اسلام میں خوف اور غم کا تصور بڑا وسیع ہے۔ اس تصور میں صبر و شکر، خوشی و غم، تقوی و پرہیز گاری، خوف و رجاء اور توکل جیسے تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایک مسلمان کبھی خوف میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی اس پر کچھ کیفیاتِ غم وارد ہوتی ہیں۔ یہ خوف وغم کی کیفیات آزمائشوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں جن سے مومنین و مسلمین کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی محبت کا دم بھرتے ہیں، اپنے دعوؤں میں کہاں تک سچے ہیں۔
تصوف میں خوف و غم ان باطنی کیفیات کا نام ہے جو بندۂ مومن کو تعلق باللہ اور محبتِ الہی کے جذبات کی بنیاد پر ہر وقت اپنے آپ کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کرتے رہنے پر محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقت کو حاصل کرنے والے ہیں اور دیدارِ الہی سے مشرف ہونے والے ہیں۔ ان لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ یہ لوگ ہر وقت اللہ کی یاد اور اس کے خوف و غم میں گم رہتے ہیں اور ان کے دل کبھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔ یہی لوگ اصل میں فلاح پانے والے ہیں۔ ان کا جاگنا سونا، کھانا پینا اور اٹھنا بیٹھنا سب اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا مقصد بھی صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لئے یہ اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔
اولیاء و صوفیاء کے ہاں خوف کا معنی و مفہوم
صوفیاء اور اولیاء کے نزدیک خوف کے متعدد مفاہیم ہیں، یہ مفاہیم ان کے اپنے تجربات اور مشاہدات کا نتیجہ ہیں۔ ذیل میں چند معروف صوفیا و اولیاء کے مطابق خوف کا معنی و مفہوم بیان کیا جارہا ہے:
1۔ امام غزالی فرماتے ہیں: مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز کی توقع کی وجہ سے دل میں جو الم وحزن اور جلن پیدا ہوتی ہے اسے ”خوف“ کہتے ہیں۔ یہ خوف کبھی تو گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت اس خوف کا سبب بنتی ہے۔
(امام غزالی، احیاء علوم الدین، ج: 4، ص: 245)
2۔ امام قشیری فرماتے ہیں: خوف ایک ایسی کیفیت ہے جس کا تعلق مستقبل سے ہے کیونکہ اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کوئی نا پسندیدہ بات نہ ہو جائے یا کوئی محبوب چیز چلی نہ جائے اور یہ بات اسی چیز کی وجہ سے ہوتی ہے جو مستقبل میں حاصل ہوگی۔ اور جو چیز فی الحال موجود ہو اس کے ساتھ خوف کا تعلق نہیں ہوتا۔
(ابوالقاسم عبدالکریم القشیری، رسالہ قشیریہ، ص: 248-249)
3۔ حضرت ابو حفص فرماتے ہیں:
الخوف سوط الله یقوّم به الشاردین عن بابه.
(القشیری فی الرسالۃ: 125)
’’ اللہ تعالیٰ کا خوف ایسا کوڑا ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے در سے بِدکے ہوؤوں کو سیدھا کرتا ہے۔ ‘‘
مزید فرماتے ہیں کہ خوف قلبِ مومن میں وہ شمع ہے کہ جس کی روشنی کی بدولت وہ خیر اور شر میں امتیاز کر سکتا ہے۔
4۔ امام حاتم الاصمؒ فرماتے ہیں:
لکل شيء زینۃ، وزینۃ العبادۃ الخوف، وعلامۃ الخوف قصر الأمل.
