نیا سال 2026ء جب وقت کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہے تو یہ لمحہ محض خوشیوں، تقریبات اور رسمی پیغامات کا نہیں بلکہ گہرے غور و فکر، اجتماعی احتساب اور فکری بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقوام اور تحاریک نئے سال کو صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہیں سمجھتیں بلکہ اسے اپنے سفر کے محاسبہ اور مستقبل کے تعین کا نقطۂ آغاز بناتی ہیں۔ تحریک منہاج القرآن اس نئے سال کو اسی شعور، اسی ذمہ داری اور اسی فکری سنجیدگی کے ساتھ خوش آمدید کہتی ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک وقت اللہ تعالیٰ کی وہ امانت ہے جس کا ہر لمحہ سوال بن کر انسان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ 2026ء ہم سے پوچھ رہا ہے کہ کیا ہم نے گزرے ہوئے سالوں سے کچھ سیکھا؟ کیا ہم نے ان زخموں کو پہچانا جو امت کے جسم پر لگے؟ اور کیا ہم نے اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کی جو کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے؟
اس حقیقت پر ہمارا کامل یقین ہے کہ انسانی تاریخ کا ہر نیا دور اخلاقی بنیادوں کے بغیر کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔ آج کی دنیا بظاہر ترقی، ٹیکنالوجی اور طاقت کے عروج پر کھڑی ہے مگر اس کے اندر کا انسان خوف، تنہائی، بے یقینی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ نیا سال 2026ء اسی تضاد کے ساتھ ہمارے سامنے آ رہا ہے؛ ایک طرف مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انقلاب اور مادی سہولتوں کا سیلاب ہے اور دوسری طرف انسان کی روح پیاسی، دل بے چین اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تحریک منہاج القرآن سمجھتی ہے کہ یہ بحران محض معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ بنیادی طور پر فکری اور روحانی ہے اور جب تک اس کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں نہیں کیا جاتا، کوئی نظام، کوئی پالیسی اور کوئی اصلاحاتی ایجنڈا دیر پا ثابت نہیں ہو سکتا۔
امتِ مسلمہ آج جن حالات سے دوچار ہے، وہ کسی ایک سال یا ایک دہائی کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل فکری انحراف، اخلاقی غفلت اور دینی اقدار سے تدریجی دوری کا شاخسانہ ہے۔ آج اغیار امتِ مسلمہ پر غلبہ پائے ہوئے ہیں اور اپنی پالیسیاں ڈکٹیٹ کروا رہے ہیں مگر ہماری کمزوری یہ نہیں کہ ہمارا دشمن بڑا چالاک ہے بلکہ ہماری کمزوری یہ ہے کہ امت ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ فرقہ واریت، تعصب، نفرت انگیز رویے اور ذاتی مفادات نے امت کو اندر سے کمزور کیا ہے۔ شانِ رفتہ کی بحالی صرف نعروں سے نہیں بلکہ فکر کی اصلاح، کردار کی تطہیر اور مقصد کی تجدید سے ممکن ہے۔
تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ بارہا اس امر پر زور دے چکے ہیں کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست سب کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری فرماتے ہیں کہ انسان کی انفرادی زندگی کا مقصد اور نصب العین ’’اخلاقی کمال کا حصول‘‘ ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ’’اور میں نے جن و انسان اس لیے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری بندگی کریں۔ ‘‘ اس آیت میں عبادت کے لفظ سے شاید کسی کو یہ گماں پیدا ہو کہ عبادت اور بندگی سے مراد صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ ہیں اور انہی عبادات کا بجالانا انسانی زندگی کا نصب العین ہے۔ یہ تصور غلط ہے کیونکہ قرآن عبادت اور بندگی کو انسانی تخلیق کا واحد مقصد قرار دے رہا ہے جبکہ ارکانِ اسلام تمام کے تمام مل کر بھی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط نہیں ہوسکتے۔ انسان کھاتا پیتا بھی ہے، شادی بیاہ بھی کرتا ہے اور ہر طرح کے معاملاتِ زندگی بھی نبھاتا ہے۔ ان تمام معاملات کو عبادات کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی عبادت ہے جس کو انسانی تخلیق اور اس کی حیات کا مقصد قرار دیا گیا ہے؟ یاد رکھیں! اسلام کے نزدیک عبادت اور نیکی کا مفہوم اس قدر محدود نہیں کہ جس کا بقیہ عملی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہوبلکہ قرآنی تصورِ عبادت اس قدر وسیع ہے جو انسان کی فکری اور عملی زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے۔ صحتِ عقائد، حبِ الہٰی، مالی ایثار، صحتِ اعمال، ایفائے عہد، صبرو تحمل اور اللہ رب العزت کے راستے میں کوشش کرنا، ان تمام اجزاء کا مجموعہ نیکی اور اصل عبادت ہے۔
