شبِ برأت: مقصدِ حیات کی ازسرِنو تلاش

ڈاکٹر حافظ ظہیر احمد الاسنادی

انسان کی زندگی محض چند سانسوں، چند خواہشوں اور چند وقتی کاوشوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ انسان اپنی اصل میں ایک معنوی ہستی ہے، جس کا تعلق زمین سے بھی ہے اور آسمان سے بھی۔ لیکن دنیا میں کامیابی کے حصول میں مصروف انسان اکثر اپنے اصل مقصدِ حیات کو بھول جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی میں کچھ خصوصی اوقات، مبارک لمحات اور ساعتوں کو پیدا کیا ہے جن میں انسان اپنی اصل کی طرف لوٹ سکے۔ ان لمحات میں شبِ برأت ایک نمایاں روحانی موقع ہے۔ ایک ایسی رات جس میں اللہ تعالیٰ خود اپنے بندے کے دل کے دریچوں پر دستک دیتا ہے اور بندہ اگر توجہ سے وہ صدا سن لے تو اس کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ خوش قسمتی سے شبِ برأت کی ازسرِنو آہٹ سنائی دے رہی ہے۔

احادیث میں یہ بات بارہا آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں کی طرف خصوصی نظرِ رحمت فرماتا ہے۔ شب برأت دلوں کی تطہیر اور زندگی کی ازسرِنو ترتیب کی رات ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ.

(ابن ماجہ، رقم: 1390)

’’اللہ تعالیٰ 15 شعبان کی رات اپنی مخلوق پر خاص نظر فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ پرور کے سوا سب کی مغفرت فرما یتا ہے۔ ‘‘

اس حدیث مبارک میں غور طلب دو نکات ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی یہ رات اعمال سے زیادہ دل کی شفافیت چاہتی ہے۔ یہ رات بتاتی ہے کہ مقصدِ حیات دنیا کی پاکیزگی اور آخرت کی کامیابی ہے۔

2۔ کینہ اور نفرت مقصدِ حیات کی راہ کا سب سے بڑا پردہ ہے۔ حدیث نبوی کے مطابق دو لوگوں کو معافی کے دروازے سے باہر رکھا گیا: مشرک اورکینہ پرور۔ کیوں؟ کیونکہ دل کا بگاڑ مقصدِ زندگی کو مسخ کر دیتا ہے۔ کینہ، غرور، نفرت یہ سب رزائلِ اخلاق ہیں جو انسان کے مقصد کو گدلا کر دیتے ہیں۔ شبِ برأت ہمیں معاف کرنا، دل صاف کرنا، رشتے جوڑنا اور نفرتوں کے بوجھ اتارنا سکھاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں مقصدِ زندگی ایک جملے میں سمجھا دیا ہے:

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ.

(الذاريات، 51: 56)

’’اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔ ‘‘

یہ عبادت محض نماز، روزہ اور حج وغیرہ کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت کے رنگ کو اپناتا ہے۔ شبِ برأت اسی امر کی طرف ہمیں لوٹنے کی دعوت ہے۔ حدیث مبارک میں ہے:

’’یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے، اس میں ایک سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے…‘‘

(الطبری، جامع البیان)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ شبِ برأت تقدیر نہیں بدلتی بلکہ انسان کے اندر تبدیلی کا عزم پیدا کرتی ہے۔ یعنی یہ رات گذشتہ سال کا محاسبہ، اگلے سال کی منصوبہ بندی اور نئے اہداف کی تشکیل کے لیے ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی کمپنی کا سالانہ آڈٹ ہوتا ہے۔ شبِ برأت بھی انسانی زندگی کا سالانہ روحانی آڈٹ ہے۔

شبِ برأت: زندگی کے نئے باب کی شروعات

انسان دو طرح کی زندگی گزارتا ہے:

1۔ ایسی زندگی جس میں انسان روٹی، نوکری، خواہشات، دنیا داری میں بہتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی میں نہ کوئی اہم مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سمت کا تعین۔ ایسی زندگی کو بہتی ہوئی زندگی (Flowing life) کہتے ہیں۔

2۔ ایسی زندگی جس میں انسان اپنے مقصدِ حیات کو جانتا ہے، اپنی ترجیحات طے کرتا ہے، اپنی روح کی سمت درست کرتا ہے اور اپنے فیصلے اپنے ارادے سے کرتا ہے، دباؤ سے نہیں۔ شبِ برأت اس قسم کی زندگی کی دعوت ہے۔ اس زندگی کو بامقصد زندگی (Purposeful life)کہتے ہیں۔

انسان کے تمام اعمال کی درستگی کا انحصار دل پر ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَاِذَا فسدَت فسد الجسد کلہ.

(بخاری و مسلم)

’’جان لو ! جسدِ انسانی میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ جان لو! گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہے۔ ‘‘

شبِ برأت دل کی درستگی کا کورس ہے۔ دل کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنا، ذکر، توبہ، دعا سب دل کی خاک جھاڑنے کے آلات ہیں۔ شبِ برأت میں اللہ تعالیٰ کی خاص معافی اس لیے ہے کہ انسان اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرلے۔ اپنی سرکشی کی گرہیں کھول کر اپنی روح کو تازہ کرلے۔ یہ رات ایک Spirtual reset button ہے، جو رحمتِ الٰہیہ کے باعث انسان کو روحانیت کی چمک سے آشنا کرتی ہے۔

اس رات میں خواب غفلت میں پڑے مردہ دلوں کو تازہ زندگی ملتی ہے اور معاشرتی تعلقات کو حسنِ سلوک کے ذریعے مضبوط کیا جاتا ہے۔ احادیث نبوی بھی ہمیں یہی بتاتی ہیں۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ!سب سے بہتر انسان کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ.

(طبرانی، الأوسط، رقم: 5787)

’’ لوگوں میں سے بہتر شخص وہ ہے (جس کا وجود) لوگوں کے لیے نفع کا باعث ہو۔ ‘‘

شبِ برأت سماجی خدمت کا نقطۂ آغاز ہے۔ صدقہ و خیرات، ضرورت مندوں کا خیال، بیماروں کی عیادت اوررنجیدہ دلوں کو خوش کرنا اس رات کے مقاصد میں اہم ترین ہیں۔ شبِ برأت ہمیں سکھاتی ہے کہ مقصدِ حیات صرف خود کے لیے جینا نہیں ہے بلکہ مقصدِ حیات دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ مقصدِ حیات معاشرہ میں خیر پھیلانا ہے۔ یہ رات سائلوں کا سہارا اور دلوں کو ملانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

شبِ برأت: زندگی کے لیے نیا لائحہ عمل

شبِ برأت عمل کی دنیا میں تبدیلی کا اعلان ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ.

(مسلم: 2664)

’’اور ہر ایک میں خیر ہے، جو چیز تم کو نفع دے اس کے حصول میں حریص رہو، اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو اور تھک کر نہ بیٹھو۔ ‘‘

یہ ہے اسلام کا عملی فلسفہ۔ شبِ برأت انسان کو کہتی ہے کہ اپنی زندگی کا پلان بناؤ، مقاصد طے کرو، کمزوریوں کا جائزہ لو، اپنی ترجیحات درست کرو، وقت کی قدر سمجھو اورمحنت کو اپنا شعار بناؤ اسی میں اصل کامیابی ہے۔ یعنی یہ رات انسان کو آئندہ سال کے اہداف مقرر کرنا، اپنی کمزوریوں کو پہچاننا، اپنی ترجیحات طے کرنا، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور رکے بغیر نیکی میں سبقت کرنا سکھاتی ہے۔

یہ رات انسان کےسالانہ لائحہ عمل کے مرتب کرنے کے لیے بہترین ہے۔ جس طرح کمپنیاں سال کے آغاز میں منصوبہ بناتی ہیں، شبِ برأت بھی انسان کو اپنی زندگی کی منصوبہ بندی سکھاتی ہے کہ وہ جانے کہ میں کون ہوں؟ میں کہاں ہوں؟ مجھے کیا بننا ہے؟ میرا اصل مقصد کیا ہے؟ میرا اگلا سال کس سمت میں جائے گا؟ شبِ برأت انسان کو کہتی ہے: اپنی ڈائری کھولو، اپنے مقصد لکھو، اپنے اہداف بناؤ، اپنے رویے درست کرو اور اپنے آپ کو اپ گریڈ کرو۔ یہ ہے شبِ برأت کا عملی فلسفہ۔

شبِ برأت اور روحانی خود شناسی

انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نہیں پہچانتا جب کہ روحانی ترقی کا پہلا قدم خود شناسی ہے اور شبِ برأت اس کے لیے بہترین موقع ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے:

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ.

(ق، 50: 16)

’’اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ ‘‘

یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان کی روحانی طاقت اللہ تعالیٰ سے اس کے مضبوط تعلق میں پنہاں ہے۔ شبِ برأت اسی تعلق کو فعال، مضبوط، تازہ اور زندہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ.

(التفسیر الکبیر)

’’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ ‘‘

شبِ برأت انسان کے اندر وہ چراغ روشن کرتی ہے جو اسے اس کی اصل حقیقت یعنی مقامِ عبدیت کی یاد دلاتی ہے۔

شبِ برأت: شبِ توبہ

یہ رات سچے دل سے توبہ اور دل اور روح کی صفائی کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ توبہ صرف الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ عملی تبدیلی کا منصوبہ ہے۔ حدیث نبوی ہے:

كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِيْنَ التَّوَّابُوْنَ.

(سنن الترمذی: 2499)

’’ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو (خطا کے بعد فوراً) توبہ کرنے والے ہیں۔ ‘‘

توبہ کے تین درجے ہیں: 1۔ ندامت و پچھتاوا۔

2۔ ترکِ معصیت یعنی گناہ چھوڑ دینا۔

3۔ عزمِ مستقبل یعنی دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔

شبِ برأت ہمیں یہی تین مقاصد یاد دلاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا يَمُوْتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللّٰهِ.

(مسلم: 2877)

’’تم میں سے کوئی اس حال میں نہ مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان نہ رکھتا ہو۔ ‘‘

شبِ برأت امید کی رات ہے۔ یہ رات انسان کو کہتی ہے کہ مایوسی چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ سے بڑا کوئی نہیں، اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، زندگی ابھی باقی ہے، حالات بدل سکتے ہیں، تقدیر روشن ہو سکتی ہے، یہ رات انسان کو امید کا مضبوط سہارا دیتی ہے۔

اس رات غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی خاص بارش ہوتی ہے۔ حدیث مبارک ہے:

يَطْلَعُ اللهُ إِلَی خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ…

(ابنِ حبان)

’’الله تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق پر نظر رحمت فرماتا ہے اور (مشرک اور کینہ پرور کے سوا) ہر کسی کو معاف فرما دیتا ہے۔ ‘‘

یہ مغفرت صرف گناہوں کو مٹانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وجود کو نیا بنانے کا نام ہے۔ شبِ برأت ہمیں نئی سوچ، نئی سمت، نئی توانائی، نئی امید، نئی منصوبہ بندی، نئی شخصیت اورنیا کردار عطا کرتی ہے۔ یہ رات بندے کے لیے’’روحانی ری انسٹالیشن‘‘ کی رات ہے۔

شبِ برأت: محبتِ الہٰی کا احیاء

اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی طرف سے سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ حدیثِ قدسی میں ہے:

وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ.

(صحیح البخاری: 6137)

’’میرا بندہ میری سب سے محبوب چیز یعنی فرائض سے میرا قرب پاتا ہے۔ ‘‘

اللہ کی محبت ہمیں نماز کی طرف لاتی ہے، اس لیے کہ نماز مقصدِ حیات کا دل ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ.

(البقرہ، 2: 45)

’’اور صبر اور نماز کے ذریعے (اللہ سے) مدد چاہو۔ ‘‘

شبِ برأت نماز کو روحانی طاقت کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ یہ رات انسان کو نماز سے اور نماز رب تعالیٰ سے جوڑ دیتی ہے۔ یہ رات فیصلے میں مضبوطی، دل کی صفائی، عبادت میں لذت، گناہوں سے نفرت اور مقصدیت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ نماز انسان کو روحانی لائف لائن دیتی ہے۔

ó اللہ کی محبت کے حصول کا ایک طریقہ قرآن مجید سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ شبِ برأت قرآن سے عہد کی رات ہے۔ اس لیے کہ قرآن مقصدِ حیات کی روشنی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ.

(بنی اسرائیل، 17: 9)

’’بے شک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے۔ ‘‘

دن میں کم از کم ایک صفحہ، ہفتے میں ایک نئی سورت اور ہر روز ایک آیت پر غور و تدبر انسان میں معنویت، بصیرت اور مقصدیت پیدا کرتا ہے۔ شبِ برأت قرآن کے ساتھ نئے تعلق کا مقام ہے۔ قرآن صرف عبادت کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠.

(النور، 24: 40)

’’اور جس کے لیے اللہ ہی نے نورِ (ہدایت) نہیں بنایا تو اس کے لیے (کہیں بھی) نور نہیں ہوتا۔ ‘‘

قرآن حکیم سوچ میں نور، فیصلوں میں نور، اَخلاق میں نور، رشتوں میں نور، مقصد میں نور اورعمل میں نور پیدا کرتا ہے۔ شبِ برأت اسی نور کی تلاش کا نام ہے۔

ó محبتِ الہٰی کے حصول کا ایک تقاضا یہ ہے کہ انسان ہمہ وقت اس کے در پر سوالی بنا کھڑا رہے اور اس کی بارگاہ میں سراپا دعا بنا رہے۔ یہ رات قبولیت کے خاص لمحات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ارشاد فرمایا:

ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ.

(غافر، 40: 60)

’’تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا۔ ‘‘

یہ رات کہتی ہے: دعا سے منزلیں بنتی ہیں، دعا سے راستے کھلتے ہیں، دعا سے دل بدلتے ہیں اور دعا سے تقدیریں روشن ہوتی ہیں۔

شبِ برأت کا حقیقی راز: انسان کی باطنی دنیا کی تعمیر

اس رات خواب غفلت میں پڑے مردہ دلوں کو تازہ زندگی اور بامقصد مثبت مصروفیات و مشاغل کے ذریعے لغویات و بیہودہ مجالس و محافل سے ہٹا کر اللہ تعالیٰ کے حضور باعزت و باوقار حاضری کے قابل بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔۔۔ دنیائے فانی کی چکا چوند کی جگہ اُخروی کامیابی و کامرانی کا سامان کیا جاتا ہے۔۔۔ روٹھے ہوئے خدا کو منانے کے جتن کیے جاتے ہیں۔۔۔ رشتہ عبودیت کو استوار کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔۔۔ زندگی کی پریشانیوں، بیماریوں اور مایوسیوں سے خلاصی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔۔۔ سیدھے راستے سے بھولے بھٹکوں کو درِ مولیٰ کی طرف لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔ جبینوں کو لذتِ سجود سے آشنا کیا جاتا ہے۔۔۔ مفادات کے سمندر میں ہچکولے کھاتی زندگی کی نیّا کو سکون و طمانیت کے ساحل پر لانے کی دعا کی جاتی ہے۔ یہی شبِ برأت کا سب سے گہرا روحانی پہلو ہے، انسان اس رات ایک نئے انسان کے طور پر بیدار ہو سکتا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اَلْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللهِ.

(مسند احمد: 24004)

’’حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ ‘‘

اندر کی جنگ ہی اصل جنگ ہے۔ حسد، کینہ، تکبر، لالچ، خود غرضی، خواہشات کی غلامی اور نفس کی سرکشی یہ سب روحانی ترقی کے دشمن ہیں۔ شبِ برأت ان دشمنوں کے خلاف جہاد کی تربیت دیتی ہے۔

گویا شبِ برأت کا ایک بڑا مقصد انسان کی باطنی تعمیر ہے۔ زندگی کی سب سے بڑی شکست وہ نہیں جب انسان ہار جائے، بلکہ خودی کا بکھر جانا ہے۔ شبِ برأت اعلان کرتی ہے کہ اپنے باطن کو مضبوط کرو، ظاہر خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَجْسَادِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ.

(مسلم: 2564)

’’اللہ تعالیٰ نہ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے اور نہ ہی تمہاری صورتوں کو بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ ‘‘

یہ حدیث مبارک شبِ برأت کی اصل حقیقت ہے، اس رات دل کا زاویہ سیدھا کیا جاتا ہے۔ شبِ برأت کی سب سے طاقتور تعلیم دل صاف کرنا ہے۔ حدیث نبوی ہے:

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ.

(متفق علیہ)

’’قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘

شبِ برأت ہمیں کہتی ہے: رشتے جوڑو، لہجوں میں کڑواہٹ ختم کرو، لفظوں میں مٹھاس پیدا کرو، تعلقات میں نرمی لاؤ اور دلوں میں جگہ بناؤ۔ یہی وہ سماجی تربیت ہے جو ایک بہترین معاشرہ پیدا کرتی ہے۔ انسان کی زندگی کے مقصدِ حیات کا اہم حصہ عالی اخلاق ہیں۔ شبِ برأت ان اخلاق کی ریفریشر ٹریننگ ہے۔

شبِ برأت ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ گزشتہ سال کہاں غلطی ہوئی۔۔۔ ؟ کن لوگوں کا دل دکھایا۔۔۔ ؟ کن فرائض میں کوتاہی کی۔۔۔ ؟ کون سا گناہ دائمی بن گیا۔۔۔ ؟ کون سی عادتیں برباد کن ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا.

(سنن الترمذی: 2459)

’’اپنے نفس کا محاسبہ خود کر لو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ ‘‘

شبِ برأت کا مطلب بھی یہی ہے کہ زندگی کا مکمل جائزہ لیا جائے۔۔۔ کردار کی کمزوریوں کی تشخیص کی جائے۔۔۔ اپنے نفس کو سزا نہیں بلکہ تربیت دی جائے اور اپنے وجود کی مرمت کرنا سیکھا جائے، یہی مقصدِ حیات ہے۔

شبِ برأت کا اخلاقی ایجنڈا: انسانیت اور حسنِ سلوک

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ.

(مسند احمد: 8939)

’’مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ‘‘

اچھا اخلاق مقصدِ حیات کے جانے بغیر ممکن نہیں ہے۔ شبِ برأت انسان سے کہتی ہے کہ زبان کو پاک کرو، دل کو نرم کرو، معاملات کو سیدھا رکھو، غصے پر قابو پاؤ، معاف کرنے کی عادت پیدا کرو اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو، یہی وہ ’’Package of moral reformation‘‘ ہے جو شبِ برأت ہر مسلمان کو فراہم کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللّٰهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ.

(المعجم الاوسط: 5787)

’’اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دے۔ ‘‘

خدمتِ خلق، بیمار کا حال جاننا، یتیم کی دیکھ بھال، غریب کی مدد کرنا، دکھی دلوں کا سہارا بننا، لوگوں کو سکون دینے والی گفتگو کرنا، یہ سب مقصدِ حیات کا حصہ اور اس رات کا پیغام ہے۔ اصلاح کا آغاز ہمیشہ گھر سے ہوتا ہے۔ اورعملی تربیت کا پہلا میدان بھی گھر ہوتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ.

(ترمذی: 3895)

’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہترین ہو۔ ‘‘

شبِ برأت گھر کے ماحول کو بدلنے کی رات ہے، والدین سے نرمی، شریکِ حیات سے محبت و احترام، بہن بھائیوں سے حسنِ سلوک، گھر میں ذکر، دعا، قرآن، یہی وہ ’’سماجی سیل‘‘ ہے جہاں سے بڑی اصلاح پیدا ہوتی ہے۔ شبِ برأت انسان کو’’میں‘‘ سے نہیں بلکہ ’’ہم‘‘ سے جوڑتی ہے۔ یہ رات پوری امت کے لیے دعا مانگنے کی تحریک ہے۔ امت کے دکھ اور مسائل، بچوں کی تربیت، نوجوانوں کی بے راہ روی سے چھٹکارے اور عملی وحدت و بیداری کا شعور بیدار کرنے کی رات ہے۔

المختصر یہ کہ شبِ برأت محض عبادات کی رات نہیں ہے، یہ ایک فکری، اَخلاقی، روحانی اور عملی انقلاب کا دروازہ ہے۔ اس رات انسان اپنے مقصد کو دوبارہ پہچانتا ہے۔۔۔ اپنے گناہوں کو مٹاتا ہے۔۔۔ اپنی روح کو تازہ کرتا ہے۔۔۔ اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے۔۔۔ اپنے رشتوں کو جوڑتا ہے۔۔۔ اپنی سماجی ذمہ داری کو سمجھتا ہے۔۔۔ اور اپنی عملی زندگی کا نیا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ یہ رات انسان کو بدل دیتی ہے اگر وہ خود کو بدلنا چاہے۔ شبِ برأت دعا کی رات ہے۔ اپنے رب کے حضور جھکنے کی رات ہے اور اپنے باطن کو بدلنے کی رات ہے۔ اس رات کو اپنی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ بنائیں۔

شبِ برأت کے اعمال اور دعائیں

اس رات درج ذیل دعا پڑھنا مستحب ہے:

1۔ اَللّٰھُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ، تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.

(ترمذی، السنن، کتاب الدعوات، ٥/٥٣٤، رقم/٣٥١٣)

’’اے اللہ! تُو بہت معاف کرنے والا اور کرم فرمانے والا ہے۔ عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔ ‘‘

2۔ شعبان کی 15ویں شب میں سورۃ بقرہ کا آخری رکوع اکیس مرتبہ پڑھنا امن و سلامتی اور حفاظت جان و مال کے لیے بہت مفید ہے۔

3۔ فراخی رزق کے لیے دعا

امام غزالی اِحیاء علوم الدین میں فرماتے ہیں کہ شبِ برأت کی رات لوگ یہ دعا (کثرت سے) پڑھتے ہیں:

صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو بندہ یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی معیشت (رزق) میں وسعت عطا فرماتا ہے۔

(اَللّٰهُمَّ) یَا ذَا الْمَنِّ، وَلَا یُمَنُّ عَلَیْکَ، یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ، یَا ذَا الطَّوْلِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، ظَھْرُ الاَّجِئِیْنَ، وَجَارُ الْمُسْتَجِیْرِیْنَ، وَمَأْمَنُ الْخَائِفِیْنَ، (اَللّٰهُمَّ، ) إِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِي فِي أُمِّ الْکِتَبِ عِنْدَکَ شَقِیًّا فَامْحُ عَنِّي اسْمَ الشَّقَاءِ. وَأَثْبِتْنِي عِنْدَکَ سَعِیْدًا، وَإِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِي فِي أُمِّ الْکِتَابِ مَحْرُوْمًا مُقَتَّرًا عَلَيَّ رِزْقِي فَامْحُ عَنِّي، حِرْمَانِي وَتَقْتِیْرِ رِزْقِي، وَاثْبِتْنِي عِنْدَکَ سَعِیْدًا مُوَفَّقًا لِلْخَیْرِ، فَإِنَّکَ تَقُوْلُ فِي کِتَابِکَ (یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہ، اُمُّ الْکِتٰبِ)

(ابن ابی شیبۃ، المصنف، ٦/٦٨، رقم/٢٩٥٣٠)

’’(اے اللہ!) اے احسان کرنے والے کہ تجھ پر احسان نہیں کیا جاتا! اے بڑی شان وشوکت والے! اے فضل والے! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پریشان حالوں کا مددگار ہے، پناہ مانگنے والوں کو پناہ دینے والا ہے اور خوفزدوں کو امان دینے والا ہے۔ (اے اللہ!) اگر تو مجھے اپنے پاس اُمُّ الکتاب (لوح محفوظ) میں شقی (بدبخت) لکھ چکا ہے، تو (اے اللہ!) میرا نام بدبختوں میں سے مٹا دے اور مجھے اپنے پاس سعادت مند لکھ دے۔ اگر تو مجھے اپنے پاس اُمُّ الکتاب (لوح محفوظ) میں محروم، رزق میں تنگی دیا ہوا لکھ چکا ہے، تو (اے اللہ!) مجھ سے میری محرومی اور تنگی رزق کو دور فرما دے اور (اپنے فضل سے) مجھے اپنے پاس اُمُّ الکتاب میں مجھے خوش بخت اور بھلائیوں کی توفیق دیا ہوا ثَبت (تحریر) فرما دے۔ بے شک تو اپنی کتاب (قرآن مجید) میں فرماتا ہے: (اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہےo)۔ ‘‘

4۔ صلاۃ الخیر (شب برأت کی نماز)

شبِ برأت میں ایک سو رکعات (نفل) نماز اس طرح ادا کی جائے کہ اس میں سورۃ فاتحہ کے بعد ایک ہزار مرتبہ سورۃ اِخلاص (قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ) پڑھی جائے۔ (یعنی ہر رکعت میں دس بار سورۃ اِخلاص پڑھیں گے۔ ) اس نماز کو 'صلوٰۃ الخیر' کہا جاتا ہے۔ اس نماز کی بہت زیادہ برکت ہے۔ پہلے زمانے کے بزرگ یہ نماز باجماعت ادا کرتے تھے اور اس کے لیے جمع ہوتے تھے اس کی فضیلت زیادہ اور ثواب بے شمار ہے۔

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’مجھ سے تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان فرمایا کہ جو شخص شبِ برأت کی رات یہ نماز پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر بار (نظرِ) رحمت فرماتا ہے اور ہر نظر کے بدلے اس کی ستر حاجات پوری کرتا ہے۔ سب سے کم درجے کی حاجت مغفرت ہے۔ ‘‘

(عبد القادر الجیلانی، غنیۃ الطالبین/٤٥٠)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رات کی برکات سے حصہ عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو مقصدیت، روشنی، محبت، خدمت اور خیر سے مومور فرمائے۔ آمین، بجاہ سیدالمرسلین ﷺ