اِنسانی سیرت و کردار کی اِصلاح، اَخلاقی پاکیزگی اور تہذیبِ نفس دینِ اسلام کا مقصود ہے۔ قرآنِ حکیم نے جا بجا حسنِ اَخلاق کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا اور برے اَخلاق کو ہلاکت و بربادی کا سبب بتایا ہے۔ کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ اخلاقی بحران ہوتا ہے جس کی کوکھ سے دیگر کئی چھوٹے بڑے بحران جنم لیتے ہیں۔ انبیاء و رسل علیہم السلام چوں کہ اللہ تعالیٰ کے خاص نمائندے اور حقیقی پیام بر ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی ذات کو بھی مجموعۂ صفاتِ حسنہ بنا کر اِنسانیت کے لیے ایک مثالی نمونہ بناتا ہے۔ قرآنی احکامات اور حضور نبی اکرم ﷺ کے فرمودات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ انبیاء ورسل علیہم السلام اعلیٰ ترین صفات و اخلاقیات کا کامل نمونہ تھے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ رسولِ مکرم کی ذاتِ کریم صاحبِ خُلقِ عظیم ہے اور آپ ﷺ کی زندگی قیامت تک کے اِنسانوں کے لیے اُسوۂ حسنہ ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد تکميلِ مکارمِ اَخلاق ہے تاکہ اُمت کو اعلیٰ اِنسانی اَقدار اور نورانی صفات کی طرف راہ نُمائی حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں اچھے اَخلاق کی ترغیب دی اور ہر اُس عادت سے منع فرمایا جو دلوں کو فساد، معاشرے کو بگاڑ اور اِنسان کو ربّ کی رحمت سے دُور کرنے والی ہو۔ اس لیے کہ اِنسانی شخصیت کا جو وصف اسے دیگر لوگوں سے ممتاز و منفرد بناتا ہے، وہ صرف حسنِ اخلاق ہے۔ بہترین مسلمان وہی ہے جو مجسم حسنِ اخلاق ہو۔ ایسے افراد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلند ترین درجات و مقامات سے نوازا جاتا ہے۔ اخلاقیات کی بدولت ہی ایک سچا مسلمان آخرت میں جنت اور اعلیٰ درجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے اور یہ اعلی مرتبہ اِنسان کو صدقِ مقال، حسنِ اَعمال، صحبتِ صالحہ اور اَخلاق حسنہ سے حاصل ہوتا ہے۔
احادیث مبارکہ میں اَخلاقِ رذیلہ جیسے کذب و اِفترا، بدگمانی و تجسس، حسد و بغض، کینہ و رِیا، غرور و تکبر، نفاق و خود پسندی، ظلم و خیانت، قطعِ رحمی، حرص و بخل، غیبت و چغلی، فحاشی و بے حیائی، شراب و جوا اور دیگر رذائلِ اَخلاق سے اجتناب کی تاکید فرمائی گئی۔ اِن فرمودات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مومن اپنے ظاہر و باطن کو ان آلودگیوں سے پاک رکھے اور اپنی ذات کو خیر، صدق، محبت، امانت اور عدل جیسے محاسن سے مزین کرے تاکہ فرد و معاشرہ دونوں اَمن و سکون اور سعادت سے بہرہ ور ہوں۔
گویا حضور نبی اکرم ﷺ کی اخلاقی تعلیمات فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ اَخلاقی قدروں پر قائم ہوتا ہے، جہاں ہر شخص کا کردار اس کے ایمان کی سچائی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لیے اسلام نے نہ صرف اَعلیٰ اَخلاق کی ترغیب دی ہے بلکہ ان تمام اَخلاقِ سیئہ سے بچنے کا بھی حکم دیا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اِس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وہ معاشرہ حقیقی اسلامی و فلاحی معاشرہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے افراد اعلیٰ اخلاقی کردار کے حامل ہوں اور اپنے ظاہر و باطن کو ہر طرح کی خرافات و لغویات سے محفوظ رکھنے والے ہوں۔
1۔ اَخلاقِ حسنہ کے معاشرے پر اثرات
