معراجِ مصطفی ﷺ: انسانی معراج کی اساس

ڈاکٹر نعیم انور نعمانی

نسل ِانسانی کی تاریخِ ارتقاء میں معجزۂ معراج مصطفی ﷺ کو ایک بنیادی اور اساسی اہمیت حاصل ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس کو چھوئے اور بوسہ دیئے بغیر کوئی اعلیٰ و ارفع منزل طے نہیں ہوسکتی اور عروجِ آدمِ خاکی کا کوئی خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ سفرِ معراج رسول اللہ ﷺ کا وہ عظیم معجزہ ہے جس پر انسانی عقل آج بھی انگشت بدنداں ہے اور سراپا حیرت اور استعجاب کی تصویر بنے ہوئے ہے۔

انسانی عقل جوں ہی اس سفر کی تفصیلات کو پڑھتی اور جانتی ہے تو پھر سوال پر سوال کرتی ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ حیرانی اور حیرت کی بنیاد یہ ہے کہ سفرِ معراج کی کل مدت رات کا ایک قلیل حصہ ہے جبکہ اس میں صرف جو زمینی سفر (مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ) ہے وہ بھی عقلی طور پر کئی ایام تقاضا کرتا ہے۔ اس وقت کے ظاہری عالمِ اسباب میں یہ ناممکن تھا اور اس سے پہلے اس کی کوئی نظیر اور مثال بھی موجود نہ تھی، اس لیے مادی عقل یہ واقعہ اور رودادِ سفر سن کر اس کا انکار کر بیٹھی اور پھر اس عقل کو اس سفرِ معراج کی مکمل روداد نے مزید پریشان کردیا کہ یہ سفر صرف مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ (مرحلہ اسرٰی) تک کا نہ تھا بلکہ اس کے بعد دوسرا مرحلہ ’’معراج‘‘ ہے جو بیت المقدس سے شروع ہوکر ساتوں آسمانوں کی مرحلہ وار سیر کے بعد سدرۃ المنتہیٰ پر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعد تیسرا مرحلہ ’’اعراج‘‘ہے جو سدرۃ المنتہیٰ سے مقامِقاب قوسین او ادنیٰ تک ہے۔

معجزۂ معراج النبی ﷺ عقل کے پیمانوں پر آنے والا نہیں ہے۔ عقل سے جس بھی زمانے میں پوچھیں گے تو وہ واقعہ معراج کا انکار کرے گی۔ اگرچہ یہ زمانہ سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے، طیِ مکانی اور طیِ زمانی کی بہت سی حدوں کو عبور کرچکا ہے، بہت سے ناممکنات کو ممکنات میں بدل چکا ہے، تسخیرِ ارض سے تسخیر ماہتاب اور دیگر سیاروں کو تسخیر کرچکا ہے مگر اس کے باوجود انسان سفرِ معراج کی برق رفتاری کی ابھی گردِ راہ کو بھی نہیں پہنچ سکا، اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ سفرِ معراج معجزہ ہے اور معجزہ کا ادراک کبھی عقلِ انسانی نہیں کرسکتی۔ عقل معجزہ کے سامنے بے بس ہوتی ہے اور معجزہ عقل کے دائرۂ ادراک میں آتا ہی نہیں۔ معجزہ اپنی تعریف میں ہی عقل کی بے بسی کا اظہار کرتا ہے:

امرخارق العادۃ یعجز البشر عن ان یاتوا بمثلہ.

’’معجزہ اس خارقِ عادت چیز کو کہتے ہیں کہ جس کی مثل فرد بشر لانے سے عاجز آجاتا ہے۔ ‘‘

معجزے پر نبی و رسول کی صداقت اور حقانیت کا قیام ہے، اس لیے اس کی مثل لانا انسانوں کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ معجزہ اگرچہ نبی و رسول کے ہاتھوں اور وجود سے ظاہر ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ اللہ کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے اہل سیر نے بیان کیا ہے:

المعجزۃ عبارۃ عن اظھار قدرۃ اللہ سبحانہ علی ید نبی بحیث یعجز اھل عصرہ عن ایراد مثلھا.

