زندگی فطری طور پر مسلسل تغیر، نشوونما اور حرکت کے مراحل سے گزرنے کا نام ہے۔ وقت ایک بہتی ہوئی ندی کی مانند ہے جو رکتا نہیں، بلکہ ہر گزرتا لمحہ انسانی تجربات کے ذخیرے میں اضافہ کرتا ہے۔ گردشِ ساعت کے اس عمل میں جب ایک سال ختم ہوتا ہے اور دوسرا سال شروع ہوتا ہے، تو انسان کے سامنے زندگی کا ایک نیا ورق، ایک نئی صبح اور ایک نیا دائرۂ امکانات کھل جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ سال کے آغاز کو صرف تاریخ کے بدلنے سے تعبیر کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ سالِ نو انسانی شعور میں نفسیاتی تازگی اور باطنی بیداری کا باعث بنتا ہے۔ یہ لمحہ انسان کو جھنجوڑ کر اس حقیقت سے روشناس کرواتا ہے کہ ہر گزرا ہوا لمحہ ایک امانت ہے اور انسان کا مقصدِ حیات وقت کے صحیح استعمال میں مضمر ہے۔
سال کا بدلنا انسانی جذبات میں ایک تازہ روح پھونکتا ہے۔ یہ گویا ایک دروازہ ہے جو نئے امکانات اور نئی راہوں کی طرف کھلتا ہے۔ اسی لیے مختلف تہذیبوں میں سالِ نو کو امید، آغاز اور تجدید کا تہوار سمجھا جاتا ہے۔ انسان کی فطرت میں اللہ رب العزت نے یہ خواہش ودیعت کررکھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہتر بنائے، غلطیوں سے سیکھے، نئے اہداف بنائے اور آگے بڑھے۔ یہی تجدید اور ارتقاء کی خواہش زندگی کو معنویت بخشتی ہے۔ قرآن حکیم اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِاَنْفُسِهِمْ.
(الرَّعْد، 13: 11)
”بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں۔ “
یہ آیتِ مبارکہ انسانی تبدیلی کا سب سے بڑا اصول بیان کرتی ہے کہ تبدیلی بیرونی حالات سے نہیں آتی، بلکہ حقیقی تبدیلی انسان کے باطن سے جنم لیتی ہے۔ سالِ نو اس باطنی تبدیلی کا بہترین وقت ہے۔ جب انسان خود سے سوال کرتا ہے: میں کون ہوں۔۔۔ ؟ میں کیا کر رہا ہوں۔۔۔ ؟ میری زندگی کی سمت کیا ہے۔۔۔ ؟ اور مجھے کیا بننا ہے۔۔۔ ؟ تو یہی وہ سوالات ہیں جن کے ذریعے کردار کی تعمیر اور عملی زندگی کا نیا سفر شروع ہوتا ہے۔ سال کے آغاز کا سب سے بنیادی اور ضروری عمل محاسبۂ نفس(SELF-ACCOUNTABILITY) ہے، جو اسلام کی روح اور اخلاقی تربیت کا اہم ستون ہے۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا قَبْلَ أَنْ يُحَاسَبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
(سنن ترمذي، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ ، الرقم: 2459)
” دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لو اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس نفس کا محاسبہ کیا جائے۔ “
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کاقول ہے:
حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا.
(سنن ترمذي، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ ، الرقم: 2459)
”اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ “
محاسبۂ نفس دراصل انسان کے باطن کی وہ بیداری ہے جو اسے اپنی کمزوریوں، لغزشوں اور کوتاہیوں کا ادراک عطا کرتی ہے۔ یہ خود شناسی کا پہلا درجہ ہے، جس کے بغیر کوئی فرد حقیقی اخلاقی اور روحانی ترقی نہیں پا سکتا۔ یہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے، ہر عمل اور ہر فیصلے کا ذمہ دار ہے۔ یہی احساس فرد کے اندر سنجیدگی، فکر اور بہتر مستقبل کے لیے سمت کا تعین پیدا کرتا ہے۔ محاسبۂ نفس ایمان کا جز اور روحانی تربیت کا بنیادی ستون ہے۔ ابو یعلیٰ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ.