نیا سال 2026ء ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر دین کو صرف مسلک، رسم یا مخصوص طبقے تک محدود کر دیا جائے تو وہ اپنی انقلابی روح کھو دیتا ہے۔ منہاج القرآن کی دعوت ہمیشہ اعتدال، علم، امن اور انسانیت کے گرد گھومتی رہی ہے، کیونکہ یہی وہ اوصاف ہیں جو حضور نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا حقیقی عکس ہیں۔
نئے سال کے آغاز پر سب سے بڑا چیلنج نوجوان نسل کو مقصدیت سے ہم آہنگ کرنا ہے، جو ایک طرف بے مثال صلاحیتوں کی حامل ہے اور دوسری طرف فکری انتشار کا شکار بھی۔ تحریک منہاج القرآن اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چراتی کہ اگر نوجوان دین سے دور ہو رہا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دین کو اس کی زبان میں، اس کے مسائل کے تناظر میں اور اس کے ذہنی سوالات کے مطابق پیش نہیں کیا۔ 2026ء ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف نصیحت کا مخاطب نہ بنائیں بلکہ مکالمہ کا شریک بنائیں، انہیں دلیل دیں، اعتماد دیں اور سب سے بڑھ کر اپنے کردار سے دین کی خوبصورتی دکھائیں۔
خاندانی نظام، جو اسلامی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آج شدید دباؤ کا شکار ہے۔ طلاق کی بڑھتی شرح، والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتا فاصلہ اور گھریلو زندگی میں روحانیت کی کمی اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کو صرف رہائش گاہ بنا دیا ہے، تربیت گاہ نہیں۔ تحریک منہاج القرآن نئے سال 2026ء کے موقع پر اس امر پر زور دیتی ہے کہ اصلاح کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اگر گھر میں قرآن کی آواز، ذکر کی خوشبو اور محبت کا ماحول نہیں ہوگا تو معاشرہ کبھی پرامن نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح معاشی ناانصافی، سودی نظام اور اخلاق سے عاری سیاست نے معاشرے میں بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔ تحریک منہاج القرآن یہ سمجھتی ہے کہ سیاست اگر اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ خدمت کے بجائے تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ نیا سال ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ قیادت امانت ہے، اختیار آزمائش اور طاقت کا اصل مقصد عدل کا قیام ہے۔ جب تک ہم ان اصولوں کو قبول نہیں کرتے، ہمارے مسائل کا حل ممکن نہیں۔
تحریک منہاج القرآن ہمیشہ تعلیم، تحقیق اور فکری تربیت کو اپنی جدوجہد کا مرکز بناتی رہی ہے۔ 2026ء میں داخل ہوتے ہوئے ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ علم کے بغیر کوئی تحریک زندہ نہیں رہ سکتی، ہمیں ایسے افراد تیار کرنے ہوں گے جو قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے بھی آگاہ ہوں، جو نفرت نہیں بلکہ امن کے سفیر ہوں، جو شدت نہیں بلکہ حکمت کے داعی ہوں اور جو اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔
نیا سال 2026ء ہمارے لیے ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے اور ایک ذمہ داری ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم مایوسی کو ترک کریں، امید کو اپنائیں اور عمل کے میدان میں اتریں۔ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں کہ ہم حالات بدل سکتے ہیں اور جدوجہد مسلسل ہو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی شامل حال ہوجاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چند باکردار افراد بھی اگر سچائی پر ڈٹ جائیں تو بڑے بڑے نظام بدل جاتے ہیں۔
تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مصطفوی معاشرہ کی تشکیل کے لیے مراکزِ علم قائم کرنے کا ویژن دیا ہے اور پہلے مرحلے میں ملک بھر میں 25ہزار مراکز علم قائم کیے جائیں گے، جب گھروں میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ذکر کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جائیں گی تو یقینا خیر کے اثرات و ثمرات گلی کوچہ تک جائیں گے۔ مراکزِ علم 2026ء کا ایک خوبصورت تحفہ ہے۔