عروج و زوال ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ نہ عروج کو دوام حاصل ہے اور نہ ہی زوال کے ساتھ دوام لازم ہے۔ عروج و زوال کسی قوم کے ساتھ مختص نہیں ہیں بلکہ مختلف اقوام میں مختلف اوقات میں عروج وزوال کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری رہا۔ کبھی کوئی قوم ابھر کر دنیا کی امامت سنبھال لیتی ہے اور کبھی کوئی قوم اس منصب پر فائز ہوجاتی ہے۔ بنیادی طور پر عروج کی دو قسمیں ہیں:
1۔ ذہنی و اخلاقی عروج 2۔ مادی و سیاسی عروج
ذہنی و اخلاقی غلبہ میں ایک قوم اخلاقی اقدار اور فکری قوتوں میں اس قدر عروج پر پہنچ جاتی ہے کہ دوسری اقوام کو اسی کے افکار اور نظریات ماننے پڑتے ہیں۔ پھر وہ قوم چاہتی ہے کہ ہر جگہ اسی کا حکم، اسی کے نظریات اور اسی کی تہذیب کی پیروی کی جائے۔
دوسری قسم یعنی مادی و سیاسی عروج سے مراد ہے کہ ایک قوم دولت و قوت میں اتنی ترقی کر جائے کہ باقی اقوام کے لیے اس کے مقابلے میں اپنا الگ سیاسی و معاشی تشخص قائم رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ فاتح قوم کسی نہ کسی طرح مفتوح اقوام کے وسائل و ثروت پر بھی قابض ہو جاتی ہے۔ جو قومیں عقل و فکر سے کام لیتی ہیں اور اپنی اخلاقی روایات کی حفاظت کرتی ہیں، وہ ذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی و سیاسی ترقی بھی حاصل کر سکتی ہیں۔
زوال سے مراد کسی بھی قوم کا پستی میں اس قدر گر جانا کہ وہ اپنا وجود خود سے برقرار نہ رکھ سکے اور دوسری اقوام کی محتاج ہو۔ عروج کی طرح زوال کی بھی دو اقسام ہیں:
1۔ ذہنی و اخلاقی زوال 2۔ سیاسی و مادی زوالال
مختلف اقوام کے عروج و زوال کے اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ جو قوم عقلمندی، جدوجہد اور مہارت سے کام لیتی ہے، وہ اپنے دور ِ تشکیل سے گزرتے وقت حالات کو پلٹ دیتی ہے اور بحران کی کیفیت سے باعافیت گزر کر اپنی تعمیر کے ہنگامہ خیز سفر کا آغاز کرتی ہے اور دورِ تعمیر میں سینہ تان کر چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ زمین کی وراثت درحقیقت ان کا نصیب ہوتی ہے۔
اقوام جب تک کسی اعلیٰ و بلند مقصدِ حیات اور نصب العین کو حاصل کرنے کی راہ پر گامزن رہتی ہیں، ان کا قافلۂ حیات جذبہ و عمل میں سر گرم رہتا ہے اور وہ اپنی منزلِ مقصود کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتیں۔ بالآخر وہ عروج و بلندی اور ترقی سے ہمکنار ہوتی ہیں لیکن جونہی وہ اپنے نصب العین کو بھلا دیتی ہیں، ان کا جذبہ عمل سرد پڑ جاتا ہے اور وہ قوت و ہمت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ نتیجتاً زوال و تنزل ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
جب عروج حاصل ہو جائے تو پھر اسے برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا ہے کیونکہ دورِ عروج میں قوم کے افراد، سہولت پسند، سست اور کاہل ہوجاتے ہیں اور وہ محنت سے جی چراتے لگتے ہیں پھر بلند نظر افراد کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ قوم کی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں عیش و عشرت کے ہاتھوں زنگ آلود ہو جاتی ہیں اور عظیم اور باوقار سلطنت کی بقا اور استحکام کے لیے جو صلاحیتیں ضروری ہوتی ہیں وہ ناپید ہونے لگتی ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم دوسری اقوام کی توانائیاں اپنے دفاع کے لئے مستعار لیتی ہے۔ ممکن ہے اس عمل سے کسی بھی قوم کی ڈوبتی کشتی کو وقتی سہارا مل بھی جاتا ہو لیکن یہ اس کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔
یاد رکھیں! کسی بھی قوم کا نہ تو عروج اتفاقی ہوتا ہے اور نہ ہی زوال حادثاتی ہوتا ہے بلکہ عروج بھی فطرت کے قوانین کا پابند ہوتا ہے اور زوال بھی قدرت کے ازلی اصولو ں کے تحت۔ جو قوم صالح، نیک اور پرہیز گار ہو گی، وہ زمین کی وارث ہوگی اور جو صالح نہ رہے گی تو ملک و سلطنت اور خلافت اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ یہاں علامہ اقبالؒ کا پیغام نہیں بھولنا چاہیے۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں، تقدیرِ اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اوّل، طاؤس و رباب آخر
قرآن کی رو سے عروج کا مفہوم
عام طور پر اقوام کے عروج و زوال سے مراد صرف مادی و سیاسی ترقی لی جاتی ہے۔ جو قوم زیادہ سے زیادہ علاقہ مغلوب کر لے یا مادی وسائل کی بہتات ہو تو یہ اس قوم کی عظمت کی دلیل سمجھی جاتی ہے بلکہ وہ قوم اپنی عظمت و شان اور وقار کو منوانے کے لیے باقی اقوام کو اپنی تقلید کرنے پر مجبور کرتی ہے۔لیکن قرآن مجید کی رو سے حقیقی عروج وہی ہے جو خدا کی بندگی اور اس کے احکام و قوانین کی کامل فرماں برداری و اطاعت کے ساتھ ہو۔ انسان مادیت کے ساتھ رو حانیت پر بھی برابر توجہ دے اور ہر معاملے میں خدا کی اطاعت بجا لائے۔ یہی وہ ترقی اور عروج و کمال ہے جس سے مشترک طور پر تمام بنی نوع انسان کے لئے رحمت و برکت کے دروازے کھلتے ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد ایسی اقوام کا ذکر ہوا ہے جنہوں نے مادی اعتبار سے تو بڑی ترقی، لیکن اپنے دورِ عروج میں عذابِ الہی کی مستحق ٹھہریں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانیت پر زور نہ دیا۔ اس روحانی ترقی سے محرومیت کی وجہ سے ان کے اجتماعی وسیاسی کردار میں وہ اعتدال اور توازن نہ پیدا ہوسکا جو ایک انصاف پر مبنی عادلانہ نظام کے قیام کے لیے ناگزیر چیز تھا۔ اس بنیادی کمزوری اور لاپرواہی کے سبب بڑی تیزی سے ان کے اجتماعی اور سیاسی کردار میں ایسی خرابیاں نمودار ہوگئیں جن کو قدرت نے ایک مستقل نظام کے لیے برداشت نہ کیا اور ایک خاص وقت تک مہلت دینے کے بعد اپنے اٹل قانون کے مطابق انھیں فنا کر دیا۔ اس لیے کہ زمینی بادشاہت کی وارثت کا اصل حقدار کون ہے؟ اس کا جواب قرآن یوں دیتا ہے:
اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ.
(الانبیاء، 21: 105)
’’زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے۔ ‘‘
یہاں اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ نیک و پرہیزگار ہوں گے، وہی خدا کی زمین پر اس کے نائب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہت اور عزت کو ان کے ہاتھ میں لکھ دیا ہے۔ تورات، انجیل اور قرآن مجید سب شریعتوں میں اللہ نے وراثتِ ارض کی ترکیب کو استعمال کیا ہے۔ دنیا کے ہر گوشے میں جو قومیں نیک، صالح، ایماندار اور محنت ومشقت کو برداشت کرنے والی ہوتی ہیں، اقتدار ان ہی کو نصیب ہوتا ہے لیکن اقتدار کے نشے میں مست ہو کر جب وہ ظلم و سرکشی کرتی ہیں اور حد سے تجاوز کرتی ہیں تو مٹ جاتی ہیں۔ پھر خدا ان کو بدل کر ان کی جگہ کسی اورکو لے آتا ہے۔ یہی خدا کا اٹل قانون ہے۔
عروج و زوال کا خدائی اصول
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قوموں کے عروج و زوال اور سربلندی کے حوالے سے یہ اصول بتا دیا ہے:
اِنَّ ﷲَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ.