(الشفاء، 1: 349)

’’معجزہ اللہ کی قدرت کا اظہار ہے جو کہ نبی اور رسول کے ہاتھوں سے ہوتا ہے تاکہ وہ اہلِ زمانہ کو اس کی مثل لانے سے عاجز کردے۔ ‘‘

سفرِمعراج: قدرتِ الہٰیہ کا اظہار

سفرِ معراج کے حوالے سے انسان کی منکر عقل کو باری تعالی نے جواب قرآن مجید میں خود عطا کیا ہے کہ اے انسانی عقل! اس سفرِ معراج کا انکار نہ کر، اس لیے کہ اس سفر معراج میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی اور وہاں سے سات آسمانوں، سدرۃ المنتہی، قاب قوسین اور لامکاں تک جانے کا دعوی محمد مصطفی ﷺ نہیں کررہے بلکہ یہ دعوی میری طرف سے ہے اور میری ذات وہ ہے جو ہر نقص، عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ میں اپنی قوت و طاقت کے ساتھ اپنے بندۂ خاص کو رات کے قلیل حصے میں لے کر گیا۔ ارشاد فرمایا:

سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا.

(بنی اسرائیل، 17: 1)

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔ ‘‘

اس آیہ کریمہ کے ایک ایک لفظ نے ذہن انسانی میں پیدا ہونے والے ہر اعتراض کا خاتمہ کردیا ہے کہ یہ سفر اللہ کی قدرتِ کاملہ اور اس کی خدائی قوت و طاقت سے سرانجام پایا ہے۔ وہ علیم و خبیر رب جانتا ہے کہ اس دعوی معراج کو عقل کا پجاری تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ شہرِ مکہ میں ہر شخص صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرح پیکرِ تسلیم و رضا نہیں ہے۔۔۔ ہر کوئی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھ رکھنے والا نہیں ہے۔۔۔ ہر کوئی عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسا حیا دار اور اہلِ ایمان نہیں۔۔۔ اور ہر کوئی علی المرتضی رضی اللہ عنہ جیسا وفادار اور جانثار نہیں ہے بلکہ اسی شہر میں ابوجہل اور ابو لہب بھی رہتے ہیں اور دوسرے کافر و مشرک بھی بستے ہیں۔ وہ حسد کے باعث اعتراض کریں گے اور انکار کریں گے اور طرح طرح کے عیب و نقص ڈھونڈیں گے۔ سفرِ معراج کا دعوی بہت بڑا دعوی تھا، اس لیے باری تعالی نے چاہا کہ حبیب ﷺ !یہ دعوی آپ نہ کریں بلکہ میں خود لفظ ’’سبحان‘‘ کے ساتھ اس سفر پر آپ کو لے جانے کا دعوی کرتا ہوں تاکہ اعتراض کرنے والی ساری زبانیں خاموش ہوجائیں کہ سفرِ معراج پر جانے کا دعوی آپ نہیں بلکہ میں کررہا ہوں کہ عالم بیداری میں آپ کو پیکرِ بشری کے ساتھ میں نے سیر کرائی ہے۔

پس اس دعوی معراج کا انکار کرنا، اللہ کے دعوی کا انکار کرنا ہے۔ اسی حکمت کے پیشِ نظر باری تعالی نے اپنے کلام کو رسول کے نام سے نہیں بلکہ اپنی صفت سُبْحٰن سے شروع کیا اور اس دعوی کی نسبت سراسر اپنی ذات کی طرف کی ہے۔

بیانِ معراج میں اللہ نے اپنا اور اپنے محبوب ﷺ کے نام کا ذکر ہی نہیں فرمایا

مذکورہ آیت کریمہ (الاسراء: 1) میں الذی اور بعبدہ کے الفاظ بھی قابلِ غور ہیں۔ باری تعالی نے واقعہ معراج کا تذکرہ بڑے حسین پیرائے میں کیا ہے مگر اس رب نے نہ صراحتاً اپنا نام لیا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کا صراحتاً ذکر کیا ہے بلکہ اشارے اور کنائے میں بات کی ہے کہ ’’ پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندہ خاص کو‘‘۔ اشارے کی بات محبت کی شدت اور اپنائیت کو ظاہر کرتی ہے۔ گویا الذی کہنے میں رب کے چاہے جانے کی بات ہے اور بعبدہ میں رسول اللہ ﷺ کے چاہے جانے کی بات ہے۔