جدید سائنسی تحقیق اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ اچھے اخلاق محض اخلاقی یا مذہبی اقدار نہیں بلکہ ایک مؤثر سماجی، نفسیاتی اور معاشی قوت ہیں۔
سماجی نفسیات کے مطابق سماج دوست رویّے انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور یہ Social Learning کے ذریعے پروان چڑھتے ہیں۔ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تناظر میں سماج دوست رویّے (Prosocial Behaviors) اور نفسیات کا باہمی تعلق دراصل انسانی شخصیت کی تعمیر، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی بالیدگی کا بنیادی ستون ہے۔
سماج دوست رویّے سے مراد وہ رضاکارانہ طرزِ عمل ہے جو کسی ذاتی مفاد اور خود غرضی کے بجائے دوسروں کی بھلائی، مدد اور سہولت کے لیے اختیار کیا جائے، جیسے: ہمدردی اور خیرخواہی، ایثار اور قربانی، تعاون اور باہمی مدد، انصاف پسندی اور معافی، اعلیٰ اخلاقی اقدار میں یہ رویّے محض سماجی آداب نہیں بلکہ اندرونی اخلاقی شعور کی عملی صورت ہوتے ہیں۔
جب سماج میں سماج دوست رویّے عام ہوں تو باہمی اعتماد اور تعاون بڑھتا ہے، تنازعات اور تشدد میں کمی آتی ہے، اجتماعی ذہنی صحت (Collective Mental Health) بہتر ہوتی ہے، سماج اخلاقی استحکام اور فکری ہم آہنگی کی طرف بڑھتا ہے۔ یوں نفسیات اور اخلاق مل کر ایک صحت مند اور پُرامن معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
اسلام میں سماج دوست رویّوں کو ایمان اور اخلاقِ عالیہ کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے، ایثار کو ایمان کی علامت، خدمتِ خلق کو عبادت اور حسنِ اخلاق کو کمالِ شخصیت کا معیار بنایا ہے۔ جب کہ نفسیاتی اعتبار سے یہ تعلیمات انسان کے باطن کو سنوار کر اس کے ظاہر کو سماج کے لیے مفید بناتی ہیں۔
الغرض! اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تناظر میں سماج دوست رویّے نفسیات کا وہ عملی مظہر ہیں جو انسان کو خود مرکزیت سے نکال کر انسان دوستی، ذمہ داری اور اجتماعی بھلائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی رویّے فرد کی ذہنی صحت اور سماج کی اخلاقی قوت دونوں کی ضمانت بنتے ہیں۔
2۔ شخصیت کی تشکیل اور قائدانہ اوصاف کے لیے اچھے اخلاق کی اہمیت
شخصیت کی تشکیل (Personality Development) اور قیادت کی مہارتیں (Leadership Skills) کسی فرد کی کامیابی، سماجی قبولیت اور ادارہ جاتی اثر پذیری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ جدید نفسیات، تنظیمی علوم (Organizational Studies) اور قیادت کے نظریات اس امر پر متفق ہیں کہ اچھے اخلاق جیسے امانت و دیانت، صبر و تحمل، ہمدردی و دل جوئی، عدل و انصاف اور خود احتسابی محض اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ مؤثر شخصیت اور کامیاب قیادت کی بنیادی علمی و عملی بنیاد ہیں۔
(1) اچھے اخلاق اور شخصیت کی تشکیل
نفسیاتی تحقیق کے مطابق شخصیت محض ظاہری صلاحیتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ رویّوں، اقدار اور اخلاقی رجحانات کی عکاس ہوتی ہے۔ اچھے اخلاق فرد میں جذباتی توازن (Emotional Stability)، خود آگاہی (Self-awareness)، ضبطِ نفس (Self-control)، مثبت سماجی رویّہ کو فروغ دیتے ہیں۔ ایسے افراد سماجی دباؤ، اختلافِ رائے اور ناکامی کا سامنا زیادہ بالغ نظری سے کرتے ہیں، جو شخصیت کی پختگی کی علامت ہے۔ سائنسی اعتبار سے اخلاقی رویّے فرد کی ذہنی صحت اور اعتمادِ نفس کو مستحکم کرتے ہیں، جو مضبوط شخصیت کی اساس ہیں۔