(سنن ابن ماجہ، كتاب الزهد، باب: ذكر الموت والاستعداد له، الرقم: 4260)
”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔ “
جب فرد اپنی خامیوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کرتا ہے تو اس کے اندر خلوص، سچائی، ذمہ داری، امانت اور دیانت جیسے اوصاف پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ شخصیت کا سب سے مضبوط حصہ وہی ہوتا ہے جسے انسان خود محنت سے تعمیر کرتا ہے اور یہ محنت اس وقت تک شروع نہیں ہوتی جب تک انسان اپنے باطن کے آئینے میں جھانک کر اپنے حقیقی مقام اور کمزوریوں کو نہ دیکھےاور پھر انھیں سنوارنے کی تگ و دو نہ کرے۔
نئے سال کے آغاز میں یہ محاسبۂ نفس خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ وقت عزائم کی تشکیل، مقاصد کے تعین اور کردار کی تعمیر کا وقت ہے۔ روزانہ اپنے اعمال، وقت کے استعمال، وعدوں کی پاسداری اور اہداف کے حصول کا جائزہ لینا، نہ صرف نظم و ضبط سکھاتا ہے بلکہ وہ اعتماد بھی پیدا کرتا ہے جو کامیاب عملی زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔ جو افراد اور اقوام اپنا محاسبہ کرتی ہیں، وہ حالات کے دھارے میں بہتے ہیں اور نہ دوسروں کے اثر میں بکھرتے ہیں بلکہ اپنے مقصد، اخلاق اور کردار کی مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ نیا سال وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے کردار، رویوں، وقت کے استعمال اور تعلقات کا جائزہ لے کر ایک نئی منزل کا تعین کرتا ہے۔ منصوبہ بندی کے بغیر زندگی بے سمت رہتی ہے۔ سال کے آغاز میں تعلیم، کیریئر، روحانیت، صحت، اخلاق اور معاشرتی خدمت الغرض ہر دائرے میں اہداف طے کرنا کامیاب زندگی کا راستہ کھولتا ہے۔
نیا سال اور درپیش چیلنجز
نیا سال بظاہر محض تقویم کی تبدیلی ہے، مگر حقیقتاً یہ ماضی کا محاسبہ کرنے اور مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنے کا سنہری موقع ہے۔ عصرِ حاضر میں ہمارے سامنے سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا، مقابلے کی فضا، ذہنی دباؤ، بے سمتی اور نظریاتی انتشارہے۔ نت نئے فکری، معاشرتی اور نفسیاتی چیلنجز کھڑے ہیں جن کے سبب درج ذیل کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں:
(1) معلومات کا ہجوم اور فکری انتشار
آج ہم بے شمار معلومات کے سمندر میں غوطہ زن ہیں، مگر ہم میں سے اکثریت معلومات کے معیاراور خبر کی صداقت سے ناواقف ہے اور بغیر کسی تحقیق کے اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور یوں یہ مبہم اور غیر مصدقہ خبر یا معلومات معاشرتی مسائل کا باعث بن جاتی ہیں۔ اگر معلومات کی باقاعدہ جانچ پڑتال نہ ہو اور نہ ہی یہ معلوم ہو کہ کون سی معلومات مفید ہیں اور کون سی غیر مفید تو یہ ذہنی اور فکری انتشار کا سبب بن جاتی ہیں۔ قرآن فرماتا ہے:
فَتَبَيَّنُوا.