(الرعد، 13: 11)
’’ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں۔ ‘‘
علامہ اقبالؒ نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی خود مختاری اور قوتِ ارادہ کو بیان فرمایا ہے۔ انسان جب تک اچھائی اور بہتری کے لیے کوششش نہیں کرتا تب تک اس کے لیے کچھ بہتر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کسی بھی قوم کی ہلاکت کا سبب خود نہیں بھیجتے مگر وہ فرد یا قوم خود سامانِ ہلاکت پیدا کرتی ہے۔ یعنی وہ گناہ اور برائی کی طرف قدم اٹھا کر خود اپنے لیے تباہی کے دروازے کھولتی ہے لیکن پھر جب اللہ کا یہ قانون غالب آجاتا ہے تو ٹل نہیں سکتا اور نہ ہی معتوب قوموں کا پھر کوئی حامی و مدد گار ہو سکتا ہے۔
ہزاروں سال قبل جب انسان نے اپنے گرد و پیش پر غور کیا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ فطرت کے سامنے عاجز و بے بس ہے۔ سورج نکلتا ہے ڈوب جاتا ہے۔ اندھیرا اجالے میں تبدیل ہوجاتا ہے لیکن پھر اندھیرا آجاتا ہے۔ کبھی طوفان آتے ہیں اور بستیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ وبا پھوٹتی ہے، بیماری پھیلتی ہے اور انسان مرجاتے ہیں۔ پس انسان بے بس و مجبور ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو قرآن نے اس تصور کو بدل دیا اور ارشاد فرمایا:
وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی.
(النجم، 53: 39)
’’ اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہو گی (رہا فضل اس پر کسی کا حق نہیں وہ محض اللہ کی عطاء و رضا ہے جس پر جتنا چاہے کر دے)۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے کامیابی، عروج اور بقاکے لیے محنت، کوشش اور جستجو کو لازم قرار دیا ہے۔
قرآن میں سابقہ امم کے عروج و زوال کے اسباب
سابقہ اقوام کے عروج و زوال کے واقعات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے کہ انسان ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرے۔ ان تمام ضوابط سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے بس اور مجبور محض پیدا نہیں کیا بلکہ اختیار و ارادے کی آزادی دی ہے۔ انسان اپنی قوتِ اردای و عمل سے عروج و ترقی بھی حاصل کر سکتا ہے اور زوال کی پستیوں میں بھی گر سکتا ہے۔ دنیا کی تمام اقوام اور سلطنتوں میں ہمیشہ سے کشمکش جاری رہی ہے۔ آج کوئی برسر اقتدار ہے تو کل کوئی اور، پھر زیادہ وقت نہیں گزرا ہوتا کہ اس کی جگہ تیسری قوم لے لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس فلسفہ عروج و زوال کو بیان کیا ہے۔ ذیل میں کچھ نکات ملاحظہ ہوں:
(1) نفع و بقا کا قانون
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی بھی چیز کے عروج اور زوال کے لیے بقاء اور اصلح کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے کہ جو چیز نافع ہو اور دنیا کی اصلاح کا کام کر رہی ہو، وہ چیز دنیا میں باقی رہے گی اور جو چیز غیر نافع ہو اور فساد و بگاڑ پیدا کر رہی ہو، اسے مٹ جانا ہے اور یہی فطرت کا انتخاب ہے۔ اس کو انگلش میں Survival of the fittest کہا گیا ہے۔ قدرت بگاڑ و فساد کو محو کر دیتی ہے۔ ایسا ہونا بھی تو لازمی ہے کیو نکہ اللہ رحمٰن ہے اور اس کی رحمت یہی چاہتی ہے کہ افادہ ہو۔ وہ نقص اور نقصان کو کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ نقص والی چیزوں اور حالات کو اللہ تعالیٰ نے باطل سے تعبیر کیا ہے اور باطل کا معنی مٹ جانا ہے اور نفع بخش چیزوں کو حق سے واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ.
(المومنون، 40: 78)
’’پھر جب اللہ کا حکم آ پہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ کا یہی قانون اقوام و ملل کے اقبال و ادبار اور ہدایت و شقاوت سب پر لاگو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی اقوام بنائی ہیں، اس کا رخانہ ہستی میں جب تک وہ دوسروں کے لیے مفید رہیں، وہ عروج و اقبال کے مرتبے پر فائز رہیں لیکن جب وہ اس کائنات کے لیے مضر ثابت ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے کسی دوسری نیک قوم کے ذریعے ان کا وجود تک دنیا سے مٹا دیا۔
وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی اْلاَرْضِ.
(الرعد، 13: 17)
’’اور البتہ جو کچھ لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے۔ ‘‘
ہم اس دنیا کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک دیکھتے ہیں کہ وہی چیز اس اپنا وجود برقرار رکھ سکی جو دوسروں کے نفع اور بقا کی وجہ ہے۔ باقی سب نے اپنا وجود وقت کے ساتھ کھو دیا۔
(2) عدل و انصاف کا قانون
اقوام کے عروج و زوال کا دوسرا بڑا سبب عدل و انصاف کے حوالے سے ہے۔ اصل یہ ہے کہ نظامِ عالم کے قوانین کی بنیاد صرف قیامِ عدل پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں انبیا کرام علیہم السلام عدل کے بول بولا کے لیے مبعوث فرمائے کیونکہ جب عدل نہیں ہوتا تو ظلم ہوتا ہے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا انصاف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جو قوم مفتوح اور ماتحت اقوام (افراد ) پر ظلم کرتی ہے اس کا وجود ختم کر کے کسی دوسری قوم کو عظمت و وقار بخشا جائے جو اللہ کےعدل کا قیام وجود میں لائے اور غریبوں و مظلوموں کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا برتاؤ کرے۔ ارشاد فرمایا:
وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤی اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ.
(القصص، 28: 59)
’’ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر اس حال میں کہ وہاں کے مکین ظالم ہوں۔ ‘‘
جو قومیں ذاتی تعیش کے لیے کمزوروں اور مظلوموں پر ظلم کرتی ہیں اور انسانیت کے درجے سے گر جاتی ہیں پھر ان پر تباہی لازم ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ظالم کاہاتھ روکنے اور نیک کاموں کی طرف بلانے کا حکم دیا ہے تاکہ سکون و چین ہمیشہ برقرار رہے۔ ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَهْلِهَا ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا.
(النساء، 4: 58)
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُنہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اَہل ہیں، اور جب تم لوگوں پر حکومت کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کیا کرو (یا: اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو)۔ بے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بے شک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے اعلانِ حق کی سعی و کاوش کو اقوام کی فتح و کامرانی قرار دیا ہے۔ جو اقوام عدل و انصاف کا قیام عمل میں لاتی ہیں، وہ نصرتِ الہیٰ سے فاتح بن جاتی ہیں اور جب وہ عدل کو چھوڑ کر ظلم کی روش اختیار کرتیں تو تباہی و بربادی ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو اقوام بے انصافی کرتی رہیں اور مظلوموں پر ظلم و ستم ڈھاتی ر ہی ہیں، وہ اللہ کے غضب کو بلاتی رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تباہی کے بارے میں فرمایا:
وَضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآؤُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ.
(البقرہ، 2: 61)
’’ اور ان پر ذلّت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں لوٹ گئے۔ ‘‘
تاریخ گواہ ہے جن اقوام نے بھی مظلوم لوگوں پر ظلم کیا، ان کے حقوق غصب کیے تو وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ رہ سکیں اور حرفِ غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ حضرت نوح علیہ السلام، شعیب علیہ السلام، لوط علیہ السلام، صالح علیہ السلام اور ہود علیہ السلام کی قوموں پر عذاب اس لیے آیا کہ وہ لوگوں کو دکھ پہنچاتے اور حق پر ڈٹے ہوئے لوگوں پر ظلم کرتے تھے۔
(3) امیدِحیات
انسان جوکچھ بھی اس دنیا میں سرانجام دیتا ہے وہ یاتو آئندہ کی امید پر کرتا ہے یا پھر حسرت پر۔ امید و یاس کی یہ تقسیم صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ بنیادی طور پر اقوام اور سلطنتوں کی زندگی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ امید اور حسرت کو بہار اور خزاں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یکے بعد دیگرے آتے ہیں اور پھر اپنے نقوش بھی چھوڑ جاتے ہیں، جن کو کامیابی و کامرانی اور نامرادی و ناکامی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔خوش نصیب اقوام کے قلوب کے اندر امید کے چراغ روشن ہوتے ہیں کیونکہ امید ایک ایسا علم ہے جس کو شکست نہیں۔ کامیاب اقوام کی امیدیں ؛حسرت اور آرزوؤں کی ناکامی پر ماتم کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ وہ کامیابیوں اور کامرانیوں کی خوشخبری بن کر پیغام دعوت ہیں۔ وہ اقوام بد نصیب ہوتی ہیں جن کے اندر امید کی جگہ ناامیدی، حسرت اور یاس و مایوسی کے کانٹے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امید اور مایو سی دونوں حالتوں میں انسان کی آزمائش رکھی ہے۔
وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ.