لفظ الذی کا عمومی اطلاق ہر کسی پر ہوسکتا ہے مگرجب الذی لفظ سُبْحٰن کے ساتھ آئے تو یہ واضح کررہا ہے یہاں اس الذی کا بیان ہے جو ہر عیب سے پاک اور ہر نقص اور کجی و کمی سے ماوراء ہے۔ اسی طرح عبد کا اطلاق ہر شے پر ہوتا ہے۔ کائنات میں ہر شے عبد ہے۔ ارشاد فرمایا:

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ.

(مریم، 19: 93)

’’آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی (آباد) ہیں (خواہ فرشتے ہیں یا جن و انس) وہ اللہ کے حضور محض بندہ کے طور پر حاضر ہونے والے ہیں۔ ‘‘

مگر یہاں عبد عام کا نہیں بلکہ عبد خاص کا ذکر ہورہا ہے۔ وہ عبد جس کو کل جہانوں کے لیے رب نے رحمت بناکر بھیجا ہے۔۔۔ وہ عبد جو اپنی عبدیت میں نقطہ کمال پر فائز ہوچکا ہے۔۔۔ اور وہ عبد جو سلسلہ نبوت و رسالت میں ختم نبوت اور امام الانبیاء کے منصب پر فائز ہوچکا ہے۔

معراج اور شانِ عبدیت

باری تعالی نے اس آیہ کریمہ میں عبدہ کی جگہ نبیہ اور رسولہ کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ نبوت و رسالت کا وصف اس وقت بھی جدا نہیں تھا مگر یہ سفر آپ ﷺ کی شانِ عبدیت کے ساتھ طے ہوا ہے۔ رسالت اور نبوت مخلوق کے لیے ہے جبکہ بندے کی عبدیت اللہ کے لیے ہے۔ نبوت و رسالت کا تقاضا یہ ہے کہ جب نبی و رسول قربِ خداوندی کی لذتوں سے آشنا ہوں تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی امت بھی قربتِ خداوندی کی یہ لذتیں اور حلاوتیں پائے جبکہ اس کے برعکس عبدیت میں بندہ مخلوق سے خالق کی طرف سفر کرتا ہے، وہ شانِ عبدیت میں اللہ کی محبت اور اس کے مشاہدۂ جمال میں ٖغرق ہوتا ہے اور اسی کے ذکر و فکر میں ڈوبا رہتا ہے اور جب وہ اللہ کی ذات میں گم اور فنا ہوجاتا ہے تو وہ عبدہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا:

عبد دیگر عبدہ چیزے دیگر

ایں سراپا انتظار او منتظر

رسول اللہ ﷺ کا سفر معراج خلق سے خالق کی طرف ہوا ہے، اس لیے باری تعالی نے لفظ بعبدہ قرآن میں استعمال کیا، اس میں قربِ خداوندی اور وصلِ الہی کی حلاوتیں اپنے پورے کمال کو پہنچی ہوئی تھیں۔

لفظ عبد کا اطلاق انسان پر اس وقت ہوتا ہے جب یہ جسم اور روح کا مجموعہ ہو۔ اگر جسم زمین پر رہے اور فقط روح سفر کرے تو پھر عبد نہیں کہلاتا۔ عبد استعمال کرکے باری تعالی نے اپنے بندوں پر واضح کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ سفرِ معراج جسد مع الروح یعنی پیکرِ بشری کے ساتھ اور حالتِ بیداری میں ہوا ہے۔ یہ سفرِ معراج محض حسنِ اتفاق نہ تھا بلکہ یہ چاہت کا سفر تھا۔ یہ محبت و مؤدت کا سفر تھا اور یہ عظمت و رفعت کا سفر تھا۔ یہ تمام انبیاء و رسل کی ایک آرزوؤں کی تکمیل کا سفر تھا کہ ھواللہ احد کو احدیت کے جلوؤں میں دیکھا جائے اور اس کے حسنِ مطلق کی دید کی جائے۔ یہ ایسا سفر تھا جس نے ارتقائے نسل کے سفر کے ماتھے کا جھومر بننا تھا جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقبال نے کہا:

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں

عبدہ کا لفظ استعمال کرکے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ عبد عام کا سفر نہیں بلکہ یہ عبد خاص کا سفر ہے۔ وہ عبد خاص جو اس کائنات میں صناع ازل کا شاہکار ہے اور جو بے مثل و بے مثال ہے۔۔۔ جس کے بشری وجود کو ہر عیب سے پاک کیا ہے اور ہر نقص سے مبراء کیا ہے۔۔۔ جس کو ہر کجی سے بچایا ہے اور جس کو ہر کمی سے منزہ کیا ہے۔۔۔ جس کو جس بھی نگاہ سے دیکھا جائے، وہ کمال کے ہر پیمانے اور حسن کی ہر کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔

سفرِمعراج کے لیے رات کا انتخاب کیوں؟

اس آیہ کریمہ میں لفظ لیلاً استعمال ہوا ہے کہ یہ سفرِ معراج رات کے وقت ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سفر معراج کے لیے رات کے وقت کا انتخاب کیونکر ہوا ہے؟ یاد رکھیں! تحصیلِ نعمت اور حصولِ مقصد کے لیے رات کا وقت دن سے افضل ہوتا ہے۔ رات میں خلوت کا سامان ہوتا ہے، دن میں جلوت ہوتی ہے۔ رات کی خلوت قربتِ الہی اور معرفتِ خداوندی کے لیے رقت انگیزی دیتی ہے۔ اہل اللہ کو رات کی خلوت سے پیار ہوتا ہے اور اس میں وہ اللہ کے انعامات اور اس کی بخشش و مغفرت کی خیرات پاتے ہیں اور اس کی رحمت کے نزول کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے باری تعالی ٰنے اپنے بندوں کے لیے اپنی سب سے بڑی نعمت اوراپنا زندہ و جاوید کلام قرآن حکیم بھی رات کی ساعتوں میں نازل کیا ہےاور رات کے دامن میں ہی اپنے حبیب ﷺ سے ملاقات بصورتِ صلوۃ تہجد کا وقت مختص کیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ.

(الاسراء، 17: 79)

’’ اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی قرآن کے ساتھ شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لیے زیادہ (کی گئی) ہے۔ ‘‘

بعض راتوں کی چند ساعتیں ہزاروں دنوں پر فائق ہوتی ہیں۔ جیسے لیلۃ القدر کو یہ شرف بخشا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام سے ہمکلامی کے لیے بھی اربعین لیلۃ (چالیس راتوں) کا انتخاب کیا ہے۔ پس اس لیے اپنے محبوب کو فکان قاب قوسین او ادنی پر فائز کرنے اور دیدارِ الہی کی سب سے بڑی نعمت عطا کرنے کے لیے بھی باری تعالی نے رات ہی کا انتخاب کیا ہے۔

قَابَ قَوْسَیْن اَوْ اَدْنیٰ اور مقامِ مصطفی ﷺ

اس سفرِ معراج میں حضرت جبرائیل امین مکہ سے بیت المقدس اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں کے سفر اور پھر وہاں سے سدر المنتہی کے سفر تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ رہے مگر جب سدرۃ المنتہی سے آگے جانے کا وقت آیا تو جبرائیل امین نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا:

لو دنوت اغسلۃ لاحترقت.

