پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا دورۂ بحرین

خصوصی رپورٹ

ایک طرف وطن عزیز میں فورسز دہشت گردی کے خلاف مشکل ترین جنگ لڑ رہی ہیں، شہادتیں ہو رہی ہیں، روز دہشت گردی کے کسی سانحہ میں قیمتی جانیں ضائع ہونے کی خبر پڑھتے ہیں اور دوسری طرف افسوس کہ ہمارے سیاسی دماغ قومی وسائل قوم کو تقسیم کرنے پر خرچ کر رہے ہیں اور اپنے ہی نشیمن پر بجلیاں گرا کر پاکستان کو دنیا میں تماشا بنا رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں منہاج القرآن کی قیادت دہشت گردی اور فتنہ الخوارج کے خلاف اسلامی دنیا کو اکٹھا کر رہی ہے اور اسلامی دنیا کے دانشوروں اور پالیسی ساز شخصیات کو قائل کر رہی ہے کہ کس طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور امت کا اتحاد ممکن ہے اور کس طرح امت کے نوجوانوں کو انتہا پسندی اور فتنہ الخوارج سے بچایا جا سکتا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے گزشتہ ماہ بحرین میں اہم حکومتی و علمی شخصیات سے کامیاب ملاقاتیں کیں اور انھیں دہشت گردی کے فتنے سے نمٹنے کے لیے قرآن و سنت کے تناظر میں اپنی تحقیقات کے بارے میں آگاہ کیا۔ ہمیں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری جیسے پاکستان کے بیٹوں اور اسلام کےبےتیغ سپاہیوں پر فخر ہے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اسلام اور پاکستان کے ایسے ترجمان اور وکیل ہیں کہ جنھیں فخر کے ساتھ دنیا کے کسی بھی خطہ اور فورم پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں منہاج القرآن کی قیادت پر فخر ہے۔ ذیل میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کے دورۂ بحرین کی اجمالی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:

1۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے دورۂ بحرین کے دوران کنگ حماد گلوبل سنٹر فار پیس بحرین کے نائب چیئرمین ڈاکٹر علی الاعرادی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ڈاکٹر علی الاعرادی نے چیئرمین سپریم کونسل کا اپنے آفس میں پرتپاک استقبال کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر ڈاکٹر علی العرادی کو منہاج القرآن انٹرنیشنل کے عالمی نیٹ ورک اور گزشتہ چار دہائیوں پر محیط اس کی خدمات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے قیامِ امن، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، انتہا پسندی کے خلاف بیانیے کی ترویج، تعلیمی اصلاحات، فلاحِ انسانیت اور عالمی مکالمہ کے حوالے سے تحریک کے کلیدی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سرپرستی اور فکری راہنمائی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے، اتحاد اُمت، بین المذاہب رواداری و بین المسالک ہم آہنگی کے لئے تحریری و تقریری سطح پر فعال کردار ادا کررہی ہے اور اس ضمن میں سیکڑوں کتب تصنیف کی جا چکی ہیں۔

اس ملاقات میں منہاج یونیورسٹی لاہور کے تعلیمی پروگرامز، تقابلِ ادیان میں پوسٹ گریجویٹ ریسرچ اور عالمی مذاہب کانفرنسز کی تفصیلات بھی تبادلہ خیال کا حصہ رہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر شیخ الاسلام کے تصنیف کردہ دہشت گردی کیخلاف مبسوط فتویٰ اور فروغِ امن پر لکھی جانے والی کتب پیش کیں۔ چیئرمین سپریم کونسل نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”دستور مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور“ بھی دی جسے ڈاکٹر علی الاعرادی نے ایک شاندار تاریخی تحقیق قرار دیا۔ ڈاکٹر علی العرادی اور دیگر معزز شخصیات نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی علمی و امن پسندی کی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی کاوشوں کی تعریف کی۔

اس موقع پر خیر سگالی کے طور پر ڈاکٹر علی العرادی نے پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کو یادگاری شیلڈ (Shield of Honor) بھی پیش کی۔ ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ مشترکہ انسانی اقدار، فروغِ امن اور عالمی ہم آہنگی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے منہاج القرآن انٹرنیشنل اور کنگ حماد سینٹر کے درمیان طویل مدتی تعاون کی راہیں ہموار کی جائیں گی۔

2۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے بحرین کی مجلسِ نمائندگان (نیشنل اسمبلی) کے نائب اسپیکر رکنِ پارلیمنٹ احمد عبدالواحد قرطہ سے ملاقات کی۔ ملاقات مجلسِ النواب میں ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحرین بین التہذیب مکالمہ اور مشترکہ ثقافتی کے احترام اور روایات کا امین ملک ہے۔ انہوں نے شاہِ بحرین اور ولی عہد و وزیرِ اعظم کی عالمی سطح پر امن اور بین المذاہب مکالمہ اور رواداری کے فروغ کے لیے غیر معمولی خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے بحرین کی طرف سے حال ہی میں منعقد ہونے والی ’’انٹرا فیتھ اسلامک کانفرنس‘‘ کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ نائب اسپیکر احمد عبدالواحد قرطہ نے پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے علمی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا بالخصوص تعلیم، بین المذاہب ہم آہنگی، کمیونٹی سروس اور امن کے میدان میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مثبت کردار کو سراہا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے نائب سپیکر کو شیخ الاسلام کی تصانیف اور اپنی شہرہ آفاق تحقیق ’’دستور المدینہ‘‘ نائب اسپیکر کو پیش کیں۔ نائب سپیکر بحرین پارلیمنٹ نے کتب کے تحفہ پر مسرت کا اظہار کیا اور ان تحقیقات کو امت کی فکری ضرورت قرار دیا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی رابطوں اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

3۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کے حالیہ دورہِ بحرین کے دوران، King Hamad Global Center for Peaceful Coexistence and Tolerance کے زیرِ انتظام ایک ملاقات میں Bishop Aldo Berardi نے Cathedral of Our Lady of Arabia میں ان کا استقبال کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا گیا اور انہیں جزیرہ نما عرب کے اس سب سے بڑے کیتھولک چرچ کا تفصیلی دورہ کرایا گیا، جہاں انہوں نے اس تاریخی عمارت کے متاثر کن تعمیراتی فن پارے کو سراہا۔

Bishop Aldo Berardi نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی عالمی سطح پر انسانی اور علمی خدمات، امن، سماجی ہم آہنگی، بین المذاہب مکالمے اور عوامی بہبود کے فروغ میں MQI کی غیر معمولی خدمات سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر کانفرنسز، امن کے نصاب، علمی مطبوعات اور منہاج یونیورسٹی میں قائم Peace and Counter-Extremism Department کی کوششوں کو اجاگر کیا، جو انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خلاف عالمی بیانیے کو مضبوط کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اسلام کی شفقت، علم، عاجزی، انسانیت کی خدمت اور باہمی احترام پر مبنی تعلیمات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت و شفقت پر مبنی تعلیمات اتحاد اور عالمگیر بھائی چارے کو فروغ دیتی ہیں۔ مذاہب کے درمیان باہمی احترام اور تعمیری مکالمہ ہی پرامن بقائے باہمی کی راہ ہموار کرتے ہیں اور عقیدے کی آزادی، مذہبی رواداری اور تنوع کا احترام ایک ترقی پسند اور ہم آہنگ معاشرے کے لازمی ستون ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے Bishop Berardi کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور اپنی اہم علمی تصانیف پیش کیں۔ Bishop Berardi نے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا شکریہ ادا کیا اور امن، بقائے باہمی اور بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے لیے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ساتھ مستقبل میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

4۔ بحرین میں ’’Manama Coexistence Pathway‘‘کے حصے کے طور پر، اور King Hamad Global Center for Peaceful Coexistence کے نمائندوں کے زیرِ انتظام اور معیت میں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے Shrinathji Hindu Temple کا دورہ کیاجو 1812ءمیں قائم ہوا اور اسے بحرین اور مشرقِ وسطیٰ کا قدیم ترین ہندو مندر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مندر کے ایگزیکٹو Mr. Mahendra Bhatia نے گرمجوشی سے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح حضور نبی اکرم ﷺ کا عطا کردہ میثاقِ مدینہ شمولیت اور رواداری کا ایک لازوال نمونہ ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تمام متنوع طبقات برابر کے حقوق اور آئینی شہریت سے لطف اندوز ہوں۔ اس مکالمہ میں تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور احترام کی مشترکہ اقدار کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے Mr. Bhatia کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور اپنی کتب پیش کیں۔ یہ دورہ اس وقار، بقائے باہمی اور باہمی احترام کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو بحرین کے مختلف طبقات کے درمیان پروان چڑھ رہا ہے۔

5۔ Manama Coexistence Pathway پروگرام کے تسلسل میں اورKing Hamad Global Center for Peaceful Coexistence کے نمائندوں کی معیت میں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ’’Bait Mohammad Bin Hassan Al-Arrayed‘‘ خاندان کے کمیونٹی سینٹر کا دورہ کیا۔ سینٹر پہنچنے پرMr. Maher Al-Arrayed نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خاندان کی بھرپور تاریخ، ثقافتی ورثے اور تمام طبقات کے درمیان سماجی ہم آہنگی کی بحرین کی دیرینہ روایت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اس ملاقات کے دوران علمی اور انسانی اہمیت کی حامل کتب کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ یہ ملاقات کے امن پسند بقائے باہمی کے زندہ ماڈل اور مملکت کی حکیمانہ قیادت کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی مشترکہ انسانی اقدار کا مظہر تھا۔

6۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے حالیہ دورے کے دوران ملک کی دو قدیم اور تعمیراتی لحاظ سے اہم مساجد کا دورہ کیا۔ ان کا پہلا پڑاؤ Al-Fadhel Mosque تھی، جو بحرین کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے اور قدیم Manama کے ساحلوں پر واقع ہے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کو مسجد کا تفصیلی دورہ کرایا گیا، جہاں انہوں نے اس کی تاریخ اور ان معزز بانی شخصیات کے بارے میں جاناجو King Hamad bin Isa Al Khalifa کے آباؤ اجداد تھے، جن کی خدمات بحرین کے بھرپور روحانی ورثے کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد انہیں Juffair میں واقع Al-Fateh Grand Mosque لے جایا گیا، جو کہ ایک عظیم الشان تعمیر ہے اور اس میں تقریباً 8,000 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس مسجد کا طرزِ تعمیربحرینی، اطالوی، ہندوستانی، فارسی اور وسیع تر ایشیائی اثرات کے ایک شاندار امتزاج کی عکاسی کرتا ہے، جو اسلامی فن اور تعمیراتی ڈیزائن کے ایک نفیس ملاپ کا مظہر ہے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس بات کی تعریف کی کہ کس طرح تعمیراتی ڈھانچے، اسلامی شناخت اور ثقافتی بنیادوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔

22 نومبر 2025ء کو منہاج یونیورسٹی میں سالانہ کانووکیشن منعقد ہوا جہاں طلبہ کو ڈگری اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو شیلڈز سے نوازا گیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اس پروگرام میں آن لائن شرکت فرمائی۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے ڈپٹی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد اور یونیورسٹی کے اساتذہ کرام اور مختلف طبقہ ہائے زندگی کی نمایاں شخصیات نے اس کانووکیشن میں خصوصی شرکت کی۔

1. منہاج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے کانووکیشن 2025ء کے موقع پر معزز مہمانوں، فارغ التحصیل طلبہ، والدین اور اساتذہ کرام کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 1,562 گریجویٹس کو مبارک باد پیش کی، جن میں 41 پی ایچ ڈی اسکالرز بھی شامل تھے اور طلبہ کی کامیابیوں میں والدین کی سرپرستی، اساتذہ کی محنت اور جامعہ کی قیادت کی انتھک کاوشوں کو سراہا۔ وائس چانسلر نے منہاج یونیورسٹی لاہور کے تعلیمی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جامعہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی W-3 کیٹیگری کی صفِ اول کی یونیورسٹی ہے، جہاں 11 فیکلٹیز، 150 سے زائد ڈگری پروگرامز، جدید سہولیات، تحقیقی مراکز اور ایشیا کی پہلی روبوٹک لائبریری موجود ہے۔

2. پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کانووکیشن 2025ء کے موقع پر فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانووکیشن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ غور و فکر، مقصد شناسی اور شکرگزاری کا ایک اہم لمحہ ہے۔ تعلیم اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ کردار سازی کرے، اخلاقی شعور کو بیدار کرے اور عقل کے ساتھ دل کو بھی منور کرے۔ آج تعلیم میں اصل مقصد کے بجائے نمبروں اور گریڈز کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ تعلیمی ادارے اسلامی تعلیمی روایت کے مطابق اخلاقیات، کردار سازی، ہمدردی اور فکری تربیت کو دوبارہ مرکزیت دیں۔ تاریخ کے عظیم ترین معلم حضرت محمد ﷺ نے بغیر عمارتوں، ڈگریوں اور جدید آلات کے محض کردار، رحمت اور مقصد کے ذریعے دنیا کو بدل دیا۔ یہی وہ نمونہ ہے جس کی طرف آج کے تعلیمی نظام کو واپس لوٹنا چاہیے۔

3. گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے منہاج یونیورسٹی لاہور میں مدعو کیے جانے پر تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1986ء میں شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے قائم کردہ اس عظیم تعلیمی ادارے کا دورہ کرنا ان کے لیے ذاتی اعزاز ہے۔ شیخ الاسلام ایک غیر معمولی عالم، مفکر، وژنری رہنما اور اسلامی فکر کے عالمی سفیر ہیں، جن کا علم و حکمت آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے منہاج یونیورسٹی لاہور کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ سماجی ترقی، کردار سازی، امن کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ منہاج یونیورسٹی کے اقدامات منفرد اور قابلِ تقلید ہیں، جو آج کے دور میں کم ہی دیگر اداروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔

4. منہاج یونیورسٹی لاہور کے فخر مند سابق طالب علم اور پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے کنٹرولر امتحانات مسٹر ملک عرفان قاسم نے کانووکیشن 2025ء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانووکیشن کے اسٹیج پر بطور مہمانِ خصوصی کھڑا ہونا ہی نہیں بلکہ اسی یونیورسٹی کے سابق طالب علم کی حیثیت سے موجود ہونا ان کے لیے باعثِ فخر اور جذباتی لمحہ ہے۔

5. منہاج یونیورسٹی لاہور میں ہمالیئن انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز (HIRPS) کا باقاعدہ افتتاح معزز گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد اور دیگر معزز مہمانوں کے ہمراہ کیا۔ HIRPS ایک منفرد اور پیش رو تحقیقی ادارہ ہے جو ہمالیائی خطے اور اس سے متصل ریاستوں کے جغرافیائی، اسٹریٹجک، ماحولیاتی اور سماجی و معاشی پہلوؤں کا جامع مطالعہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ چین، بھارت، افغانستان اور پاکستان جیسی بڑی ایشیائی طاقتوں کے سنگم پر واقع ہمالیائی پٹی محض ایک قدرتی رکاوٹ نہیں بلکہ علاقائی استحکام، موسمیاتی مزاحمت، سلامتی اور ترقی کے حوالے سے ایک نہایت اہم جیو پولیٹیکل محور کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادارے کے تحقیقی دائرۂ کار میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، چین، بھارت، میانمار، نیپال اور وسطی ایشیائی ریاستیں (CARs) شامل ہیں۔ HIRPS کا مقصد شواہد پر مبنی تحقیق، اسٹریٹجک تجزیات اور پالیسی سفارشات تیار کرنا ہے تاکہ حکومتیں، ادارے اور معاشرے اس خطے کے چیلنجز اور مواقع کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کر سکیں۔

6. کانووکیشن 2025 ءسے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے نہایت فکر انگیز اور بامقصد پیغام دیا۔ انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا کہ ڈگری حاصل کرنا زندگی کا آخری ہدف نہیں بلکہ عملی ذمہ داریوں اور معاشرے میں بامعنی کردار ادا کرنے کا آغاز ہے۔ تعلیم کا حقیقی مقصد اسی وقت پورا ہوتا ہے جب علم انسان کے کردار، اخلاق اور طرزِ عمل میں نمایاں ہو۔ فارغ التحصیل نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حسنِ اخلاق اور شائستہ رویّے کے ذریعے دوسروں کے لیے آسانی، فائدہ اور خیر کا ذریعہ بنیں۔

شیخ الاسلام نے نوجوانوں کو خود احتسابی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینا اور مسلسل ذاتی اصلاح پر کام کرنا کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔ حقیقی کامیابی دیانت، عاجزی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے وابستہ ہے۔ ان کا پیغام اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ علم کو صرف ذہن ہی نہیں بلکہ دل کو بھی منور کرنا چاہیے، تاکہ فارغ التحصیل طلبہ ایک بامقصد، ذمہ دار اور اقدار پر مبنی زندگی کی طرف قدم بڑھا سکیں۔

7. منہاج یونیورسٹی لاہور کو بین المذاہب ہم آہنگی، پرامن بقائے باہمی اور فکری تنوع کے فروغ میں اپنی منفرد روایت پر فخر ہے۔ مختلف علمی شعبہ جات کے نمایاں طلبہ کو اعزازات دے کر جامعہ احترام، شمولیت اور باہمی فہم و شعور جیسی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔ کانووکیشن 2025 ءکے موقع پر بین المذاہب اور امتیازی کارکردگی ایوارڈز پیش کیے گئے، جن کا مقصد نہ صرف تعلیمی برتری کو سراہنا بلکہ اتحاد، انسانی اقدار اور ہم آہنگی کے پیغام کو فروغ دینا تھا۔ یہ اعزازات جامعہ کے اس مشن کی عکاسی کرتے ہیں جس میں کردار سازی، ہمدردی اور معاشرتی ہم آہنگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

8. منہاج یونیورسٹی لاہور نے کانووکیشن 2025 ءکے بین المذاہب اور امتیازی کارکردگی ایوارڈز میں تعاون پر اپنے اسپانسرز اور معزز مہمانوں کو شیلڈز پیش کر کے ان کی خدمات کو سراہا۔

9. کانووکیشن میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، کنٹرولر امتحانات مسٹر عبداللہ، محترمہ ڈاکٹر غزالہ حسن قادری اورمحترمہ فضہ حسین قادری نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو گولڈ میڈلز پہنائے۔