(2) مؤثر قیادت اور اخلاقی اقدار
جدید قیادت کے نظریات خصوصاً Ethical Leadership اور Transformational Leadership اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مؤثر لیڈر وہی ہوتا ہے جو اخلاقی اعتبار سے قابلِ اعتماد ہو۔ اچھے اخلاق قیادت میں اعتماد (Trust) پیدا کرتے ہیں، پیروکاروں میں وفاداری اور وابستگی بڑھاتے ہیں، فیصلوں میں انصاف اور شفافیت کو یقینی بناتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ اخلاقی لیڈرز کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیمیں زیادہ منظم، پُرامن اور پیداواری (Productive) ہوتی ہیں، کیونکہ افراد محض اختیار نہیں بلکہ کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔
(3) شخصیت اور قیادت کے باہمی ربط میں اخلاق کا کردار
شخصیت اور قیادت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور اس تعلق کی بنیاد اخلاقی اقدار پر قائم ہوتی ہے۔ ایک ایسا فرد جو دیانت دار ہو، اختلاف کو برداشت کر سکے، دوسروں کے احساسات کو سمجھتا ہو، وہ نہ صرف ایک متوازن شخصیت کا حامل ہوتا ہے بلکہ ایک کامیاب لیڈر بھی ثابت ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس اخلاقی کمزوری قیادت کو آمریت، خود غرضی اور عدمِ اعتماد میں بدل دیتی ہے، جو کسی بھی ادارے یا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اچھے اخلاق شخصیت کی تعمیر اور قیادت کی مہارتوں کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ جدید سائنسی و انتظامی تحقیق کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ اخلاقِ حسنہ کے بغیر نہ تو شخصیت میں پختگی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی قیادت مؤثر اور پائیدار بن سکتی ہے۔
3۔ پاکستانی معاشرے کے تناظر میں تجزیاتی جائزہ
پاکستانی معاشرہ مذہبی، خاندانی اور برادری پر مبنی اقدار کا حامل ہے، جہاں اخلاقی رویّے سماجی زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی اور علاقائی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے سماجی ڈھانچے جن میں باہمی اعتماد، خاندانی تعاون اور مذہبی اخلاقیات مضبوط ہوں، وہاں سماجی ہم آہنگی نسبتاً بہتر پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں کیے گئے تجرباتی مطالعات (خصوصاً تعلیمی اداروں، کمیونٹیز اور Work Places اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دیانت، احترام اور تعاون جیسے اخلاقی اصول ادارہ جاتی کارکردگی اور گروہی ہم آہنگی پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسکولوں اور جامعات میں اخلاقی ماحول طلبہ کے رویّوں، نظم و ضبط اور تعلیمی وابستگی کو بہتر بناتا ہے، جبکہ اخلاقی قیادت (Ethical Leadership) کام کی جگہ پر اعتماد اور ٹیم ورک کو فروغ دیتی ہے۔
اسی طرح سماجی سطح پر دیکھا گیا ہے کہ جہاں اخلاقی کمزوری، بدعنوانی اور خود غرضی کے رجحانات غالب ہوں، وہاں سماجی اعتماد میں کمی، اداروں پر عدم اطمینان اور اجتماعی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ شواہد اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشروں میں اخلاقِ حسنہ نہ صرف سماجی ضرورت بلکہ پالیسی اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