(الحجرات، 49: 6)
”تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔ “
اگر ہم تحقیق و شعور کے بغیر ہر خبر اور ہر رائے کو قبول کریں تو فکری انتشار اور ذہنی الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔
نئے سال میں علم دوستی اور شعور کی بنیاد پر اپنی سوچ کو منظم اور ہر فیصلہ کو مضبوط بنانے کا عہد کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا، پروپیگنڈا اور افواہوں کی دنیا نے ہمیں جذباتی اور فکری طور پر کمزور کردیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ.
سنن (ترمذي، كتاب العلم عن رسول الله ﷺ ، باب ما جاء في فضل طلب العلم، الرقم: 2646)
”جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان (و ہموار) کر دیتا ہے۔ “
علم کا راستہ جنت کی طرف جاتا ہے۔ اگر ہم سچ اور جھوٹ میں تمیز کے لیے علم حاصل کریں تو ذہنی انتشار سے آزاد ہوسکتے ہیں اور اپنی شخصیت میں پختگی لا سکتے ہیں۔
سال کا آغازہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ ہم معلومات کو انتخاب اور تحقیق کے معیار سے پرکھنے کو اپنا شعار بنا لیں۔ جدید نفسیات بھی کہتی ہے کہ سوچ سمجھ کر علم حاصل کرنے سے اعتماد، تنقیدی سوچ اور فکری آزادی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے مضبوط کرتے ہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔
(2) وقت کی قدر اور نظم و ضبط
وقت ہر انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور ایک بار ضائع ہونے کے بعد واپس نہیں آتا۔ آج ہم وقت کی پابندی اور نظم ضبط جیسے اعلیٰ اوصاف سے کوسوں دور ہیں۔ ہمارا ہر عمل غیر منظم ہوتا ہے۔ وقت کی ناقدری کی وجہ سے ہم نہ صرف اپنی قیمتی ساعتوں کو ضائع کرتے ہیں بلکہ اس کے علاوہ کئی دیگر معاشرتی اور سماجی مسائل کو بھی دعوت دیتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے وقت کی قسم کھا کر انسان کو متنبہ کیا:
وَالْعَصْرِ. إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ.
(العصر، 103: 1۔2)
’’زمانے کی قسم (جس کی گردش انسانی حالات پر گواہ ہے)۔ بےشک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمرِعزیز گنوا رہا ہے۔ )‘‘
آج اگر ہم وقت کے ضیاع پر قابو پا لیں تو اپنی شخصیت کو مضبوط اور ذمہ دار بنا سکتے ہیں۔ سالِ نو ایک نیا موقع ہے کہ وقت کی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کو اختیار کریں۔ اسلام ہمیں اپنی زندگی میں ترتیب اور عادت پیدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ.
(سنن ترمذی، كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، الرقم: 2304)
”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں سے زیادہ لوگ نقصان اٹھاتے ہیں: صحت اور فرصت (وقت)۔ “
اگر ہم اپنے فارغ وقت کو مثبت سرگرمیوں، مطالعہ اور عبادات میں استعمال کریں تو نہ صرف علم و اخلاق میں ترقی کریں گے بلکہ اپنی شخصیت کو بھی نکھاریں گے۔ علم النفسیات بتاتا ہے کہ وقت کی پابندی اور نظم و ضبط بندے کے اندر اعتماد، مستقل مزاجی اور فیصلہ سازی کی قوت پیدا کرتا ہے۔
سالِ نو میں ہمیں چاہیے کہ ہر دن کے لیے چھوٹے اہداف مقرر کریں، غیر ضروری مشغولیات کم کریں اور اپنی زندگی کو نظام و ترتیب کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ شخصیت مضبوط اور مثبت رویے کی حامل ہو۔
(3) ذہنی دباؤ، مایوسی اور مثبت سوچ
آج ہم میں سے اکثر کو ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سامنا ہے۔ تعلیمی، سماجی اور مالی دباؤ شخصیت اور اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا.
