ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین
گذشتہ سے پیوستہ
پاکیزگی کی راہ اختیار کرنے، ایمان کو مضبوط کرنے، اعمال صالحہ اپنانے، اخلاقِ حسنہ اختیار کرنے، سیرت و کردار کو مزین کرنے، سیرتِ نبوی کے مطابق نیک اور صالح بننے، دنیا کمانے مگر آخرت کو مقدم رکھنے اور اسے ترجیح بنانے سے یقیناً اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور دیدار نصیب ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے ظاہرو باطن کی پاکیزگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سودا کر لیتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ.
(التوبۃ، 9: 111)
بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لیے (وعدۂ) جنّت کے عوض خرید لیے ہیں۔
کبھی اللہ تعالی ایسے خوش نصیب افراد کے اجر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ.
(الحدید، 57: 11)
کون شخص ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دے تو وہ اس کے لیے اُس (قرض) کو کئی گنا بڑھاتا رہے اور اس کے لیے بڑی عظمت والا اجر ہے۔
جب بندہ اللہ تعالیٰ کو اپنا دل بیچ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق پاکیزہ زندگی گزارتا ہے، آخرت کو ترجیح دیتا ہے، دنیاوی کمائی حلال طریقے سے کرتا ہےتو آقا ﷺ نے ایسے شخص کے فوت ہوتے وقت اور اس کے بعد کے احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’جب مومن دنیا سے تعلق توڑتا اور آخرت کی طرف منہ کرتا ہے تو اس کی موت کے وقت ملائکہ سفید نورانی چہروں کے ساتھ اترتے ہیں۔ ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی خوشبوئیں ہوتی ہیں۔ وہ ملائکہ اس شخص سے دور فاصلہ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ملک الموت آتا ہے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے:
أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ الله ورضوان قَالَ: فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ.
اے پاکیزہ روح! اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے باغوں کی طرف چل۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اُس کی روح جسم سے اِس طرح آسانی سے نکلتی ہے، جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے۔ ملک الموت اس کی روح کو قبض کرتا ہے لیکن دیگر فرشتے اسے ایک لمحہ بھی اس کے ہاتھ میں نہیں رہتے دیتے بلکہ اسے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیتے ہیں؛ اُسے جنت کا کفن پہناتے اور جنت کی خوشبوئیں لگاتے ہیں۔ پھر اس کے جسم سے زمین پر موجود سب سے اعلیٰ کستوری کی خوشبو جیسے مہک نکلتی ہے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر فرشتے اسے لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں اور وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرتے ہیں، وہ پوچھتا ہے: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: یہ فلاں ہے فلاں کا بیٹا۔ فرشتے اچھے القاب و اسما کے ساتھ اس کا نام لیتے ہیں، جن القاب و اسما کے ساتھ وہ اسے دنیا میں پکارتے تھے۔ حتی کہ وہ اسے لے کر آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں۔ ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ ہر آسمان کے مقرب فرشتے اسے الوداع کرتے ہوئے اگلے آسمان تک چھوڑ آتے ہیں۔ اس طرح وہ ملائکہ اسے لے کر ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔
فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّين فِي الأَرْض السُّفْلى فتطرح روحه طرحا ثُمَّ قَرَأَ: (وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرّيح فِي مَكَان سحيق) فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کا نام علیین (خاص مقرب افراد کے رجسٹر) میں درج کردو اور اب اس روح کو زمین میں واپس اس کے جسم میں لے جاؤ۔ میں نے (زمین کی) اسی (مٹی) سے انہیں پیدا کیا اور اسی میں انہیں لوٹاؤں گا اور اسی سے انہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالوں گا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ ‘‘
(احمدبن حنبل، المسند، 4: 287، 288، رقم: 18557)
گویا وہ شخص جس نے اپنا دل اللہ کو بیچ دیا، اس کی روح سب سے پہلے اللہ کے حضور تعظیم اور احترام کے ساتھ عرش پر لے جائی جاتی ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب میت قبر میں جاتی ہے تو وہیں روح آتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کے ساتھ خوبصورت تجارت اور ایک پختہ سودا کرتے ہیں اور پھر سودے کی وفا کرتے ہیں اور آخر وقت تک وفا کو توڑتے نہیں تو ملائکہ ایسے لوگوں کی روح کو لے کر سیدھا عرش پر جاتے ہیں۔ اس مرحلہ کے بعد روح قبر میں جاتی ہے۔ جب روح عرش پر اللہ سے ملاقات کر کے آتی ہے تو اس کے بعد اسے قبر میں آقا علیہ السلام کا دیدار ہوتا ہے۔ جو روح عرش پر اللہ سے ملاقات کرتی ہے، وہی روح قبر میں آقا علیہ السلام کو پہچان لیتی ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ جو اپنی زندگی اللہ کے ساتھ وفا میں نہیں گزارتے، بلکہ بے وفائی کرتے ہیں، ان کی روح بھی فرشتے قبض کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ مذکورہ حدیث میں بیان کردہ معاملہ نہیں ہوتا اور نہ ہی انھیں اس عزت و تکریم کے ساتھ عرش کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو قبر میں مقدر ہے۔
جنت میں داخل ہوتے ہی دیدارِ الہٰی
پس جو لوگ اللہ سے عہد کرتے ہیں، وفا کرتے ہیں اور اپنے وعدے کو نبھاتے ہیں تو انھیں یہ مقام نصیب ہوتا ہے۔ یہ تو دنیا سے رخصتی کے وقت کا منظر ہے اور وہ بندہ مومن جس نے اپنا دل ظاہر و باطن کی سلامتی کے ساتھ اللہ کو بیچ دیا ہو گا، اسے جنت میں داخل ہونے کے بعد پہلی ہی حلقے میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اذا دخل اھل الجنۃ الجنۃ، قال: یقول اللہ: تریدون شیئا ازیدکم؟ فیقولون: الم تبیض وجوھنا؟ الم تدخلنا الجنۃ وتنجنا من النار؟ قال: فیکشف الحجاب فما اعطوا شیئا احب الیھم من النظر الی ربھم ثم تلا ھذہ الآیۃ: (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) (یونس، 10: 26)
(مسلم، الصحیح، کتاب الایمان، باب اثبات رویۃ المومنین الآخرۃ ربھم، 1: 163، رقم: 181)
’’جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے (تو) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم کچھ اور چاہتے ہو تو میں تمہیں عطا کروں؟ وہ عرض کریں گے: (اے ہمارے رب! تیری عنایات میں پہلے ہی کیا کمی ہے) کیا تو نے ہمارے چہرے منور نہیں کردیئے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کردیا؟ اور ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دے دی؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ (اپنے جلوہ حسن سے) پردہ اٹھادے گا، تب انہیں (معلوم ہوگا کہ) اپنے پروردگار کے دیدار سے بہتر کوئی چیز نہیں ملی، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) ایسے لوگوں کے لیے جو نیک کام کرتے ہیں نیک جزا ہے (بلکہ) اس پر اضافہ بھی ہے۔ (اضافہ سے مراد دیدارِ الہٰی ہے۔ )
پس اس طرح بندہ مومن کی مرنے کے فوری بعد عرش پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوگی اور جنت میں داخلے کے بعد پہلے ہی حلقے میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔ جنہوں نے اللہ کو اپنا دل بیچ دیا، ان کے لیے لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ کے مصداق حسین اجر عطا کیا جائے گا اور اس سے بھی زیادہ یہ ہوگا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف کیا جائے گا۔
ó ایک اور حدیث مبارک میں ہے کہ اگر تم نے اللہ سے سودا کیا، اسے نبھایا اور وفا کو جفا میں نہیں بدلا، یعنی عہدِ وفا کو کبھی نہیں توڑا تو آقا علیہ السلام نے فرمایا:
أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ. (یٰس: 58) فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ. (سنن ابن ماجہ، كتاب السنة، باب: فيما أنكرت الجهمية، رقم الحدیث: 184)
” اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: ”اے جنت والو! تم پر سلام ہو۔ جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی، وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے۔ پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی۔ “
دیدارِ الہٰی اور جنت کے بازار
اللہ تعالیٰ کے ساتھ نفع بخش تجارت اور اپنے ظاہر و باطن کو پاکیزہ کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جنت میں اپنی ملاقات و دیدار سے نوازے گا اور جنت کے بازار میں اہلِ جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام سے لطف اندوز ہوں گے۔
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں:
أَسْأَلُ اللهَ أَنْ یَجْمَعَ بَیْنِي وَبَیْنَکَ فِي سُوْقِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِیْدٌ: أَفِیْهَا سُوْقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوْھَا، نَزَلُوْا فِیْهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، ثُمَّ یُؤْذَنُ فِي مِقْدَارِ یَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَیَّامِ الدُّنْیَا، فَیَزُوْرُوْنَ رَبَّهُمْ، وَیُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهٗ، وَیَتَبَدّٰی لَھُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّةِ.
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو جنت کے بازار میں اکٹھا کردے۔ سعید کہنے لگے: کیا جنت میں بھی کوئی بازار ہوگا؟ انہوں نے کہا: ہاں مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو وہ اپنے اَعمال کی برتری کے لحاظ سے مراتب حاصل کریں گے۔ دنیا کے ایّام میں سے جمعہ کے دن کے (دورانیہ کے) برابر انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر کرے گا اور باغاتِ جنت میں سے کسی ایک باغ میں اپنی تجلی فرمائے گا۔
پھر جنتیوں کے لیے منبر بچھائے جائیں گے جو نور، موتی، یاقوت، زبرجد، سونے اور چاندی کے ہوں گے۔ ان میں سے ادنیٰ درجے والے مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور (حقیقت میں) وہاں کوئی شخص بھی ادنیٰ نہیں ہوگا۔ وہ کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو اپنے سے افضل نہیں سمجھیں گے۔
قَالَ أَبُوْ هُرَیْرَةَ رضي الله عنه: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَهَلْ نَرٰی رَبَّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تَتَمَارُوْنَ فِي رُؤْیَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَیْلَةَ الْبَدْرِ؟ قُلْنَا: لَا، قَالَ: کَذٰلِکَ لَا تُمَارُوْنَ فِي رُؤْیَةِ رَبِّکُمْ، وَلَا یَبْقٰی فِي ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلاَّ حَاضَرَهُ اللهُ مُحَاضَرَةً.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کیا تم سورج اور چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں کوئی شک کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح تم اپنے پروردگار کے دیدار میں کوئی شک نہیں کروگے۔ اس محفل میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ براهِ راست گفتگو نہ فرمائے گا۔
حتیٰ کہ ان میں سے ایک سے فرمائے گا: اے فلاں بن فلاں! کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب تو نے فلاں بات کہی تھی؟ پس وہ اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائے گا۔ وہ شخص عرض گزار ہوگا: اے رب! کیا تو نے مجھے بخش نہیں دیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں کیوں نہیں اور میرے معاف فرمانے کی وجہ سے ہی تو اس مقام پر پہنچا ہے۔
فَبَیْنَمَا ھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ غَشِیَتْھُمْ سَحَابَۃٌ مِنْ فَوْقِھِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَیْھِمْ طِیْبًا لَمْ یَجِدُوا مِثْلَ رِیْحِهٖ شَیْئًا قَطُّ، وَیَقُوْلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: قُوْمُوْا إِلٰی مَا أَعْدَدْتُ لَکُمْ مِنَ الْکَرَامَةِ، فَخُذُوْا مَا اشْتَھَیْتُمْ.
لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ ان پر ایک بادل چھا جائے گا اور (اس سے) ایسی خوشبو برسائی جائے گی کہ اس طرح کی خوشبو اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں سونگھی ہو گی۔ پھر ہمارا پروردگار فرمائے گا: اس انعام و اکرام کی طرف اٹھو جو ہم نے تمہارے لیے تیار کر رکھا ہے اور اس میں سے جو تمہارا جی چاہے لے لو۔
پھر ہم بازار میں آئیں گے جہاں فرشتے ہی فرشتے ہوں گے۔ ایسا بازار نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا۔ جو چیز ہم چاہیں گے، ہمیں مہیا کر دی جائے گی، (دنیا کی طرح) خرید و فروخت نہ ہوگی۔ اس بازار میں اہلِ جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلند مرتبے والے آگے بڑھ کر ادنیٰ درجے والوں سے ملیں گے، وہاں کوئی ادنیٰ نہ ہوگا پھر وہ (کم درجے والا) اس کا لباس دیکھ کر بڑا متعجب ہو گا۔ ابھی ان کی گفتگو ختم نہیں ہو گی کہ وہ اپنے جسم پر اس سے بھی زیادہ خوبصورت لباس دیکھے گا اور یہ اس لیے کہ وہاں کسی کو کوئی حزن و ملال نہ ہو گا۔
ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلٰی مَنَازِلِنَا، فَیَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا، فَیَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْـلًا، لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِکَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَیْهِ، فَیَقُوْلُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْیَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ، وَیَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا.
پھر ہم واپس اپنے گھروں میں آجائیں گے۔ ہماری بیویاں ہمارا استقبال کریں گی اور کہیں گی: خوش آمدید، خوش آمدید، آپ واپس آ گئے ہیں، آپ کا حسن و جمال اس وقت سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے جس وقت آپ ہم سے رخصت ہوئے تھے۔ وہ کہے گا: آج ہم اپنے ربِ جبّار کی مجلس میں بیٹھ کر آئے ہیں (جس کی وجہ سے) ہم ایسی ہی نورانی شکل و صورت میں تبدیل ہو جانے کے حق دار تھے۔
(السنن الترمذی، کتاب صفة الجنة، باب ما جاء في سوق الجنة، 4: 685، الرقم: 2549)
پس دنیا میں اللہ سے وفا نبھانے والے اور اپنا دل اللہ کو بیچ کر اس سے تجارت کرنے والوں کو یہ عظیم نعمت حاصل ہوگی۔ دنیا کی زندگی تو چند دن کی ہے مگر اصل زندگی تو قبر کی شام سے شروع ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہم چند لمحوں کی زندگی کے لیے سب کچھ برباد کر رہے ہیں، جبکہ وہ زندگی جو قبر کی شام سے شروع ہوگی اور پھر قیامت اور بعد از قیامت تک کی ہے، اس زندگی کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔ ہم اللہ سے کیے ہوئے عہد توڑ رہے ہیں، ہماری زبان و اخلاق خراب ہورہے ہیں اور ہم عبادت و بندگی سے ہر آئے روز غافل ہوتے جا رہے ہیں۔
اللہ سے ملاقات و دیدار کی طلب میں تڑپنا ہی دیدارِ الہٰی ہے
یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم نے اللہ کے ساتھ ہونے والی اس تجارت میں کتنا آگے بڑھنا ہے؟ پس ہم میں سے ہر شخص اللہ کے ساتھ وفا نبھانے والا ہو جائے اور اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اللہ اس کے دل میں رہے۔ جن کے دلوں میں اللہ سما جائے، ان کی کیفیات کیا ہوتی ہیں؟ اس کا اندازہ درج ذیل روایت سے ہوتا ہے:
عبد الباری سے روایت ہے کہ میں اپنے بھائی ذو النون مصری کے ساتھ نکلا، تو ہم نے دیکھا کہ کچھ بچے ایک شخص پر پتھر پھینک رہے ہیں۔ میرے بھائی نے ان سے پوچھا: تم اس سے کیا چاہتے ہو؟انہوں نے کہا:
هذا رجلٌ مجنون، ومع ذلك يزعم أنه يرى الله تعالى.
یہ ایک پاگل شخص ہے، پھر بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے۔
حضرت ذوالنون مصری اپنے بھائی کے ساتھ اس کے قریب گئے اور دیکھا کہ وہ ایک خوبصورت نوجوان شخص ہے، اس پر عارفوں کی نشانیاں ظاہر تھیں۔ انھوں نے اسے سلام کیا اور کہا:
إنهم يزعمون أنك تدَّعي رؤية الله تعالى.
لوگ کہتے ہیں کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں۔
اس نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔ حضرت ذوالنون مصری نے پوچھا کہ اُسے کیسے دیکھتے ہو۔۔۔ ؟ اس پر اس نوجوان نے یہ اشعار پڑھے:
طَلَبُ الحبيبِ من الحبيبِ رضاه
ومُنى الحبيبِ من الحبيبِ لقاهُ
أبداً يلاحِظُه بعَيني قلبهِ
والقلبُ يعرفُ ربَّهُ ويراهُ
يرضَى الحبيبُ من الحبيبِ بقربـه
دونَ العبادِ، فما يريدُ سِواه
”محبوب سے محبوب کی تلاش اس کی رضا ہے۔ محبوب کی تمنّا محبوب سے ملاقات ہے۔ دل ہمیشہ اس کی نظر میں رہتا ہےاور دل اپنا رب پہچانتا اور دیکھتا ہے۔ محبوب صرف محبوب کے قرب سے راضی ہوتا ہے۔ وہ بندوں میں سے کسی کا قرب نہیں چاہتا اور محبوب کے علاوہ کسی کی تمنا نہیں کرتا۔ “
حضرت ذالنون مصری نے اس سے پوچھا: أمجنون أنت؟ کیا تم پاگل ہو۔۔۔ ؟اس نے کہا:
أمّا عند أهل الأرض فنعم، وأما عند أهل السماء فلا.
”زمین والوں کے لیے ہاں، لیکن آسمان والوں کے لیے نہیں۔ “
پوچھا: فكيف حالك مع المولى؟
اللہ کے ساتھ تیرا تعلق کیسا ہے؟
اس نے کہا: منذ عرفته ما جفوته۔
”جب سے میں نے اسے جانا، میں نے کبھی اس سے جفا نہیں کی۔ “
پوچھا: منذ كم عرفته ؟ ”کب سے جانتے ہو؟“
اس نے کہا: منذ جعل اسمي في المجانين.
”جب سے اس نے میرے نام کو پاگلوں میں شامل کیا گیا۔ “
(سیدی احمد الرفاعی، حالۃ اھل الحقیقۃ مع اللہ، ص: 11)
پس جس کا دل ہر وقت اللہ کو دیکھنے کی طلب میں تڑپتا رہے اور طلب کبھی ختم ہی نہ ہو، اسی کو ’’دیکھنا‘‘ کہتے ہیں کہ اس کے عشق کی کیفیت کبھی ختم ہی نہ ہو۔
دیدارِ الہٰی کے تقاضے
اگر ہم اللہ کے ساتھ اس تجارت میں سنجیدہ ہیں اور اس کی ملاقات و دیدار کے طالب ہیں تو اس کے کچھ تقاضے ہیں، جنھیں پورا کرنا ضروری ہے۔ یہ تقاضے ہمیں اہل اللہ کے احوال سے معلوم ہوتے ہیں:
(1) محبوب کی ناراضگی و بے ادبی سے ڈرتے رہنا
دیدارِ الہٰی کے حصول کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت اس کی ناراضگی اور بے ادبی سے بندہ ڈرتا رہے۔ حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ ایک دن کعبۃ اللہ کے طواف کے دوران میں نے ایک عاشق اور عارف جوان کو دیکھا۔ وہ خستہ حالت میں، زرد چہرے کے ساتھ رو رہا تھا۔ ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا:
تیرا محبوب تجھ سے راضی ہے یا ناراض؟ جوان نے جواب دیا:
راضی ہے، بڑا کریم ہے اور قریب بھی ہے۔
ذوالنون مصری نے پوچھا: پھر یہ خستہ حالی کیوں۔۔۔ ؟ جوان نے کہا: آپ کو معلوم نہیں، دوری سے زیادہ مشکل؛ قرب کا امتحان ہوتا ہے۔ محبوب قریب ہو تو ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں خطا نہ ہو جائے، بے ادبی نہ ہوجائے اور محبوب ناراض نہ ہوجائے۔
