تیرا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے

ڈاکٹر فرح ناز

امسال یکم رمضان کی بابرکت ساعتیں اور 19 فروری کا روشن دن جو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا یوم ولادت ہے، ایک ہی دن آئے۔ یوں رحمت کے مہینے کی ابتداء اور ایک مردِ علم و اخلاص کی نسبت نے اس دن کو نور پر نور بنا دیا۔ گویا رمضان المبارک کی برکتیں اور فکر و نسبت کی خوشبو ایک ہی دن میں سمٹ آئی ہوں۔

ہمارے شیخ!"ایک زندہ روایت، ایک جاری تحریک اور مجدد عصر کی صورت میں ایک عہدِ نو کی تجدید" ہیں۔ کچھ شخصیات تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں، وہ خود تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔ کچھ نام محض نام نہیں ہوتے، وہ فکر، مزاج اور عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ہمہ جہت، ہمہ گیر اور عہد ساز شخصیت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ہے، جنہیں دنیا شیخ الاسلام کے لقب سے جانتی ہے اور ہم کارکن انہیں اپنے فکری و روحانی رہبر کے طور پر پہچانتے ہیں۔

یہ تحریر کسی مرحوم کی یادگار نہیں، بلکہ ایک زندہ مشن، ایک متحرک تحریک اور ایک جاری عہد کی تجدید کا اظہار ہے۔

خلوص کی وہ راہ جس پر دھند نہیں چھائی

شیخ الاسلام کی زندگی کا سب سے روشن پہلو ان کا اخلاص ہے۔ وہ جس راہ پر بھی چلے، جس میدان میں بھی اترے، اور جو کام بھی کیا۔ وہ کسی ذاتی مفاد، وقتی مقبولیت یا سیاسی مصلحت کے لیے نہیں بلکہ خالص نیت اور واضح مقصد کے ساتھ تھا۔ ان کے سفر میں شہرت کی چمک نہیں بلکہ خدمت کی روشنی ہے۔ ان کی جدوجہد میں وقتی نعروں کی گونج نہیں بلکہ اصولوں کی استقامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر کام میں ایک روحانی شفافیت اور فکری پاکیزگی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے نیت کی صفائی نے عمل کو بھی نورانی بنا دیا ہو۔

وہ جس میدان میں بھی اترے — چاہے علم ہو، دعوت ہو، تنظیم ہو یا عالمی مکالمہ — وہاں ان کی نیت کی پاکیزگی، ارادوں کی پختگی اور مقصد کی بلندی نمایاں رہی۔ ان کا سفر مفاد کا نہیں، مشن کا سفر ہے۔ ان کا انداز شہرت کا نہیں، خدمت کا ہے۔ ان کی جدوجہد وقتی مقبولیت کے لیے نہیں، دائمی اثر کے لیے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر قدم میں ایک روحانی سنجیدگی اور فکری شفافیت دکھائی دیتی ہے — جیسے نیت کی پاکیزگی نے راستوں کو بھی روشن کر دیا ہو۔

علم کا وقار، عمل کی حرارت

شیخ الاسلام کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے علم کو صرف کتابوں میں محفوظ نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح اور امت کی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تصنیفات کی تعداد ہو یا خطابات کی وسعت — ہر جگہ ایک منظم فکر، ایک مربوط نظامِ استدلال اور قرآن و سنت سے جڑا ہوا علمی اسلوب نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے عقیدہ، فقہ، تصوف، سیرت، بین المذاہب ہم آہنگی، انتہا پسندی کے رد اور جدید ریاستی تصورات تک ہر موضوع پر ایسی گفتگو کی جس میں روایت کی گہرائی اور معاصر شعور کی وسعت یکجا ہو گئی۔

دعوت جو لاٹھی سے نہیں، رحمت سے چلتی ہے

آپ کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ اسلام جبر نہیں، جذب ہے؛ تصادم نہیں، توازن ہے؛ اور شدت نہیں، شفقت ہے۔ اسی اصول پر انہوں نے عالمی سطح پر امن، اعتدال اور مکالمے کی دعوت دی۔ جب دنیا اسلام کو شدت کے آئینے میں دیکھ رہی تھی تو شیخ الاسلام نے علمی دلائل اور فکری استحکام کے ساتھ بتایا کہ اسلام کی اصل روح رحمت، عدل اور انسانیت کی تکریم ہے۔

