شیخ الاسلام کی خدمات کا علمی اعتراف

ڈاکٹر محمد فاروق رانا

کسی بھی شخصیت کی علمی قد و قامت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاتا ہے کہ دنیا کے معتبر تعلیمی اور تحقیقی اداروں نے اسے کس حد تک موضوعِ بحث بنایا ہے۔ مُجَدِّدُ الْمِئَةِ الْحَاضِرَة شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری عصرِ حاضر کی وہ ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کی تجدیدی و اِحیائی، علمی و فکری، فلاحی و سماجی اور سیاسی خدمات نے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ عالمی برادری پر گہرے نقوش مرتب کیے ہیں۔ آپ کی فکر کا خاصہ قدامت اور جدت کا وہ حسین امتزاج ہے جو ایک طرف اسلام کی کلاسیکی اساس سے جڑا ہے اور دوسری طرف جدید دور کے پیچیدہ مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تصانیف، خطابات اور ان کی قائم کردہ عالمی تحریک ’’منہاج القرآن اِنٹرنیشنل‘‘ نے عالمی سطح پر محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کی نامور یونی ورسٹیوں میں آپ کی ’تجدیدی خدمات‘، ’امن بیانیے (Counter-Terrorism Narrative) ‘، ’سیرت نگاری‘، ’اسلامی معاشیات‘، ’تصوف‘ اور ’سیاسی نظریات‘ پرMA,BS، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے اعلیٰ پایہ کے مقالہ جات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ تحقیقی کام اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی فکر عالمی سطح پر ایک’متبادل بیانیے‘ کے طور پر اُبھری ہے، جو اِنتہا پسندی کے خاتمے اور اِنسانی اَقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

اگر BS، B.Ed، MA، M.Ed سطح پر شیخ الاسلام اور ان کی خدمات پر ہونے والے مقالہ جات کا ذکر کیا جائے تو اس کے لیے بیسیوں صفحات درکار ہیں۔ اس لیے زیرِ نظر مضمون میں ان تحقیقی کاموں میں سے صرف ایم فل اور Ph.D سطح کے مقالہ جات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جارہا ہے، جن پر دنیا کی مختلف جامعات میں کام کیا گیا ہے:

1۔ ڈاکٹر محمد رفیق حبیب الازہری نے اسکاٹ لینڈ (UK) کی University of Aberdeen سے شیخ الاسلام کی ideology کے تقابلی پہلو پر درج ذیل عنوان سے PhD کا مقالہ لکھا ہے:

A classical Analysis of the Ideology of Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri with Special Reference to Islamic Revivalism

2۔ پیرس (فرانس) میں National Institute of Oriental Languages and Civilizations میں اسلامک اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر Francesco Chiabotti نے فرانسیسی زبان میں The posthumous fortune of the hadith reported by Qushayri in the Risala کے عنوان سے 750 صفحات کا PhD کا مقالہ لکھا ہے۔ اس میں شیخ الاسلام اور آپ کی کتاب المرویات القشیریۃ کو quote کیا گیا ہے۔

3۔ نیدر لینڈ میں Free University of Amsterdam کے Faculty of Social Sciences میں درج ذیل عنوان کے تحت PhD کا مقالہ پیش کیا گیا:

Purification of Hearts: Rituals, Devotion and Re-creation among the Minhaj-ul-Quran followers in Europe

4۔ ڈاکٹر سمرہ مرسلین نے انگلینڈ کی ممتاز ’’کوونٹری یونیورسٹی‘‘ سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے امن بیانیہ پر پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا موضوع تھا:

“Islamic Theology as a Counter-Narrative to Terrorism: Analysing the Content, Extent and Impact of Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri’s Works on Counter-Terrorism”

5۔ امریکہ میں اٹلانٹا (جارجیا) کی Emory University میں ثمر شعیب نے PhD کا مقالہ لکھا، جس کا عنوان یہ ہے:

Fulfilling the Mission: Minhaj-ul-Qur’an, Women’s Authority and Reinstilling Love for the Prophet (pbuh)

6۔ شیخ الاسلام کے تصورِ ولایت پر المصطفیٰ یونیورسٹی قم (ایران) میں ڈاکٹر فدا حسین عابدی نے ـ'مرجعیتِ علمی اَہل بیتِ اَطہار پر ڈاکٹر طاہر القادری کا نکتہ نظر' کے عنوان سے Ph.D کا مقالہ لکھا ہے۔

7۔ یوسف جمالی نے المصطفیٰ یونیورسٹی قم (ایران) سے’’تحلیل نقد ہای ڈاکٹر طاہر القادری بر سلفیہ و ہابی با تاکید بر بررسی روش شناسی در موضوعاتِ توسل و شفاعت‘‘ (Analysis of Dr Tahir al-Qadri’s criticisms of Salafiyya and Wahhabi with Emphasis on Examining Methodology in the Issues of Intermediation and intercession) کے موضوع پر PhD کا مقالہ لکھا ہے۔