(القشیری فی الرسالۃ: 127)
’’ ہر چیز کی زینت ہوتی ہے اور خوف عبادت کی زینت ہے، خوف کی علامت امید کو کم کرنا ہے۔ ‘‘
خوف کے درجات
امام غزالی خوف کے درجات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خوف کے تین درجات ہیں:
1۔ ضعیف 2۔ قوی 3۔ معتدل
1۔ ضعیف خوف وہ ہے جو بندے کو کام پر مستعد نہ رکھے جیسے عورتوں کی رقت۔
2۔ قوی خوف وہ ہے جس سے ناامیدی، بے ہوشی اور موت کا خوف ہو۔
یہ دونوں مذموم ہیں اس لیے کہ خوف فی نفسہ کوئی کمال کی چیز نہیں مگر غافلوں کے حق میں البتہ خوف کمال کی چیز ہے اس لیے کہ خوف اس تازیانے کی مانند ہے جو نافرمان یا بِدکے ہوئے جانور کی تادیب کی خاطر استعمال ہوتا ہے۔ جب تازیانہ کمزور ہو اور اس سے چوٹ نہ لگے تو یہ تادیب کے کام نہیں آئے گا اور نہ جانور کو راہِ راست پر لاسکے گا اور اگر تازیانہ ایسا سخت ہو کہ نافرمان لڑکے یا جانور کا بدن پھٹ جائے یا ہاتھ یا منہ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو بھی نقصان ہے۔
3۔ معتدل خوف وہ ہے جو گناہوں سے باز رکھے اور عبادت کی رغبت دلائے۔ جو زیادہ عالم ہوتا ہے اس کا خوف بھی زیادہ معتدل ہوتا ہے، اس لیے کہ اس کا خوف جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ اسباب رجا کا خیال کرتا ہے اور جب گھٹ جاتا ہے تو ترکِ عمل کے خطرات کا اندیشہ اسے لاحق ہو جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اول العلم معرفة الجبار واخر العلم تفويض الامر اليه
پہلا درجہ تو یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو پہچانے اور انتہا یہ ہے کہ اپنے تمام کام اس کی مرضی پر چھوڑ دے اور جان لے کہ میں کوئی چیز نہیں ہوں اور میرے سبب سے کچھ نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ جانے تو سہی لیکن ڈرے نہیں۔
(غزالی، کیمیائے سعادت)
خوف کی اقسام
حضور غوث پاک شیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے خوف کی بابت پوچھا گیا توفرمایا: خوف کی چار اقسام ہیں:
خوف تو گناہ گاروں کو ہوتا ہے۔۔۔ رهبه عابدین کو ہوتی ہے۔۔۔ خشیت عالموں کو ہوتا ہے۔۔۔ وجد دوستوں کو ہوتا ہے۔۔۔ ہیبت عارفین کو ہوتی ہے۔
گناہ گاروں کو خوفِ عذاب ہوتا ہے۔۔۔ عابد کا خوف ثوابِ عبادت کے فوت ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔۔۔ عالموں کا خوف طاعات میں شرکِ خفی سے ہوتا ہے۔۔۔ عاشقوں کا خوف ملاقات کے فوت ہونے سے ہے۔۔۔ عارفین کا خوف بیت و تعظیم ہے اور یہ خوف سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ کبھی دور نہیں ہوتا اور یہ تمام اقسام جب رحمت و لطف کے مقابل ہو جائیں تو تسکین پا جاتے ہیں۔
(امام الاولیاء ترجمہ و شرح بهجة الأسرار، ص: 236)
ó حضرت ابن عجیبہ رضی اللہ عنہ خوف کی اقسام کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ یہ تین طرح کا ہوتا ہے:
1۔ عوام کا خوف: ان کا خوف عتاب و عذاب اور ثواب سے محرومی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
2۔ خواص کا خوف: یہ عتابِ الہی اور قرب کی سعادت سے محروم ہونے سے ڈرتے ہیں۔
3۔ خاص الخواص کا خوف: یہ صرف اس لئے ڈرتے ہیں کہ سوء ادب کی وجہ سے دیدار کی لذتوں سے محروم نہ ہو جائیں۔
(عبدالقادر عیسی شازلی، حقائق عن التصوف (تصوف کے روشن حقائق)، ص 253، 254)
اولیاء و صوفیاء کے ہاں غم (حزن) کا معنی و مفہوم