(روح البیان، 9: 217)

’’اگر میں پور برابر بھی آگے بڑھوں تو جل جاؤں گا۔ ‘‘

یارسول اللہ میری یہی منزل ہے اور اس سے آگے جانے کی مجھے اجازت نہیں۔ اگر اس مقام سے تھوڑا سا بھی آگے گیا تو میرے پر جل جائیں گے۔ اس سے آگے رسول اللہ ﷺ کے لیے سواری رفرف لائی گئی اور وہاں سے آگے لامکاں کا سفر شروع ہوا حتی کہ آپ ﷺ ثم دنی فتدلی (پھر وہ ربّ العزّت اپنے حبیب محمد ﷺ سے قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا)کی منزل پر فائز ہوئے۔

جب رسول اللہ ﷺ دنی فتدلی کے مقام پر فائز ہوئے تو اس کی بھی عقلی توجیہ ہمیں سمجھ آتی ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو مہمان بلاتا ہے تو وہ آنے والے مہمان کا آگے بڑھ کر استقبال کرتا ہے۔ بلاتشبیہ و بلامثال شبِ معراج میں بھی باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اپنے پاس بلایا تھا، اس لیے فرمایا کہ یہاں تک آپ چل کر آئے ہیں، اب آپ ٹھہر جایئے! دستورِ میزبانی کے مطابق میری رحمت بندہ نوازی کرتے ہوئے اے محبوب تیرا استقبال کرے گی تاکہ تیری عظمت اور محبوبیت کا اظہار ہو۔ اس لیے فرمایا:

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی.

(النجم، 53: 8)

’’ پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد ﷺ سے) قریب ہوا۔ پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ ‘‘

دنی کا معنی قرب ہے اور تدلی کا معنی قریب ہونا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ دنی میں تین حروف ہیں جبکہ تدلی میں چار حروف ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کثرتِ حروف کثرتِ معنی پر دلالت کرتا ہےاور قلتِ حروف قلتِ معنی پر دال ہیں۔ دنی فعلِ مصطفی ہے اور تدلی فعلِ خدا ہے۔۔۔ دنی قرب مخلوق کوظاہر کرتا ہے جوکہ محدود ہے جبکہ تدلی قربِ خدا کو ظاہر کرتا ہے جو لامحدود ہے۔۔۔ رسول اللہ کے دنی فعل کا جواب باری تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق تدلی سے عطا کیا ہے۔ اس لیے کہ اس کی شان یہی ہے کہ جب بندہ بالشت بھر اس کے قریب ہوتا ہے تو وہ زراع بھر بندے کے قریب ہوتا ہے۔ حدیث قدسی ہے:

من تقرب منی شبراً تقربت منہ ذراعاً.

(صحیح بخاری، کتاب التوحید)

جو مجھ سے بالشت کے برابر قریب ہوتا ہے تو میں اپنی شان کے مطابق ایک ذراع (ایک گز) بندے کے قریب ہوتا ہوں۔

اسی طرح باری تعالی نے یہاں دنی کا جواب تدلی کی صورت میں دیا ہے۔

ثم دنی فتدلی میں قُرب کا ذکر دو دفعہ آیا ہے۔ شیخ شیرازی بقلی اور دیگر عرفا بیان کرتے ہیں کہ ثم دنی کی صورت میں باری تعالیٰ نے اپنی صفات کی تجلیات کا اتنا قرب رسول اللہ ﷺ کی صفات کو عطا کیا ہے کہ صفاتِ محمدیہ پر صفاتِ الہٰیہ کا رنگ چڑھ گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ صفاتِ الہیٰہ کے مظہرِ اتم بن گئے اور یوں رسول اللہ ﷺ کی صفات کو معراج نصیب ہوئی اور پھر قربِ صفات کے بعد باری تعالیٰ نے فَتَدَلّٰی کے مصداق اپنی تجلیاتِ ذات کے قرب کو آپ ﷺ کی ذات کی طرف متوجہ کیا تو آپ ﷺ کی ذات تجلیاتِ ذاتِ الہٰی سے یوں مستنیر ہوئی کہ آپ نے چشمِ سر اور چشمِ دل سے خدا کا دیدار کیا۔ یہ قربِ ذات تدلی کے فعل سے ظاہر ہوا۔