(الاعراف، 7: 168)
’’ اور ہم نے ان کی آزمائش انعامات اور مشکلات (دونوں طریقوں) سے کی تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کریں۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے مومنین جو سچے، صالح اور پرہیزگار لوگ ہیں، ان کو ہمیشہ اچھا گمان اور مثبت سوچ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ. اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ.
(آل عمران، 3: 139، 140)
’’ اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آئو گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو۔ اگر تمہیں (اب) کوئی زخم لگا ہے تو (یاد رکھو کہ) ان لوگوں کو بھی اسی طرح کا زخم لگ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، اور یہ (گردشِ ا یّام) اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کی پہچان کرا دے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا رتبہ عطا کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے ناکامی اور نامرادی میں پریشان، مایوس اور ناامید ہونے سے سخت منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نےانسان کو سمجھا دیا ہے کہ اگر ایک قوم کو عروج و خوشحالی نصیب ہو ئی ہے اور دوسری کو یاس و حزن پہنچا ہے تو صرف یہ حالات و نتائج کا دور ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ یہی قانون فطرت بھی ہے کہ کبھی بہار آتی ہے اور کبھی خزاں، کبھی عروج ملتا ہے اور کبھی زوال کی پستیاں راج کرتی ہیں۔اقوام کی سرفرازی کا بڑا راز امید کا دائمی آشیانہ ہوتا ہے۔ مشکلات ومصائب کے جتنے بھی پہاڑ ان پر ٹوٹیں، امید کا طائر مقدس ان کے دل کے گو شے سے نہیں اڑتا۔ اگر وہ مغلوب بھی ہو جائیں تو وہ غم نہیں کرتے بلکہ وہ جدوجہد کر کے پھر سے مقام پیدا کرنے کا سو چتی ہیں۔ اگر وہ قابض نہ بھی ہوں تو ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اسباب زوال پر قابو پا کر عروج و فیروز مندی حاصل کر سکتی ہیں۔ لیکن جو اقوام دلوں میں یاس و ناامیدی کے ڈھیر لگا بیٹھتی ہیں، انھیں تباہی و بربادی سے کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ یہ اللہ کا اٹل قانون ہے جس سے کسی کو بھی چھٹکارہ نہیں:
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ.
(الانفال، 8: 53)
’’یہ (عذاب) اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر اَرزانی فرمائی ہو یہاں تک کہ وہ لوگ اَز خود اپنی حالتِ نعمت کو بدل دیں (یعنی کفرانِ نعمت اور معصیت و نافرمانی کے مرتکب ہوں اور پھر ان میں احساسِ زیاں بھی باقی نہ رہے تب وہ قوم ہلاکت و بربادی کی زد میں آجاتی ہے)، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ ‘‘
خلاصۂ کلام
قرآن مجید اصلا تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کی کتاب ہے۔ اس لئے اقوامِ عالم کے عروج و زوال کے اصولوں کو ضمنی مگر واضح جامع اور کامل طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کے عروج و زوال کے ضابطے بیان فرمائے ہیں جن تک براہ راست ہدایت پہنچائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں طرزِ بیان تاریخی نہیں رکھا بلکہ حکمت پر مبنی ہے۔
قرآن مجید کے بیان کردہ قوانین اور اصول و ضوابط عارضی نہیں بلکہ عالمگیر ہیں۔ اس لئے سابقہ امم اور جدید دور میں اقوام کے عروج و زوال کے اسباب ایک ہی ہیں۔ قرآن مجید نے افراد، اقوام اور مملکتوں کو عروج و اقبال کی بلندیوں تک پہنچنے کا راستہ بتا دیا ہے اور یہی صراط مستقیم ہے جو کامیابی و فتح کی ضمانت ہے۔آخر میں اتنا کہوں گا کہ دنیا نے دیکھا کہ ایک وقت تھا مسلمانوں نے بلادِ عالم پر اپنی اخلاقی و سیاسی قوت کا سکہ جمایا، پھر دور آیا کہ مسلمان اب زوال کا شکار ہیں اور یورپ سیاسی، سائنسی اور تکنیکی برتری کا مالک ہے۔ ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ہم دیکھیں وہ کون سی وجوہات تھیں جن کی بنا پر مغلوب ہوئے۔ اس طرح ان چیزوں کو چھوڑ کر غالب ہونے کی کوشش کی جائے کیونکہ دینِ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے نہ کہ مغلوب۔۔