عربی میں غم کے لئے ”حزن“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا معنی مصیبت، رنج والم، پریشانی، ناگواری وغیرہ میں آتا ہے۔ غم انسان کی اندرونی کیفیت اور احساس کا نام ہے جو اس وقت ملتا ہے جب وہ اپنی محبوب چیز کو کھو دیتا ہے۔ انسان پر غم کی مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ قرآن و حدیث میں غم کے لئے حزن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ائمہ اور صوفیاء نے بھی غم اور حزن کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے صوفیاء کے اقوال بیان کیے جارہے ہیں:
1۔ امام ابو القاسم القشیری فرماتے ہیں: حزن ایک ایسی کیفیت و حالت کا نام ہے، جو دل پر قابو پا کر اسے غفلت کی وادیوں میں پریشان پھرنے سے روکتی ہے اور یہ اہلِ سلوک کے اوصاف میں سے ہے۔
(القشیری، الرسالہ قشیریہ، ص: 269)
2۔ امام غزالی فرماتے ہیں: جب انسان کو مال کے لحاظ سے امن، بدن کے لحاظ سے عافیت اور ایک دن کی خوراک میسر ہو تو اس کا سامانِ دنیا کے بارے میں رنج و غم کا اظہار کرنا اس کی حماقت اور کو تاہ عقلی کی دلیل ہے کیونکہ اس کا غم تین حال سے سے خالی نہیں: یا تو اس کے لیے غم ہے کہ یہ چیزیں جاتی رہیں گی۔۔۔ یا آئندہ کا خوف ہے۔۔۔ یا موجودہ حالت پر اسے افسوس ہے۔
(غزالی، احیائے علوم الدین، ج 2، ص 302)
3۔ ابو علی دقاق فرماتے ہیں: حزن والا انسان اللہ کی راہ کو ایک ماہ میں طے کر لیتا ہے، جبکہ وہ شخص جسے حزن نہیں، وہ کئی سال کے اندر بھی یہ سفر طے نہیں کر سکتا۔
(القشیری، الرسالہ قشیریہ، ص: 269)
4۔ حضرت با با فرید الدین گنج شکر فرماتے ہیں: جس دل میں غم نہ ہو، وہ اس طرح خراب ہو جاتا ہے جس طرح وہ گھر جس میں کوئی رہنے والا نہ ہو اور وہ ویران ہو جائے۔
(فرید الدین گنج شکر، اسرار الاولیاء ص 63 )
حزن کی اقسام
خوف کی طرح غم بھی انسان کی فطرت کا حصہ ہے اور یہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب اس کی کوئی محبوب یا پسندیدہ شے، عمل، قیمتی وقت، یا انسان کھو جائے یا جدا ہو جائے۔ اسی مناسبت سے غم کی مختلف اقسام ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1۔ حزن الكاذبين 2۔ حزن الصادقين 3۔ حزن الصديقين
1۔ حزن الکاذبین: اس سے مراد وہ غم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری چھوٹنے سے، عمل نہ کرنے سے اور جو چیز اعمال سے فوت ہو جائے ان کا تدارک نہ کرنے سے انسان کو ملتی ہے۔
2۔ حزن الصادقین: اس سے مراد وہ غم ہے کہ جب اللہ تعالی کی رضا کے لئے بندہ عمل کرے اور وقت کو غنیمت جانے اور جو اعمال فوت ہو جائیں ان کو دوبارہ حاصل کرنے کا غم کرے۔
3۔ حزن الصدیقین: اس سے مراد وہ غم ہے کہ جب انسان کا قیمتی وقت ضائع ہو جائے یا انسان غفلت میں پڑ جائے یا اس کا میلان دنیا کی طرف ہو جائے۔
(الحكم العطائية لابن عطاء الله السكندريؒ )
خوف و غم کے مذکورہ معانی و مفاہیم اور درجات و اقسام کے بیان سے معلوم ہوا کہ دنیاوی اعتبار سے خوف و غم کے برعکس اولیاء اور صوفیاء کے ہاں خوف و غم ان کے روحانی حالات وکیفیات کے اعتبار سے ہوتا ہے۔
یاد رکھیں! خوف و غم دل کے احوال و کیفیات میں سے وہ حالت و کیفیت ہے جس سے دل میں آگ بھڑکتی ہے۔ اس کا سبب علمِ معرفت ہے۔ انسان جب آخرت کے خطرات اور اپنی ہلاکت و تباہی کے حاضر و غائب اسباب کو دیکھتا ہے تو یہ آگ خود بخود بھڑک اٹھتی ہے۔ یہ بات دو چیزوں کی معرفت سے پیدا ہوتی ہے:
1۔ ایک معرفت یہ کہ آدمی اپنے آپ کو اور اپنے گناہوں، عیوب اور عبادات کے لئے باعثِ نقصان چیزوں اور اخلاق کی خباثتوں کو دیکھے اور ان کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو دیکھے۔
2۔ دوسری معرفت یہ ہے کہ اس شخص کے گناہ اور عیب کی وجہ سے آتشِ خوف اور غم پیدانہ ہو بلکہ اس کی بے باکی کی وجہ سے خوف و غم پیدا ہو۔
صوفیاء کرام کس طرح کے خوف اور غم میں مبتلا رہتے؟
اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کے دلوں میں صرف اللہ کا خوف و غم ہوتا ہے۔ یہ جس بھی حال میں رہیں، ان کی روح، ان کے دل اور ان کا نفس کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے غافل نہیں ہوتے۔ انھیں دنیا کا خوف و غم نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے وقف کر دی ہوتی ہیں۔ ذیل میں ان نکات کو بیان کیا جا رہا ہے کہ اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کس طرح کے خوف و غم میں مبتلا تھے اور کس طرح کا خوف و غم کبھی ان کے دامن گیر نہ رہتا:
(1) اللہ تعالیٰ کی ذات کے اعتبار سے خوف و غم کا ہونا
قابلِ قدر مومن وہ ہیں جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ اللہ کا ذکر کریں یا سنیں تو ان کے دل ہبیتِ الہی اور جلالِ کبریائی سے ہمہ وقت خوف و غم میں رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی اس بات کا خود اللہ تعالی نے حکم فرمایا کہ مجھ سے ڈرو۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ.
(آل عمران، 3: 175)
’’ اور مجھ ہی سے ڈرا کرو اگر تم مومن ہو۔ ‘‘
(2) احکامِ شریعت پر عمل کے اعتبار سے خوف و غم ہونا
احکامِ شریعت کی بجا آوری ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ اولیاء اللہ کو دنیا کی آسائشوں و آرائشوں کا خوف و غم نہیں ہو تا بلکہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا خوف و غم موجود ہوتا ہے۔ دنیا کا خوف و غم انسان کے لئے صرف اور صرف نقصان کا باعث ہوتا ہے اور فرائض و واجبات کی کو تاہی کا سبب بنتا ہے اور یوں آدمی متوقع بھلائی کے خوف سے یا جس شر کا اندیشہ ہو اس کی تدبیر سے غافل ہو جاتا ہے۔
(3) آخرت کا خوف و غم کا ہونا
اخلاق کی پختگی اور استواری کا اصلی سر چشمہ خوف و غمِ الہی اوراللہ تعالیٰ کی جبروت و عظمت پر غیر متزلزل یقین ہے۔ جو دل خشوع و خضوع اور خوف و غم الہی سے خالی ہوتا ہے، اس کی حقیقت ایک مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) سے زیادہ نہیں۔ اولیاء اللہ وہ ہستیاں ہیں جن کے سامنے جب کلام الہی پڑھا جاتا ہے جس میں آخرت کا ذکر اور خدا کی عظمت کے جلال کا بیان ہوتا ہے تو وہ اس سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ بعض کی روتے روتے ہچکی بندھ جاتی، بعض پر بے ہوشی طاری ہو جاتی اور بعض کی تو روح پرواز کر جاتی۔ اگر کوئی ناواقف شخص ان کو اس کیفیت میں دیکھتا تو یہ گمان کرنے لگتا کہ ان کی روح پرواز کر جائے گی۔ اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام آخرت کے مواخذہ کے بارے میں خوف اور غم زدہ رہتے اور ہر وقت اس خیال میں ان کے دل خوف و غمِ الہی سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
(4) فقر، دنیا اور دنیاوی مال کا خوف و غم نہ ہونا
صوفیاء و اولیاء کو دنیا اور دنیاوی مال و دولت کا کبھی خوف و غم نہیں ہوتا۔ صوفیاء کرام اللہ تعالیٰ کے محتاج تو ہوتے ہیں مگر وہ حیا کے باعث لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے بلکہ اپنے رب کے دیے ہوئے کم رزق پر بھی راضی رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے دل اور جسم فقر میں بھی سکون وراحت محسوس کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ.
(البقره، 2: 155)
’’ اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ ‘‘
حضرت عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
فو الله لا الفقر اخشى عليكم ولكن اخشى عليكم ان تبسط عليكم فتنافسوها كما تنا فسوها و تهلككم كما اهلكتهم.