جب رسول اللہ ﷺ صفات الہٰیہ اور تجلیاتِ ذاتِ الہٰیہ کا مظہرِ اتم بن گئے تو اب آواز آئی کہ حبیب مکرم ﷺ آگے بڑھیے! آپ ﷺ ! آگے بڑھے یہاں تک محبوب اور محب کے درمیان فاصلہ کم ہوتے ہوئے قاب قوسین (دو کمانوں)کے برابر رہ گیا اور وہ منزلِ قرب آگئی جو سفرِ معراج کا نقطہ کمال تھا۔ اس قرب کے باوجود محب و محبوب کے درمیان فرق قائم رہا۔ یہ عبد رہے، وہ معبود رہا۔۔۔ یہ مخلوق رہے اور وہ خالق رہا۔

قاب قوسین کے بعد قرآن خاموش نہیں ہوگیا۔ اس لیے کہ اگر قاب قوسین تک بات متعین ہوجاتی تو قرب متعین ہوجاتا۔ باری تعالیٰ اپنے اور اپنے محبوب کے درمیان ان فاصلوں کو بھی مٹانا چاہتا ہے، اس لیے ساتھ ہی فرمایا: او ادنی، یعنی دو کمانوں کی مثال تو لوگوں کو سمجھانے کے لیے استعمال کی، وگرنہ محب اور محبوب کے درمیان فاصلہ اس سے بھی کم تر (او ادنیٰ) ہے۔ او ادنیٰ سے پہلے الی اور حتی کا حرف بھی استعمال نہیں کیا تاکہ قرب کی کوئی آخری حد مقرر ہی نہ ہو کہ فاصلہ کتنا کم ہوا۔ او ادنیٰ کا لفظ ہمیں بتارہا ہے کہ محب اور محبوب کے درمیان تمام فاصلے ختم ہوگئے صرف اتنا فرق رہا کہ یہ عبد رہا اور وہ معبود رہا۔۔۔ یہ مخلوق رہا اور وہ خالق رہا۔۔۔ یہ مملوک رہا اور وہ مالک رہا۔۔۔ اس کے علاوہ بقیہ سب فاصلے اور فرق مٹادیئے۔

اس مقامِ قرب پر اس حسنِ مطلق اور اس کے جلوؤں کی دید میں شان محبوبیت یہ تھی کہ مازاغ البصر و ما طغیٰ، نگاہِ محبوب نہ ہٹی اور نہ ہی حد سے بڑھی اور وصال و دید کا عالم یہ تھا کہ چشمِ نظارہ ایک لحظہ بھی جمال جہاں آراء سے نہ ہٹنے پائی اور احدیت اور احمدیت کی قوسین اس طرح مل گئیں کہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوگئے کہ درمیانی فاصلے مٹ گئے۔

یوں شب معراج باری تعالیٰ نے اپنے بندہ خاص اور رسول آخرالزماں ﷺ پر اپنی عنایات کی اتنی بارش کی اور اس قدر عظمتیں اور رفعتیں عطا کیں کہ آج تک کسی اور رسول اور نبی کو یہ اعزاز، شرف اور یہ رفعت حاصل نہ ہوسکی اور نہ قیامت تک کسی اور کو حاصل ہوسکے گی۔ اس مقامِ خاص پر اللہ نے اپنے بندۂ خاص سے جو کلام کیا، قرآن اسے یوں بیان کرتا ہے:

فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی

(النجم، 53: 10)

’’ پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اللہ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی۔ ‘‘

