سوال: آج کا مسلمان ایمان کی تاثیر سے محروم کیوں ہے؟
جواب: آج کے دور میں ایمان کی تاثیر سے دوری کی بنیادی وجہ نوجوان نسل کا ایمان کے معنی و مفہوم سے نا واقف ہونا اور بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کا ایمان کی حفاظت، اس کے تقاضے اور شرائط کو پورا نہ کرنا ہے۔ علاوہ ازیں اسلام دشمن طاقتوں کی نظریاتی، ثقافتی اور جذباتی سہ جہتی یلغار بھی امت مسلمہ کی بالعموم اور نوجوان نسل کی بالخصوص ایمان کی تاثیر سے محرومی کا سبب بن رہی ہے۔ کیونکہ نظریہ کسی بھی قوم، مذہب، تحریک یا تنظیم کے لئے اساسی درجہ رکھتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اقوام نظریے کی بنیاد پر بنتی اور قائم رہتی ہیں۔ جونہی نظریاتی اساس کمزور ہوئی، زوال و انتشار قوموں کا مقدر بن جاتا ہے۔
اس کی ایک سادہ اور عام فہم مثال یہ ہے کہ ایک درخت کی نشوونما کا دارومدار اس کی جڑ پر ہوتا ہے، اور جڑ ہی درخت کی زندگی اور تروتازگی کا ذریعہ ہے اگر جڑ میں نقص واقع ہو جائے تو درخت مرجھانا شروع ہو جائے گا پھر رفتہ رفتہ اس کے پتے، ٹہنیاں، پھل، پھول جس حالت میں ہوں گے بوسیدہ ہو کر زمین پر گر پڑیں گے۔ اگر جڑ مضبوط ہو تو پودا توانا اور پھلدار ہو گا، اس سے خوراک حاصل کرنا دوسروں کے لئے حیات بخشی کا سامان بنے گا۔ بات ساری تاثیر کی ہے، جس طرح درخت میں ساری تاثیر جڑ اور تنے کی ہوتی ہے، تاثیر اچھی ہو گی تو درخت پھل پھول بھی اچھے دے گا اور اگر تاثیر میں نقص واقع ہو جائے تو درخت خشک ہو جائے گا یہاں تک کہ لوگ اس کو کاٹ کر ختم کر دیں گے۔ اسی طرح نظریہ بھی قوموں کے ثقافتی، تہذیبی، مذہبی اور معاشرتی بقا اور سلامتی کی علامت ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر موجودہ دور میں امت مسلمہ ایمان کی حلاوت پانا اور بحیثیت مجموعی ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے بنیادی نظریات اپنا کر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنا ہو گا وگرنہ گمراہی و پستی اور ذلت و غلامی اس کا مقدر بن جائے گی۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے:
إِنَّ اللهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ.
(الرعد، 13: 11)
’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں۔ ‘
سوال: نظریاتی حملہ کیا ہے اور اس کا تدارک کیسے ممکن ہے؟
جواب: عصرِ جدید میں مادیت پرستی، جدیدیت اور لبرلرازم مکمل طور پر اسلام سے دور کرنے کے باعث بن رہے ہیں۔ یہ حملے جھوٹے افکار و نظریات کی مدد سے کیے جارہے ہیں۔ دینی تربیت سے بے بہرہ نوجوان جب کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر پہنچ کر مغربی فلسفوں اور نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ دینی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر مادہ پرستانہ نظریات کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان بالغیب، آخرت، نبوت اور رسالت کے بارے میں ان کے عقائد کمزور پڑنے لگتے ہے۔ اس طرح نا پختہ ذہن رکھنے والے نوجوان نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات پر کان نہیں دھرتے بلکہ وہ اسلام کے تمام تصورات کو بھی نا قابل عمل سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس نظریاتی حملہ کے نتیجے میں رونما ہو رہا ہے جو اسلام دشمن قوتیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اہل اسلام کے قلب و باطن پر کر رہی ہیں۔
نظریاتی حملے کا واحد تدارک یہ ہے کہ اسلام کو روایتی انداز کی بجائے سائنسی انداز اور مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کر کے نوجوان نسل کو یہ یقین دلایا جائے کہ فکری، نظریاتی اور استدلالی اعتبار سے اسلام سے بہتر دنیا کا کوئی نظام نہیں ہے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ جدید فکر اور نظریے مادیت سے جنم لیتے ہیں جبکہ اسلامی نظریے اور فکر کا سر چشمہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ اور قرآن حکیم کی بنیادی و اساسی تعلیمات ہیں۔ لہٰذا موجودہ نسل کو محض فتوؤں کے زور پر دوزخ کی آگ کے خوف سے اسلام کی طرف بلانے کے بجائے ان کے سامنے ایمان اور اسلام کو اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ جان لیں کہ تمام مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو پھر نوجوانوں کے عقائد کی بنیادیں متزلزل ہونے کی بجائے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائیں گی۔ کیونکہ بقول اقبال:
نہیں ہے نا امید اقبالؒ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اسلام کا حقیقت پسندانہ مطالعہ تعلیمات اسلام پر عمل ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے اس حملے کے منفی اثرات کی روک تھام میں مدد ملتی ہے جو انسانی شعور کے راستے سے امت مسلمہ کے ایمان پر وارد ہوتے ہیں۔
سوال: امت مسلمہ کے خلاف ہونے والے جذباتی حملہ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
جواب: مغربی تہذیب و ثقافت کی صورت میں ہونے والے حملے سے مراد ثقافتی حملہ ہے، جس کے زیر اثر نوجوان نسل کے معاشی اور سماجی تصورات زندگی بدل رہے ہیں۔ اخلاقی، عائلی، سماجی اور معاشرتی قدریں کمزور پڑتی جا رہی ہیں اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ فحاشی، عریانی اور بے راہ روی کے سیلاب نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے نتیجے میں معاملہ اس حد تک بگاڑ کا شکار ہو گیا ہے کہ بیٹیاں اپنے باپ دادا اور بزرگوں کے سامنے سر ڈھانپنا تو درکنار بے حجاب گھومنے پھرنے میں ذرہ بھر شرم محسوس نہیں کرتیں۔ مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار نے تمام معاشرتی قدروں کو خطرناک اور نام نہاد جدت پسندی کا رخ دے دیا ہے، نتیجتاً شریعت کی گرفت کمزور پڑنے کے باعث ہماری زندگی سے اسلامیت یوں رخصت ہوئی کہ ہم محض نام کے مسلمان رہ گئے اور ہمارا اسلامی تشخص ہماری مسلمانی پر بقول اقبال یوں آہ و زاری کر رہا ہے۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