8۔ حیدر آباد انڈیا کی مولانا آزاد نیشنل یونی ورسٹی میں احمد ولی اللہ صدیقی نے ’’منہاج القرآن پبلی کیشنز کی اردو سے انگریزی میں ترجمہ کردہ کتابوں کا ایک جائزہ‘‘ کے موضوع پر Ph.D کا مقالہ لکھا۔

9۔ بنگلا دیش کی چٹا گانگ یونی ورسٹی میں شعبہ اِسلامیات کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد مرشد الحق نے PhD کی سطح پر بنگالی زبان میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر اور شخصیت پر مقالہ لکھا ہے۔ مقالہ کا عنوان ہے:

Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri: His contribution in the dissemination of Islamic Education

10۔ بنگلا دیش کی چٹا گانگ یونی ورسٹی میں شعبہ عربی کے طالب علم محمد محی الدین PhD کی سطح پر بنگالی زبان میں ’’تصوف کے اِحیاء اور فروغ میں ڈاکٹر طاہر القادری کا کردار‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا:

Dr Tahir-ul-Qadri’s Contribution to the Revivalism and Spread of Tasawwuf

11۔ ڈاکٹر نعیم انور نعمانی نے کراچی یونی ورسٹی سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی علم الحدیث میں خدمات پر PhD کا مقالہ لکھا۔

12۔ غلام احمد خان نے منہاج یونی ورسٹی لاہور میں ’’حسن البناء، سید مودودی اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے سیاسی افکار کا تقابلی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا۔

13۔ محمد فاروق رانا نے دی یونی ورسٹی آف لاہور سے’’مرجعِ ضمیر کا تعین (معروف اُردو تراجم قرآن کا تقابلی جائزہ)‘‘ کے موضوع پر PhD کا مقالہ لکھا۔ اِس مقالہ میں معروف مکتبہ ہاے فکر کے 6 نمائندہ مترجمین کے تراجمِ قرآن کو زیرِ بحث لایا گیا ہے اور ان میں ایک ترجمہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا ’’عرفان القرآن‘‘ ہے۔

14۔ سید محمد ثاقب گیلانی نے دی یونی ورسٹی آف لاہور سے’’اُردو مترجمین قرآن کے اصول ترجمہ کا تقابلی جائزہ‘‘ کے موضوع پر PhD کا مقالہ لکھا۔ اِس مقالہ میں 11 تراجمِ قرآن کو زیرِ بحث لایا گیا ہے جن میں سے ایک ترجمہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا ’’عرفان القرآن‘‘ہے۔

15۔ محمد رفیق نجم نے منہاج یونی ورسٹی لاہور سے’’علوم اسلامیہ کی تشکیل جدید میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خدمات کا تحقیقی جائزہ‘‘ کے موضوع پر PhD کا مقالہ لکھا۔

16۔ ایران میں’’شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کی فکری و دینی کاوشیں‘‘ کے عنوان سے یونس حیدری نے ایم فل کا مقالہ لکھا ہے۔

17۔ مسلم دنیا کی قدیم ترین یونی ورسٹی جامعہ ازہر، قاہرہ میں کلیۃ اللغات والترجمۃ کے تحت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے عظیم علمی شاہکار 'سیرۃ الرسول ﷺ' کی نویں جلد پر نادیہ محمود جمعہ نے MPhil کا مقالہ لکھا ہے۔

18۔ جامعہ ازہر کے کلیۃ اللغات والترجمۃ میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ضخیم کتاب ''کتاب التوحید (جلد اول)'' پر استاذہ امل نے MPhil کا مقالہ لکھا ہے۔

19۔ حافظ محمد ادریس الازہری نے جامعہ ازہر کے کلیۃ أصول الدین کی قسم الدعوۃ الإسلامیۃ کے تحت منظمۃ منہاج القرآن الباکستانیۃ ودورہا فی تبلیغ الدعوۃ وخدمۃ الأمۃ الإسلامیۃ کے عنوان سے MPhil کا مقالہ لکھا گیا ہے۔

20۔ ارشاد حسین سعیدی نے کراچی یونی ورسٹی سے ''اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خدمات کا تحقیقی مطالعہ'' کے موضوع پر MPhil کا مقالہ لکھا ہے۔

21۔ ذکاء اللہ عباسی نے ناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ خیبر پختونخواہ سے 'سیرۃ الرسول ﷺ کا لسانی جائزہ (پہلی دو جلدیں)' پر MPhil کا مقالہ لکھا ہے۔