الغرض جو دینا تھا وہ دیا اور جو بتانا تھا وہ بتایا۔

خلاصۂ کلام

یونانی فلاسفرز نے علم کے ادراک کا ذریعہ عقلِ انسانی کو قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ وہ اس بات کا بھی انکار نہ کرسکے کہ انسانی زندگی میں ہزاروں حقائق ایسے بھی ہیں جنھیں عقلِ انسانی سمجھنے سے قاصر ہے۔ انسان ہر دور میں اپنی عقل کو فیصلہ کن سمجھتا رہا ہے اور آج بھی سمجھ رہا ہے مگر معجزاتِ انبیاء کو عقل و شعور کے پیمانوں پر نہیں پرکھاجاسکتا۔ اس لیے کہ عقلِ انسانی اس حقیقت کو نہیں جان سکتی کہ چاند کسی ہستی کے انگلی کے اشارے سے کیسے دو لخت ہوسکتا ہے اور کنکریاں کیسے کسی کے حکم پر کلمہ پڑھ سکتی ہیں۔ آپ ﷺ رات کے قلیل حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ اور وہاں سے لامکاں کا سفر کرکے اور قاب قوسین او ادنیٰ کی منزل پر فائز ہوکر ایک ہی رات کے کچھ حصے میں واپس کیسے واپس آگئے۔

عقلِ انسانی تمام معجزات پر حیراں اور پریشان ہوئی اور سوچتی ہی رہ گئی۔ یہ سارے معجزات انسان کے حواسِ خمسہ کے ادراک سے باہر تھے، اس لیے پہلے بے دھڑک انکار کردیتے تھے مگر اب جدید زمانے نے حواسِ خمسہ کو خارجی ذرائع سے تقویت دی ہے۔ اب انسان خوردبین (Microscope) دور بین (Telescope) اور سراغ رساں آلہ (Micro Wave Detector) کے ذریعے ان دیکھی مخلوقات کو جاننے لگا ہے اور لاکھوں نوری سال کی مسافت پر پیدا ہونے والے سیاہ شگافوں (Black Holes) کا مشاہدہ کرنے لگا ہے اور طرح طرح کی حیرت انگیز ایجادات کے ذریعے یہ انسان کرۂ ارضی سے کروڑوں اور اربوں میل کی مسافت پر وقوع پذیر ہونے والے کائناتی تغیرات کا مشاہدہ کررہا ہے اور ان مشاہدات کے نتیجے میں اہلِ زمین کی سلامتی، بقاء اور نفع کے منصوبے بنارہا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے اس نے دنیا کو گلوبل ویلج میں بدل دیا ہے۔ اب یہ انسان اپنے نظام شمسی سے بھی بہت دور خلا کی بے انتہا وسعتوں میں انسانی آبادیوں کے قیام کا آرزو مند ہے۔

اب عقل انسانی سائنس و ٹیکنالوجی کی محیرالعقول ایجادات کی بنا پر جزوی طور پر معجزات کی قائل ہورہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نبوت قیامت تک کے لیے ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کو جو معجزات عطا کیے گئے وہ قیامت تک تمام زمانوں کی ضروریات کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے معجزات سائنس وٹیکنالوجی کے دروازے پر قبولیت کے لیے دستک دے رہے ہیں اور اب قیامت تک عقلِ انسانی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں جتنی بھی ترقی کرے گی وہ رسول اللہ ﷺ کے معجزۂ معراج کا فیض ہوگا اور آج سائنس نے جتنی بھی حیران کن ایجادات کرلی ہیں اور ان ساری ایجادات و اکتشافات کی بنا پر عقلِ انسانی کے پاس معجزہ معراج النبی ﷺ کو جھٹلانے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

اگر آج کے انسان کے لیے خلاؤں کا سینہ چیر کر چاند پر قدم جمانا اور اپنے نظام شمسی کی آخری بلندیوں کو چھونا ممکن ہے تو ذات مسبب الاسباب کی عطا کردہ روحانی قوت کے ذریعے سرور کائنات ﷺ کا آسمانوں کی وسعتوں کو چیرتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ اور قاب قوسین تک پہنچنا کیسے اور کیونکر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ آج کے انسان کی ہر ترقی کی بنیاد، اس کی ہر بلندی کی اساس، اس کے ہر کمال کا راز، اس کی ہر رفعت و عظمت کی بنا اور اصل صرف اور صرف معراج مصطفی ﷺ ہے۔

آج اسی سائنس و ٹیکنالوجی کے حامل انسان کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے اقبال نے کہا:

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے

کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں