وَانْتِظَامْ

دور اندیشی کا مظہر فیصلے ہیں آپ کے
ہر جہت سے خوب و بہتر فیصلے ہیں آپ کے

30. وَيَزِيْنُهَا مِيزَانُ عَدْلٍ ثَاقِبٍ
مَا فِيهِ ظُلْمٌ أَوْ نِفَاقٌ أَوْ حَرَامْ

عدل کے میزان کی آپ کو زیبائی ملی
اور اسی سے ہر نفاق و ظلم کو رسوائی ملی

31. وَالْأُمَّةُ الْغَرَّاءُ كُنْتَ مَلَاذَهَا
لَمَّا إِلَيْهَا قَدْ تَوَجَّهَتِ السِّهَامْ

آپ ہی اس قوم کے واسطے ٹھہرے پناہ
تیر پھینکے جا رہی تھیں جب ان پر سپاہ

32. تَبْنِي الْمَرَاكِزَ تُوقِظُ الْوَعْيَ الَّذِي
قَدْ كَانَ قَبْلَكَ رَهْنَ أَحْلَامِ النِّيَامْ

آپ نے اپنے مراکز سے دیا ایسا شعور
خانقاہوں میں بھی جو دِکھتا نہیں تھا دور دور

33. فَإِذَا تَكَلَّمْتَ الْقُلُوبُ تَنَسَّمَتْ
فالْحُكْمُ مِنْكَ مُبَيَّنُ الْبُرْهَانِ تَامْ

گفتگو سے آپ کی مہک اٹھتے ہیں دل
فیصلوں کی روشنائی سے چمک اٹھتے ہیں دل

34. تَصْبُو لِخُطْبَتِكَ الْجَمَاهِيْرُ الَّتِي
مِنْكَ اغْتَنَتْ ذَهَبُ الْخَطَابَةِ فِيْكَ خَامْ

آپ کے حسن خطابت کے بھی وارفتہ ہیں لوگ
اور سونے کی طرح اس سے وابستہ ہیں لوگ

35. وَمُؤَلَّفَاتُكَ مَكْتَبَاتٌ قَدْ غَدَتْ
يَسْعَى لَهَا كُلُّ الْبَرَايَا فِي زِحَامْ

اک کتب خانے کی صورت ہیں کتابیں آپ کی
خلق جس کی سمت لپکی آتی ہے دوڑی ہوئی

36. نَهْجٌ بُخَارِيٌّ وَعَينِيٌّ بِهَا
مُسْتَحْسَنَاتٌ فِي الْمَعَانِي وَالْقَوَامْ

گویا منہج میں بخاری اور عینی کا ہے رنگ
حرف و معنیٰ میں سمائی ہے محبت کی ترنگ

37. تَجْدِيدُكَ الْغَرَسَاتِ أَوْجَدَ مَوْئِلًا
فَنَجَى مُرِيْدٌ بِاتِّبَاعٍ وَاعْتِصَامْ

بن گئے مثل شجر جو کہ تھے مثلِ نبات
پیروی کرنے سے شاگردومرید پائیں نجات

38. هَذَا وَأَصْنَامُ الْعُقُولِ تَحَطَّمَتْ
وَبِصَوْتِكَ الْبَتَّارِ كَانَ لَهَا انْهِدَامْ

کج روی کے بت جو تھے ریزہ ریزہ ہوگئے
آپ کی آواز کی ہیبت سے شکستہ ہوگئے

39. كَالْمَاتُرِيْدِيِّ الْمُجَدِّدِ فِطْنَةً
مُتَحَمِّلًا مَا كَانَ يَحْمِلُ مِنْ مَهَامْ

آپ کے دستِ ہنر میں ہے مجدد کا کمال
آپ کے کاندھوں نے اٹھایا بارِ ماضی و حال

40. تُحْيِي طَرِيقَ الشَّافِعِيِّ مُدَافِعًا
عَنْ فِقْهِهِ الْمَأْثُوْرِ كَالْبَطَلِ الْهُمَامْ

آپ نے شافعی کے فقہ کو زندہ کر دیا
ماثور فقہ کو اپنی ہمت سے تابندہ کر دیا

41. وَمُعَلِّمًا أَتْبَاعَ جِيْلَانِيَّةٍ
نَهْجََ التَّزَهُّدِ بِالزَّخَارِفِ وَالْحُطَامْ

قادریوں کو تعلیم دینے والے ہیں آپ
تج کے دنیا زہد کے رکھوالے ہیں آپ

42.  تَسْقِي الْقُلُوبَ زُلَالَ ذِكْرٍ خَاشِعٍ
فَيَصِيْرُ كَالطِّفْلِ الَّذِي أَنِفَ الْفِطَامْ

دل میں ذکر و یاد کا بھرتے ہیں پیار
ترکِ شیر جیسےطفل کم سن کو ہو ناگوار

43. وَلَأَنْتَ فِي الْأَخْلَاقِ دَرْبُ صَحَابَةٍ
فَلِدَرْبِكَ الْمَشْهُوْدِ بِالصَّحْبِ الْتِئَامْ

آپ کے اخلاق ہیں نقشِ قدم اصحاب کے
آپ کی مشھود رہ میں اتحاد ہیں احباب کے

44. رَبَّيْتَ إِيْمَانًا بِنَهْجِكَ مُشْرِقًا
أَرْوَيْتَنَا مِنْ مَاءِ عَدْلِكَ كَالْغَمَامْ

اپنی روشن راہ سے کی پرورش ایمان کی
اور برسائی ہے بارش عدل کے اوزان کی

45. شَيَّدْتَ أَفْئِدَةً بِحِكْمَةِ وَاعِظٍ
آنَسْتَهُنَّ وَكُنْتَ غُصْنًا لِلْيَمَامْ

وعظ کی حکمت سے آباد فرمائے ہیں دل
ان کی ویرانی کو حق کے ساتھ کر دیا شاغل

46. عَنْ زُخْرُفِ الدُّنْيَا امْتَنَعْتَ تَزَهُّدًا
مَا نَفْعُ زُخْرُفِهَا غَدًا يَوْمَ الزِّحَامْ

تاج پہنا زہد کا دنیا کو رکھا ہے پرے
کھوٹے سکے کب بھلا ہوں بعد مرنے کے کھرے

47. فَإِذَا رَأَيْتَ الْفَقْرَ جُدْتَ مُبَادِرًا
لِلْبَائِسِينَ وَمَا تَرَكْتَ سِوَى الْإِدَامْ

دیکھ کر محتاجوں کو بڑھا دیتے ہیں دستِ سخا
ہاتھ رکتے ہی نہیں بس کرتے جاتے ہیں عطا

48. فَغَدَوْتَ حَقْلًا لِلْجِيَاعِ وَكَوْثَرًا
تَرْوِي الْعِطَاشَ مِنَ الْيَتِيْمِ أَوِ الْغُلَامْ

تشنگی اور بھوک کو یکسر مٹا کے رکھ دیا
ہاتھ پیاسوں اور یتیموں کے سروں پر رکھ دیا

49. تَكْفِي الْأَرَامِلَ قَبْلَ نَفْسِكَ مُؤْثِرًا
وَكَأَنَّمَا تُعْطِي مِنَ الْإِبِلِ السَّنَامْ

آپ بیواؤں کی کفایت میں ہیں سر گرم عمل
اور عطا کرتے ہیں ریوڑ میں جو بہتر ہو جمل

50. كَفْكَفْتَ دَمْعَ الْخَائِفِيْنَ بِرَأْفَةٍ
وَأَطَحْتَ بِالظُّلَّامِ فِي جُحْرِ الظَّلَامْ

ڈرنے والوں کے بہت نرمی سے آنسو پونچھے ہیں
اور ظالم ان کے چھپنے کی جگہ پر ہی گرائے ہیں

51. نَاغَمْتَ بَيْنَ أَصَالَةٍ وَحَدَاثَةٍ
أَسْهَرْتَ لَيْلَكَ فِيْهِمَا أَنَّى تَنَامْ؟

اس طرح سے قدامت اور جدت کو یکجا کردیا
جاگ کر راتیں گزاریں دونوں کو اک سا کردیا

52. فَيْضَ الْأَوَائِلِ وَالْجُدُودِ غَرَفْتَهُ
وَأَقَمْتَ عَزْمَكَ فِي رِضَا اللهِ السَّلَامْ

علم و حکمت سے بڑوں کی آپ ہر دم فیضیاب
اور رضائے حق میں عزم مصمم سے ہیں کامیاب

53. وَلِسَانُ حَالِكَ: لَنْ أَذِلَّ لِرَاحَةٍ
بِمَدَى الْغَزَالِيِّ الْفَسِيْحِ لِيَ اقْتِحَامْ

آرام و راحت تو سرے سے فطرت میں نہیں
آپ کی مسند افق پر مثل غزالی ہے کہیں

54. بَحْرَ السَّرَخْسِيِّ الْخَطِيْرَ رَكِبْتُهُ
وَقَطَفْتُ سِرَّ الْعِلْمِ مِنْ يَمَنٍ وَشَامْ

سرخسی کی طرح علم کے گہرے سمندر میں گیا
پھر یمن سے شام تک علم کا ہر راز کھلتا گیا

55. أَهْوَى شُيُوعَ الْعِلْمِ فِي رُوَّادِهِ
عَذْبًا نَقِيًّا صَافِيًا سَهْلَ الْمَرَامْ

علم کو خوب پھیلانے کا شغف رکھتے ہیں آپ
روشنی، شیرینی و پاکی سے لف رکھتے ہیں آپ

56. فَيَزُولُ لَيْلُ الْجَهْلِ بِالْعِلْمِ الَّذِي
يَسْمُو كَنُوْرٍ فِي حِمَانَا مُسْتَدَامْ

ایسے نورِ علم سے تاریکی مٹے ہر جہل کی
بستیوں پر جو کرے سورج کی طرح روشنی

57. يَا سَيِّدِي أَحْيَيْتَ شَرْعَ مُحَمَّدٍ
فِي عَصْرِنَا بِالْحَقِّ طَمْأَنْتَ الْأنَامْ

آپ نے شرعِ شہِؐ عالم کو زندہ کردیا
حق کے اطمینان سے سارے دلوں کو بھر دیا

58. وَأَقَمْتَ سُلْطَانًا بِعَرْشِ مَحَبَّةٍ
لَبَّيْكَ مُرْنَا طَائِعِيْنَ فَلَنْ تُضَامْ

سلطنت تختِ محبت پر بنائی آپ نے
خوئے تسلیم و رضا ہم کو سکھائی آپ نے

59. عَلَمٌ مِنَ الْأَعْلَامِ شُهْرَتُكَ السَّمَا
طَارَتْ بِهَا فِي الْكَوْنِ أَسْرَابُ الْحَمَامْ

لہلہاتا ہے فلک پر آپ کی شہرت کا علم
اس خبر کو فاختاؤں نے اڑا کر لیا ہے دم

60. قَصَّرْتُ فِي مَدْحِي وَذَلِكَ أَنَّنِي
قَدْ تُهْتُ فِيْكَ وَمَا حَوَيْتَ فَلَا أُلَامْ

آپ کی تعریف میں اپنی کمی کی اس لیے
شان میں گم آپ کی ہوں تو اپنی کس لیے

61. يَا زُبْدَةَ الْعُمْرِ الَّذِي أَحْيَيْتَنَا
فِيكَ ارْتَقَيْنَا أَنْتَ في الْعَيْنِ الْهُمَامْ

زندہ مجھ کو کر دیا، زندگی کا حاصل ہیں آپ
برکتیں ہیں آپ سے ہر عزت کے قابل آپ

62. قَوَّمْتَنَا بِشَرِيعَةٍ رَقَّيْتَنَا
بِبَصِيرَةٍ جَنَّبْتَنَا هَوْلَ الْخِصَامْ

آپ نے ہم کو شریعت سے سنوارا اور اعلیٰ کردیا
اور بصیرت سے ہمیں جھگڑوں سے بالا کر دیا

63. أَنْتَ الْمُجَدِّدُ وَالْإِمَامُ وَكُلُّنَا
لَكَ عِنْدَهُ أَعْلَى مَرَاتِبِ الْاِحْتِرَامْ

آپ قدوہ اور مجدد، آپ سب کے ہیں امام
رب کے ہاں آپ کے ہیں درجاتِ احترام

64. بَيْنَ الضُّلُوعِ حَمَلْتَ دِينَ مُحَمَّدٍ
وَالْعُمْرُ يَشْهَدُ كَيْفَ عِشْتَ بِلَا انْفِصَامْ

اپنے سینے میں سنبھالا ہے نبی کے دین کو
عمر بھر تفرقوں سے دور خود کو رکھا ہے جو

65. هَلَّ السَّنَا وَوُلِدْتَ فِي دَمْعٍ عَلَى
دُنْيَا تُجَرِّعُ أَهْلَهَا الْمَوْتَ الزُّؤَامْ

اک چمک تھی آنسوؤں کی آپ جب پیدا ہوئے
موت کے گھونٹ جب دنیاکے لوگوں نے پیے

66. رُبِّيْتَ فِي حِضْنِ الْكِرَامِ مُكَرَّمًا
فَوَرِثْتَهُمْ وَالْعَامُ يَمْضِي بَعْدَ عَامْ

پرورش کی صاحبان قدر نے بصد عز و وقار
ان کے وارث پھر بنے چلتا گیا وقت کا رہوار

67. وَمِنَ الثَّلَاثِ لِنَبْضِ قَلْبِكَ صَبْوَةٌ
بِالذِّكْرِ وَالْقُرْآنِ عِشْقٌ وَانْسِجَامْ

دل کی دھڑکن کی سہ سال سے یہ چاہت ہے
عشق ہے قرآن سے اور ذکر سے ہی راحت ہے

68. وَبِسَبْعَ عَشْرَةَ طَالِبٌ مُتَأَلِّقٌ
تَصْطَادُ مِنْ دُرَرِ الْعُلُومِ كَمَا الْيَمَامْ

شہسوار علم و فن تھے آپ سترہ سال میں
اور معارف کے گہر تھے قال میں اور حال میں

69. مَا جَاءَتِ الْعِشْرُونَ إِلَّا وَالْهُدَى
فِي قَوْلِكَ الْمَيْمُوْنِ يَعْلُوْهُ احْتِشَامْ

بیس سالوں میں ہدایت کے ستارے بن گئے
قول میں اپنے حیا کے استعارے بن گئے

70. فِيْهَا انْتَصَبْتَ مُؤَلِّفًا مُتَمَكِّنًا
كَالْغَيْثِ يَهْطُلُ بَعْدَ زَخَّاتِ الرِّهَامْ

بیسویں ہی سال میں تالیف بھی کرنے لگے
جیسے بارش کی بوچھار کھل کر برسنے لگے

71. عِنْدَ الثَّلَاثِيْنَ افْتِتَاحُكَ قَلْعَةً
بِوِسَامِ ‹‹مِنْهَاجِ الْقُرَانِ›› لَهَا اتِّسَامْ

تیسویں ہی سال میں بنیاد قلعہ کی رکھی
جس پر ’منہاج القرآن‘ کی نشانی سج گئی

72. فِي الْأَرْبَعِينَ رَسَمْتَ نَهْجًا نَيِّرًا
مِنْ سُنَّةِ الْمُخْتَارِ أَكْرِمْ بِارْتِسَامْ

سال چالیس ہو گئے تو راستہ روشن کیا
سنتِ مختار اکرمؐ سے یہ نقش سجتا گیا

73. مِنْ بَعْدِهَا الْخَمْسِينَ بَاقٍ ثَابِتٌ
بِالْحَقِّ لَا تَخْشَى إِذَا وَقَعَ احْتِدَامْ

جب صدی آدھی ہوئی یوں ہوئے ثابت قدم
حق کے رستے پر رہا کچھ خوف نہ ہی کوئی غم

74. سِتُّونَ بَلْ سَبْعُونَ عَامًا كُلُّهَا
عَمَلٌ دَؤُوبٌ بِافْتِتَاحٍ وَاخْتِتَامْ

ساٹھ ستّر سال کے بھی یوں کٹے ہیں صبح و شام
اک تسلسل ہے عمل کا تا افتتاح و اختتام

75. مِن بَعْدِ سَبْعِينَ وَخَمْسٍ فِي النِّدَا
هَاتُوْا لَنَا مَنْ مِثْلُهُ بَيْنَ الْأنَامْ

مہر ستّر میں پانچ اور بھی شامل کرو
ہے کوئی ان سا تو لاؤ ہم کو بھی قائل کرو