(صحیح بخاری، کتاب الجزیہ والموادعہ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع اھل الطرب، الرقم: 3158)
اللہ کی قسم مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں۔ میں اس سے خوف کرتا ہوں کہ تم پر دنیا کھول دی جائے گی، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کھول دی گئی اور تم اس میں محبت و رغبت کرنے لگو، جیسے ان لوگوں نے کی اور دنیا تمہیں اس طرح ہلاک کر دے جس طرح انہیں کیا۔
یعنی دنیا کے مال و دولت کو اولیاء اللہ کے لئے آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو اس فتنہ سے بچ پاتے ہیں جبکہ کثیر تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اس کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی دنیا و آخرت تباہ کر لیتے ہیں۔ جبکہ اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام دنیا کی رنگینیوں میں مستغرق نہیں ہوتے کیونکہ ان کا شمار اللہ تعالیٰ نے خوف و غم کرنے کی وجہ سے اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں میں کر لیا ہے۔
ó صوفیا کرام دنیا سے دوری میں ہی اپنے لیے عاقبت تصور کرتے ہیں کہ جب تک دنیا سے دور اور لا تعلق رہیں گے، تب تک اللہ کے خوف و غم سے غافل نہیں ہو سکیں گے۔ جس نے دنیا کو اپنی اصل متاع سمجھ لیا، اسی وقت اللہ تعالیٰ کی ذات اس بندے سے خفا ہو جائے گی اور بندہ اپنے محبوبِ حقیقی کی پہچان سے غافل ہو جائے گا۔ اسی لئے صوفیاء کرام کے دلوں میں کبھی ماسواء اللہ کسی بھی شے کی رغبت پیدا نہیں ہوتی۔
حضرت مالک بن دینار نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ اگر خدا جنت میں مجھے ایک کوٹھری دے دے تو میں اس پر راضی ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا:
لیت یا ابن اخی زهدت فی الدنيا كما زهدت في الجنة
(الآداب والاخلاق والرقائق، مواعظ الامام مالک بن دینار)
کاش دنیا سے اتنا بے رغبت ہوتا جتنا کہ جنت سے ہے۔
یاد رکھیں! دنیا سے بے رغبتی کی دو صورتیں ہیں:
1۔ ایک یہ کہ نہ دنیا ہو اور نہ اس کی طرف رغبت ہو۔ ایسا ہونا کچھ زیادہ کمال نہیں۔
2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دنیا ہو مگر اس کی طرف رغبت نہ ہو۔ یہ اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔
امام شافعیؒ فرماتے تھے:
لو وصانی احد ان املک مالی لاعقل الناس لصرفتہ الی زاھد فی الدنیا.
اگر کوئی یہ وصیت کرے کہ میرا مال اس کو دیا جائے جو سب سے زیادہ عاقل ہو، تو میں کہوں گا کہ اسے دینا چاہیے جو دنیا سے بے رغبت ہو۔
یعنی اولیاء اللہ دنیا کی ہر شے کو قربان کر دیتے ہیں اور اگر کسی شئ کو ضرورت کے مطابق اپنے استعمال میں لائیں تو بھی کسی ضرورت مند کو دے دیتے ہیں اور خود کچھ نہ ہونے پر بھی اکتفا کرتے اور سکون محسوس کرتے تھے۔
جو دنیا کی فکر میں گم ہو جاتا ہے، اس پر دنیا تنگ کر دی جاتی ہے اور اس کا ہر پل مشکلات میں گزرتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ جب انسان دنیا کی چیزوں کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ہمیشہ اپنے سے اوپر والے طبقے کی طرف دیکھتا ہے اور اسے اپنی حالت مجبور و لاچار کی سی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری پر اتر جاتا ہے۔ اس کے شکوے شکایات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا هَمَّهُ فَرَّقَ اللهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ یَأْتِهِ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا مَا کُتِبَ لَهُ، وَمَنْ کَانَتِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ، جَمَعَ اللهُ لَهُ أَمْرَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْیَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ.
(أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الزھد، باب: الھم بالدنیا، 2: 1375، الرقم: 4105)
”جو شخص ہمیشہ دنیا کی فکر میں مبتلا رہے گا اور دین کی پرواہ نہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام پریشان کر دے گا اور اس کی مفلسی ہمیشہ اس کے سامنے رہے گی اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہے اور جس کی نیت آخرت کی جانب ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس کی دلجمعی کے لیے اُس کے تمام کام درست فرما دے گا اور اس کے دل میں دنیا کی بے پروائی ڈال دے گا اور دنیا اس کے پاس خود بخود آئے گی۔ “
(ابن ماجہ، السنن، ج 2، ص 1375، رقم: 4105)
دنیا کی فکر کرنے والا بد بخت بن جاتا ہے اور جو آخرت پر نظر رکھتے ہیں، وہ کامیاب و کامران رہتے ہیں۔ اللہ ان کے دلوں کو غنا سے بھر دیتا ہے اور اس حقیر دنیا کو اپنے محبوب بندوں کے لیے مسخر کر دیتا ہے۔
ó اولیاء اللہ اور صوفیاء اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوتے ہیں۔ جب اللہ رب العزت کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو ہر فتنے کی نفرت کو اپنے محبوب بندے کے دل میں ڈال دیتے ہیں۔ جیسا کہ بندہ مومن دنیا کو قید خانہ تصور کرتا ہے، یہ نفرت اسے اللہ رب العزت کی ذات سے لگاؤ کے باعث نصیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ دنیا اور مال کی محبت میں بہت آگے نکل جاتے ہیں اور اپنی آخرت کو خراب کر بیٹھتے ہیں۔ بد عنوانی اور تعصب و تنگ نظری کی وجہ سے آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا بلکہ یوم حشر اللہ رب العزت ان سے ہر تنکے کا حساب لے گا جبکہ اولیاء اللہ کو دنیا کے مال کی محبت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے دل میں دنیا کے مال کا خوف و غم ہوتا ہے، یہ عمل ان کیلئے یومِ حشر میں باعث نجات بن جائے گا اور ان کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اثْنَتَانِ یَکْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: الْمَوْتَ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَیَکْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.
(احمد بن حنبل، المسند، ج 5، ص 427، رقم: 23674)
’’ دو چیزوں کو آدم کا بیٹا برا سمجھتا ہے (ایک) موت کو جب کہ موت اس کے لئے آزمائش سے بہتر ہے اور کم مال و دولت کو جب کہ کم مال و دولت کا حساب بھی کم ہو گا۔ ‘‘
جب انسان کا ایمان کامل ہو جاتا ہے اور وہ مومن کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے تو اس کے دل سے ان دونوں چیزوں کی حرص ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی نہ تو اسے موت سے ڈر لگتا ہے اور نہ ہی قلتِ مال اس کی پریشانی کا باعث بنتا ہے کیونکہ وہ اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہے اور اپنے محبوبِ حقیقی کے دیدار کی آرزو اس کے دل سے موت کا خوف و غم مٹا دیتی ہے۔
خلاصۂ کلام
مذکورہ بحث سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ رب ذوالجلال دنیا میں اپنے ایسے بندوں کو منتخب فرما لیتا ہے جو اپنے اندر خوف و غم جیسی نورانی و روحانی کیفیات کو مکمل سما لیتے ہیں۔ یہ اولیاء اللہ اسی شے کے طالب ہوتے ہیں کہ جس میں رب ذوالجلال کی منشاء ہوتی ہے۔ خوف و غم ایسی نورانی و روحانی کیفیت ہے جو کبھی اولیاء و صوفیاء کرام اور درویشوں کے جسم و روح سے الگ نہیں ہوتی۔ یہ اولیاء اللہ ہر لمحہ اور ہر حال میں خوف و غم کی حالت میں رہتے ہیں۔ دنیا ان کے نزدیک ذلت و رسوائی اور پستی کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا دنیا میں صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ہر حال میں رب کی رضا پر توکل کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں۔
اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام اس مقام کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی محبت سے حاصل کرتے ہیں کیونکہ محب کو جامِ محبت اس وقت پلایا جاتا ہے جب اس کا دل خوف اور غم کی بھٹی سے گزر کر پختہ ہو جائے اور جس کو یہ کیفیت حاصل نہ ہو وہ خوف و غم کی قدر و قیمت نہیں جان سکتا۔ جس نے جمالِ یوسف کا مشاہدہ نہ کیا ہو، وہ یعقوب کے غم و حزن کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