(الْإِنْشِرَاح، 94: 5)
’’سو بے شک ہر دشواری کے ساتھ آسانی (آتی)ہے۔ ‘‘
یعنی مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ اگر ہم ہر چیلنج کو ایک موقع سمجھ کر مثبت سوچ اپنائیں تو ناکامی میں بھی حوصلہ حاصل ہوسکتا ہے۔ مثبت سوچ زندگی کے ہر چیلنج سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ OPTIMISM اور RESILIENCE ذہنی صحت اور شخصیت سازی کے لیے لازمی ہیں۔
سالِ نو بہترین موقع ہے کہ ہم ذہنی دباؤ کو منظم کریں، مایوسی کو شکست نہ سمجھیں اور ہر مشکل میں اللہ کی رضا اور حکمت کو تلاش کریں۔ عبادات، ذکر اور مطالعہ اندرونی سکون اور اعتماد عطا کرتے ہیں، جس سے ہم اپنی شخصیت میں مضبوطی اور استحکام پیدا کرسکتے ہیں۔
(4) کردار و اخلاقی چیلنجز اور تحمل
آج جدید دور میں ہم جذباتی اور اخلاقی چیلنجز سے دوچار ہیں۔ جھوٹ، فریب، مادّیت اور فوری ردعمل معاشرتی اور شخصی مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم تحمل، حلم اور بردباری اپنا لیں تو ہمارے کردار میں وقار اور مضبوطی آئے گی اور ہم معاشرتی اور ذاتی مسائل کو کامیابی سے حل کرسکتے ہیں۔
سالِ نو بہترین موقع ہے کہ ہم ہر معاملے میں تحمل اختیار کریں، ردِعمل سے پہلے سوچیں اور اخلاقی معیار کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ EMOTIONAL REGULATION شخصیت کے استحکام اور معاشرتی تعلقات میں مضبوطی پیدا کرتا ہے۔
(5) سماجی خدمت اور معاشرتی کردار
جہاں دنیا جدت کی جانب بڑھ رہی ہے وہیں اخلاقی اقدار، معاشرتی توازن و ہم آہنگی، مساوات، اجتماعیت اور معاونت و خدمت جیسے اوصاف سے عاری ہوتی جارہی ہے۔ نفسا نفسی کا عالم برپا ہے۔ انفردیت کے چکر میں اجتماعیت کو تباہ کردیا ہے۔ ہر کوئی ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعیت کو روندتے ہوئے چلا جارہا ہے۔ خدمت و احساس ِ انسانیت کا فقدان ہے۔ ایسے میں اسلام ہمیں اجتماعی کردار اور خدمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم سماجی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں تو شخصیت میں نکھار اور معاشرت میں بہتری آسکتی ہے۔ سماجی خدمت؛ خود غرضی اور مادّیت سے آزاد کرتی ہے۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ VOLUNTEERING اور دوسروں کی مدد کرنے والے زیادہ پر اعتماد، خوش مزاج اور ذمہ دار ہوتے ہیں۔
سالِ نو بہترین موقع ہے کہ ہم خدمتِ خلق کے لیے منصوبہ بنائیں اور اپنی صلاحیتوں کو معاشرتی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدمت انسانیت صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بھی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى.