22۔ جی۔ سی۔ یونی ورسٹی فیصل آباد کے شعبہ علومِ اِسلامیہ میں سائرہ مہوش نے ’’اِسلامی اِقتصادیات کے حوالے سے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تصانیف کا توضیحی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر MPhil کا مقالہ لکھا۔

23۔ مہر طلحہ نواز لالی نے سرگودھا یونی ورسٹی سے شیخ الاسلام کی سوانح، سیاسی جد و جہد، دعوتی و تبلیغی خدمات، فلاحی خدمات، عوام الناس میں مقبولیت، آپ کے بے مثال ویژن اور پاکستان عوامی تحریک کے ملکی سیاست پر اثرات پر History Politics of Pakistan Awami Tehreek کے موضوع پر ایم فل کا مقالہ لکھا۔

24۔ حسان منہاج الدین نے یونی ورسٹی آف لاہور سے ’پاکستان میں جدید تعلیم کے فروغ میں مدارس و جامعات کا کردار: منہاج القرآن انٹرنیشنل کی خدمات کا جائزہ‘ کے موضوع پر MPhil سطح کا مقالہ لکھا ہے۔

25۔ بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی میں 'ملکی سیاست میں عورتوں کا کردار (ڈاکٹر طاہر القادری کے افکار کی روشنی میں)' کے موضوع پر MPhil سطح کا مقالہ لکھا گیا ہے۔

26۔ بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی میں 'ڈاکٹر طاہر القادری اور مولانا مودودی کے سیاسی اَفکار کا تقابلی جائزہ' کے عنوان سے MPhil سطح کا مقالہ لکھا گیا ہے۔

27۔ بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی میں 'عالمی سطح پر قیامِ اَمن کے سلسلے میں ڈاکٹر طاہر القادری کی خدمات' کے عنوان سے MPhil سطح کا مقالہ لکھا گیا ہے۔

28۔ بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی میں 'ڈاکٹر طاہر القادری اور جاوید غامدی کے معاشی اَفکار کا تقابلی جائزہ' کے عنوان سے MPhil سطح کا مقالہ لکھا گیا ہے۔

29۔ بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی میں 'حرکت زمین کے حوالے سے امام احمد رضا اور ڈاکٹر طاہر القادری کے اَفکار کا تقابلی جائزہ' کے عنوان سے MPhil سطح کا مقالہ لکھا گیا ہے۔

30۔ منہاج یونی ورسٹی لاہور میں MPhil کی سطح پر ’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے تفسیری تفردات‘ پر محمد حسین آزاد نے مقالہ مکمل کیا۔

31۔ منہاج یونی ورسٹی لاہور میں وحید عزید نے MPhil اُردو کی سطح پر ’’اقبال اور طاہر القادری کا فلسفہ انقلاب‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔

32۔ زاہد بشیر نے منہاج یونی ورسٹی لاہور سے ''ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے اِسلامی اِقتصادی اِفکار'' کے موضوع پر MPhil کا مقالہ لکھا۔

33۔ ’’مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے تعلیمی نظریات/خدمات‘‘ پر رحمت اللہ اچکزئی نے بلوچستان یونی ورسٹی سے MPhil کا مقالہ لکھا۔

34۔ محمد رفیق نجم نے دی یونی ورسٹی آف فیصل آباد میں’’سیرۃ النبیﷺ اَز مولانا شبلی نعمانی اور سیرۃ الرسول ﷺ اَز ڈاکٹر طاہر القادری کا تقابلی جائزہ‘‘ کے موضوع پر MPhil کا مقالہ لکھا۔

35۔ اَسرار حسین معاویہ نے گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی فیصل آباد ميں’’آسان ترجمۃ القرآن اَز مفتی تقی عثمانی، عرفان القرآن اَز ڈاکٹر طاہر القاری اور تیسیر القرآن اَز عبد الرحمان کیلانی کا تقابلی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر MPhil کا مقالہ لکھا۔

36۔ اِرم صبا نے قرطبہ یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیرہ اِسماعیل خان میں’’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی اَربعینات کا تحقیقی جائزہ‘‘ کے موضوع پر MPhil کا مقالہ لکھا۔

37۔ محمد سلیم نے MPhil کی سطح پر پنجاب یونی ورسٹی (شعبہ عربی) میں إسهام كلية الشريعة بمنهاج القرآن في نشر اللغة العربية وآدابها کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ اس مقالہ میں کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کا تعارف اور عربی زبان و ادب کی اشاعت میں اس کے کردار کے حوالے سے مفصل تحقیق کی گئی ہے۔

38۔ جاوید اقبال نے MPhil کی سطح پر منہاج یونی ورسٹی لاہور (شعبہ عربی) میں تربية الأطفال في الأدب الديني للدكتور محمد طاهر القادري (دراسة تحليلية) کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ مقالہ نگار نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے دینی لٹریچر (کتب و خطابات) میں بچوں کی تربیت اور تعمیرِ شخصیت کے حوالے سے پائے جانے والے مواد پر تحقیق کی ہے، اور اس کا تجزیہ کیا ہے۔