تحریک کا شعور، تنظیم کا وقار

شیخ الاسلام کی قیادت میں قائم ہونے والی منہاج القرآن انٹرنیشنل محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تعلیمی، فکری، اخلاقی، معاشرتی اور عملی تحریک ہے۔ یہ تحریک مدارس، کالجز، یونیورسٹیز، فلاحی اداروں، یوتھ فورمز اور خواتین ونگز کے ذریعے اسلام کی نشاۃ ثانیہ، محمدی معاشرے کا قیام اور ایک متوازن اسلامی شخصیت کی تعمیر نو کا کام کر رہی ہے۔

ہم جیسے کارکنوں کے لیے یہ محض وابستگی نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ کیونکہ یہاں فرد کی اصلاح، معاشرے کی تعمیر اور امت کی بیداری تینوں پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔

زندہ شخصیات کا اعتراف: ایک تہذیبی ضرورت

ہم عموماً اپنے محسنوں کو ان کے وصال کے بعد یاد کرتے ہیں، ان کی خدمات کو بعد میں سراہتے ہیں مگر شیخ الاسلام کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندہ شخصیات کی قدر کرنا، ان کے کام کو آگے بڑھانا اور ان کے مشن کا حصہ بننا ہی اصل خراجِ تحسین ہے۔ ان کی سالگرہ دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک فکر کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کو کردار میں ڈھالنا ہے۔۔۔ دعوت کو اخلاق کے ساتھ جوڑنا ہے۔۔۔ اور انقلاب کو دلوں سے شروع کرنا ہے۔

کارکن کی نظر سے: ایک عہد کی تجدید

میں بطور ایک ادنیٰ کارکن یہ محسوس کرتی ہوں کہ شیخ الاسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کارکن کو صرف ہدایت نہیں دیتے بلکہ اسے اعتماد بھی دیتے ہیں۔۔۔ وہ صرف نظریہ نہیں دیتے بلکہ کردار بھی بناتے ہیں۔۔۔ وہ صرف منزل نہیں دکھاتے، سفر کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں۔

• ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر نیت خالص ہو، فکر واضح ہو اور نظم مضبوط ہو تو ایک فرد بھی تحریک بن سکتا ہے۔ اسی لیے "تیرا حوالہ…" ایک کارکن کی نہ صرف کیفیت ہے بلکہ اس کا مکمل تعارف ہے۔

بطور ایک ادنیٰ کارکن، میں یہ بھی محسوس کرتی ہوں کہ جب ہم اپنی جدوجہد، اپنی دعوت یا اپنے فکری مؤقف کا ذکر کرتے ہیں تو اگر اس کے پیچھے شیخ الاسلام کی تربیت، ان کی فکر اور ان کے مشن کا حوالہ نہ ہو تو وہ بات ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔

کیونکہ انہوں نے ہمیں نیت کی اصلاح سکھائی۔۔۔ نظم کی پابندی سکھائی۔۔۔ علم کو عمل میں ڈھالنا سکھایا۔۔۔

اسی لیے دل یہ کہتا ہے کہ "تیرا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے" یہ حوالہ شخصیت پرستی کا نہیں بلکہ اصول پرستی کا ہے۔ یہ تعلق فرد سے بڑھ کر، ایک روشن اور منور فکر سے ہے۔۔۔ یہ وابستگی جذبات کی نہیں، شعور کی ہے۔

تجدیدِ عہد

شیخ الاسلام کی سالگرہ محض عمر کے ایک سال بڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ہمارے لیے عہد کی تجدید کا موقع ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم بھی اپنے اندر وہی خلوص پیدا کریں۔۔۔ ہم بھی اپنی دعوت میں وہی توازن اختیار کریں۔۔۔ اور ہم بھی اپنی زندگی کو مقصد سے جوڑ دیں۔ شیخ الاسلام کی سالگرہ محض ایک مبارک دن نہیں، بلکہ یہ اپنے عہد کی تجدید، اپنی ذمہ داری کے احساس اور اپنے کردار کی اصلاح کا موقع ہے۔

اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو صحت، عافیت اور مزید علمی و روحانی برکات عطا فرمائے، ان کے اخلاص کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کا سچا، باعمل اور مخلص سپاہی بنائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