(الْمَآئِدَة، 5: 2)
”اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ “
اگر ہم اس سال میں اپنے لیے اور معاشرے کے لیے مثبت اثر ڈالنے کی عادت اپنائیں تو سالِ نو کو حقیقی معنوں میں اپنی شخصیت کے نکھار اور فکری و اخلاقی ترقی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
جدید دور کے چیلنجز ہماری زندگی میں فکری، اخلاقی اور عملی ترقی کے لیے امتحان ہیں۔ اگر ہم اسلام کی رہنمائی، عملی بصیرت، اخلاقی اصول اور علمی تربیت کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کریں تو نہ صرف اپنی شخصیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرت اور قوم کے لیے مؤثر کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ شعور، علم دوستی، اخلاقِ حسنہ، وقت کی پابندی اور عملی بصیرت ہمیں ایک متوازن، کامیاب اور بامقصد زندگی گزارنے کے اہل بنانے والے عوامل ہیں اور ہر شعبہ زندگی میں کامیابی اور فلاح کے ضامن بھی ہیں۔
(6) خود اعتمادی اور تعمیرِ شخصیت
آج ہم اور خصوصاً ہماری نسلِ نوشخصیت وکردار کے عدم توازن، احساسِ کمتری، عدمِ خوداعتمادی، فیصلہ سازی اور رائے دہی میں کمزوری جیسے نفسیاتی عوارض سے دوچار ہیں۔ جب ہم اپنی صلاحیتوں، فیصلوں اور فکری قوت کو استعمال کرنا اور ان پر اعتماد و بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو ہماری شخصیت و کردار میں لچک اور کمزوری آجاتی ہے۔ ہمارے ظاہر میں کھوکھلا پن نمودار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ کیفیت بالآخر ذہنی انتشار، احساسِ کمتری اور عملی جمود کو جنم دیتی ہے۔
خود اعتمادی ہماری عملی زندگی میں فیصلہ سازی اور عمل کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے۔ آنے والا سال ہماری فکری و نفسیاتی تعمیر اور خود اعتمادی کا وقت ہوتا ہے۔ ہر سال ہمارے جذبوں اور جوش کو پروان چڑھاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمْ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ.
(آل عِمْرَان، 3: 139)
”اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو۔ “
یعنی ایمان والے کبھی مایوس نہیں ہوتے اور ہر چیلنج میں مضبوط رہتے ہیں۔ ہم جب اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا شروع کرتے ہیں تو ہر ناکامی اور رکاوٹ میں سے بھی سبق اور طاقت حاصل کرتے ہیں۔ حضرت عائشہj سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَأَنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ أَدْوَمُهَا إِلَى اللَّهِ، وَإِنْ قَلَّ.
(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ، الرقم الحدیث: 6464)
”اعمال کو صحیح، خالص اور معتدل انداز میں انجام دو، اور جان لو کہ تمہارے اعمال تمہیں جنت میں داخل نہیں کریں گے، اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو مستقل اور معمول کے مطابق ہو، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ “
یعنی اللہ ہر کام میں مہارت اور پختگی پسند کرتا ہے۔ ہماری خود اعتمادی اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب ہم اپنی قابلیت، محنت اور ایمان پر یقین رکھیں۔ یہ اصول ہمیں عملی میدان میں مضبوط اور مستحکم کرتا ہے۔
سالِ نو ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ ہم نئے منصوبے بنائیں، اپنی قابلیت اور علم کو عملی شکل دیں اور اپنے عمل پر اعتماد کریں۔ اس طرح نہ صرف روزمرہ زندگی میں بلکہ علمی، معاشرتی اور روحانی میدان میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
(7) ایجاد و تقلید
ایجاد اور تقلید دو اہم تصورات ہیں جو کسی بھی انسان کے مقصد اور ترقی کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ایجاد کا مطلب ہے: نئے خیالات، طریقے یا حل تخلیق کرنا۔ یہ عمل انسان کو جدید سوچ، تبدیلی اور ترقی کی طرف لے جاتا ہے تاکہ وہ موجودہ حالات اور چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔ تقلید کا مطلب ہے: موجودہ خیالات یا طریقوں کو نقل کرنا یا اپنانا۔ یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی صاحب جمال و جلال اور صاحب ِدانش کی پیروی کرنا۔ ایک نظریاتی شخص کے اندر ہمیشہ یہ دونوں صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ وہ خود سے نئی چیز تخلیق کرنے کی مہارت تامہ بھی رکھتا ہے اور اس کے اندر اس قدر اہلیت بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سے برتر نظریہ، جماعت یا شخص کی اقتداء کرسکے۔
مگر جب ایجا د کا پہلو کمزور اور تقلید غائب یا اندھی ہو جائے تو فکری و نظریاتی جمود جنم لیتا ہے۔ جب معاشرے میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے بجائے اندھی روایات کو ہی عقلِ کُل مان لیا جائے اور ہر نئے عمل کو کفر و شرک اور بدعت سے تعبیر کیا جائےتو معاشرہ جامد ہوجاتا ہے اور تازہ ہوا کا داخل ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایجاد کے اس فقدان یا جمود سے خوف، احساسِ کمتری اور فکری جرأت کی کمی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ آج یہ سبھی مسائل ہمارے معاشرے میں روز افزوں پنپ رہے ہیں۔
اسلام ہمیں صرف دوسروں کی تقلید کرنے کی نہیں بلکہ نیک اصولوں کے مطابق نئی راہیں تلاش کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہمارا ہر دن گزشتہ دن کی نسبت بہتر سے بہتر ہونا چاہیے، یہ خدا تعالیٰ کی بھی شان ہے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ.
(الرحمن، 55: 29)
’’وہ ہر آن نئی شان میں ہوتا ہے۔
یعنی اللہ رب العزت بھی ہر روز ایک نئی آن اور شان سے جلوہ گر ہوتا ہے۔ جب اللہ رب العزت کی صفات میں جمود نہیں بلکہ تحرک ہے تو پھر ہم انسان جن کی فطرت میں صفاتِ الہٰیہ ودیعت فرمادی گئی ہیں تو ہم پر بھی لازم ہوجاتا ہے کہ ہم بھی مزید سے مزید تر کی کوشش کرتے رہیں۔
نیا سال ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اگر تقلید کے بجائے ایجاد کے ذریعے نیک اور مفید کام انجام دیں تو یہ نہ صرف ذاتی ترقی بلکہ معاشرتی فائدے کا باعث بنتا ہے۔ حضورنبی اکرم ﷺ کی سیرت میں بھی ایجاد اور تخلیق کی اہمیت نمایاں ہے۔ آپ ﷺ نے ہر مشکل مسئلہ کا حل نہایت حکمت، اعتدال اور عملی سوچ سے نکالا۔ اسی طرح ہم اگر نئے نظریات، منصوبوں یا علم کی راہوں کو درست اصولوں اور اسلامی رہنمائی کے مطابق اپنائیں تو ہم تقلید کی سطح سے آگے نکل کر تخلیقی اور مؤثر شخصیت کے حامل بن سکتے ہیں۔
نیا سال ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ ہم اپنے علم، فہم اور صلاحیتوں کے ذریعے نیکی اور خوبی کے نئے طریقے تلاش کریں۔ ایجاد اور تخلیق کی کوشش کے ساتھ تقلید کی ضرورت بھی برقرار رہے، یعنی اچھے اور ثابت شدہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے نئے اور مفید راستے اپنانا۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنی فکری صلاحیتوں کو بڑھاتےہیں بلکہ معاشرےمیں بھی مثبت اثر چھوڑتے ہیں اور اسلام کے روشن اور متوازن رہنمائی کے اصولوں پر عمل کرتےہیں۔
(8) حُبِ جمال
ہمارے معاشرے میں نہ صرف فکری جمود پایا جاتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی بے شمار مسائل ہیں۔ ہمارے اندر سستی اور کاہلی ڈیرے جمائے بیٹھی ہے۔ ہم عمل کے بجائے قول کو فوقیت دیتے ہیں اور عمل سے حتی الامکاں دور بھاگتے ہیں۔ ایک منزل متعین کر کے کسی ایک پڑاؤ کو ہی منزل سمجھ کر ہم رک جاتے ہیں یا پھر راہ کی سختیاں دیکھ کر ہمت ہار دیتے ہیں اور آگے بڑھنے کی تگ و دو نہیں کرتے۔ سالوں ایک ہی جگہ پر یا ایک ہی حالت میں گزار دیتے ہیں اورحالانکہ فطرتِ انسانیہ تغیر و تبدل اور انقلاب کا نام ہے۔ آگے بڑھنے کی خواہش ہمیشہ بے قرار رکھے۔
نئےسال کی آمد ہمیں پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر سے جمود، ثبات اور بے عملی جیسے منفی رویوں کو ختم کرتے ہوئے حبِ جمال جیسے اعلیٰ وصف اپنائیں۔ حبِ جمال سے مراد ہے: خوب سے خوب تر کی تلاش۔ یہ وہ فطری کشش ہے جو انسان کو کسی ایک مقام پر ٹھہرنے نہیں دیتی۔ انسانی فطرت جمود سے بیزار اور ارتقا کی طلب گار ہے؛ اسی لیے دل میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی ایک ہلکی سی بے قراری رہتی ہے۔ یہی بے قراری انسان کو بہتر سے بہتر کی جستجو پر آمادہ کرتی ہے اور اسے مسلسل سفر میں رکھتی ہے۔