ثقافتی حملہ سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے قدم کے طور پر امت مسلمہ کے اندر بالعموم اور نوجوان نسل کے اندر بالخصوص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مطہرہ اور سنت طیبہ سے محبت اور قلبی وابستگی پیدا کی جائے اور عملی اسلام کا وہ چہرہ ان کے سامنے پیش کیا جائے جو ان کے لئے کشش کا باعث ہو اور جس سے یہ واضح ہو کہ پیغمبر انسانیت اور ہادی برحق ﷺ نے اعلیٰ، بامقصد زندگی اور تہذیب و ثقافت کے بہترین نمونے اور اخلاقی قدروں کا جو نظام عطا کیا وہ عملی سطح پر دنیا سے افضل ہے۔ آج وقت کی اہم ترین ضرورت نئی نسل کو اسلام کے اصولوں اور تہذیبی و ثقافتی اقدار سے روشناس کرانا ہے۔ اسلامی اقدار کو کمزور کرنے میں جہاں اسلام دشمن طاقتیں بر سر عمل ہیں وہاں بعض والدین بھی منفی کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کی بچپن سے ہی ذہنی تربیت غیر اسلامی تہذیبی سانچوں میں ڈھال کر کرتے ہیں۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے جب لوہا گرم ہو تو اسے جس طرح چاہے پگھلا کر موڑ سکتے ہیں لیکن اگر آپ کی غفلت کی وجہ سے لوہا ٹھنڈا ہو کر جم گیا تو پھر اس میں کسی طرح کی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ سب سے اہم ذمہ داری ہمارے علماء، ائمہ مساجد، ادیب، شعراء اور اہل قلم پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قیمتی اثاثہ کی حفاظت کریں جو اسلام کی نایاب ترین اقدار اور ثقافت میں پایا جاتا ہے ان پر لازم آتا ہے کہ وہ اپنے کلام، وعظ اور اپنے دیوان میں اسلام کی روایات و اقدار کو قرآن و سنت کی روشنی میں پروان چڑھائیں۔
جیسا کہ ارشاد گرامی ہے:
کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْؤْلٌ عَنْ رَعْيتِه.
(بخاري، الصحيح، کتاب النکاح، 5: 1988، رقم: 4892)
’’تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ‘‘
ہر شخص اپنے دائرہ کار کے اندر جوابدہ ہے۔ کوئی گھر کا سربراہ ہے تو اس سے گھر کے معاملات کے بارے میں اور اگر کسی شخص کا اختیار محلے، قصبے، شہر، صوبے اور ملکی سطح تک ہے تو اس کی جواب طلبی کا دائرہ ان تمام سطحوں تک پھیلا ہوا ہوگا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے عملی نظام کو گھر کی سطح سے لے کر اجتماعی اور ملکی سطح پر نافذ کر دیا جائے تاکہ دور جدید کی تہذیب و ثقافت کی تند و تیز آندھیوں سے نوجوان نسل کے ایمان کی بجھتی ہوئی شمع کو محفوظ کیا جا سکے۔
سوال: کیا ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے؟
جواب: ایمان تجزی یعنی جزئیات کو قبول نہیں کرتا، اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی بلکہ اعمال صالحہ اور خیر و تقویٰ سے ایمان کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اعمالِ بد اور شر و فساد سے ایمان ضعف یعنی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ درج ذیل آیات سے واضح ہوتا ہے کہ مومنین کا ایمان اعمالِ صالحہ سے قوت پاتا ہے:
سورۃ آل عمران میں ارشاد ربانی ہے:
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.
(آل عمران، 3: 183)
’’(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوں نے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لئے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں۔ سو ان سے ڈرو۔ تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے، اور وہ کیا اچھا کارساز ہے۔ ‘‘
اسی طرح سورۃ الانفال میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ. الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ. أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ.
(الانفال، 8: 2۔ 4)
’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (انکے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلام محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں۔ اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے) (یہ) وہ لوگ ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے، اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ (حقیقت میں) یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں (بڑے) درجات ہیں اور مغفرت اور بلند درجہ رزق ہے۔ ‘‘
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
جو شخص لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کرے اور اس کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو تو اسے دوزخ سے ضرور آزاد کیا جائے گا۔ اور جو شخص لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو تو اسے بھی دوزخ سے نکالا جائے گا۔ اور جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ پڑھ لیا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی نیکی ہو تو اسے (بھی) دوزخ سے نکالا جائے گا، حتی کہ جس شخص نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا ہو گا اسے بھی بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔
(بخاري، الصحيح، زيادة الايمان و نقصانه، 1: 24، رقم: 44)