مزید برآں، مذہبی اجتماعات، فلاحی تنظیمیں اور رضاکارانہ سرگرمیاں پاکستان میں سماج دوست رویّوں (Prosocial Behaviors) کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔ تجرباتی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے افراد جو سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، وہ نہ صرف نفسیاتی طور پر زیادہ مطمئن ہوتے ہیں بلکہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ مضبوط تعلق بھی محسوس کرتے ہیں۔
یہ تجرباتی شواہد اس نتیجے کو تقویت دیتے ہیں کہ اگر تعلیمی نصاب، میڈیا اور پالیسی سازی میں اخلاقی اقدار کو منظم انداز میں شامل کیا جائے تو پاکستانی معاشرے میں سماجی ہم آہنگی، ذہنی صحت اور ادارہ جاتی اعتماد میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
4۔ معاشرتی و اخلاقی تطہیر میں شیخ الاسلام کا کردار
عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ جن فکری، اخلاقی اور سماجی بحرانوں سے دوچار ہے، ان کا حل محض وقتی اصلاحات میں نہیں بلکہ ہمہ گیر اخلاقی تطہیر اور فکری تجدید میں مضمر ہے۔ اس تناظر میں مجدد المئۃ الحاضرہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ ایک ایسی ہمہ جہت دینی و علمی شخصیت ہیں جنہوں نے اس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے فرد اور معاشرے دونوں کی اخلاقی تطہیر و اِصلاح کو اپنی دعوت، فکر اور عملی جدوجہد کا موضوع بنایا ہے۔
شیخ الاسلام کی فکر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ احوالِ اُمت اور تطہیرِ اخلاق اور معاشرہ کو ایک مربوط نظام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرد کی اخلاقی اصلاح کے بغیر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں اور اجتماعی ماحول کی اصلاح کے بغیر فرد کی اخلاقی پختگی برقرار نہیں رہ سکتی۔
شیخ الاسلام کی تصنیفی خدمات اخلاقی تطہیر کے باب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی کتب اور خطابات میں اخلاقی موضوعات کو نہایت علمی، استدلالی اور عصری اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ خصوصاً اُنہوں نے سیرتِ نبوی کو بطور اخلاقی نمونہ پیش کرتے ہوئے تزکیۂ نفس، اصلاحِ احوال، امن، رواداری اور انسانی احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے، جب کہ اس کے مقابلہ میں رذائلِ اخلاق، شدت پسندی اور فرقہ واریت کا فکری رد فرمایا ہے۔ ان کی تحریریں محض نظری مباحث نہیں بلکہ عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں، جو فرد کو اپنی ذات سے آغاز کر کے معاشرے کی اصلاح کی طرف لے جاتی ہیں۔
(1) منہاج القرآن: معاشرتی اصلاح اور اخلاقی تطہیرکی عملی تحریک
شیخ الاسلام نے مصطفوی معاشرہ کی تشکیل کے لیے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے اخلاقی تطہیر کو ادارہ جاتی شکل دی۔ تعلیمی ادارے، تربیتی پروگرامز، اصلاحی خطابات اور فکری نشستیں یہ سب فرد سازی اور معاشرہ سازی کے منظم ذرائع ہیں۔ منہاج القرآن کے تحت نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت، خواتین میں اخلاقی و دینی شعور کی بیداری، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، امن، برداشت اور مکالمہ کی ترویج یہ تمام اقدامات معاشرتی اخلاقیات کی عملی تطہیر کا مظہر ہیں۔
شیخ الاسلام کا ایک نمایاں کارنامہ اخلاقی انحراف اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مدلل اور جرات مندانہ موقف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تشدید، تعسیر، تنفیر اور تکفیر اسلامی اخلاقیات سے صریحاً متصادم ہیں۔ ان کی علمی کاوشوں نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی اسلامی معاشرہ امن، عدل، رحم اور انسانی وقار پر قائم ہوتا ہے۔
(2) عصرِ حاضر میں شیخ الاسلام کی اصلاحِ معاشرہ کے لیے خدمات کی اہمیت
عالمی سطح پر اخلاقی بحران، مذہبی تصادم اور سماجی انتشار کے اس دور میں شیخ الاسلام کی فکر ایک متوازن، معتدل اور اخلاقی اسلامی بیانیہ فراہم کرتی ہے۔ ان کی دعوت فرد کو باطن کی اصلاح، اور معاشرے کو عدل و اخلاق کی بنیاد پر استوار کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اخلاقی تطہیر کو محض ایک نظری موضوع نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی صورت دی۔ ان کی علمی، فکری اور عملی کاوشیں فرد سازی اور معاشرہ سازی کا ایسا ماڈل پیش کرتی ہیں جو عصرِ حاضر کی اخلاقی و سماجی پیچیدگیوں کا مؤثر حل فراہم کرتا ہے۔
معاشرتی و اخلاقی تطہیر کے میدان میں ان کا کردار نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن فکری و عملی رہنمائی بھی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اخلاق کو عبادات، معاملات، سیاست اور معاشرت ہر سطح پر اسلام کی اساس کے طور پر پیش کیا اور اسے محض واعظانہ گفتگو تک محدود نہیں رکھا بلکہ ایک منظم فکری و عملی پروگرام کی صورت دی ہے۔
آپ نے تحریک منہاج القرآن کے رفقاء، اراکین اور کارکنان کے لیے اخلاقی، روحانی اور فکری بالیدگی کے لیے ایک جامع نصاب ترتیب دیا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کی مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس منعقدہ نومبر 2025ء میں شیخ الاسلام نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
مصطفوی انقلاب کے مستقبل کا وِژن اِن پانچ ذرائع پر ہے:
1۔ علم 2۔ دعوت 3۔ فکر
4۔ سیرت 5۔ فلاح
مراکزعلم اور نظامت دعوت کے ذریعے اب ہم نے ان پانچ چیزوں پر فوکس کرنا ہے۔ اگر مراکز علم کا ہدف حاصل کرنا ہے تو ہم میں سے ہر ایک کو معلم بننا پڑے گا اور معلم بننے کےلیے ضروری ہے متعلم بننا۔ ہم سب کو داعی بننا پڑے گا تاکہ اس فکر کا کیرئیر بنیں اور امت کی اصلاح کی جاسکے۔
اس کے لیے درج ذیل نصاب کا تعین کیا جا رہا ہے۔ جہاں بھی دعوت و علم کا کام ہوگا وہاں یہی نصاب پڑھایا جائے گا اور ہر رفیق پر واجب ہے کہ اس نصاب کو بار بار پڑھے۔ اس ميں درج ذیل کتب شامل ہیں:
1۔ عرفان القرآن 2۔ الروض الباسم
3۔ منہاج الصالحین 4۔ منہاج العقائد
5۔ منہاج الاحکام 6۔ سیرتِ طیبہ
اس نصاب کا بنیادی مقصد معاشرے کے ان سات عناصر کی اصلاح اور تربیت ہے کہ جن کے مثالی ہو جانے سے ہی ایک معاشرہ مثالی کہلا سکتا ہے:
1۔ مثالی ماں 3۔ مثالی مسکن 3۔ مثالی مکتب
4۔ مثالی مسجد 5۔ مثالی معلم 6۔ مثالی معیشت
7۔ مثالی معاشرت
جتنا ہم ان عناصر کو نکھارتے جائیں گے اتنا اپنی منزل مصطفوی معاشرہ کی تشکیل کے قریب ہوتے جائیں گے۔ گویا یہ نصاب معاشرہ کی اخلاقی تطہیر کا جامع لائحہ عمل ہے۔
ذیل میں ہم اس نصاب کی ایک اہم کتاب اَلرَّوْضُ الْبَاسِمِ مِنْ خُلُقِ النَّبيِّ الْخَاتِمِ ﷺ کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں:
5۔ اَلرَّوْضُ الْبَاسِمِ مِنْ خُلُقِ النَّبيِّ الْخَاتِمِ ﷺ کا تعارف