39۔ سلمیٰ بتول نے منہاج یونی ورسٹی لاہور ميں MPhil علومِ اِسلامیہ کے لیے ’’ترجمہ عرفان القرآن اَز ڈاکٹر محمد طاہر القاری کے اِعتقادی مباحث کا تحقیقی جائزہ (توحید، رِسالت، عصمتِ اَنبیاء)‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا۔

40۔ محمد علی قادری نے منہاج یونی ورسٹی لاہور سے MPhil علومِ اِسلامیہ کے لیے ’’عرفان القرآن اَز ڈاکٹر محمد طاہر القاری کی سائنسی تعبیرات کا تحقیقی جائزہ‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا۔

41۔ محمد حسین نے منہاج یونی ورسٹی لاہور ميں MPhil کے لیے درج ذیل موضوع پر مقالہ لکھا:

Reality of Philosophy of Islamic Revolution (Comparison between Maulana Obaid Allah Sindhi and Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri)

42۔ انیلا افضل نے منہاج یونی ورسٹی لاہور سے MPhil اُردو کے لیے ’’عرفان القرآن اَز ڈاکٹر محمد طاہر القاری کے تخصصات: اِکیسویں صدی کے نثری تراجمِ قرآن کے تناظر میں‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا۔

43۔ یونی ورسٹی آف اوسلو (ناروے)میں Katheryne Syversen نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے تاریخی فتویٰ کا تجزیہ کرتے ہوئے ماسٹرز لیول کا مقالہ لکھا۔ اس کا عنوان تھا:

The Dogs of Hell: A discourse analysis of the Fatwa on Terrorism and Suicide Bombings

44۔ جاپان کی Meiji Gakuin University کے اسسٹنٹ پروفیسر Dr. Reiko Okawa نے تحقیقی جریدے International & Regional Studies میں جاپانی زبان میں درج ذیل موضوع پر مضمون لکھا تھا:

Muslim Thought on Counter-Terrorism and Its Educational Practice in the UK Tahir-ul-Qadri’s FATWA (Legal Opinion)

مذکورہ بالا فہرست اور تحقیقی کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مُجَدِّدُ الْمِئَةِ الْحَاضِرَة شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر کسی ایک مسلک، گروہ یا ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ فلاحِ اِنسانیت کا عالمی منشور بن چکی ہے۔ آپ کی فکر پر دنیا کے 5 براعظموں کی نامور جامعات میں تحقیق ہو رہی ہے۔ یہ تحقیق صرف مذہب تک محدود نہیں بلکہ معاشیات، عمرانیات، حقوقِ نسواں، عالمی امن اور سائنسی تعبیرات جیسے جدید موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ برطانیہ کی کوونٹری یونی ورسٹی سے لے کر مصر کی جامعہ ازہر تک، اور ناروے کی اوسلو یونی ورسٹی سے لے کر امریکہ کی ایموری یونی ورسٹی تک، محققین کا آپ کی فکر پر تحقیق کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا علمی کام عصری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

ہر جگہ آپ کی تصانیف کو مستند حوالہ (Authentic Reference) مانا جا رہا ہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف آپ کا تاریخی فتویٰ اور امن بیانیہ (Peace Narrative) عالمی سطح پر اسلام کا وہ روشن چہرہ پیش کر رہا ہے جس کی آج پوری دنیا کو ضرورت ہے۔ ان مقالہ جات کا تنوع، جس میں معاشیات، عمرانیات، لسانیات، اور سیاسیات جیسے علوم شامل ہیں، آپ کی شخصیت کی ہمہ گیریت (versatility) کو ظاہر کرتا ہے۔ صرف اردو یا انگریزی ہی نہیں بلکہ فرانسیسی، جاپانی، بنگلہ اور عربی زبانوں میں تحقیق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا پیغام زبان کی حدیں عبور کر چکا ہے۔ یہ اَمر بھی ملحوظ رہے کہ ہم نے اِس مختصر مضمون میں تمام تحقیقی مقالات کا اِحاطہ نہیں کیا، بلکہ اِختصار کے پیشِ نظر محدود رکھا ہے؛ وگرنہ ماسٹرز، الشہادۃ العالمیۃ اور بی۔ ایس کی سطح پر بے شمار مقالات جات مختلف جامعات میں لکھے گئے ہیں۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ ہمیں مُجَدِّدُ الْمِئَةِ الْحَاضِرَة شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تجدیدی و اِحیائی خدمات سے کما حقہٗ مستفید ہونے کا فہم عطا فرمائے۔