پس ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں، اس کی رضا طلب کریں، ہر وقت اللہ کی محبت میں رہیں اور ہر فعل اور عمل اسی کے احکامات و تعلیمات کے مطابق سر انجام دیں۔
(2) صحبتِ صالحہ اور اجتماعیت اختیار کریں
دیدار الہٰی کے حصول کا دوسرا تقاضا صحبتِ صالحہ کو اختیار کرنا ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ نے کشف المحجوب میں ایک نوجوان کا واقعہ ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اہل اللہ میں سے کسی نے کعبۃ اللہ کے طواف کے دوران ایک جوان کو دیکھا جو طواف کے دوران بار بار کعبۃ اللہ کے دروازے پر آتا اور دعا کرتا:
اللھم اصلح اخوانی فقیل لہ لم تدع لک فی ھذا المقام.
اے اللہ! میرے دوستوں کو نیک کر دے۔ میرے دوستوں کو نیک کر دے!وہ رو رو کر یہی دعا کرتا۔ جب کئی بار اسے یہی دعا دہراتے دیکھا تو اس سے کہا گیا: اے جوان! تم اپنے لیے دعا نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں نیک بنا دے بلکہ بھائیوں کے لیے دعا کرتے ہو۔ جوان نے جواب دیا:
ان لی اخوانا ارجع الیھم فان صلحوا صلحت معھم وان فسدوا فسدت معھم.
اے بھائی جب میں ان میں جاؤں گا اگر وہ صالح ملے تو میں بھی ان کی صالحیت سے صالح ہوں گا اور اگر فسادی رہے تو میں بھی ان کے فساد سے مفسد ہوجاؤں گا۔
یہی وجہ ہے کہ نیک دوست، نیک صحبت اور نیک سنگت اختیار کرنا ضروری ہے۔ اگر دوستی، صحبت، سنگت اور رفاقت نیکوں کے ساتھ ہوگی تو ہر وقت کان میں نیکی، بھلائی اور خوش خلقی کی بات پڑے گی اور ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات سنیں گے۔ جب بار بار اللہ کی بات سنیں گے تو نیکی دل میں اتر جائے گی۔ لہٰذا اگر اس راہ پر چلنا ہے تو تنہائی چھوڑ دیں، جماعت سے وابستہ ہو جائیں، نیک اور صالح اجتماعیت میں آئیں اور نیک رفاقت اور سنگت میں رہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
فَإِنَّ يَدَ اللہِ مَعَ الْجَمَاعَۃِ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ.
(سنن ترمذی، کتاب الفتن، باب ماجآء فی لزوم الجماعۃ، رقم: 2165)
اللہ کی یَدْ جماعت کے ساتھ ہے، شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے اور دو کے لیے دور تر ہے۔
گویا کوئی شخص اکیلا ہو تو شیطان اس کے قریب ہوتا ہے، دو ہوں تو شیطان ان سے دور ہو جاتا ہے۔ تین، چار ہوں تو شیطان مزید دور چلا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ سنگت نیک ہو۔ نیک صحبت کا مطلب ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات و تعلیمات اور ہمہ وقت نیکی کی بات سننے کو ملے۔ اس لیے کہ جو بات بار بار سنی جائے، انسان رفتہ رفتہ ویسا ہی بن جاتا ہے۔ جیسے لوہا ہوا میں پڑا رہے تو زنگ آلود ہو جاتا ہے اور اگر بندہ گلاب کے پھولوں کے درمیان ہو تو خوشبو اس میں سرایت کر جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ہمارا ماحول، صحبت اور رفاقت نیک ہوگی، جس میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات، ہدایت، آخرت، عشقِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ اور طہارت کی بات ہوگی تو رفتہ رفتہ وہ سب ہمارے اندر بھی رچ بس جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ.
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان مفاسد البعد عن الجماعۃ المسلمہ، رقم الحدیث: 184)
شیطان انسان کے لیے بھیڑیا ہے، جس طرح بھیڑیا اس بکری کو اچک لیتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو جائے۔ اسی طرح جب کوئی شخص تنہا ہوتا ہے تو شیطان اس پر قابو پاتا ہے اور جب اجتماعیت میں آتا ہے تو شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔
اگر ہم صرف اپنے حال میں رہیں، کاروبار، نوکری، لین دین اور معمول کے کام جاری رکھیں اور کسی نیک اجتماع یا صحبت میں شریک نہ ہوں، جہاں سے خیر، ہدایت اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات سننے کو نہ ملے تو شیطان ہمیں قابو میں لے لے گا۔ اس لیے تنہائی چھوڑیں اور اجتماعیت اختیار کریں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
ان یداللہ مع الجماعۃ وان الشیطان مع من فارق الجماعۃ یرتکض.
اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو جماعت سے الگ ہوکر بھٹکتا پھرتا ہے۔
(صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب طاعۃ الائمۃ، الرقم: 4577)
ہر کوئی اپنی اپنی جماعت اور تحریک کی دعوت دیتا ہے، ہر کوئی کہتا ہے کہ اس کی جماعت سب سے افضل ہے۔ میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ اس لئے کہ مجھے یہ کہنے میں حیا آتی ہےکیونکہ نہیں معلوم کہ اللہ کے نزدیک کون اعلیٰ اور مقبول ہے۔۔۔ ؟ اس لئے میرا پیغام صرف یہ ہے کہ اجتماعیت میں آئیں۔ سب کو سنیں، پڑھیں، دیکھیں اور پھر جہاں خیر، محبت، امن، سکون، وحدت اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ملے، جہاں نفرت، تفرقہ یا انتہاپسندی نہ ہو، وہاں چلے جائیں۔ یعنی جہاں دل مطمئن ہو جائے، اس اجتماعیت کو اختیار کریں۔ خواہ وہ منہاج القرآن ہو یا کوئی اور جماعت۔ میرا مقصد صرف خیر کی دعوت ہے۔ اگر منہاج القرآن کا پیغام، فکر اور سوچ دل کو پسند آئے، اس میں خیر، محبت اور وحدت نظر آئے تو اسے اپنا لیں۔ اگر کسی اور جماعت میں زیادہ خیر نظر آئے تو اسے اختیار کر لیں لیکن تنہا نہ رہیں، ورنہ شیطان دبوچ لے گا۔ اجتماعیت سے جڑیں تاکہ رہنمائی اور نیکی کی دعوت ملتی رہے۔
علاوہ ازیں مساجد کے ساتھ جڑیں۔ مسجدیں اللہ کے گھر ہیں، وہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہاں اچھے بھی آتے ہیں اور کمزور بھی، مگر مسجد بذاتِ خود عبادت اور سجدوں کی جگہ ہے۔ اپنی اولاد کو بھی مسجد سے جوڑیں۔ جتنا مسجد سے تعلق مضبوط ہوگا، اتنا ہی شیطان اور جہنم سے دور رہیں گے۔ اجتماعیت اور مسجد سے وابستگی برائی سے بچائے گی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کیے گئے عہد کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔ اگر ان ترجیحات پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ زندگی میں خیر پیدا فرمائے گا۔