اس نصاب کی پہلی کتاب اَلرَّوْضُ الْبَاسِمِ مِنْ خُلُقِ النَّبيِّ الْخَاتِمِ ﷺ سے مُعَنْوَن ہے، جو گزشتہ سال طبع ہو کر منظرِ عام پر آئی ہے۔ شیخ الاسلام کی یہ کتاب دراَصل 60 جلدوں پر مشتمل Encyclopedia of Sunna کا حصہ ہے۔ اس ایمان افروز کتاب میں آیاتِ بینات، اَحادیث مبارکہ، آثارِ صحابہ اور سلف صالحین اور ائمہ کرام کے اَقوال کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا اُسوۂ حسنہ کیا تھا، آپ ﷺ نے کن اَخلاقِ حسنہ کی تعلیم فرمائی اور کن اَخلاقِ سیئہ سے اِجتناب کرنے کی تلقین فرمائی۔ اِسلام کا سچا پیروکار تاجدارِ اَنبیاء ﷺ کی خُلقی صفات سے آراستہ و پیراستہ ہوتا ہے اور اَخلاقِ محمدی کا پَرتَو ہوتا ہے۔ وہ ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اپنے اَخلاق و کردار کے ذریعے مصطفوی معاشرے کی تشکیل اور مثالی اِسلامی معاشرے کے قیام میں بھرپور حصہ لیتا ہے۔
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی اس ایمان اَفروز اور روح پرور تصنیف کا منہج اور اُسلوب یہ ہے کہ اس میں کُل 16 اَبواب قائم کیے گئے ہیں اور ہر باب کے ذیل میں متعدد فصول بنائی گئی ہیں۔ فصول کے تحت جہاں ممکن ہوا، قرآنی آیات کی سرخی -اَلْقُرْآن- بنا کر متعلقہ آیات بھی درج کی گئی ہیں۔ پھر ہر فصل میں اَلْحَدِيْث کی سرخی کے تحت مختلف ذیلی سرخیاں بھی بنائی گئی ہیں۔ فصل کے آخر میں جہاں ممکن ہوا، آثار و اقوال کی سرخی کے تحت ائمہ و سلف صالحین کے اقوال دیے گئے ہیں۔ یوں اِس تالیفِ لطیف میں 600 سے زائد آیاتِ مبارکہ، 2,300 سے زائد اَحادیثِ مبارکہ اور 700 سے زائد آثار و اَقوال شامل ہیں۔
آپ نے اِس تصنیفِ لطیف کی چار جلدوں میں 16 اَبواب کو یوں تقسیم کیا ہے:
٭ پہلی جلد میں درج ذیل 7 اَبواب شامل ہیں:
1۔ وَصْفُ خُلُقِ النَّبِيِّ ﷺ
(حضور نبی اکرم ﷺ کے اَخلاقِ عظیمہ کا تذکرہ)
2۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ النَّاسِ فِي الْبِرِّ وَالصَّلَاحِ وَالْفَلَاحِ
(نیکی، بھلائی اور فلاح و بہبود کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
3۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْإِحْسَانِ بِالْوَالِدَيْنِ
(والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
4۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ الْأَطْفَالِ وَالْأَوْلَادِ
(بچوں اور اَولاد کے ساتھ شفقت و محبت کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
5۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ الْبَنَاتِ وَالْأَخَوَاتِ
(بیٹیوں اور بہنوں كے ساتھ شفقت و محبت کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
6۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ عَنْ صِلَةِ الْأَرْحَامِ
(خونی رشتوں کے ساتھ اِحسان کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
7۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ النِّسَاءِ
(خواتین كے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
٭ دوسری جلد میں درج ذیل 7 اَبواب شامل ہیں:
8۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ الزَّوْجَيْنِ
(میاں بیوی کے باہمی تعلق کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
9۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ الْجِيْرَانِ
(ہمسایوں كے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
10۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ عَامَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ
(عام مسلمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
11۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ غَيْرِ الْمُسْلِمِيْن
(غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
12۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ الْعُصَاةِ والْمُنَافِقِيْنَ
(گنہگاروں اور منافقوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
13۔ خُلُقُ النَّبِيِّ ﷺ مَعَ الْمَسَاكِيْنَ وَالْمَحْرُوْمِيْنَ
(معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کے باب میں حضور ﷺ کے اَخلاقِ مبارکہ)
14۔ مُلَاطَفَةُ النَّبِيِّ ﷺ بِالْحَيَوَانَاتِ وَالنَّبَاتَاتِ
(حیوانات اور نباتات کے ساتھ حضور ﷺ کی رحمت و شفقت)
٭ چار جلدوں میں سے تیسری جلد ضخیم ترین ہے۔ اس میں اَخلاقِ حسنہ کے فضائل اور تعلیماتِ نبویہ کے بیان پر مشتمل درج ذیل جامع اور ایک ہی باب ہے:
15۔ فَضَائِلُ الْأَخْلَاقِ الْحَسَنَةِ وَالتَّعْلِيْمَاتُ النَّبَوِيَّةُ
(اَخلاقِ حسنہ کے فضائل اور تعلیماتِ نبویہ)
٭ چوتھی جلد میں اَخلاقِ سیئہ کے معائب و نقائص اور رذائل و قبائح کا تفصیلی بیان ہے۔
16۔ قَبَائِحُ الْأَخْلَاقِ السَّيِّئَةِ وَالتَّعْلِيْمَاتُ النَّبَوِيَّةُ
(اَخلاقِ سیئہ کی قباحتیں اور تعلیماتِ نبویہ)
مذکورہ بالا عناوین اِس کتاب کی جامعیت اور آفاقیت پر شاہد عادل ہیں۔ یہ کتاب درحقیقت تعمیرِ شخصیت اور کردار سازی کے لیے ایک جامع دستور اور اِنسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عنوان بندی قائم کرتے ہوئے personality development اور leadership skills پر آیات و احادیث اور آثار و اَقوال کا خصوصی اِلتزام کیا گیا ہے۔ مسلم سماج کو دیگر معاشروں سے منفرد و ممتاز کرنے کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے عمدہ اقدار اور اَعلیٰ اَخلاق مثلاً نرم خوئی، خندہ پیشانی، حسنِ کلام، صلہ رحمی، حلم و بردباری، عفو و درگزر، پردہ پوشی، سخاوتِ نفس، امانت و دیانت، صدق و وفا، زُہد و ورع، جود و سخا، تسلیم و رضا، شفقت و ملاطفت، اُلفت و محبت اور عجز و انکساری جیسے بے شمار شخصی محاسن کو مسلم معاشرے کا جُزْوِ لَا یَنفک بنا دیا۔
اس طرح ظلم و ناانصافی اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو آپ ﷺ نے دینِ اسلام کی ضیا پاشیوں سے ایسے منوّر و تاباں فرمایا کہ اَب ابنِ آدم تا قیامِ قیامت آپ ﷺ کی سیرتِ مقدسہ سے اِکتسابِ فیض کرنا باعثِ اِفتخار گردانتا رہے گا۔
یہ بات کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کا مرتب کردہ اخلاقی و روحانی نصاب اِنفرادی (individual) اور اِجتماعی (collective) ہر دو سطحوں پر بہترین اور معیاری اَخلاقیات کی اَفزودگی اور ترویج کے لیے ایک نسخۂ کیمیا اور دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس نصاب میں درج اخلاقی و روحانی تعلیمات کو کسی معاشرے کے افراد اپنے عمل کے سانچے میں ڈھال لیں تو وہ معاشرہ حقیقی معنوں میں مصطفوی معاشرہ بن سکتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اِس نصاب کو حرزِ جاں بنانے، اس میں درج تعلیمات کو اپنانے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کو عمرِ خضر عطا فرمائے کہ وہ اِس طرح کی حیات آفریں اور نفع بخش تالیفات اُمت و انسانیت کو عطا فرماتے رہیں اور خلقِ خدا تا اَبد ان کے علم سے مستفید و مستفیض ہوتی رہے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