نیا سال اسی فطری میلان کی تجدید کا استعارہ بن کر آتا ہے۔ یہ محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی کا لمحہ، ماضی کے تجربات سے سیکھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا موقع ہے۔ انسان جب پلٹ کر اپنے گزرے ہوئے دنوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور صلاحیتیں بھی اور یہی شعور اسے مثبت تبدیلی کی طرف قدم بڑھانے پر آمادہ کرتا ہے۔
آگے بڑھنے کی لگن انسانی فطرت کا جوہر ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے یہی لگن امید کو زندہ رکھتی ہے، حوصلہ بخشتی ہے اور تخلیقی قوتوں کو بیدار کرتی ہے۔ عملی سطح پر یہ انسان کو چھوٹے، قابلِ حصول اہداف مقرر کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر خود کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ اسلام بھی اسی جستجو کو علم، نیکی اور اخلاقی بلندی کے ساتھ جوڑتا ہے، جہاں ترقی صرف مادی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی کمال کا نام ہے۔ یوں نیا سال آگے بڑھنے کی لگن کے لیے حوصلے، خود احتسابی اور مسلسل کوشش کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ انسان کو اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے، علم و اخلاق میں ارتقا اور اپنی ذات کو سنوارنے کی دعوت دیتا ہے۔ جب نیا سال اس شعوری لگن کے ساتھ شروع کیا جائے تو وہ محض وقت کا نیا باب نہیں رہتا، بلکہ زندگی میں مثبت تبدیلی اور کمالِ انسانیت کی جستجو کی مضبوط بنیاد بن جاتا ہے۔
خلاصۂ بحث
نیا سال ہمارے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں لے کر آیا ہے۔ بے شمار معلومات، سوشل میڈیا، مسابقتی ماحول، ذہنی دباؤ اور اخلاقی انتشار ہماری شخصیت اور کردار پر اثر ڈال رہے ہیں۔ سالِ نو ایک نیا موقع ہے کہ ہم اپنے ماضی کا محاسبہ کریں اور مستقبل کے لیے نئے عزائم طے کریں۔ اسلام ہمیں شعور، علم دوستی، بصیرت اور مقصدِ حیات کے ساتھ آگے بڑھنے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ ہم فکری اور اخلاقی انتشار سے محفوظ رہ سکیں۔
سالِ نو ہمارے لیے یاد دہانی ہے کہ اپنی شخصیت، وقت، علم اور اخلاق کو مضبوط کر کے نئے سال کو ترقی اور کامیابی کے مواقع میں بدلیں۔ علمی وفکری شعور، وقت اور نظم و ضبط کی پابندی، مثبت سوچ، تحمل و برداشت، خود اعتمادی، اجتماعی خدمت، ایجاد و تقلید اور حبِ جمال جیسے اعلیٰ اوصاف اپنا کر ہم نہ صرف انفرادی طور پر ظاہر و باطن کو بدل سکتے ہیں بلکہ یہ تبدیلی معاشرے میں اجتماعی انقلاب کی بھی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